مقبرے سے مزار تک

کچھ دن پہلے کسی مجبوری کے سلسلے میں ملتان قلعہ پہ جانا پڑا۔ لمحاتی پناہ کی خاطر ہم شاہ رکن عالم اور بہائوالدین زکریا رح کے مزار پہ چلے گئے۔

ایک بات بتاتا چلوں کہ یہ مزار مقبرے کا تصور مذہبی نہیں، معاشرتی ہے۔ ہمارے ہاں مذہب کے نام پہ مقبرے بنائے بھی جاتے ہیں اور گرائے بھی جاتے ہیں۔ جبکہ حقیقت میں یہ تصور ایسا ہے کہ معاشرے کے کسی بھی پہلو سے بڑے آدمی کا مرنے کے بعد مقبرہ تعمیر کردیا جاتا تھا۔

اولیاءاللہ کیلئے اور بادشاہوں اور دوسرے بڑے مسلمانوں کیلئے مقبروں کا تصور یہیں سے لیا گیا اور پھر یہ سلسلہ اب تک جاری و ساری ہے۔

یہ اور بات ہے جہانگیر کے مقبرے پہ چمگادڑوں کا بسیرا ہے جبکہ کسی کسی مقبرے پہ دن رات کا ہر ہر لمحہ تلاوت، نوافل اور وظائف کا سلسلہ جاری و ساری ہے، نہ جانے کب سے جاری ہے اور کب تک جاری رہے گا۔

یہ بات تو قلعہ کہنہ قاسم باغ کے پرشکوہ مزارات کو دیکھ کے یاد آ گئی۔ کہنا میں یہ چاہتا تھا کہ کسی بھی ولی اللہ کے پاس جس قدر شعوری بے سروسامانی کے عالم میں جا سکتے ہیں، جائیں۔ کیونکہ آپ کا برتن جس قدر خالی ہو گا، دینے والا اسی قدر جھولی بھر دے گا۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ناقدری سے محرومی تک

اگر مجھے یہ کہا جائے کہ رائج الوقت جرائم کی ایک فہرست بنائیں جس میں آپ کی سوچ کے مطابق سب سے بڑا سے لیکر سب سے چھوٹا جرم ایک ترتیب میں ہوں۔ تو میں سب سے بڑا جرم “بے قدری” یا “ناقدری” کو گردانوں گا۔

ہوا کچھ یوں کہ کچھ عرصہ پہلے مجھے رات کو دیر گئے بھوک لگی۔ باہر سڑک پہ ایک ڈھابہ دیکھا جہاں تازہ تازہ آلو کے پراٹھوں کی خوشبو آ رہی تھی۔ بہت آرام سے پودینے والی چٹنی کے ساتھ دو تین پراٹھے کھانے کے دوران پراٹھے پکانے والے کے ساتھ بھی گپ شب جاری رہی۔

میرے ساتھ اکثر ایسا ہو جاتا ہے کہ ایسے لوگوں کو میں باتوں میں لگا لیتا ہوں کیونکہ اکثر ایسے لوگوں کے پیچھے ایک پورا وقت ہوتا ہے، ایک مکمل کہانی ہوتی ہے جو انہیں یہاں تک لائی ہوتی ہے۔ پراٹھے والے کے ساتھ بھی یہی ہوا۔

مجھے اُس نے بتایا کہ وہ اپنے وقت میں کبڈی کا کھلاڑی رہا ہے، آج بھی پنجاب میں جو اس کھیل کے شوقین لوگ ہیں، وہ اس کے نام سے اچھی طرح واقف ہیں۔ میں اس کی باتوں اور پراٹھوں میں اس قدر محو تھا کہ نام تک پوچھنا یاد نہیں رہا۔ خیر بات جاری رہی۔

میں نے پوچھا کہ اگر آپ اتنے بڑے کھلاڑی تھے تو اس کھیل میں اتنا نام کمانے کے بعد اسی فیلڈ میں آگے کیوں نہیں بڑھے؟ تو اس نے کہا کہ یہ ہوٹل تو مجبوری اور رزقِ حلال کی نیت سے بنایا ہے۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ “بابو لوگ ! تم کیا سمجھتے ہو کہ جینا اتنا آسان ہے؟”۔

مزید میری حیرت کو بڑھاتے ہوئے اس نے کہا سپورٹس مین اتنا شفاف قسم کا انسان ہوتا ہے کہ وہ وقت کی چالاکیوں سے اکثر ہار جاتا ہے، ویسے بھی جس طرح کے حالات چل رہے ہیں، اتنے شفاف صفت انسانوں کے سب سے زیادہ بے قدری ہو رہی ہے۔

تب تو میں سر پکڑ کے بیٹھ گیا جب اس نے یہ بتایا کہ اُس کا استاد جو کہ ایشیا لیول پہ کبڈی کھیل چکا ہے، اِسی شہر اسلام آباد میں سیکورٹی گارڈ ہے۔

یہاں سے ہماری قومی ترجیحات کا پتا چلتا ہے۔ مغرب میں کھلاڑی، انٹرپرونیور اور پھر کاروباری لوگ سب سے زیادہ دولت مند اور صاحبِ اثر ہیں۔ ہمارے ہاں یہ طبقہ سب سے زیادہ ناقدری کا شکار ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ آج کہاں ہے اور ہم کہاں۔ باقی تو چھوڑیں، گھروں میں جب بچے سپورٹس کا نام لیتے ہیں، گھر والے ایسے ری ایکٹ کرتے ہیں جیسے کسی مکروہ فعل کی بات کی گئی ہو۔

خیر بات صرف اور صرف اتنی ہے کہ جب تک ہم اپنے درمیان اور اردگرد موجود ان چیزوں اور انسانوں کی قدر نہیں کریں گے جنہوں نے کہیں نا کہیں اپنا آپ منوایا ہے، ہم کبھی بھی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد نہیں رکھ سکیں گے۔ اور ان میں سپورٹس کا انہائی اہم کردار ہے۔ بس بچوں کے ذہن میں ترجیحات کلئیر ہونی چاہیں کہ کتنا وقت کھیل کا اور کتنا وقت کام کا ہے۔ یقین کیجیے بچوں کے ذہن میں موجود ساری نیگٹیویٹی کا منبع اپنی انرجی کو مثبت کاموں میں لگانے کے مواقع کا نا ملنا ہے۔

اور ناقدری سے بچیں۔ جو ہے کی قدر نہیں کریں گے تو سب چھن جائے گا۔ اور سب سے قیمتی چیز جو سب سے پہلے اس ناشکری کے نتیجے میں چھن جاتی ہے، وہ مثبت انرجی ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

حسن سے احسن الخلائق تک

اس رمضان شریف میں میری زندگی میں شامل کچھ حسین لوگوں کی رخصتی ہو گئی۔ یقین کیجیے، میرا دل کر رہا ہے کہ اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر ادا کروں کہ جس قدر حسین یہ لوگ مجھے معلوم ہوتے تھے، اسی قدر حسین اوقات میں اپنے منبع کی جانب لوٹ گئے۔ شاید اللہ کی نظر میں بھی وہ لوگ اتنے ہی حسین تھے۔ رب دیاں گلاں رب جانے، میرا تو فقط ایک قیاس ہے۔

میں دکھ نہیں بانٹنا چاہتا کیونکہ مندرجہ بالا واقعات کو میں افسوسناک نہیں مانتا۔ تخلیق کار کو اپنی تخلیق سے اس کے حسن جتنا پیار ہوتا ہے۔ ہمیں تو اس بات کی خوشی منانی چاہیے کہ ایک خوبصورت انسان ایک خوبصورت انجام سے ہمکنار ہو گیا۔

شاید عرس منانے کی نظریاتی اساس یہی ہے۔

خیر ایک اور بات جو کہ مجھ پہ وا ہوئی کہ انسان کے انجام کا تعلق اس کے اندر کے حسن سے ہے۔ اِس میں مسلک ، جغرافیہ، حسب و نسب اور ایسے باقی عوامل کا اتنا خاص عمل دخل نہیں ہے۔ تخلیق کار کو ہر اس چیز سے پیار ہوتا ہے جو کسی نا کسی حوالے سے اُس کی تخلیق سے جڑی ہوتی ہے۔ اللہ پاک کی ذات کو کبھی تخلیق کار کی نظر سے دیکھیں، یقین کریں ایک رشک کا احساس انسان کے رگ و پے میں سرائیت کر جاتا ہے۔

پھر ایک اور چیز یہ بھی ہے کہ انسان کا حسن اس کے اندر کے احساس، باہر کی اخلاقیات، معاملات اور کائنات کی طرف نظریاتی جھکائو سے وجود پاتا ہے۔ اب اگر آپ کسی ایسے انسان کے قریب سے بھی گزریں گے تو آپ کے اندر وہ مثبت احساس خود بخود سرایت کر جائے گا۔ یہ سب کچھ ایک موج کی صورت میں حسین انسان کے اردگرد جاری ہوتا ہے، جو بھی اس دائرے میں داخل ہوتا ہے، خودبخود ہی اس رنگ میں رنگا جاتا ہے۔

شاید یہ بھی ایک وجہ ہے کہ میرا جھکائو زیادہ صوفیاء کی طرف ہے کیونکہ وہ اپنے وقت کے حسین ترین انسان رہے ہیں۔ ایسے لوگ آج بھی موجود ہیں لیکن ان تک پہنچنے کیلئے ان کے مقام جتنی کوشش تو ضروری ہے۔

خیر حسن کی بات ہو رہی تھی۔ وہ حسن کاری نہیں جس کی حسن کاری کرائی جاتی ہے۔ کاری تو وہ ہے جس کی کاری نہیں ہو سکتی، وہ بس احساس کے راستے انسان کی انتہاء تک سرائیت کرتا ہے اور پھر انسان کو ایسے ایسی حالت میں لے آتا ہے جہاں انسان نا تو تخلیق ہوتا ہے اور نا ہی تخلیق کار۔ مٹی اور گِل کے درمیان کی کسی حالت میں ہوتا ہے جہاں رب اُسے اپنے خصوصی قرب سے نواز رہا ہوتا ہے۔

بالکل ایسا ہی حسین دن آج کا دن ہے جو شام کو دریائے نیست میں شامل ہو جائے گا۔ بالکل ایسے ہی رب آج اپنے قرب سے نواز رہا ہے۔ ایسے ہی پاکیزہ ترین احساس انسان پہ بوند بوند اتر رہا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے سردیوں کے پہلے احساس کے ساتھ بندہ علی الصبح گھاس پہ واک کرتے ہوئے پھولوں پہ شبنم کے پہلے قطرے دیکھتا ہے، ایسی ہی وقت کی پتیوں پہ آج جیسے حسین دن براجمان ہیں۔

کم از کم کوشش ضرور کریں کہ ایسے حسین وقت میں اپنی زندگی میں شامل حسین لوگوں کے احساس کو ضرور جگہ دیں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

زندگی کی بوندوں تک

میں آج اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ اس دنیا میں جتنی تخلیقات ہیں، وہ تمام گفتگو کرتی ہیں۔ یہ گفتگو آپس میں بھی ہو سکتی ہے اور انسان اس کو سن بھی سکتا ہے۔ روایات میں جو باتیں لکھی ہیں، ان میں کافی حد تک سچائی ہوتی ہے۔ درختوں ، پرندوں کا انسانوں کے ساتھ باتیں کرناروایات کا حصہ رہا ہے۔

گرمیوں کی پہلی بارش کے بعد ہونے والی بونداباندی میں اگر آپ دونوں ہاتھ کھولے اور پھیلائے ہوئے چناروں سے ڈھکی سڑک پہ پیدل چل رہے ہوں، آپ گھنٹہ بھر اس بارش میں نہانے کے بعد مکمل طور پہ اپنا آپ ان بوندوں کے حوالے کر چکے ہوں، آپ ان چناروں اور دیوداروں کی گفتگو سن سکتے ہیں۔

آپ چناروں کو اللہ کا شکر ادا کرتے دیکھ سکتے ہیں، ان کی آپ میں مسلراہٹوں کا تبادلہ دیکھ سکتے ہیں۔ ان کے درمیان سائیں سائیں کرتی ہوا کو پیغامات پہنچاتا رنگے ہاتھوں پکڑ سکتے ہیں۔

یہ بارش تو گرمیوں کی تھی، اگر آپ سردیوں کی بارش میں ان چناروں کے ساتھ ہوں، یہ دریافتیں کئی گنا بڑھ جاتی ہیں۔

شایہ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ زیادہ تر لوگ پہاڑوں کی طرف بھاگتے اور ان سے عشق لڑاتے ہیں۔

لیکن میرا مدعا ان چناروں کی بڑائی بیان کرنا نا تھا۔

میں یہ بھی نہیں بتانا چاہتا تھا کہ چنار تو بس مجھے پسند ہیں، اس لیے بارشوں میں ان کے سائے میں چلنا مجھے اچھا لگتا ہے۔

بات کچھ یوں بھی نا تھی کہ صرف چنار نہیں، باقی پرندے اور جانور بھی کل مجھے باتیں کرتے نظر آئے۔

ارے مجھے تو بس اتنا کہنا تھا کہ زندگی پانی سے ہے۔ شاید مادہ کی تخلیق میں سب سے پہلا مرکب پانی ہو گا، شاید تمام جانداروں کی زندگی کی ابتدا پانی سے ہوئی ہو گی، شاید حیات کی ضمانت بھی پانی ہی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر انسان کی زندگی میں سب سے زیادہ اور سب سے خوشگوار احساسات پانی سے کسی نا کسی حوالے سے جڑے ہیں۔

شایہ یہی وجہ ہے کہ سمندر، دریا ، جھیلیں، اور باقی پانی سے جڑی چیزیں انسان کو بہت اندر تک اترتی محسوس ہوتی ہیں۔

اور میرے گائوں کے بوڑھے اکثر کہا کرتے ہیں کہ بارش کی جگہ زندگی برستی ہے۔ شاید یہ بھی ایک وجہ ہے کہ بارشی علاقوں میں رہنے والوں کی زندگیاں سب سے طویل ہوتی ہیں۔

تو جب بھی بارش ہو، آپ اپنا آپ ان بوندوں کے حوالے کرکے ان مخلوقات کی باتیں سن سکتے ہیں جو ان بوندوں سے زندگی کشید کر رہی ہوتی ہیں۔

کریم ہے وہ ذات جو اپنے بندوں پہ زندگی برساتی ہے۔ ناشکرے ہیں ہم جو زندگی کی ان رمقوں کو ضائع کر دیتے ہیں۔ پانی کی قدر کریں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

چرنجیت سنگھ، کارخانو بازار اور ہم روادار

مجھے ۲۰۱۵ میں پشاور کے کارخانو بازار جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب ضربِ عضب شروع نہیں ہوا تھا اور لوگ پشاور کا نام سن کر ہی کانوں کو ہاتھ لگا لیتے تھے۔ مجھے بھی ابو کے علاوہ تمام لوگوں نے بہت ڈرایا لیکن اپنی متجسس فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں یہاں چلا آیا۔

یہاں میری حیرانگی کی سب سے بڑی وجہ سکھوں کی دکانیں اور ان کی ڈیلنگ کا طریقہِ کار تھا۔ میں نے اس مارکیٹ سے جتنی بھی شاپنگ کی، زیادہ تر سکھوں کی دکان سے کی۔ خوش پوش، خوش گفتار اور سادہ لوح سی یہ قوم مجھے بہت اچھی لگی۔

پھر مجھے اورکزئی ایجنسی کے ایک دوست نے بتایا کہ وہاں ابھی تک سکھ آباد ہیں اور اپنی مکمل مذہبی آزادی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ پھر مجھے ان میں سے کچھ سکھوں سے ملنے کا موقع بھی ملا اور ان کو بہت محبِ وطن پاکر بڑا پر مسرت سا احساس ہوا۔

ب

لیکن

کل پشاور میں سکھ برادری کے انسانی حقوق کے ورکر چرنجیت سنگھ کو گولی مار کر اس کے جینے کا حق چھین لیا گیا۔ یقین کیجیے مجھے اس کا بہت دکھ ہوا۔ یہ اقلیتی اختلاف ہمارے ماتھے کا جھومر ہوتا ہے اور ہم اسی جھومر سے لہو ٹپکا رہے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ہماری صفوں میں کوئی اور گھس کر یہ کام کر رہا ہے اور نام ہمارا جان بوجھ کر بدنام کیا جا رہا ہے۔ تاکہ پاکستان کو اقلیتوں کے حوالے سے ایک غیر محفوظ ملک ثابت کیا جا سکے۔ میں اس موضوع پہ بہت کچھ کہہ سکتا ہوں مگر کچھ ناگزیر وجوہ کی بنا پر اپنے آپ کو یہاں تک ہی محدود رکھتا ہوں۔ کبھی وقت ملا تو اس پہ بات کریں گے۔

خیر بات میں یہ کرنا چاہ رہا تھا کہ معاشرے کا حسن اسی نظریاتی تنوع سے عبارت ہے ۔ پاکستان بننے سے اب تک سکھوں نے ضرور ہندوئوں کی باتوں میں آکر مسلمانوں پہ ظلم روا رکھے مگر مسلمانوں نے کہیں کہیں بدلہ لینے کی بات اور کوشش کی اور بس۔ مسلمان بنیادی طور پہ سلامتی میں داخل شدہ لوگ ہیں۔ یہ ظلم و جدل سے دور بھاگتے ہیں۔ میں اب تک جتنے سکھوں سے ملا ہوں ان کو پاکستان سے خوش اور مطمئن پایا ہے۔

تو بات کچھ یوں بنتی ہے کہ یہ سب اس کا کیا دھرا ہے جس کو یہ سلامتی اور ہمارے معاشرے کا حسن ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ ہماری ناکامی یہ ہے کہ ہم ابھی تک اس دشمن کو مکمل طور پہ اپنے اندر سے مکمل طور پہ نہیں نکال پائے۔ لیکن اب وہ وقت اتر رہا ہے جب دشمن کی میلی انکھ کی بینائی ختم ہو جائے گی۔ سکھوں پہ صرف پاکستان نہیں، انڈیا سے بھی ظلم کا خاتمہ ہو جائے گا۔ مجھے ایسی فیلنگ آتی ہے کہ سکھ پاکستان کی طرف مثبت سوچ کے ساتھ پلٹیں گے۔

ایک اور بات یہ بھی کہ سکھوں اور ہندوئوں کا ہمارے درمیان رہنا ایک ثقافتی حسن بھی ہے۔ ہمارے ان سے تاریخی روابط ہیں۔ میرے ایک ہندو دوست بتاتے ہیں کہ وہ ہر سال جب کوٹ مٹھن میں دربار خواجہ غلام فرید رح پہ کلامِ فرید گاتے ہیں تو مکمل عرس پہ سکوت طاری ہو جاتا ہے۔ ہم اس حسن کو کھونا کسی قیمت پہ بھی برداشت نہیں کر سکتے۔

آئیے! اپنے اردگرد جہاں بھی اقلیتیں موجود ہیں، ان کو مکمل مذہبی آزادی اور تحفظ دیں تاکہ ہمارے معاشرے کا حسن اور سلامتی قائم رہ سکے۔ یقین کیجیے، ظلم کا معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔ ضروری نہیں کہ یہ ظلم اندرونی عوامل سے ہو یا بیرونی عوامل سے۔ ہمیں اب اپنی رواداری اور نظریاتی قبولیت کو واپس لانا ہو گا۔ ورنہ ہمارا جھومر گہنا جائے گا اور پاکیزگی کا یہ عنصر ناپید ہوتا جائے گا۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

حرف سے حُرمتِ حرف تک

وہ انہی قدموں زمین پہ ایسے بیٹھا جیسے پوست کا ڈھیر زمین پہ گٹھڑی ہو جائے، خشک تنکا اٹھایا اور خنک ریت پہ “حرف” لکھا۔ اور اس کی آبیاری کو دو آنسو گرائے۔

مجھ سے مزید صبر نا ہوا۔ پوچھا کہ ایسا کیوں؟

کہنے لگا “ہر دور میں اس دور کی سب سے قیمتی چیز پہ دھندھا ہوا ہے۔ کبھی زمین تو کبھی دولت تو کبھی عورت، ہر چیز پہ وقت نے دھندھا کیا ہے۔ بالکل اسی طوائف کی طرح جو سرِ شام سے ہی بکنا شروع ہوتی ہے اور صبح صادق تک بکتی ہے۔ ایسے ہی آج کے دور میں بھی یہی کچھ جاری ہے”۔

“ تم ! چاہتے ہو نا کہ لکھاری بن جائو، لوگ تمہیں ایک سچے لکھنے والے کے طور پہ جانیں۔۔۔؟”۔

میں حیرت سے اس کا منہ تک رہا تھا۔ میں نے تو بس اتنا کہا تھا کہ میرا لکھا کم از کم اپنے وقت میں پاکیزہ ہوتا ہے، چلتا کیوں نہیں؟۔

کہنے لگا “ آج کے دور کی سب سے قیمتی چیز “معلومات (Information) ہے۔ اور آج کے دور میں سب سے زیادہ دھندھا اسی پہ ہو رہا ہے۔ اس حمام میں کون نہیں ننگا؟ حرف پہ سب سے زیادہ حرف اسی دور میں آیا ہے۔ اور تم چاہتے ہو کہ حرف زدہ ہو جائو۔ یہ خواہش کی ہے۔۔۔ “۔

اس کے بعد تب تک میں ریت کو گھورتا رہا جب تک وہ چلا نہیں گیا۔ جب میں اکیلا ہوا تو تمام میڈیا ہائوسز ، بکے ہوئے علوم اور تحقیق کے سارے در مجھ پہ وا ہوئے ۔ مجھے لگا کہ شاید اس دور میں غلامی سب سے زیادہ، سب سے بڑی اور سب سے زیادہ پر اثر ہے۔

ذہنی غلامی جسے حرف کے ذریعے ذہنوں میں انڈیلا جا رہا ہے، اور جو کمایا جا رہا ہے، وہ بھی حرام کی ایک قسم ہی ہے۔ تبھی تو ہماری کیا، یوری دنیا کی معاشیات سود در سود کے ایسے جال میں پھنس چکی ہے کہ کوئی بھی ملک آزاد معاشیات کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔

خیر بات کہیں اور نکل گئی۔

مجھے بس جاتے جاتے دور سے اتنا کہا “ ہم نہیں چاہتے کہ دو لقمےحلال کے جو تمہیں میسر ہیں، وہ بھی چھن جائیں۔ آخر مر ہی جانا ہے نا، انہی پاکیزہ حروف پہ اکتفا کر لو۔ وقت خود ہی تراش لے گا۔ نا بھی تو کوئی فرق نہیں پڑے گا”۔

میں تب سے اب تک حرف کی حرمت پہ رُکا ہوں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رلھیں۔ آمین۔ بہزاد

یومِ تکبیر

۲۸ مئی یومِ تکبیر۔

اعلان کہ “اللہ بہت بڑا ہے” نے پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔ زرا ایک لمحے کو رکیے اور اس اعلان پہ غور کریے۔ اعلان اللہ پاک کی منزلت اور برتری کا کیا جا رہا ہے ۔ بات پاکستان کے دفاع کی آجاتی ہے۔

کیا کسی نے آج تک اس حسنِ اتفاق پہ غور کیا؟

نا جی۔ ہمیں تو اس ملک اور قوم کے بارے میں اتفاقات کی اس قدر عادت ہو گئی ہے کہ ہم اس کو درخورِ اعتناء ہی نہیں سمجھتے۔ یہ سچ ہے کہ ہم لوگ اب دو قومی نظریہ پہ سوال اٹھانے لگے ہیں اور پاکستان کے وجود پہ بھی سوال اٹھانے لگے ہیں۔ جبکہ قدرت اسباب کے ذریعے نظامِ کائنات چلاتی ہے اور اسباب انہی اتفاقات سے پیدا ہوتے ہیں۔

خیر بات کسی اور سمت نکل گئی۔

پاکستان کے ان ایٹمی سائنس دانوں، ان کی مدد کرنے والے تمام اداروں، عالمی سطح پہ یہ اعلان کرنے والی سول حکومت اور نیم شب بارگاہِ اہدیت میں گرتے آنسوئوں کے ساتھ پاکستان پاکستان پکارنے والے نیک لوگوں کو خصوصی طور پہ خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ ہر آنے والا دن اس ملک و قوم کیلئے گزرے ہوئے دن سے بہتر ہے۔

اُس غریب عوام کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے محکوم بن کر اپنے وجود کی چکی پیس پیس کر ہمارے شبِ و روز کو ایک ملک کے نام سے مزین کر رکھا ہے۔ آخر میں سلام اس بیرونِ ملک پاکستانیوں کو بھی جن کی آنکھیں سبز ہلالی پرچم دیکھ کر ٹھنڈی ہوتی ہیں۔

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ چاہے آپ وطن سے محبت کریں یا نفرت، زندگی دونوں صورتوں میں گزر ہی جاتی ہے۔ لیکن وطن سے محبت کرنے والوں کو اس وطن کی مٹی عزت دیتی ہے۔ نفرت کرنے والوں کی زندگی میں مقدور بھر زہر گھُل ہی جاتا ہے۔ یہ دنیا مکافاتِ عمل ہے۔ اور پاکستان پاکیزہ لوگوں کی جگہ ہے۔ ناپاک لوگ یہاں سے نکال دیے جاتے ہیں۔

آج کا دن ان تمام پاکیزہ احساس کے مالک لوگوں کیلئے فخر کا لمحہ ہے۔ آئیے! اس خوشبو کو اپنے جسم و جاں میں محسوس کریں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

مسلمان سے مومن تک

بہت عرصہ ہوا وہ اس تلاش میں تھا کہ اُسے مسلمان اور مومن کا فرق پتا لگ سکے۔ بڑے بڑے در پھرا، بڑے کلغی والے ملائوں اور پیروں سے مہنگا مہنگا وقت لیا مگر شنوائی نا ہو سکی۔ لفظی ترجموں سے فلسفہ کی تاریک گتھیوں تک سب کچھ سلجھا لیا مگر فرق پتا نہ لگ سکا۔

اور پھر ایک دن اُسے پتا لگ ہی گیا۔

ہوا کچھ یوں کہ اُس نے دفتر میں باس کو کوئی کام کہا جس کا اس کے منہ پہ صاف انکار ہو گیا۔ اور اتفاق کی بات ہے کہ اسی انکار کے بعد باس اٹھ کے نماز پہ جانے لگا تو جاتے جاتے اُس نے بڑا دل کر کے اپنے دل کی بھڑاس نکال ہی ڈالی کہ ایک طرف اتنی نمازیں اور دوسری طرف اپنے ماتحت کے چھوٹے سے کام سے بھی انکار۔

باس کے چہرے پہ مسکراہٹ سی پھیل گئی۔

اُس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور دو منٹ کیلئے رُک کر یوں گویا ہوا “ بھائی دیکھو! کلمہ پڑھ لینے سے انسان اسلام میں داخل ہو گیا۔ اس کے بعد اندر جو پوشیدہ ہے اور باہر جو ظاہر ہے، اس کے درمیان خلیج کو ختم کرنا ہی مسلمان سے مومن تک کا سفر ہے۔”۔

“مجھے تمہارے اس چھوٹے سے کام سے کچھ زیادہ نفع یا نقصان کی امید تو نہیں مگر ہاں، میرے اندر اور باہر کی بات کو برابر کر کے مجھے یہ امید ضرور لگ گئی ہے کہ کم از کم اگلی دفعہ آپ میرے اندر اور باہر کے بارے میں ٹھیک اندازہ لگا سکیں گے۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ درویش کے پاس انکار نہیں ہوتا مگر مومن کے پاس ہر چیز کا فیصلہ اس کے تمام تر دنیاوی اور دینی پہلوئوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔”۔

خیر جیسے ہی وہ اس انکار کے بعد دفتر سے باہر نکلا، ایک دوست کی کال آئی اور وہ چھوٹا سا مسئلہ سرے سے ہی ختم ہو گیا۔ لیکن مومن کا یہ طریقہِ واردات اس پہ پہلی دفعہ منکشف ہوا تھا۔ بیشک اللہ پاک کے نوازنے کے انداز نرالے ہی ہیں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

حیات سے آبِ حیات تک

اس کائنات کے حسین ترین احساسات یا تازگی بخش ترین لمحوں میں سے ایک لمحہ وہ بھی ہے جب آپ تازہ ،شفاف ،ٹھنڈے بہتے ہوئے پانی میں ہاتھ پائوں یا جسم کا کوئی بھی حصہ بھگو کر اس ندی کے کنارے بیٹھے ہوں۔ اس لمحے بڑی سے بڑی پریشانی بھی آپ کی توجہ اپنی طرف نہیں کھینچ سکتی۔ یہ ایک تجربہ ہے۔ کر کے دیکھ لیجیے گا۔

مدعا یہ نہیں کہ پانی کی اہمیت تبائی جائے حالانکہ پانی حیات ہے۔ زندگی پانی سے ہے، زمین سے باہر سب سے زیادہ تلاش پانی کی ہو رہی ہے۔ مدعا یہ بھی نہیں کہ وادیِ پھنڈر میں بہنے والی ندی میرے خوابوں کی جنت ہے اور اس ندی پہ ایسے ہی پائوں لٹکائے گھنٹوں بیٹھ کر لکھنا میری زندگی کے حسین ترین لمحوں میں سے ایک ہو گا۔

یہ بھی بتانا مقصود نہیں کہ پچھلے بیس سالوں میں پنجاب میں پانی کی زیر زمین سطح سو فٹ نیچے گر گئی ہے اور دوسری طرف سے ہمارے اندرونی خلفشار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت نے ہمارے دریا تقریباً خشک کر دیے ہیں۔ یہ بھی میں نہیں بولنا چاہتا تھا کہ بارشوں کا تناسب جس طرح گر رہا ہے اور پہاڑوں پہ برف جس طرح پگھل رہی ہے، درجہ حرارت میں اضافہ اور درختوں کے مسلسل کٹائو نے حیات پہ ضابطہ تنگ کرنا شروع کر دیا ہوا ہے۔

بات صرف اور صرف اتنی سی ہے کہ پانی میں زہر گھولنا اپنی زندگی میں زہر گھولنا ہے۔ اس کو جتنا شفاف رکھیں گے اتنی ہی ہماری زندگی شفاف ہو گی۔

ہمارے اردگرد ایک پائی جانے والی غلط عادتوں میں سے ایک اور شاید سب سے نقصان دہ عادت یہ بھی ہے کہ ہم جتنا بھی کوڑا کرکٹ ، گھروں اور کارخانوں کا فضلہ الغرض سب کچھ ہی پانی میں بہا دیتے ہیں۔ چاہے ہم سیر پہ گئے ہوں یا گھروں میں ہو، ہم یہی کچھ کرتے ہیں۔ بس بہا دیتے ہیں چاہے جس قدر گندگی بھی ہو۔

خضدار میں شہر کی بیچوں بیچ ایک دریا بہتا تھا۔ جو لوگ بلوچستان سے ہیں یا خضدار دیکھا ہوا ہے، وہ میری بات کی تائید کریں گے۔ اس دریا کی وجہ سے وادی کی ایک شان تھی۔ سبزہ ہی سبزہ۔ پنجاب سے زیادہ اچھی سبزیاں اس وادی میں ہوتی تھیں۔ بنجر خشک پہاڑوں کے بیچ یہ وادی جنت نظیر تھی۔ پھر ہم نے دریا میں گند ڈالنا شروع کر دیا۔ دریا رکتا رکتا نالے میں تبدیل ہوا، پانی کھڑا ہونا شروع ہو گیا، قبضہ گروپ نے واٹرپمپ ڈال دیے، اور نالہ برساتی نالہ بنا، مچھلی اور پودے ختم ہوئے اور آج خضدار ایک بار پھر ویران سا ہو رہا ہے۔ یہ برساتی نلہ خشک ہو چکا اور ساری آبادی ایک بار پھر پانی پانی پکار رہی ہے۔

مجھے خضدار میں دوسال گزارنے کے دوران صرف ایک یہی حسرت رہی کہ کاش میں دریا کے جوبن میں اس حسین وادی کا حصہ بن سکتا۔

یقین کریں ہم میں سے جتنے لوگ شمالی علاقہ جات سیر کیلئے جاتے ہیں، ان کی پسند کو اگر گراف پہ ظاہر کیا جائے تو آدھا گراف پانی اور ندی نالوں کی پسند کو ظاہر کرے گا۔ باقی آدھی پسند میں پہاڑ، سبزہ اور جنگلی حیات شامل ہو گی۔ یقین کریں جس قدر تیزی ہے ہم پانی میں زہر گھول رہے ہیں، پچیس سال بعد شمالی علاقہ جات کا حسن بھی مانند پڑنا شروع ہو جائے گا۔

کم ازکم میں نہیں چاہتا کہ میری بیٹی بھی مجھ سے وہی سوال کرے جو میں نے اپنے والد صاحب سے کیا کہ آپ ہمارے حصے کی فطرت کا حسن خود کیوں استعمال کر گئے؟

یہی استدعا ہے کہ جو بھی جیسے بھی پانی استعمال کرے، کم از کم ایک بار اور استعمال جتنا چھوڑے۔ تاکہ پانی نسل در نسل چل سکے اور ہم اس دنیا کو دوزخ بننے سے روک لیں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

قدیر گیلانی اور فطرت کی نگہبانی

یہ پوسٹ اپنے اندر ایک خراجِ تحسین بھی ہے اور ایک طمانچہ بھی۔ خراجِ تحسین ان تمام کیلئے جو ابھی بھی کچھ پرانے دور کے رکھ رکھائو اور روایات کے ساتھ جڑے ہیں اور اس کی بجا آوری میں کبھی کسی مشکل کو خاطر میں نہیں لاتے۔ طمانچہ ان کیلئے جو ابھی بھی کسی اہم کام کیلئے وقت اور وسائل کا انتظار کرتے ہیں۔

قدیر گیلانی جن کے آباء و اجداد کا تعلق کشمیر سے ہے اور ابھی لاہور میں رہتے ہیں۔ ان کے بڑوں کا مدفن کشمیر ہے۔ اپنی والدہ صاحبہ جو کہ شاید ابھی ساٹھ کے پیٹے میں ہوں گی، کی ایک خواہش کو پورا کرنے کیلئے انہوں نے عزم و ہمت کو ایک نئے حوصلے سے روشناس کراتے ہوئے خدمت کی ایک ایسی مثال قائم کی ہے کہ انسانیت اور بالخصوص پاکستانیت کو رشک ہے۔

خواہش کیا تھی؟ بس اپنے پُرکھوں کی قبروں پہ فاتحہ خوانی۔

بیٹے کے پاس ایک موٹر سائیکل تھی۔ لیکن عزم و ہمت سے مالامال تھا۔ ماں کی منت سماجت کی، بات منوالی اور ماں بیٹا کشمیر کیلئے نکل پڑے۔ راستے کی طوالت، عمر، تھکن، موسم، الغرض تمام فصیلیں عبور کرتے ہوئے وہ کشمیر سے ہو آئے۔ سیر بھی ہو گئی اور خواہش بھی پوری ہو گئی۔

بات یہاں نہیں رکتی۔

خدمت کا یہ انداز فطرت کو ایسا پسند آیا ہے کہ ان دونوں کو آغوش لے لیا ہے۔ یقین کیجیے یہ سب سمجھنا مادی حدود سے کچھ آگے کی بات ہے۔ جس وقت میں یہ کچھ لکھ رہا ہوں، وہ میری جنت “چترال” کے آس پاس فطرت کی ہمسفری میں ہیں۔ وہی ایک موٹرسائیکل، ایک ماں اور ایک بیٹا۔ باقی ہر سمت میں فطرت ۔

مجھے سمجھ نہیں آتی اس کو خدمت کہوں، عزم و ہمت کہوں، مہم جوئی کہوں، فطرت سے پیار کہوں یا پتا نہیں کیا کیا کہوں۔ مگر سچ یہی ہے کہ درج بالا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی یہ احساس اس تمام سے بہت بالا ہے۔ یقین کیجیے یہ سب کچھ افسانوی نہیں، حقیقت ہے۔ ایسی حقیقت جس کا احساس اس قدر پاک اور بے باک ہے کہ انسان اپنے آپ کو بہت دیر اس کے حصار میں محسوس کرتا ہے۔

میں اور میری بیوی اسلام آباد سے گوادر تک اپنی گاڑی میں مزے سے گھومے پھرے ہیں۔ مجھے پہاڑوں میں ڈرائیور کرنے سے ڈر لگتا ہے ورنہ شاید خنجراب تک جا پاتے۔ لیکن انشاءاللہ اب جائیں گے۔ مگر قدیر گیلانی کو میں اس وجہ سے بھی سلام پیش کرنا چاہتا ہوں کہ اس نے اپنے احساس اور پسند نا پسند سے بڑھ کر یہ کام کیا ہے۔ سلام ہے اس ماں کو جو بیٹے کی اس معصوم کوشش کو مان بخش رہی ہے۔

اور میں یہ سب کیوں لکھ رہا ہوں؟

کیونکہ یہ سب میں بھی کرنا چاہتا تھا لیکن نہیں کر پایا۔ کسی اور کو کرتا دیکھ کر اس قدر رشک آیا ہے کہ داد دیے بنا رہ نہیں پایا۔ ان تمام نامکمل حسرتوں کا ایک اظہار قدیر گیلانی نے مجھے عطا کیا ہے ۔ میں ان ماں بیٹا کا احسان مند ہوں۔

آئیے! اپنے خوابوں کو تعبیر دیں۔ وہ تعبیر جس میں ہمارے بڑوں کے خواب پنہاں ہوں۔ یقین کیجیے یہ بھی ایک قسم کی جنت ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد