چترال کی جنتِ ارضی

تین چار سال پہلے مجھے کسی پراجیکٹ کے سلسلے میں پہاڑوں میں جانا پڑا۔ چاندنی رات میں اگر بہار کی خوشبو اور خنکی شامل ہو جائے، بیک گرائونڈ میں کچھ ہجرِ یزداں بھی ہو، منظر میں ستار اور چترالی نغمہ اور گانے والا پہاڑوں میں گھرے اپنے وطن سے دور ہو، یقین جانیے یہ منظر اس دنیا کا نہیں لگتا۔ اسی منظر میں وہ سب کچھ مجھ پہ اترا جس کے خیال سے میرا وجود آج تک معطر ہے۔
اس دن سے مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں بھی ایسا ہی ایک نغمہ ہوں جو بدیع الجمال کی روح کی طرح چترال کے پہاڑوں میں کہیں قید ہے۔ شفاف پانی، سبزہ اور ٹھنڈک، جنت کی تعمیر کرتے ہیں۔ چترال کے خمیر میں یہی کچھ شامل ہے۔ ساز ایک حسین تکلف سمجھ لیں۔ پریوں کا دیس چترال ہے، سیف الملوک پہ تو بس پانی پینے جاتی ہیں۔
حضرت امیر خسرو رح کے دیوان کی غزل کا پہلا شعر جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ اس بانسری کی آواز سنو جو اپنے محبوب سے بچھڑنے کا بین کر رہی ہے۔ اور یہ منظر چترال کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔
انسان اس قدر خوبصورت کہ پورے ضلع میں 2017 میں ایک جرم بھی رپورٹ نہیں ہوا۔ ساز اور فطرت میں گندھا چترال اس قدر تنہا اور خاموش ہے کہ یونانیوں سے لیکر آج کے دور تک جو بھی وہاں گیا، وہیں کا ہو کے رہ گیا۔ شاید فطرت کے مقاصد کی نگہبانی کچھ اس طرح سے بھی مقصود ہو۔
خیر یہ سب خیالی باتیں ہیں۔ مجھے کیا پتا حقیقت کیا ہے، میں کون سا کبھی گیا ہوں وہاں۔ ہاں عشق جیسی حسرت ہے وہاں جانے کی۔ اس قدر شدید ہے کہ میں نے اپنے گھر کی جگہ بھی گوگل میپس پہ مارک کی ہوئی ہے۔ لیکن یاد رہے، یہ سب خیال ہے۔ ہاں اگر کبھی اجازت ملی تو شاید اجازے دینے والے کے لفظوں کا حقیقت سے کچھ چنداں فاصلہ نہ ہو۔
آئیے! اللہ پاک کا شکر ادا کریں کہ اس قدر خوبصورت حقیقتوں سے مزین پاکستان ہمیں عطا کیا ہے۔ یقین جانیے! پاکستان جیسی فطرت اور حسن کا حسین مرقع دنیا میں اور کہیں بھی موجود نہیں۔
اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

کشمیر کے نام

مجھے اس لڑکی سے کافی ساری باتیں کرنا ہیں جسے نا تو وقت نے بوڑھا کیا اور نا ہی حالات نے۔ جسے نا تو عشق میں دیے گئے دھوکے مٹا سکے اور نا ہی اپنوں کی دھتکار اس کا کچھ بگاڑ سکی۔ جی ہاں وہی لڑکی جس کے احساس کا سفر آج بھی جاری ہے۔
مجھے اس کے عشق کو بھی خراجِ تحسین پیش کرنا تھا جو اس لڑکی کو بوڑھا نہیں کر سکا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک نشاط اس کے چہرے پہ لڑکپن کی ہر جھری کو مٹا رہی ہے۔ مجھے ایسے عشق کی حسرت ہی رہی جو ارتقاء میں ہو، ہر لمحہ جس کے حسن میں اضافہ کرے۔ خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا۔
ہاں اسی لڑکی کی بات کر رہا ہوں جس کو دھتکار کی آخری حد کا سامنا کرنا پڑا اور یہ حد سے گزرنا اس کو زندگی کے مفہوم کو سمجھا تو نہ سکا مگر ایک احساس ضرور دلایا۔ ویسے بھی دھتکار کیلئے اس سے آگے اس سے بڑا اقرار ہوتا ہے، شاید یہ دلیل وقتی مرہم ہو۔
خیر
مجھے باتوں سے پیار ہے۔
ہم کرگس جاتی لوگ ہر خاموش چہرے کو حرام سمجھ کر پل پڑتے ہیں لیکن میری قسمت ہمیشہ زیادہ اذیت سے دوچار ہوتی ہے، اس لیے مجھے باتوں سے اور بولتے چہروں سے پیار ہوا تاکہ ان کی اس حرام موت کا نظارہ بھی کرسکوں جسے میں نے اپنے اندر اتارنا ہے۔
مگر اس لڑکی نے میرے اس بت کو توڑدیا ہے۔
جی ہاں یہ وپی لڑکی ہے جس نے اپنے احساس کے خون سے روایت کو زندہ رکھا ہے تاکہ وقت بھی اسے بوڑھا نا کر سکے۔ ایسے لوگ مٹنے کو نہیں بنتے۔ جیسے یہ کانچ کی گڑیا وقت کے آگے بند باندھ کے کھڑی ہے۔
لیکن
میں اسے سمجھانا چاہتا ہوں ۔ مجھے اس کے عزم کو ہرا کر اپنی انا کو تسکین دینی ہے۔ مرد ذات کے پاس شاید اس سے زیادہ ہے بھی تو کچھ نہیں۔ عورت کے حصے میں تو سب احساس ہے۔ کم ظرفی کی انتہاء ہے شاید کہ عورت کہہ رہی ہے “میرا جسم میرا حق”.
شکر ہے وہ لڑکی ایسی نہیں۔ خیر چھوڑیے صاحب۔ بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی۔ سو میری باتیں پھر سہی۔
اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد