بہترواں یومِ آزادی

یومِ آزادی مبارک ہو

اگر کسی نے آزادی کی قیمت کا اندازہ کرنا ہو تو وہ ایک دفعہ فلسطین کا چکر لگا لے، کشمیر دیکھ لے۔ ہاں وہاں جانا زرا مشکل ہو گا، قدرت اللہ شہاب کا ناولٹ “یاخدا” پڑھ لے۔ میں امید کرتا ہوں کہ ایک دھندھلی سی تصویر ضرور بنے گی جو بے اختیار اشکبار کر دے گی۔

برصغیر کی تقسیم نظریاتی تھی ۔ اس کا مخالف نظریہ علاقائیت کا تھا کہ برصغیر اٹوٹ انگ ہے۔ اگر یہ تقسیم تنظیمی ہوتی تو سیاسی جدوجہد کامیاب ہو جاتی۔ مگر اس جدوجہد میں جب ایک نظریہ شامل ہوا اور وہ نظریہ مذہبِ اسلام تھا، تب جا کر یہ کوشش کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔

پاکستان بن گیا مگر ہمارے دشمنوں نے اُسی مخالف نظریے کو فعال کیا اور ہمیں سندھی پنجابی بلوچی اور پشتون میں بانٹنے کی سرتوڑ کوشش کی۔ اس کے کچھ عناصر آج بھی فعال ہیں۔ ہم اس تقسیم کی قیمت مسلسل چکاتے آرہے ہیں۔ مگر بہتر سال گزرنے کے بعد آج ایک بار پھر ہم اسلام اور پاکستانیت میں پرو گئے ہیں۔

صاحبانِ بصیرت اس بات کو سمجھ رہے ہیں ، یہ بہتر کا لفظ بہت معتبر ہے۔ اب ہم قربانی دے چکے ہیں۔ اب ہم نے آگے بڑھ جانا ہے۔ آج گوادر سے خنجراب تک ہم سبز ہلالی پرچم میں لپٹ گئے ہیں۔ جو لوگ ابھی تک اس کسی بھی وجہ سے رُکے ہوئے ہیں، ان کو میں آج پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اب ہمیں دنیا کی کوئی طاقت آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔ آئیے! روزِ روشن کا استقبال کریں۔

میں کل رات کسی نجی کام کے سلسلے میں شہر گیا ہوا تھا، یقین کیجیے لوگوں میں اس دفعہ ایک پُرامید قسم کی مسرت دیکھنے کو ملی۔ اس دفعہ ایک نیا رنگ ہے جو پورے ملک و قوم پہ چڑھا ہے۔ ایک ولولہ ہے، کچھ کر جانے کا عزم ہے جو ہر ہر چہرے سے جھلک رہا ہے۔ ہر ادارہ، ہر علاقہ اور ہر ہر فرد ایک نشے میں ہے کہ پاکستان کوئی چیز ہے، دنیا کے نقشے پہ ہمارا نام کسی عظیم مقصد کے تحت کنندہ ہے۔

محدود ذہنیت کے محدود منصوبوں کے مطابق ۲۰۲۰ء میں پاکستان کا وجود دنیا کے نقشے پہ موجود نہ تھا مگر بیشک اللہ پاک بہترین چال چلنے والے ہیں ، ہم آج زندہ ہیں اور ۲۰۲۰ میں ہم ایک فخر کے ساتھ اقوامِ عالم میں موجود ہوں گے اور یہ بہتر کا ہندسہ عبور کرنے پہ سرفرازی ہے۔

آئیے! آج عہد کریں کہ اس سال ہم کچھ نا کچھ ایسا ضرور کریں گے کہ اگلے سال اس عمل کا فخر سے اعادہ کر سکیں اور جتنا ہو سکے، اس ملک کیلئے کچھ نا کچھ منفعت بخش ضرور کر سکیں۔ پاکستان اللہ پاک کے رازوں میں سے ایک راز ہے۔ ورنہ جو قوم سوئی نہیں بنا سکتی، ایٹم بم بنا لینا کوئی عام بات نہیں۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ پاکستان کو سرفراز فرمائیں، اپنے خصوصی کرم کا معاملہ فرماتے ہوئے اپنے پیاروں کے سایہ میں ہمارے عمل کی راہ متعین کرنے کی راہنمائی عطا فرمائیں اور سب سے بڑھ کر ہمارے حکمرانوں کو صحیح وقت پہ صحیح فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ ہماری تمامتر کامیابیوں کا راز اسی ایک بات میں مضمر ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

یومِ آزادی کے تقاضے

ابھی بیٹھے بیٹھے میں سوچ رہا تھا کہ دنیا میں جہاں جہاں تقریبات ہوتی ہیں، کسی نا کسی حوالے سے کوئی دن منائے جاتے ہیں ان میں سب سے پہلے پچھلی دفعہ کیے گئے اقدامات کا اعادہ کیا جاتا ہے، ان کی بڑھوتری اور اثر کا جائزہ لیا جاتا ہے اور پھر جا کر اس سال کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کا اعلان کیا جاتا ہے اور تب جا کر کہیں خوشی منانے کا وقت آتا ہے۔

لیکن ہمارا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔

ہم لوگ سب سے پہلے خوشی مناتے ہیں۔ پھر آئندہ کیلئے بلند بانگ دعوے کرکے فضا کو جھوٹ سے متعفن کرتے ہیں اور پہلا کام جو کہ سب سے اہم ہے، اس کو ہمیشہ بھول جاتے ہیں۔

مثال کے طور پہ ابھی چودہ اگست کو ہی لے لیں۔

پورے پاکستان میں اس کی خوشیاں منانے کا سلسلہ ابھی سے شروع ہو چکا ہے۔ تقریریں، ڈانس شوز، ڈرامے، منچلوں کی آوارہ گردیاں، سبز پرچموں کی بہار الغرض خوشی منانے کے وہ وہ طریقے ایجاد کیے جاتے ہیں کہ نفسیات خود حیران رہ جاتی ہے۔ یاد رہے کہ یہ کام تیسرا یا سب سے کم اہمیت والا ہے۔

پھر دوسرا کام یعنی ہر صاحبِ حیثیت اپنے اپنے حلقہِ اثر کی تقریب میں ایسے ایسے بلند و بانگ دعوے کرتا ہے کہ اگر بعد میں وہ خود سن لے تو یقین نہیں آتا ہے اور اکثر کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو سیاسی بیان تھا۔ کسی مستقل اور قابلِ عمل کا اعلان نہیں کیا جاتا۔ ناظرین کو خالی دعووں پہ ہی گزارا کرایا جاتا ہے۔

میں نے اپنی دس سالہ پیشہ ورانہ زندگی اور اس سے پہلے سولہ سالہ طالبعلمی کے دور میں آج تک کسی بھی یومِ آزادی کی تقریب میں ماضی کے اقدامات کا اعادہ ہوتے نہیں دیکھا۔ شاید اکا دکا جگہوں پہ ایسا ہوتا ہو۔ یاد رہے کہ کای بھی دن کے منانے کا مقصد پورا کرنے کا یہ سب سے اہم قدم ہے۔

کیا ہم ایسا کچھ نہیں کر سکتے کہ اس دفعہ یومِ آزادی کو ابھی سے باقاعدہ منصوبہ بندی کرکے منایا جائے۔ ابھی سے اپنی ترجیحات کے پیش نظر ایسے اقدامات کو چُنا جائے جن سے پاکستان اور ہر ہر پاکستانی کی فلاح ہو، ان اقدامات کو مسلسل آگے بڑھانا چاہیے اور سارا سال ان کا جائزہ لیتے رہیں تاکہ اگلے یومِ آزادی والے دن ہم سب سے پہلے اس فخر کے ساتھ کھڑے ہو سکیں کہ ایک سال میں ہم یہ بہتری لائے ہیں۔

کوئی بھی ایسا قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔ پودا لگایا جا سکتا ہے، کسی غریب کو مفت ٹیوشن پڑھائی جا سکتی ہے، گلی محلے کی صفائی کا لائحہ عمل بنایا جا سکتا ہے، پرندوں کو بچا کر آزاد ہوا میں چھوڑا جا سکتا ہے، مطلب کچھ بھی ایسا ہو جس کو آپ ایک مثبت بہتری کے سیمپل کے طور پہ اگلے سال پیش کر سکیں۔ یقین کریں قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے۔ پاکستان کا حسن انہی چھوٹے چھوٹے مگر حسین اقدامات سے ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔