سنگ تراش اور پاکستانیت

میری تمام کہانیوں کے تمام کردار حقیقی ہوتے ہیں۔ یہ بہت دفعہ میری زندگی میں شامل بھی ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ یا چیزیں ہوتی ہیں جو مجھے کسی نا کسی حوالے سے مثبت لگتی ہیں، دلچسپ ہوتی ہیں اور ان میں کہیں نا کہیں زندگی کے کئی حوالوں سے عام انسانوں سے ہٹ کر رویے اور ردعمل پائے جاتے ہیں۔ سنگ تراش بھی ایسا ہی ایک کردار ہے۔

اس سنگ تراش سے میں آج دو سال بعد ملا تھا۔ دوسال پہلے والی ملاقات بھی بس چند لمحوں کی تھی۔ مگر اس بار سخت گرمی اور بجلی کے نا ہونے کے باوجود اُس کی باتوں سے ایسا سکون محسوس ہر رہا تھا کہ باقی سب کچھ پس منظر میں چلا گیا تھا۔

کہنے لگا کہ اُس کے بزرگوں کا فرمان ہے کہ پاکستان کا منظرنامہ مذہبی احساسات سے متعلق ہے اور اس کو جب بھی مذہب سے جدا کریں گے، پاکستان کا احساس ختم ہو جائے گا۔ اور پاکستان کا سنہری دور اُس کے بزرگوں کے مطابق شروع ہو چکا ہے۔

کہنے لگا کہ ایک فنکار ہونے کے ناطے معاشرے کے رویوں کا احساس اس پہ بہت گہرا اور بڑا سچا ہوتا ہے۔ اس سال اُس نے فیس پینٹ کا کام بھی کیا کیونکہ وہ پینٹگ اور بورڈ بینر رائٹنگ بھی سائیڈ بزنس کے طور پہ کرتا ہے۔ اس سال اُس نے بڑے تو بڑے، نومولود بچوں کے ہاتھے اور چہروں کو بھی سبز ہلالی سے سجایا ۔ اس بار کوئی عجیب یومِ آزادی تھا کہ ہر بچہ جوان بوڑھا ایک نئے جذبے سے سرشار تھا۔

اس بار لڑکوں لڑکیوں کے چہرے اُس جوش سے دمک رہے تھے جو پاکستان بناتے وقت لوگوں کے چہروں پہ موجود تھا۔ باقی تو باقی ، آج دس دن بعد اُسکی بیٹی بازو پہ چاند تارا بنوانے کی ضد کر رہی تھی۔ میرے سامنے اُس نے معصوم بیٹی کے بازو پہ چاند تارا بنایا اور کہنے لگا کہ یہ بچے قومی نغمے سن کر اس قدر خوش اور پُر امید ہوجاتے ہیں کہ میں خود قومی ترانے کو عبادت سمجھ کر سنتا اور پھر بچوں کو سناتا ہوں۔

باتیں تو اور بھی کافی تھیں مگر اُن پہ مذہب کا رنگ کچھ غالب تھا اس لیے میں اُن پہ بات نہیں کرنا چاہتا۔ ہاں میں اتنا ضرور جانتا اور کہنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ دنیا کے روحانی پہلوئوں پہ یقین رکھتے ہیں تو اتنا ضرور ذہن میں رکھیں کہ دنیا کی تمام مثبت روحانی طاقتوں کا محور و مرکز پاکستان ہے اور ان اس ملک کو اب آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

آئیے! پاکستان کو اپنی زندگی میں خصوصی مقام دیں اور اپنے عمل کو اس بنیاد پہ استوار کریں کہ ہمارا ہر ہر قدم اس ملک و قوم کیلئے منفعت بخش ہو۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

فراری سے فلاح تک کا پاکستان

سنا ہے کہ ایک دفعہ فراری کمپنی کے مالک نے ایک ٹریکٹر کمپنی کے مالک کو کہا تھا کہ آپ ہوسکتا ہے ٹریکٹر کو بہتر طریقے سے چلا سکو مگر ایک فراری کار کو ہینڈل کرنا آپ کا کام نہیں۔ پھر تاریخ نے اس ٹریکٹر والے کو لمبورگینی بناتے اور چلاتے دیکھا۔ سنا ہے ہنڈا کمپنی کے مالک کو ٹیوٹا کمپنی نے یہ کہہ کر نکال دیا تھا کہ تمہارے آئیڈیاز اور ڈیزائن اس قدر احمقانہ ہیں کہ ان کو عملی شکل دینا بے وقوفی ہو گی۔

پھر سُنا ہے کہ ایک بندے کو اُس وقت کے حکمران خاندان کے وزیرِ اعظم نے بڑی حقارت سے کہا تھا کہ یہ قومی اسمبلی کی ایک سیٹ والا کیا کر لے گا۔ آج وہی ایک سیٹ والا اُسی ملک کا وزیرِ اعظم بننے جا رہا ہے۔

زندگی میں کبھی بھی یہ نا سوچیں کہ آپ کا سامنا کن حالات ، کن لوگوں اور کن مسائل سے ہے۔ زندگی میں صرف اور آرف وہی ہوگ کامیاب ہوتے ہیں جو اپنے خوابوں کو مقدم جانتے ہیں اور ان کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں۔ ان کا ہر ہر قدم ان خوابوں کی عملی تعبیر کی جانب ہوتا ہے۔

پرانے کنگ فو فائیٹرز آج بھی اس بات پہ مکمل یقین رکھتے ہیں کہ ان میں ایک مخفی انرجی ہوتی ہے جو “چی” کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اگر انسان اپنے خواب کی تعبیر کیلئے اپنی تمام توانائیاں اور صلاحیتیں وقف کر دے تو آہستہ آہستہ اُس میں وہ مخفی انرجی بیدار ہو جاتی ہے اور وہ انسان ایسے ایسے کام کر جاتا ہے جو عام حالات میں ناممکن ہوتے ہیں۔ کچھ فائیٹرز نے اس بات کا عملی مظاہرہ بھی کرکے دکھایا ہوا ہے کہ اگر اپنی “چی” کو لڑائی کے دوران کسی بھی ایک حصے پہ مرکوز کر دیں تو اس حصے کو تلوار بھی نہیں کاٹ سکتی۔

تو بات یہ ہے کہ پاکستان ہمارا ملک ہے، اگر پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ اگر درج بالا تمام لوگ صرف ایک جملے سے شروع کرکے اس قدر ترقی کر سکتے ہیں تو ہم تمام لوگ روزنہ کے چند لمحے اس ملک کو دے کر کہاں سے کہاں لے جا سکتے ہیں۔ میں بہت عرصے سے سوچتا تھا کہ میں اس ملک کیلئے کیا کر سکتا ہوں۔ پھر میں اس نتیجے پہ پہنچا کہ میم قدر سست ہوں کہ عملی طور پر تو کچھ بھی کرنا ناممکن ہو گا۔ ہاں میں چند لفظ ضرور تحریر کر سکتا ہوں۔

اس دن سے آج تک میں نے صرف اور صرف وہ لکھا ہے جس سے اس ملک کے شہریوں کو ایک آدھ لفظ امید کا مل سکے، ایک مثبت احساس ہو اور ہمارا ہر ہر قدم اس ملک و قوم کیلئے منفعت بخش ہو۔ تو میں ذاتی طور پہ یہ سمجھتا ہوں کہ ہم روزانہ کی بنیاد پہ ایک دو چار منٹ تو اس ملک کو دے سکتے ہیں جب ہم خالصتاً اس ملک و قوم کیلئے کچھ مثبت کر سکیں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

قدیر گیلانی اور فطرت کی نگہبانی

یہ پوسٹ اپنے اندر ایک خراجِ تحسین بھی ہے اور ایک طمانچہ بھی۔ خراجِ تحسین ان تمام کیلئے جو ابھی بھی کچھ پرانے دور کے رکھ رکھائو اور روایات کے ساتھ جڑے ہیں اور اس کی بجا آوری میں کبھی کسی مشکل کو خاطر میں نہیں لاتے۔ طمانچہ ان کیلئے جو ابھی بھی کسی اہم کام کیلئے وقت اور وسائل کا انتظار کرتے ہیں۔

قدیر گیلانی جن کے آباء و اجداد کا تعلق کشمیر سے ہے اور ابھی لاہور میں رہتے ہیں۔ ان کے بڑوں کا مدفن کشمیر ہے۔ اپنی والدہ صاحبہ جو کہ شاید ابھی ساٹھ کے پیٹے میں ہوں گی، کی ایک خواہش کو پورا کرنے کیلئے انہوں نے عزم و ہمت کو ایک نئے حوصلے سے روشناس کراتے ہوئے خدمت کی ایک ایسی مثال قائم کی ہے کہ انسانیت اور بالخصوص پاکستانیت کو رشک ہے۔

خواہش کیا تھی؟ بس اپنے پُرکھوں کی قبروں پہ فاتحہ خوانی۔

بیٹے کے پاس ایک موٹر سائیکل تھی۔ لیکن عزم و ہمت سے مالامال تھا۔ ماں کی منت سماجت کی، بات منوالی اور ماں بیٹا کشمیر کیلئے نکل پڑے۔ راستے کی طوالت، عمر، تھکن، موسم، الغرض تمام فصیلیں عبور کرتے ہوئے وہ کشمیر سے ہو آئے۔ سیر بھی ہو گئی اور خواہش بھی پوری ہو گئی۔

بات یہاں نہیں رکتی۔

خدمت کا یہ انداز فطرت کو ایسا پسند آیا ہے کہ ان دونوں کو آغوش لے لیا ہے۔ یقین کیجیے یہ سب سمجھنا مادی حدود سے کچھ آگے کی بات ہے۔ جس وقت میں یہ کچھ لکھ رہا ہوں، وہ میری جنت “چترال” کے آس پاس فطرت کی ہمسفری میں ہیں۔ وہی ایک موٹرسائیکل، ایک ماں اور ایک بیٹا۔ باقی ہر سمت میں فطرت ۔

مجھے سمجھ نہیں آتی اس کو خدمت کہوں، عزم و ہمت کہوں، مہم جوئی کہوں، فطرت سے پیار کہوں یا پتا نہیں کیا کیا کہوں۔ مگر سچ یہی ہے کہ درج بالا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی یہ احساس اس تمام سے بہت بالا ہے۔ یقین کیجیے یہ سب کچھ افسانوی نہیں، حقیقت ہے۔ ایسی حقیقت جس کا احساس اس قدر پاک اور بے باک ہے کہ انسان اپنے آپ کو بہت دیر اس کے حصار میں محسوس کرتا ہے۔

میں اور میری بیوی اسلام آباد سے گوادر تک اپنی گاڑی میں مزے سے گھومے پھرے ہیں۔ مجھے پہاڑوں میں ڈرائیور کرنے سے ڈر لگتا ہے ورنہ شاید خنجراب تک جا پاتے۔ لیکن انشاءاللہ اب جائیں گے۔ مگر قدیر گیلانی کو میں اس وجہ سے بھی سلام پیش کرنا چاہتا ہوں کہ اس نے اپنے احساس اور پسند نا پسند سے بڑھ کر یہ کام کیا ہے۔ سلام ہے اس ماں کو جو بیٹے کی اس معصوم کوشش کو مان بخش رہی ہے۔

اور میں یہ سب کیوں لکھ رہا ہوں؟

کیونکہ یہ سب میں بھی کرنا چاہتا تھا لیکن نہیں کر پایا۔ کسی اور کو کرتا دیکھ کر اس قدر رشک آیا ہے کہ داد دیے بنا رہ نہیں پایا۔ ان تمام نامکمل حسرتوں کا ایک اظہار قدیر گیلانی نے مجھے عطا کیا ہے ۔ میں ان ماں بیٹا کا احسان مند ہوں۔

آئیے! اپنے خوابوں کو تعبیر دیں۔ وہ تعبیر جس میں ہمارے بڑوں کے خواب پنہاں ہوں۔ یقین کیجیے یہ بھی ایک قسم کی جنت ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

ادیب اور پاکستانیت

مجھے ترقی پسند ادب سے ایک گلہ ہے۔

گلہ یہ کہ ان میں سے کوئی ادیب بھی ہمیں قومی فخر واپس نہیں دلا سکا۔

ادیب کسی بھی معاشرے کی نبض ہوتا ہے۔ کسی بھی سوسائٹی کا من جملہ احساس اس ادیب یا فنکار کے لفظ میں ڈھلتا ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے کی مجموعی بدقسمتی کہہ لیں یا احساسِ کمتری کہہ لیں کہ ہماری سوچ ہی اس طرف نہیں گئی۔

یقین کیجیے ابھی کچھ دیر پہلے میں نائی کے پاس حجامت کی غرض سے بیٹھا تھا کہ اچانک دیوار پہ میری نظر پڑی جس پہ اس نائی کی تصویر لگی تھی۔

پینٹ کوٹ اور ٹائی والی تصویر فریم کرا کر اس نے دیوار سے بالکل ایسے مضبوطی سے لگا رکھی تھی جیسے ہم نے اپنا قومی فخر دیوار سے لگا رکھا ہے۔

گوکہ بات معیوب ہو جاتی ہے مگر سچ ہے کہ ہمیں ادب میں کہیں بھی اپنے قومی لباس شلوار قمیص سے جڑا فخر نظر نہیں آتا۔ ہمیں اپنی دال ساگ روٹی سے جڑی غربت اور احساسِ کمتری کو ہٹا کر قومی دھارے میں واپس لانا ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ بتانا ہے کہ من حیث القوم چکور بھی اتنی ہی نایاب ہوتی جارہی ہے جتنا پانڈہ تاکہ قومی پرندے سے جڑا فخر ہم میں پیدا ہو سکے۔

یقین کیجیے جو قومیں اپنے قومی فخر کو پس پشت ڈال دیتی ہیں اور ہنس کی چال چلتی ہے، ان کا اپنا وجود بھی ایسے ہی زرہ زرہ ہو کر مٹ جاتا ہے جیسے ریت ہاتھ سے کھسک جاتی ہے۔ اور ہمارے ساتھ یہی کچھ ہو رہا ہے۔ ہم اپنے بچوں کو نئے سے نئے اور مہنگے سے مہنگے گیجٹ لا دیتے ہیں مگر ان میں اتنی جرآت اور انرجی نہیں ڈال سکتے کہ کچھ اپنا ایجاد کر لیں۔

اور

یہ گیجٹ دراصل ہمارے اندر وہ مکمل تہذیب انڈیل دیتے ہیں۔ جس کا ہمیں عمر بھر احساس بھی نہیں ہوتا۔

یہ وقت جو ابھی شروع ہو رہا ہے، یہ ہر لحاظ سے ہمارے لیے فیصلہ کن ہے۔ اگر ان پانچ دس سالوں میں ہم نے اپنی قومیت کا احیاء نا کیا تو میں ابھی بتا رہا ہوں کہ اگلی نسل لارڈ میکالے کے مصداق کالے انگریز ہوں گے۔ اور اس سب کے ذمہ دار ہم ہوں گے۔ کیونکہ وقت کے سامنے صرف وہی زندہ رہتا ہے جس کے اپنے اندر کچھ ہو۔

اور یہی کچھ جو قوموں کی تاریخ میں وزن رکھتا ہے، قومی فخر ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔