سانوں کی

پاکستان میں اگر آپ لوئر اور مڈل کلاس کے باہمی معاملات کا مطالعہ کریں تو ایسا ایسا کچھ آپ کو دیکھنے کو ملے گا کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جو کہ معاشرے کانوے فی صد ہے اور اسی کی سوچ کو تبدیل کرنا دراصل معاشرے کو تبدیل کرنا ہے۔ مگر ایسا ہونا زرا مشکل ہے۔

مثال کے طور پہ آپ کسی دکان دار کو جھوٹا ثابت کریں، اس کی ملاوٹ، جھوٹی ڈیلنگ اور غلطی کا پتا لگا لیں تو وہ آپ کو ایسے بلیک میل کرے گا جیسے آپ مجرم ہوں۔ وہ ایسے کہے گا کہ بھائی سو دوسو روپے کی چیز کی خاطر تم اتنا مسئلہ کھڑا کر رہے ہو۔ تمہارے لیے سو دو سو کا مسئلہ بنا لیا کیا وقعت رکھتا ہے۔ اپنا مقام دیکھو اور اپنی بات دیکھو۔

بندہ خود سوچتا ہے کہ اردگرد والوں نے بھی میرا ہی تماشا دیکھنا ہے بجائے بات سمجھنے کے تو میں رولا ڈالوں ہی کیوں۔ جب تمام لوگ اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں تو دنیا کے سامنے میں اپنا تماشا کیوں بنائوں۔ یقین کیجیے ابھی میں بازار میں دیکھ رہا تھا کہ تمام لوگ پانی کے نکاس والی نالیوں میں جی بھر کے کچرا پھینک کر ان میں کھڑے پانی کی بدبو پہ جی بھر کر لیکچر دے رہے ہوتے ہیں۔

مجھے تو کم از کم اس چیز کا کوئی واضح حل نظر نہیں آتا کیونکہ نوے فی صد ہوگ یہاں اپنے حصے کی کرپشن کو حلال سمجھ کر باقیوں پہ تنقید کو اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔ آپ پورے پاکستان میں سروے کر کے دیکھ لیں، شادی ہال سڑک کے کنارے ہوتے ہیں اور ان کے سامنے پارکنگ نہیں ہوتی۔ جو بھی شادی میں آتا ہے، گاڑی سڑک پہ پارک کرکے گزرے والی ٹریفک کیلئے مسئلے کا باعث بنتا ہے۔ اب اگر شادی ہال والوں سے پوچھا جائے تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ہال تو اپنی زمین میں ہے باقی کے ہم ذمہ دار نہیں۔

یہی سوچ ہی ہمارے معاشرے کا بیڑا غرق کرنے میں جی بھر حصہ ڈال رہی ہے۔ اور پھر ہم صبح شام دوسروں پہ تنقید کرتے نہیں تھکتے اور ہر تبدیلی کی سوچ کو سگریٹ کے دھوئیں کی طرح اڑا دیتے ہیں۔

چھوٹا سا واقعہ سناتا ہوں جس سے ہمارے معاشرے کی من جملہ سوچ کی عکاسی ہوتی ہے۔ میں نے جس بندے سے ڈرائیونگ سیکھی، اس نے مجھے پہلا سبق یہ دیا کہ اگر آپ پاکستان سے باہر ڈرائیو کر رہے ہوں تو دوسرے بندے کو بچانا ہے۔ اگر آپ پاکستان کے اندر ڈرائیو کر رہے ہوں تو اپنے آپ کو بچانا ہے کیونکہ یہاں آپ کو کسی نے نہیں بچانا۔ اس دن سے آج تک میں نے اس اصل پہ عمل کرکے بہت دفعہ اپنی جان بچائی ہے۔

میں بھی بڑا عرصہ ہو گیا مثبت مثبت کی مالا جپ رہا ہوں لیکن میں کیا، کوئی بھی ہو، کیا کر لیں گے؟ ایک دو دوستوں سے اپنی سوچ کی عزت افزائی کرائیں گے اور بس۔ دو سال پہلے میرا باس مجھے کہنے لگا کہ جس طرح کا شعور آک کل ہے، قائداعظم بھی آکر الیکشن لڑے تو میں شرط لگاتا ہوں کہ وہ ہار جائے گا۔ اور یہی سچ ہے۔

بس اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ہیر سیال سے شکوے

اگر کسی کو ہیر رانجھا داستان سے کچھ شغف رہا ہو تو اسے رنگپور کے لفظ سے ضرور واقفیت ہو گی۔ یہ دریائے چناب کے کنارے بڑا رومانوی سا قصبہ ہے جس کے ایک طرف دریا اور دوسری طرف صحرا ہے۔ ایک طرف جھنگ اور دوسری طرف ڈیرہ غازی خان کے بلوچوں کی ثقافت کا ایک حسین سنگم بھی ہے۔ یہاں اکثر داستانیں جنم لیتی رہتی ہیں۔

جھنگ کی تہذیب عورت سے عبارت ہے جبکہ ڈیرہ وال بلوچ مرد سے عبارت ہے۔ اگرچہ دونوں فریقوں کا حصہ رہا ہے مگر ادب میں نام جھنگ کی مٹیار نے رانجھا چرا کر اور بلوچ نے سسی کو چھوڑ کر کمایا ہے۔ رنگپور کا باسی ہونے کے واسطے مجھے انسانی نفسیات کے ان دونوں پہلوئوں کو بڑا قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔

میری بات کو مذہب کے پیمانے میں نا تولا جائے کیونکہ مذہب کی حد بندیوں میں شاید اس کی گنجائش نا نکل سکے۔

خیر بات یہ ہے کہ حوا کی بیٹی ہو یا آدم کا بیٹا، فرق صرف اور صرف اس چیز سے پڑتا ہے کہ بھوک کس کو لگی ہے۔ یہ بھوک جسمانی بھی ہو سکتی ہے، جذباتی بھی اور جنسی بھی۔ اور اس بھوک کو مٹانے کیلئے ہر مذہب اور معاشرے نے قوانین بھی وضع کیے ہیں۔ ہم اکثر ان قوانین سے انحراف کرتے ہیں، عمل بھی کرتے ہیں۔ لیکن اگر معاشرتی پیمانوں کو دیکھا جائے تو اس بھوک کے اثرات بڑھ رہے ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے “کھانا خود گرم کر لو” والا ٹیگ بہت مشہور ہوا۔ اور اس کی ایسی ایسی توجیہات پیش ہوئیں کہ عقل تو کیا، نفسیات بھی دنگ رہ گئی۔ بات سادہ سی تھی کہ عورت کی بھوک من حیث القوم نہیں مٹ رہی۔ اس لیے وہ اب خود اس راہ پہ چلنا چاہتی ہے۔ کسی نے اتنا سوچنے کی زحمت نہیں کی کہ اس کا ذمہ دار مرد ہے۔

بات عورت کی آزادی کی نہیں، بیرونی ایجنڈے کے آلہِ کار بننے کی بھی نہیں، عورت کو سیکس سمبل کے طور پہ پیش کر کے اس پہ خونخوار جانوروں کی طرح جھپٹنے کی بھی نہیں، بات تو صرف اتنی ہے کہ کوئی بھی تب تک گھر سے باہر نہیں نکلتا جب تک اسے ضرورت نا پڑے۔ اور بھوک انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

مرد عورت کی وقت پہ شادی کے فرض میں ناکام رہا ہے، اسے معاشرے میں مقام دینے میں ناکام رہا ہے، اسے تعلیم و ترقی کے میدان میں جگہ دینے میں تنگ نظر رہا ہے۔ ہم لوگ چاہے مانیں یا نا مانیں، ہم ابھی تک اسی جاگیردارانہ سوچ اور مغرب سے مستعارہ شدہ احساسِ کمتری کے سنگم پہ کھڑے ہیں۔

ورنہ عورت تو بس “وفا” کے لفظ سے عبارت ہے۔

یہ اور بات ہے کہ عورت کچے ذہن کی کم ذوقی سے مرعوب نظر آتی ہے۔ لیکن کھانا خود گرم کرنے سے اتنا فرق پڑنا نہیں جتنا عورت چاہتی ہے۔ ہر کسی سے اس کی حدود کے بارے میں سوال ہو گا۔ اور عورت اپنی حدود کی پابند ہے اور مرد اپنی حدود کا پابند ہے۔

بس ہمیں سوچنا یہ ہے کہ کیا ہم اپنے زیرِ کفالت کی ہمہ قسمی بھوک کا مناسب انتظام کر رہے ہیں یا نہیں۔ ورنہ بھوک میں حرام حلال کی تمیز جاتی رہتی ہے اور انسان کے پاس کف افسوس ملنے کے علاوہ کچھ نہیں بچتا۔

ہاں یہ اور بات ہے کہ تمام رومانوی لوک داستانیں کسی نا کسی بھوک کا مقدس اظہار ہیں اور ہمیں جھنگ کی ہیر کو بھی زندہ رکھنا ہے اور بلوچ وال کو بھی تاکہ معاشرے کا حسن بھی ایک توازن میں رہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

خزاں رسیدہ پتے اور انسان

صحن میں گرتے پتوں سے مجھے عشق کی حد تک لگائو ہے۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ ان پہ ننگے پائوں چل سکوں، ان تمام پتوں کو محسوس کر سکوں جن کو درختوں نے اپنے آپ سے گرا دیا۔ مجھے ایسے لگتا ہے کہ ان پتوں اور انسانوں کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے۔

مجھے ایسے لگتا ہے جیسے انسان بھی ایسی ہی بلندیوں کا باسی تھا جو کسی دن ایسے ہی زمین پہ گرا جیسے یہ پتے زمین پہ گرتے ہیں۔ وجہ چاہے جو بھی ہو، ایسے ہی انسان شروع شروع میں کافی ہلچل مچاتا ہے پھر آہستہ آہستہ انسان اپنے آپ کو دنیا کے حوالے کر دیتا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے یہ پتے اپنے آپ کو زمین کے حوالے کر دیتے اور خود اپنے آپ کو مٹی میں ملا دیتے ہیں۔

شاید انسان اس زمین پہ سب سے بڑا پردیسی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ انسان کی روح ہمیشہ دور کی منزلوں کی متلاشی رہتی ہے۔ کبھی یہ پہاڑوں سے عشق کرتی ہے تو کبھی یہ صحرائوں کی ٹھنڈی خاموش راتوں میں ستاروں کی راہیں تکتی ہے۔ کبھی کبھی یہ اپنی ذات کی گہرائیوں میں اتر کر اپنا عرفان حاصل کرتی ہے تو پھر کہتے ہیں کہ “بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں، گور پیا کوئی ہور” اور سلطان باہو رح کے رسالہِ روحی کی بات شاید روح کے وطن کی بات ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ میں نے ان تمام لوگوں کو جنہوں نے احساس کے راستے شعور کا ارتقاء حاصل کیا، ہمیشہ انجانی منزلوں کی راہ تکتے پایا ہے۔ ہمیشہ ایک انتظار میں جس پہ ایک ان دیکھا ہجر مسلسل کوڑے برسا رہا ہوتا ہے۔ آنکھ ہمیشہ نم ہوتی ہے۔

جون ایلیا نے شاید اسی حقیقت کو اپنے الفاظ میں کچھ ایسے بیان کیا تھا کہ “زندہ رہنے کیلئے بہت زیادہ بے حسی چاہیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ حساس انسانوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اداس رہ کر گزارا ہے”۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

سوشل میڈیا اور ہماری ذمہ داریاں

اس وقت دنیا کا سب سے خطرناک ہتھیار سوشل میڈیا ہے۔
یقین کیجیے، یہ گولہ بارود سے بہت آگے کی چیز ہے۔
سنیے اور دھڑکنوں کو پوسٹ کے آخر تک قاب

 

و میں رکھیے گا۔
پہلا مرحلہ: قندوز میں ڈرون حملہ ہوا۔ معصوم حفاظ پہ۔ مستقبل میں انہوں نے کیا کرنا تھا اور کیا نہیں، اللہ پاک کی ذات جانتی ہے۔ فی الحال معصوم حفاظ تک محدود رہیں۔ ہر مسلمان کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ حالانکہ انسانیت کو رونا چاہیے۔
دوسرا مرحلہ: کسی پاکستانی یا افغانی یا مسلمان کو نہیں پتا سوائے فیس بک کے کہ ان

کی فیس بک وال پہ ہر پانچ سات پوسٹس کے بعد خون میں لتھڑے بچوں کی تصویر کیوں آ جاتی ہے۔ ہر دو منٹ بعد جذبات کو ابھارا جاتا ہے، خون دیکھ کر جذبات شدت کی طرف بڑھتے ہیں، ہمارے لاشعور میں تشدد بیٹھنا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ ٹین ایجر اور بیس سے تیس سال کی عمر والوں کی وال پہ سب سے زیادہ نظر آتی ہیں۔

تیسر مرحلہ: وہ ملک جو اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہو، ایسے اقدامات اور ان کے عام آدمی کو ایکپوژر سے عوام میں اپنے مخالف جذبات پروان چڑھاتا ہے۔ حکمران طبقے کے ساتھ مسلسل دوستی اور خیر سگالی کا سبق رٹا جاتا ہے۔ دونوں سطحوں پہ جذبات کی جو خلیج حائل کی جاتی ہے، اس کے زریعے حکمران طبقہ کے سر پہ تلوار لٹکائی جاتی ہے۔ اور قرضوں سے ہمارے قدموں کے نیچے سے زمین تو وہ پہلے ہی سرکا چکے ہوتے ہیں۔
چوتھا مرحلہ: عوام کو ایک انتہا کی طرف بڑھا دیا جاتا ہے جبکہ اپر کلاس کو دوسری انتہا کی طرف۔ پھر اس قوم میں بس اتنا پیسہ پھینکا جاتا ہے کہ نبض چلتی رہے۔ لوگ ہمیشہ کیلئے غلام رہیں۔ ایک بات یاد رہے کہ یہ سب کچھ مسلمانوں کے خلاف ہو رہا ہوتا ہے کیونکہ نظریاتی اساسوں کو دنیا میں صرف اور صرف اسلام سے خطرہ ہے کیونکہ اسلام دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ مثبت اساس ہے۔
پانچواں مرحلہ: ان تمام چیزوں کو سوشل انڈیکیٹرز کہا جاتا ہے اور سپر کمپیوٹرز میں ان سوشل انڈیکیٹرز کو مانیٹرنگ پہ لگا دیا جاتا ہے۔ جب بھی سوسائٹی میں کوئی انڈیکیٹر مقررہ حد سے نیچے گرتا ہے تو کسی بھی ایسی جگہ پہ قندوز جیسا واقعہ کرا دیا جاتا ہے اور وہ سوشل انڈیکیٹر دوبارہ مقررہ حد سے اوپر آجاتا ہے۔ اس طرح کسی بھی وقت ان ممالک کے عام آدمی کی رائے ان سپرپاورز کے مفادات کے مخالف نہیں ہوتی۔
چھٹا مرحلہ: یہ تمام کام سوشل میڈیا کے ذریعے شروع اور مانیٹر کیے جاتے ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تو ویسے ہی ہر اس شخص کے مفادات کا محافظ ہوتا ہے جو اس کو سپانسر کر رہا ہو۔ جو لوگ فیس بک پہ پرائیویسی لگا کر مطمئن ہو جاتے ہیں، ان کیلئے اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ انٹرنیٹ پہ جو چیز ایک دفعہ اپلوڈ ہو جائے، وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔ پرائیویسی اور سیکیورٹی آج کی دنیا کے سب سے بڑے جھوٹ ہیں۔
ساتواں مرحلہ: جو اس سب کھیل کو سمجھ جائے اور باہر نکلنے کی کوشش کرے یا جو شروع دن سے اس کو قبول ہی نا کرے، اس کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔ اور یہی جدید دنیا کا واحد قانون ہے جس پہ مکمل دل جمعی سے عمل کیا جا رہا ہے۔
اب اپنے مذہب، اعتقاد اور مفادات کو اس چوکھٹے میں فٹ کیجیے اور سوچیے کہ آپ کہاں کھڑے ہیں؟ یقین کیجیے، ہمیں اس وقت سب سے زیادہ آگاہی کی ضرورت ہے کہ ہمارے اردگرد یا اتنا بھی سمجھ لیں کہ ہماری فیس بک وال پہ کیا ہو رہا ہے۔ اس عفریب کا سب سے بڑا شکار ٹین ایجر اور جوان ہیں جو کم تولیم کی وجہ سے کم آگاہ ہیں اور اس عفریب گرتے جا رہے ہیں۔ یقین کیجیے، ایک کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ میں نے ہر ممکن کوشش کرکے اپنے آپ کو یہاں تک محدود کیا ہے۔
درخواست ہے کہ اپنے اردگرد ہونے والی تبدیلیوں پہ کڑی نظر رکھیے۔ ہر ایک چیز جو ہمارے سامنے آ رہی ہے، انتہائی اہم ہے اور اسکا ایک مقصد ہے۔ کچھ عرصہ پہلے روہنگیا کے مسلمانوں پہ تشدد ایسے ہی سوشل میڈیا کی زینت بنا۔ پھر اب یہ اور دو تین ماہ بعد اتنی ہی شدت سے کوئی اور ایسا پرتشدد واقعہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہو گا۔ اس گیم پلان کو سمجھیے۔ ہماری حواس کو غلام بنایا جارہا ہے۔ ہماری سوچ کو کنٹرول کیا جا رہا ہے۔
آنکھیں کھلی رکھیں اور ہر ہر تبدیلی کو سمجھیں۔ تبدیلی لانا اگلا قدم ہے۔
اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

اولاد کا چھوٹا پن

ایک ماہ پہلے کی بات ہے کہ میں اپنے والد صاحب کو ایک پورا ہفتہ کال نہیں کر سکا۔ ایک تو میں مصروف بہت زیادہ تھا دوسرا میں کافی زیادہ بزدل بھی ہوں سو ابھی تک ابا جی سے بہت ڈر لگتا ہے۔ خیر گھنٹہ ڈیڑھ ہمت باندھنے میں لگا اور فون ملا دیا۔ آگے سے وہی بارعب اور پر شکوہ آواز “ آ گئی باپ کی یاد بھی تجھے ؟ “۔

خیر میرے دماغ نے ایک دم آئیڈیا مارا اور میں نے کہا “ابو جی! پچھلے ہفتے آپ نے دوائی لینے کا کہا تھا تو مجھے دوائی کا وقت نہیں ملا اور اسی ڈر سے فون نہیں کیا۔ آج دوائی لایا ہوں اور اب کال کی ہے۔”۔

یقین کیجیے اس جملے نے سارا شکوہ اور غصہ ہوا میں اڑا دیا۔ حالانکہ ان کو بھی پتا تھا کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں اور مجھے بھی اندازہ تھا کہ بے عزتی ہوگی۔ پر کیسے؟؟؟

بات یہ ہے کہ والدین ویسے تو تمام عمر اپنی اولاد سے محبت کرتے ہیں مگر ان کی یادوں کا حسین ترین حصہ اولاد کے بچپن والا ہوتا ہے۔ اس لیے والدین نفسیاتی طور پہ عمر بھر اپنی اولاد کو اسی بچپنے کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ والدین کی خوشی کا احساس ایسے تمام واقعات اور الفاظ سے جڑا ہوتا ہے۔ اولاد کا یہی نچپن والدین کا مان ہوتا ہے۔

اسی لیے وہ اپنے بڑھاپے کو اسی مان کے سہارے بسر کرتے ہیں۔ اولاد چاہے جو بھی بن جائے، والدین کا مان ہمیشہ انہی نفسیاتی پہلوئوں کے گرد گھومتا ہے۔

یقین کیجیے، ہمارے اردگرد ہزاروں ایسی مثالیں ہیں جن میں بچے بڑے ہوکر اپنے والدین کے سامنے بھی اتنے بڑے ہو جاتے ہیں کہ والدین کو چھوٹا ہونا پڑتا ہے۔ اور یہی وہ دن ہوتا ہے جب ان کا وہ مان ختم ہو جاتا ہے اور پھر ساری عمر ہمارے والدین اس انتظار میں گزار دیتے ہیں کہ کب ان کا یہ چھوٹا پن ختم ہو۔

استدعا کی جاتی ہے کہ اپنے اس بڑے پن کو اس قدر بڑا نا کریں کہ والدین کو چھوٹا ہونا پڑے۔ یقین کیجیے والدین کو ہم سے اس مان کے علاوہ کوئی غرض نہیں ہوتی۔ نا تو انہیں ہمارے پیسے سے کچھ سروکار ہوتا ہے ، نا ہمارے مرتبے سے اور نا ہی ان سہولیات سے جو ہماری وجہ سے ان کو حاصل ہو جاتی ہیں۔ لیکن

ہمارا سب کچھ انہی والدین کے مرہونِ منت ہوتا ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

اسلام کا احیاء

اگر آپ میں سے کسی نے کبھی سانپ مارا یا مرتے دیکھا ہو تو اس چیز پہ ضرور توجہ دی ہوگی کہ سانپ مرنے سے پہلے ایک دفعہ پوری جان سے اٹھتا اور مارنے والے پہ حملہ کرتا ہے۔ یہ اس بات کی نشانی ہوتی ہے کہ اس کو گہری چوٹ آئی ہے اور اب جانبر ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔

یورپ ، امریکہ، آسٹریلیا وغیرہ میں انڈر گرائونڈ ایکٹویٹی جیسے “مسلمانوں کو تنگ کرنے کا دن” یا “مسلمانوں کو مارنے کا دن “ بالکل اسی مرنے والے سانپ کے آخری حملے کی طرح ہیں جو اب جانبر ہونے کے امکانات کھوتا جا رہا ہے۔

آپ لوگ یہ جان کر حیران تو ضرور ہوں گے کہ دورِ حاضر میں اسلام پہ جتنی تحقیق گورے نے کی ہے، ہم اس کا عشرِ بھی نہیں کر سکے۔ تحقیق کرنا تو دور کی بات، ہم گورے کی اس پالیسی کو بھی نہیں سمجھ سکے کہ وہ اسلام کے ساتھ کرنا کیا چاہ رہا ہے۔

ایک بات کرنا چاہتا ہوں، ہم آج تک یہی سمجھتے آئے ہیں کہ یہودی اور نصرانی ہمیں اسلام سے دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر حقیقت تو یہ ہے کہ انہوں نے اس قدر تحقیق کے بعد اسلام کی ایک نئی شکل وضع کی اور ہم مسلمانوں کو اپنی اُس نئی تحقیق والے اسلام کے چوکھٹے میں فٹ کرنا ان کا اصلی مقصد ہے جس پہ بیسویں صدی میں مکمل دلجمعی سے کام ہوا اور وہ اس میں بہت حد تک کامیاب ہوئے۔ اکیسویں صدی نے اس چیز کو انتہا تک دھکیل دیا ہے اور ہم ان کے وضع کردہ اسلام میں بالکل ایسے ہی گرے ہیں جیسے اندھا کنوئیں میں گرتا ہے۔

اسلام کی یہ شکل فرقہ پستی اور انتہاء پسندی سے عبارت ہے۔ لفظی عبادات اور توہمات بھی اس کا ایک اہم جزو ہیں۔ باقی رہی کھہی کسر دہشت گردی کے اس عفریب نے پوری کر دی ہے جو ہم پہ عالمی منظر نامے میں مکمل طور پہ لیبلائز کر دیا گیا ہے۔ بات تلخ ہے مگر حقیقت ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارا دینی طبقہ ابھی تک اس حقیقت کو قبول کرنا تو دور کی بات، سمجھنے سے بھی قاصر ہے۔ باشعور لوگوں کی خاموشی بھی اس پہلو پہ مجرمانہ ہے۔

اب گورے کے ہاں جو یہ مسلمانوں کے ساتھ نفرت زدہ کام ہو رہے ہیں، وہ بھی اسی اسلام کی ایک نفسیاتی کڑی ہے۔ نصرانیت اور الحاد کا عام آدمی اس نفسیاتی الجھن میں انتہا پسندی کا شکار ہو کر مسلمانوں پہ حملے کر رہا ہے۔ اور یہ حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس خود ساختہ اسلام کے اب آخری دن ہیں اور حقیقی اسلام پلٹنے کو ہے۔ کیونکہ انسان اس بات کو سمجھے نا سمجھے مگر حقیقت یہی ہے کہ محدود ذہن محدود منصوبہ سازی کر رہا ہے اور خدا کے قوانین اور اقدامات لامحدود اور لامتناہی منفعت کے حامل ہیں۔

نصرانیت اور یہودیت کے تمام مذہبی نفسیات کے انڈیکیٹر اس بات کے واضح اشارے دے رہے ہیں کہ اب اس حقیقی اسلام کو مزید روکنا ناممکن ہے۔ چاہے جس قدر قتل و غارت کرا لو، جتنا مرضی اس حقیقی چہرے کو مسخ کر لو، جتنا مرضی مسلمانوں کو بہکا لو، مگر حقیقت کو تبدیل کرنا ناممکن ہے۔ اس اس کا احیاء بھی یورپ سے ہی ہو رہا ہے۔ مسلمانوں کی وہاں آبادی، ںطم و ضبط اور تربیت اس بات کی عکاس ہے کہ ان مسلمانوں کو اللہ پاک کامرانی سے نوازنے والے ہیں۔

رہی بات پاکستان کی تو یہ ملک اسلام کا چہیتا سا ہے۔ اپنی غلطیوں سے اب پاکستان کو سیکھنا چاہیے کیونکہ پاکستان پہ اللہ پاک کی عطا اس قدر ہے جس کے بیان کیلئے لفظ کم پڑجاتے ہیں۔ قدم بہ قدم یہ ملک اب امن اور سلامتی کی طرف لوٹ رہا ہے۔ وہ سلامتی جس سے اسلام کا لفظ اور مفہوم عبارت ہے۔ لوگوں کا شعور اس بات کو اب کچھ کچھ قبول کرنا شروع ہوا ہے کہ رائے کو بڑھانا، سوچ کے فرق کو قبول کرنا اور ایک بڑے عالمی منظرنامے میں اپنے آپ کو رکھ کر دیکھنا ہے۔ آج بھی میں نے اپنی آنکھوں سے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو ساری ساری رات خدا کے حضور گڑگڑا کر پاکستان کی سلامتی مانگ رہے ہیں۔ ہمارا ایک مقام ہے جسے ہم نے حاصل کرنا ہے۔اور یہ وقت اب دور نہیں۔

سانپ کو مرنے دیں۔ یہ اپنی موت آپ مر رہا ہے۔ آپ اپنی توجہ صرف سلامتی پہ رکھیں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

یومِ پاکستان: تجدیدِ عہد کا دن

پانچ سال پہلے کی بات ہے، میں، بڑا بھائی اور ابو گنڈا سنگھ بارڈر پہ خاموش کھڑے تھے۔ ہم اتفاقاً وہاں تک پہنچے تھے مگر اس جگہ کا احساس جو ہم پہ طاری ہوا، وہ کسی طور پہ اتفاق نہیں تھا۔ ایک بات بتاتا چلوں کہ میرے والد صاحب مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش تک والی جنگ میں شامل رہے ہیں۔ اور میرے ابو کے استاد تحریکِ پاکستان کے نہایت اہم اور مظفرگڑھ کے بہت سرگرم رکن رہے ہیں۔
ابو جی نے بارڈر کے گیٹ پہ ہاتھ رکھا، خاموشی کو توڑا اور کچھ یوں گویا ہوئے ” بیٹا! ہم نے پاکستان کو وراثت نہیں، نظریہ اور قربانی سے حاصل کیا۔ ہم اور ہمارے بزرگ ایسے آزاد پیدا نہیں ہوئے تھے، ایسے آزاد اذان نہیں ہوتی تھی اور ہر جگہ حلال کا تصور اس قدر آسان نا تھا۔ “۔
ابو جی ایک منٹ کو خاموش ہوئے اور ہماری استفہامی نظروں سے دوبارہ گویا ہوئے ” ہم پہلے ہی اپنا آدھا حصہ گنوا چکے ہیں۔ بیٹا مجھے اس بات کا دکھ تو بہت ہے۔ ہاں اس دکھ سے بڑی ایک حسرت ہے کہ اللہ پاک ہمیں اپنی آنکھوں سے وہ وقت دکھائے جب ہم دشمن کی آنکھوں میں اسی مقام پہ بیٹھ کر آنکھیں ڈال سکیں اور بات کر سکیں جس طرح دشمن نے 1971 میں ہمارے ساتھ بات کی۔ بیٹا! اگر ہم وہ وقت نا دیکھ سکے تو کم از کم آپ ضرور دیکھنا۔ ہماری روح کو سکون ملے گا۔”۔
یہ ایک سادہ لوح آدمی کا احساس اور خواہش تھی۔ وہ آدمی جس کی ایک گھر اور بنیادی ضرورت سے زیادہ کوئی خاص خواہش نا تھی۔

تجدیدِ عہد کا دن

تو بات یہ ہے کہ پاکستان ایک ایسی حقیقت ہے جو مادی اور غیر مادی دونوں دنیائوں میں ایک جیسی شان اور مستقبل کے ساتھ موجود ہے۔ مجھے محلوں، بڑے دفتروں، جھونپڑوں الغرض زندگی کی تمام سطوحات کو دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ درویش بھی پاکستان کا نام لیتے ہیں، سرمایہ دار بھی، سیاست دان بھی اسی ملک کا نام لیتے ہیں اور بیوروکریٹ بھی۔ یقین جانیے! لوگ انفرادی سطح پہ شاید کچھ لمحوں میں بھٹک تو سکتے ہیں جوکہ انسانی فطرت کا خاصہ ہے مگر مجھے ایمان کی حد تک یقین ہے کہ ان کے اندر پاکستان نام کی حقیقت کا وجود ضرور ہے۔
اگر باہر کی بات کریں تو اس وقت تمام عالمِ اسلام کی نظروں کا محور بھی پاکستان ہے۔ باقی مسلمان ممالک کے پاس یا تو اسلام اتنا نہیں بچا کہ کچھ مثبت کر سکیں، یا پھر وہ ملک اس قابل نہیں رہے کہ کچھ کر سکیں۔ تمام مسلمان پاکستان کی طرف فخر اور آس سے دیکھتے ہیں۔ آنے والے وقت نے اس بات مزید واضح کر دینا ہے۔
آج یومِ پاکستان کی تقریب دیکھتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ ہمارا وہ فخر جو ہمیں اللہ پاک کی ذات نے عطا کیا ہے، لوٹ رہا ہے۔ ہماری روشنیاں واپس آ رہی ہیں، ہماری ثقافت ، ہمارا احساس اور سب سے بڑھ کے ہمارا ایمان لوٹ رہا ہے۔ خدائے بزرگ و برتر کی ذات کا کرم ایک نئی روشنی لیکر ہم پہ اتر رہا ہے۔ پاکیزگی کا یہ عمل جاری ہو چکا ہے اور اب اندھیرے سے روشنی کا ٹرانزیشن فیز چل رہا ہے جو بہت مختصر ہے۔
آئیے! اس فخر کو پلکوں کا بوسہ دیکر سینے سے لگائیں کہ ہم مسلمان اور پاکستانی ہیں۔ اس خواب کو پھر سے محسوس کریں جو حضرت علامہ محمد اقبال رح نے دیکھا اور قائداعظم کی اس جدوجہد میں اپنے آپ کو شامل کریں تو تکمیلِ پاکستان تک کیلئے ہے۔ ایک بات یاد رہے کہ “مسلمان مصیبت میں گھبرایا نہیں کرتا” اور “پاکستان نور ہے اور نور کو زوال نہیں”.
یوم پاکستان مبارک۔ اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

نئے صبح شام پیدا کر

میرے ایک دوست جن کا تعلق تلہ گنگ سے ہے، ایک واقعہ سنانے لگے جو کہ ان کے دادا کے ساتھ پیش آیا تھا۔ جو لوگ تلہ گنگ خوشاب والے خطے کے ہیں، ان کو پتا ہو گا کہ اس علاقے میں ستر اسی کی دہائی تک ڈاکوئوں کا راج رہا ہے جس کی وجہ اس علاقے کا باقی علاقوں سے پہاڑوں کی وجہ سے مکمل طور پہ علیحدہ اور محفوظ ہونا ہے۔
ہوا کچھ یوں کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران ایک جہاز کسی خرابی کی وجہ سے اس علاقے میں گر گیا۔ گو کہ یہ اپنے ہی ملک کا تھا۔ لیکن اس علاقے کے لوگوں میں مشہور ہو گیا کہ آسمان سے بلا گری ہے جس کی وجہ سے آگ لگ گئی ہے اور اس بلا کے کچھ حصے جل کر راکھ ہو گئے ہیں۔ اور باقی ڈھانچہ ابھی موجود ہے۔ کوئی ایک سال تک لوگ اس بلا کو دیکھنے پہاڑوں پہ جاتے اور واپس آکر مزید سنسنی پھیلاتے۔
کسی نے اتنا بھی سوچنے کی زحمت نا کی کہ ڈھانچا تو لوہے کا ہے۔ پھر کوئی بیس پچیس سال بعد وہ لوگ جہاز کے لفظ سے آشنا ہوئے اور یہ بلا ٹلی۔ یہ کام جو محض ایک دن کا تھا، اس کے ہونے میں پچیس سال کا عرصہ لگا۔
اور یقین جانیے! یہ کام آج تک ہو رہا ہے۔ کیوں؟
وجہ صرف اور صرف اتنی ہے کہ نا تو ہمارے اندر خود تبدیلی کو قبول کرنے کی صلاحیت ہے اور نا ہی اتنی اخلاقی جرآت ہے کہ اپنی اگلی نسل کو یہ چیز پہلے دن سے سکھا سکیں کہ کسی بھی چیز میں تبدیلی کو کیسے قبول کرنا ہے، خود کیسے تبدیلی لانی ہے اور یہ دونوں کام مثبت ہوں۔
بعض اوقات ہمیں بہت عجیب صورتحال سے واسطہ پڑ جاتا ہے۔ مثلاً ہمارے اکثر بڑے ابھی بھی بیس سال پرانا بٹن والا موبائل اس لیے استعمال کرتے ہیں کہ انہیں سمارٹ فون استعمال کرنا نہیں آتا۔ جبکہ اس کے پس منظر میں یہی بات ہوتی ہے کہ وہ موبائل کو بس مجبوری میں کال سننے کو استعمال کرتے ہیں بس۔ انہوں نے ابھی تک اس تبدیلی کو قبول ہی نہیں کیا۔
جبکہ ہمارا ایک دو سال کا بچہ سمارٹ فون کو ہم سے زیادہ بہتر اور تیز استعمال کر رہا ہوتا ہے۔ کیونکہ اس بچے تک ہمارے نظریات نہیں پہنچے، وہ بس ہر چیز سیکھ رہا ہوتا ہے اس وقت تک۔
تو بات یہ ہے کہ انسان کو تمام زندگی اس بچے کی طرح گزارنی چاہیے جو سیکھنے اور جاننے کیلئے انگارہ بھی اٹھا لیتا ہے۔ اس جاننے اور سیکھنے میں سب سے اہم چیز جو ہم نے خود سیکھنی اور اپنی اگلی نسل کو سکھانی ہے، وہ نئی چیز، نئے خیال اور نئے اقدامات کو قبول کرنا ہے۔
ایک بات یاد رہے کہ جب تک ہم نے نئے نظریات، ایجادات اور سوالات کا دروازہ کھلا رکھا، مسلمان تمام دنیا پہ ایک اتھارٹی مانے جاتے تھے۔ پندرویں صدی عیسوی سے لیکر اب تک ہم نے کسی نئے سوال یا نظریے کو جگہ نہیں دی۔ آج ہمارا حال سب کے سامنے ہے۔ اب تک جو ہو چکا ، اس کو تو ہم کسی صورت بھی تبدیل نہیں کر سکتے۔ ہاں اب جو ہو رہا ہے، اسکو تو ہم قبول کر کے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ اور اس میں سب سے اہم بات اپنے بچوں کے اندر یہ چیز پیدا کرنا ہے کہ وہ ہر لمحہ نئی چیزیں سیکھنے اور نئے نظریات کے ساتھ آگے بڑھنے میں فخر کریں۔ بچے سب سے جلدی سیکھتے اور سب سے اچھا عمل کرتے ہیں۔
ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ نظریہ اور عمل ہی کامیابی کی کنجی ہیں۔ اور یہی اسلام کی تعلیم ہے۔
اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

احساس، مفتی اور منٹو

قدرت اللہ شہاب نے ایک جگہ لکھا ہے کہ انسان تصوف میں جیسے جیسے آگے بڑھتا جاتا ہے، حسیات کا دائرہِ کار بڑھتا جاتا ہے۔ کسی بھی بیرونی عمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے احساس کی حدود بڑھتی جاتی ہیں۔ فنکاروں اور صوفیاء میں کافی حد تک یہ قدر مشترک دیکھی گئی ہے۔
اب یہاں تک یہ ایک مظہر ہے بس۔ انسانی نفسیات کا ایک پہلو ہے۔ مجھے یہ بات کہنے میں کوئی خاص عار نہیں کہ صوفی اور فنکار دونوں انسانی نفسیات کی کسی نا کسی انتہاء تک ضرور جی رہے ہوتے ہیں۔ ان انتہائوں کو کبھی بھی کسی اصول یا حد میں نا تو مقید کیا جا سکتا ہے اور نا ہی ان کو مکمل طور پہ پرکھا جا سکتا ہے۔
شاید یہ بھی ایک وجہ ہے کہ زیادہ تر صوفی علم اور فن سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا ہے۔ کتابوں سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا ان کاموں میں۔
اب میں آتا ہوں اس بات کی طرف جس کا یہ سب پس منظر ہے۔ بات کچھ یوں ہے کہ ایک عام آدمی کی نیکی یا بدی کی تعلّی ایک مقررہ حد پہ ہی رہے گی۔ جبکہ آپ صوفیاء کو دیکھ لیں، جتنا یہ آگے بڑھتے ہیں، اسی نسبت سے ان میں نیکی اور بدی دونوں کی تعلّی بڑھتی ہے۔ مثال دیتا ہوں کہ جو جتنا بڑا صوفی ہو گا، اتنا ہی زیادہ پردہ کرے گا۔ اکثر صوفی جو حقیقت میں تصوف پہ عمل پیرا ہیں، عورتوں سے نہیں ملتےکیونکہ ان کا نفس بھی اتنا ہی منہ زور ہو چکا ہوتا ہے جتنا ان کی نیکی کا پہلو ترقی کر چکا ہوتا ہے۔یہ لوگ اس سب کو جائز حدود میں رکھنے کیلئے اتنے ہی بڑے صابر اور ضبط والے ہوتے ہیں۔ آپ سلطان باہو رح جا کے دیکھ لیں، عورتوں کو مزار کے اندر جانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔

قدرت اللہ شہاب اور ممتاز مفتی حج کے موقع پر

مذکورہ بالا صبر، ضبط اور ارتقاء کی پرپیچ راہوں کیلئے یہ بات حرف بہ حرف سچ ہے کہ جیسے جیسے احساس کا دائرہِ کار بڑھتا ہے، ایک مسلسل راہبر کی ضرورت بھی اسی حساب سے بڑھتی جاتی ہے۔ رسمی بیعت کا نفسیاتی پہلو یہی ہے۔
اب میں کل والی بات پہ آتا ہوں۔ میری پوسٹ دراصل ممتاز مفتی اور منٹو کا تقابلی جائزہ نہیں تھی۔ سب کو پتا ہے کہ مجھے ممتاز مفتی زیادہ پسند ہے۔ جبکہ اگر ممتاز مفتی کو صرف افسانے تک محدود کر دیں تب منٹو بازی کے جاتا ہے۔ میں بین السطور اس نفسیاتی پہلو کو ان دونوں کے بیان سے اخذ کرنا چاہتا تھا کہ حسیات کا کیا کردار ہوتا ہے اور ان کو مثبت حدود میں کیسے رکھا جا سکتا ہے تاکہ انسان معاشرے کیلئے منفعت بخش ہو سکے اور خلقِ خدا کیلئے اس انسان سے ہمہ وقت مثبت احساس آگے پھیلتا رہے۔
یہی وہ فرق ہے جس نے مفتی کو درویشی چولا پہنا کر کہیں اور لا کھڑا کیا اور منٹو کو فحش نگار کا لیبل ملا۔ حالانکہ دونوں کے فن کی ابتدا سیکس سائیکالوجی سے ہوئی ہے۔ اب ان کی حقیقت تو اللہ پاک کی ذات جانتی ہے اور جو حقیقت اللہ پاک کے ہاں ہے، وہی اصل ہے، اسی پہ انسان کا انجام ہے۔ جو کچھ بھی ہم سب کہہ رہے ہیں وہ فردِ واحد کی رائے تک ہی محدود ہے بس۔
لیکن ایک فنکار کے طور پہ منٹو منٹو ہے اور مفتی مفتی ہے۔ میں ذاتی طور پہ اس بات کا قائل ہوں کہ اس دنیا میں ہر فنکار کا اپنا احساس اور اپنا راستہ ہے۔ کسی کو بھی آپ نا تو کسی اصول پہ پرکھ سکتے ہیں اور نا ہی کسی فنکار کا دوسرے سے تقابل کر سکتے ہیں۔
اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

مفتیانے اور منٹو رامے

میں سعادت حسن منٹو کو ممتاز مفتی سے بڑا افسانہ نگار مانتا ہوں۔ لیکن مجھے بہت عرصے سے اس جواب کے مندرجات اور سوالات نہیں مل رہے تھے۔ خیر وقتِ معین پہ ہر کچھ مل جاتا ہے، نا بھی ملے تو تسلی کم از کم ضرور مل جاتی ہے۔ تو مجھے بھی اسکا جواب ملا جو کہ قارئین کی نظر کرنا چاہتا ہوں۔

سعادت حسن منٹو

بات یہ ہے کہ سچ کی خاصیت یہ ہے کہ تلخ ہوتا ہے، تڑخ جاتا ہے، سختی پیدا کرتا ہے، آئینہ دکھاتا ہے اور سچ کے مندرجات میں یہ بھی شامل ہے کہ یہ احساس کو توڑ کر رکھ دیتا ہے اگر کوئی جوڑنے والا مسلسل ساتھ نا ہو تو۔ منٹو کی خاص بات یہ ہے کہ اس نے مکمل سچ لکھا، ہمیں آئینہ دکھایا۔
لیکن منٹو خود اس تلخ سچ سے ایسا ٹوٹا کہ جڑ نہیں سکا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ممتاز مفتی منٹو سے بازی لے جاتا ہے۔ ورنہ نا تو مفتی کا سچ منٹو جتنا ہے اور نا ہی مقام۔ منٹو کا اعجاز ہے کہ اسے سچ اپنی سچائی کے ساتھ ملا جبکہ مفتی کو سچ ملا تو ضرور لیکن اتنا نہیں جتنا منٹو کو۔ شاید ماں کی دعا کا اثر تھا یا جو بھی تھا، مفتی سچ کے ان اثرات سے بالکل ایسے نکل گیا جیسے آٹے میں سے بال نکل جاتا ہے۔
اسکو بھی میں تو ماں جی کی دعا کا اعجاز ہی کہوں گا کہ مفتی کو قدرت اللہ شہاب کا ساتھ میسر آیا جن کی ایک فلاسفی یہ بھی ہے کہ کسی بھی کیفیت کو مستقل طور پہ اپنے اوپر طاری نا ہونے دو۔ چھلنی بن جائو تاکہ وہ احساس آپ کے اندر سے فوراً باہر نکل جائے۔ مفتی نے گو کہ اپنی کتب میں اس بات کا اقرار نہیں کیا مگر اپنی عملی زندگی میں قدرت اللہ شہاب کی کہی باتوں پہ کافی حد تک عمل کیا ہے۔
جبکہ منٹو کو جو سچ ملا، اس نے جی جان سے وہ سچ جیا اور اس کو اتنا صاف رکھا کہ اسکا سچ ہمارے لیے من جملہ معاشرہ کے طور پہ آئینہ بن گیا۔ اسی شیشے کی کرچیوں نے منٹو کو پارہ پارہ کیا اور انہی کرچیوں جتنا تلخ ادب منٹو نے لکھا۔ یقین جانیے! منٹو کے افسانے اگر ہمیں فحاشی پہ اکساتے ہیں تو اسکا مطلب یہ ہے کہ وہ کالک ہمارے اندر بدرجہ اتم موجود ہے۔
ایک بات یاد رہے کہ میری دلچسپیوں میں مفتی کا لکھا ہوا زیادہ آتا ہے اس لیے میں مفتی صاحب کا منٹو سے زیادہ قدردان ہوں۔ ویسے سچ تو یہ ہے کہ مفتی پہ جو درویشی والا چولا سجا ہے، اس نے مفتی کو افسانہ نگاری سے بہت آگے لا کھڑا کیا ہے۔ اب یہ قسمت کی بات ہے کہ پہنتے سب ہیں پر سجتا تو کسی کسی کو ہے۔
اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد