اخلاقیات کا ماتم

کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ مجھے فوڈ پوائزننگ ہو گئی۔ ساری رات کرب میں گزارنے کے بعد صبح صادق کے وقت اللہ پاک کے فضل سے وومٹ ہوئی اور سارا زہریلہ مادہ جسم سے باہر نکل گیا۔ اس کے بعد سکون سے کچھ دیر نیند آئی اور پھر ہسپتال سے دوائی لایا اور الحمد للہ صحت بالکل ٹھیک ہو گئی۔

وقت تھا، گزر گیا۔ لیکن میں اُس کے گزرنے کے بعد دو تین دن یہی سوچتا رہا کہ کیسے ہمارے جسم میں خودکار نظام کو پتا چلا کہ زہریلا مادہ آ گیا ہے جسے معدے میں جانے سے روکنا ہے۔ اور پھر کیسے اینٹی پیراسٹالسز کے ذریعے اس کو جسم سے باہر نکال دینا ہے۔

بات یہیں تک ہوتی تو بھی سوچوں کا سلسلہ رُک جاتا۔ مگر بات بہت آگے گئی۔ ہوا یوں کہ مجھے یاد آیا ایک جگہ پڑھا ہوا کہ انسان کائنات کا پرتو ہے۔ سارے نظارے اور ذائقے اور ان سے جڑے تمام احساسات تو انسان کے اپنے اندر ہیں۔ بیرونی دنیا تو مادہ ہے بس جو وزن رکھتی اور جگہ گھیرتی ہے۔

تو میں اس نکتے پہ پہنچا کہ یقیناً ہماری ذات کے اندر بھی یہی اینٹی پیراسٹالسز کا عمل ہوتا ہو گا جس سے تمام زہریلی چیزیں ہمارے سامنے ابل پڑتی ہوں گی اور پھر ان کو ہماری ذات سے بے دخل کرنے کا نظام بھی ہو گا۔ روحانی بھل صفائی کا خودکار نظام بھی ضمیر کی زیرِ کمان کام کرتا ہو گا جس سے تمام تر ناہمواریاں ہمارے سامنے آکر ہماری قوتِ فیصلہ کو چیلنج کرتی ہوں گی۔

پھر یہی نظام شخص سے بڑھ کر معاشرے پر بھی اپلائی ہوتا ہو گا۔ اس بات کو ثابت کرنے کیلئے میرے پاس دلیل تو کوئی نہیں البتہ آبزرویشن ہے کہ مثال کے طور پہ جیسے آج کل سیاست اپنی اخلاقی قدروں کو ہمارے سامنے کھول رہی ہے، زہریلہ مادہ فرد کے سامنے آ رہا ہے۔ عام آدمی اپنے مستقبل کے فیصلے کیلئے اب ان تمام چیزوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ ماننا نہ ماننا اور بات ہے لیکن یہ سب کچھ اگلنا اور عام آدمی کی سطح تک اس شعور کا پہنچنا بھی فطرت کی خودکار شعوری بھل صفائی کا ایک حصہ ہے۔

اب اس سے اگلہ مرحلہ صفائی اور پھر سکون کا ہو گا۔ اخلاقی صفائی بہت ضروری ہے۔ ہر انسان اپنی انفرادی حدود میں اس بات کا پابند ہے کہ وہ اپنی اخلاقیات کی بھل صفائی کا عمل مسلسل اور جاری رکھے۔ اگر ایسا نہیں کر سکتا تو نا تو عبادات کا کوئی فائدہ ہے اور نا ہی معاشرے میں پندونصائح کے دفتر لگانے کا۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

نوٹ: میری کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی وابستگی نہیں۔ اوپر بات سمجھانے کو سیاست کی مثال دی ہے کہ کیسے اخلاقیات کھل کر سامنے آ رہی ہے۔ تمام لوگوں سے گزارش ہے کہ اخلاقیات کی تربیت کا اہتمام کریں اور کم از کم اپنے انسان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے جانوروں پہ رحم کھائیں، پودوں کو نقصان نا پہنچائیں اور سیاسی وابستگی کے پیشِ نظر اپنے نجی تعلقات خراب مت کریں۔ رائے کا فرق ہر کسی میں ہوتا ہے۔ یہ انسان کے شعوری ارتقاء کی دلیل ہے۔

دکھاں دی روٹی، سولاں دا سالن

یہ شاید دسمبر یا جنوری کی بات ہے، پنجاب اس وقت شدید سردی اور دھند کی لپیٹ میں تھا۔ میں فجر کی نماز کے بعد ٹھٹھرتا ہوا تنویر الحسن صاحب کے آستانے تک پہنچا تھا۔ وہ بڑے لوگ ہیں، ان کا بڑا پن کہ انہوں نے مجھے اپنی مصروفیات سے کچھ وقت دیا تھا۔ جیسے ہی میں پہنچا، انہوں نے گرم گرم چائے سے تواضع کی۔ ایک مرید کو گرم نان اور مٹن سے ناشتہ تیار کرنے کا حکم دیا۔

میں بڑا چپ چپ اور باادب سا ہو کے بیٹھ گیا۔ اگرچہ میں اتنا باادب ہوتا نہیں ہوں مگر کیا کرتا، سردی ہی اتنی تھی کہ بولا نہیں جا رہا تھا۔ تعارف سے بات شروع ہوئی اور سلطان باہو رح کے کرم تک جا پہنچی۔ فرمانے لگے کہ ابھی کچھ دیر بعد ان کا شہزادہ دانہ ڈال کے آ جائے گا۔ اُس کو حکم ہے کہ سردیوں کے چھ ماہ ننگے سر ننگے پائوں اور ستر کے علاوہ بغیر کسی اضافی کپڑے کے فجر کے بعد پرندوں کو دانہ ڈالنے جایا کرے۔ لڑکپن کی عمر، اتنی شدید سردی اور کوئی ایک دو میل دور فجر کے بعد اندھیرے میں یہ حکم کی تعمیل، میں تو سن کر دل ہی دل میں شکر کر رہا تھا کہ میں اس راہ سے دور ہی اچھا۔

بتانے لگے کہ سلطان باہو رح کا بہت کرم ہے اور اس شہزادے کی تربیت بھی انہی کے زیرِ سایہ ہو رہی ہے۔ دل ہی دل میں مجھے سلطان باہو رح کی ہمسائیگی پہ بڑا رشک محسوس ہواکہ

جہاں جہاں بھی گیا ہوں فقیر بن کے تیرا

تیری نگاہِ کرم ساتھ ساتھ آئی ہے

خیر بات اُن کے کرم کی تو ہے ہی۔ مگر ظاہری دنیا کے اصولوں کو بھی اگر کسوٹی مان لیا جائے تو فقیر تمام تر دنیاوی پیمانوں کی چکی سے پس کر بنتا ہے۔ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ہر ہر لمحہ امتحان اور ہر ہر قدم پہ حدود سخت سے سخت تر ہوتی جاتی ہیں۔ علم اور عمل دونوں کسوٹیوں پہ پورا اترنا ہوتا ہے، پھر جا کے کہیں کچھ گوہرِ مقصود ہاتھ آتا ہے۔

ایک بار پھر بات کہیں اور نکل گئی۔

ہر درویش کی تربیت کا الگ طریقہِ کار اور الگ معیار ہوتا ہے۔ یہ طریقہ ہر ارادت مند کے لحاظ سے تبدیل ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے ایک ارادت مند کو سبزی کھانا منع ہو اور دوسرے کو صرف سبزی کی ہی اجازت ہو۔ یہ بات سمجھانے کیلئے کی ہے۔ سب سے پہلا قدم شرع کا ہے، اگر شرع مکمل ہے تب جا کے دوسرا قدم اٹھتا ہے اور یہ دوسرا قدم طریقت کا ہے۔ اگر شریعت اور طریقت دونوں پہلو انسان کی ذات کا حصہ ہیں اور ان دونوں پہلوئوں کو علم و عمل سے سینچا جا رہا ہے تو تب جا کے مومن کا لفظ وجود پاتا ہے۔

ورنہ سب راستے میں ہیں۔ جو جہاں دعویٰ کر جاتا ہے، وہ وہیں سے واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ باقی سب سر جھکائے، آنکھوں کو فرشِ راہ بنائے سوئے مدینہ رواں ہیں۔ جہاں سے عشقِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آبِ حیات سے روح سیراب ہوتی ہے اور انسان اپنے منبع کی طرف لوٹتا ہے۔

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ “جس نے اپنے آپ کو پہچانا ، اُس نے رب کو پہچانا”۔

خیر شہزادہ آ گیا۔ چہرے پہ ایک مسکراہٹ سجائے۔ میں نے بھی گرم گرم نان سے ناشتہ تناول کیا، تنویرالحسن صاحب نے اپنی دو کتب عنایت کیں اور میں واپس آ گیا۔ لیکن اب کبھی کبھی ایسے لگتا ہے کہ پرندوں کو دانہ ڈالنا واقعی بڑا مشکل کام ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ مردوں کا کام ہے۔ وہ میاں محمد بخش جہلمی رح کا ایک شعر ہے نا کہ

ہر مشکل دی کنجی یارو ہتھ مرداں دے آئی

مرد نگاہ کرے جس ویلے مشکل رہے نا کائی

اور حضرتِ اقبال رح نے تو بات کھول کے رکھ دی کہ

نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ترقی کی قیمت اور سوہنی کا بازار

گجرات میں ایک بازار ہے جسے یار لوگوں نے کبھی تاریخ سے غش کھا کر “سوہنی دا بازار” کا نام دے دیا تھا۔ لوگ چلے گئے، سوہنی بھی سنا ہے دریا کی نظر ہو گئی، اب تو بازار کو بھی پٹرول کے مونو آکسائیڈز والے دھوئیں نے کھا لیا ہے۔ لیکن کبھی کبھی یہ بازار آپ کی انگلی پکڑ کر چناب کنارے سوہنی کے کچے وقت کی سیر ضرور کراتا ہے۔

میں بھی ایسے ہی حالات سے مارا رات کے نو بجے رکشا اچانک یہاں رک جانے کیوجہ سے سڑک پہ اترا تھا۔ تازہ تازہ بارش ہوئی تھی تو سڑک پہ پانی تھا، میں فٹ پاتھ پہ ذرا اونچی جگہ کھڑا آسمان کو دیکھنے لگ گیا۔ آسمان بھی شاید نظر آ ہی جاتا لیکن آسمان سے پہلے اس عمارت نے مجھے مبہوت سا کر کے رکھ دیا۔

“راجپوت بھٹی بلڈنگ” نام کی یہ عمارت پاکستان بننے سے بہت پہلے کی تھی۔ ہو سکتا ہے اس کے باسیوں نے تب یہ عالی شان گھر اس لیے بنایا ہو کہ بازار ساتھ ہو گا، تاریخ کے ساتھ قدم ملا کر چل سکیں گے، پر شکوہ احساسات تلے نسلیں پروان چڑھیں گی ۔ پتا نہیں وہ باسی کہاں گئے اور وہ احساس بھی رکشوں کے دھوئیں اور شور تلے دب گیا۔ اس کے نیچے ایک ریڑھی والے نے بتایا کہ کوئی کرایہ دار ہیں یہاں اور بہت جلد اس بلڈنگ کی جگہ ایک پلازہ کھڑا ہو رہا ہے۔

میں سوچنے لگا کہ ترقی کی قیمت کم از کم ہماری تاریخ کو بیچ کر تو نہ چکائی جائے۔ حالانکہ مجھے پتا تھا کہ ہمیں اگر اپنی تاریخ سے اتنا پیار ہوتا تو پہلے پچاس ہجری سالوں کے بعد کا بھی کچھ نا کچھ ہم یاد رلھتے۔ لیکن شاید ہم وقت کے آزمودہ لوگ ہیں، ہم بہتے آئے ہیں۔

بالکل ایسے ہی جیسے کچھ عرصہ بعد یہ راجپوت بھٹی بلڈنگ ترقی کے دھارے میں بہہ جائے گی۔

کم از کم اپنے آپ سے اتنا سوال ضرور کیجیے گا کہ تاریخ کو کتنا مٹائیں گے؟ کب تک ماضی سے بھاگیں گے؟ اور کہاں کہاں سے ترقی کی قیمت چکائیں گے؟ وقت کا پہیہ تو کبھی نہیں رکتا، کیا آپ بھی اپنے آپ کو اس دھارے میں بہنے سے کبھی نہیں روکیں گے؟

اللہ ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

رسالہِ روحی سے دعویٰ ِ سلطانی تک

آج صبح سے ہی زبان پہ ایک مصرع چل رہا تھا کہ “ہمیں سو بار ترکِ مئے کشی منظور ہے لیکن “ بلکہ مصرع نا کہیں، کیفیت کہیں تو زیادہ اچھا اظہار ہو گا۔ پتا نہیں لکھنے والے نے کس کیفیت میں لکھا ہو گا۔ مگر یقیناً قتیل شفائی اگر زندہ ہوتے تو میں ان سے پوچھتا اور وہ اس بات کا برملا اقرار کرتے کہ یہ ان کے احساس کی چند حسین ترین کیفیات میں سے ایک لمحہ تھا جب انہوں نے لکھا کہ “نظر اُس کی اگر مئے خانہ بن جائے تو کیا کیجے”۔

ہر فنکار اپنی تمام تر زندگی فن میں ڈوب کر گزارتا ہے مگر کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جب فن فنکار میں ڈوب جاتا ہے۔ ان لمحوں میں جس صنف کا بھی فن تخلیق ہو، وہ اپنے سامع، ناظر یا قاری پہ ہمیشہ فنکار والی کیفیت کا کچھ نا کچھ حصہ ضرور اتارتا ہے۔ میں نے واصف علی واصف کے کلام “نعرہِ مستانہ” پہ ایسے ایسے لوگوں کو بھی جھومتے دیکھا ہے جن کو مستانہ کا مطلب بھی نہیں پتا۔ یہ بس فنکار کی جاوداں کیفیت ہوتی ہے جس سے ہر کوئی اپنا اپنا حصہ وصول کر رہا ہوتا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ ہر فن کار کی زندگی کا حاصل بس چند یادگار اور لافانی قسم کے فن پارے ہوتے ہیں۔ باقیوں کا تو اُسے یاد تک بھی نہیں ہوتا ۔ بس یہی کیفیت کے چند لمحے اُس کی زندگی کا حاصل اور اُسکی پہچان ٹھہرتے ہیں۔ یہ اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ زمانہ اِسے نہیں مٹا سکتا۔

تو بات یوں ہے نا کہ جب اُس کی نظر مئے خانہ بنتی ہے تو ناں جنوں رہتا ہے اور نا ہی پری رہتی ہے، نا میں رہتا ہوں اور نا ہی تو رہنا ہے، بس بے خبری ہوتی ہے۔ اس چشمِ مستی عجبی سے کشید کردہ شرابِ شعور جب جسم و جاں کو اپنی گرفت میں لیتی ہے تو انسان نئے سرے سے تعمیر ہوتا ہے، صوتِ “ہو” پھونکی جاتی ہے اور یہ انسان اپنے آپ میں خود پھونکتا ہے پھر تب جاکے خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں جن کا ہاتھ اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے جوکہ غلب و کار آفریں، کارِ کشا اور کارساز ہو جاتا ہے۔

ایک اور بات اچانک یاد آ گئی کہ فیض اسی پاکیزہ کیفیت کے جاوداں ہو جانے کا نام ہے، جاری رہتا ہے، ہر پڑھنے والے کی راہنمائی ایسے ہی ہوتی ہے۔ مرنے کے بعد بھی فعال رہنے کا ایک پہلو یہ بھی ہے۔ رسالہِ روحی کا دعویِٰ سلطانی رح اب سمجھ آتا ہے مجھے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔آمین۔ بہزاد

شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے

چلے جو ہو گے شہادت کا جام پی کر تم

رسولِ پاک نے بانہوں میں لے لیا ہو گا

سراج رئیسانی شہید ہوگیا۔ ایک ایسا انسان شہید ہو گیا جس کی پاکستانیت کا پورا پاکستان اور پاکستان دشمن طاقتیں بھی معترف تھیں۔ ایسا انسان اس ارضِ پاک پہ قربان ہوا جس نے اس وقت سبز ہلالی پرچم کو سینے سے لگائے رکھا جب بلوچستان میں اس پرچم کے لہرانے کا مطلب نوشتہِ اجل تھا۔

میں پنجاب کا ہوں، میری پاکستانیت یا انسانیت کے علاوہ یا ایک ٹورسٹ والی دلچسپی بس، اسکے علاوہ شاید کوئی خاص دلچسپی بھی نا ہو بلوچستان سے۔ میرا بلوچ قوم سے ایک ثقافتی رشتے کے علاوہ کوئی اور ایسا قابلِ ذکر رشتہ نا ہو جو اس قدر طاقت ور ہو کہ مجھے ایسا کچھ لکھنے پہ مجبور کرے۔

لیکن ایک چیز ایسی ہے کہ جس نے مجھ بلوچستان سے باندہ رکھا ہے۔ ہماری پاکستانیت، انسانیت، ثقافت الغرض کہ مسلمانیت بھی اس چیز سے جنم لیتی ہے۔

پھر آپ لوگوں کو یاد ہو گا کہ ایک دفعہ میں نے ایک پوسٹ لکھی تھی کہ حب چوکی سے لیکر کوئٹہ تک پاکستان کے تو شاید موبائل کے سگنل بھی کم کم آئیں مگر آل انڈیا ریڈیو واضح چلتا ہے اور اس پہ گمراہ کن پروپیگنڈہ کر کے بلوچ نسل کو پاکستان کے خلاف کیا جا رہا ہے۔

میں نے بلوچستان کے دونوں دور دیکھے ہیں۔ وہ دور بھی جب وہاں غیر بلوچ کو بسوں سے اتار کر سڑک پہ گولی مار دی جاتی تھی، جب بی ایل اے والے چلتی گاڑیوں پہ راکٹ داغ دیا کرتے تھے۔ میں اُس ٹرین میں بھی تھا جس پہ بی ایل اے کے دہشت گرد فائرنگ کیا کرتے تھے۔ جب آزاد بلوچستان کے نعرہ کے علاوہ کوئی بھی بات کا مطلب گولی ہوتا تھا۔

سراج رئیسانی وہ شخص ہے جس نے اُس وقت بھی اس زہریلے پروپیگنڈے کا الفاظ اور ہتھیار دونوں سے مقابلہ کیا۔

اور پھر وہ دور بھی جب بلوچستان کا امن واپس لوٹ آیا۔ سڑکوں کے کنارے آپ کو جلے ہوئے گھروں کی بجائے چھوٹی چھوٹی سرسبز آبادیاں، فٹ بال گرائونڈ اور دکانیں نظر آنے کگ گئیں۔ بلوچستان نے ترقی اور خوشحالی کا سفر شروع کیا۔ میں اکثر کہتا ہوں کہ اگر سڑک دیکھنی ہے تو بلوچستان کی دیکھو جہاں میرے جیسا بندہ بھی ۱۵۰ کلومیٹر فی گھنٹا کی رفتار سے کچھ اوپر ہی گاڑی چلاتا ہے۔ یہ دور اپنے ساتھ ایک مسلسل ، شفاف اور ہموار قسم کی سیاسی تبدیلی کا دور لایا۔

سراج رئیسانی اب اس سیاسی عمل میں شامل ہو کر پاکستان کی خدمت کرنا چاہتے تھے۔ وہ اسی مقصد کیلئے مستونگ تھے اور ایک جلسے کو ہی نشانہ بنایا گیا ۔ اس طرح بلوچستان ایک خوبصورت انسان سے محروم ہو گیا۔ بلوچ کی محرومی میں ایک اور اضافہ ہو گیا۔

تو جناب بات یہ ہے کہ بلوچستان وہ جگہ ہے جہاں سے اسلام اور اس کے تمام عملی پہلو برصغیر پاک و ہند میں داخل ہوئے۔ افغانی بادشاہوں کی شان میں قصیدے پڑھنے والوں کیلئے اتنا ہی عرض کروں گا وہ گندم لوٹنے آتے تھے پھر پورا برصغیر ہی لوٹ کر بیٹھ گئے۔ بلوچستان سے صاحبہِ کرام سے لیکر بعد میں صدیوں تک مسلمان اشاعتِ اسلام کی غرض سے داخل ہوتے رہے۔ بلوچستان میں جگہ جگہ عربوں اور اصحابِکرام کی قبریں اس بات کی گواہ ہیں کہ جیسے بلوچستان نئے پاکستان کا منہ ماتھا ہے بالکل ویسے ہی بلوچستان ہماری مسلمانیت کا من ماتھا بھی ہے۔

اور سراج رئیسانی جیسے لوگ اس حسین خطہِ بلوچستان کا منہ ماتھا ہیں۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ شہدائے مستونگ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں۔ اور تمام پاکستانیوں کو مسلمانیت اور پاکستانیت سے بہرہ مند فرمائیں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

چوری نئیں پچدی

ایک دن کی ہے ہم کلب میں ٹریک پہ واک کر رہے تھے۔ اچانک میرا دست بات سنانے لگا کہ بچپن میں ایک دفعہ اُس نے مالٹے چوری کیے۔ گو کہ ابھی تک ہم نے کام چوری کے علاوہ کوئی خاص بڑی چوری نہیں کی تھی۔ میرے لیے یہ انکشاف اس لیے بھی حیران کن تھا کہ ہم نے اکثر ایسے کام اکٹھے ہی کیے تھے پر یہ اکیلی چوری اور وہ بھی مالٹوں کی۔ مجھے غصہ تو بہت آیا مگر پی گیا اور مکمل بات بتانے کا کہا۔

ہوا کچھ یوں کہ وہ اپنے ننھیال سے واپس گھر آ رہا تھا کہ راستے میں مالٹوں کا باغ دیکھ کر نیت بدل گئی۔ اُس دور میں کھٹے مالٹے کھانا بھی ایک فینٹسی ہوتی تھی۔ خیر اُس نے دائیں بائیں دیکھ کر جرآت کی اور دو مالٹے توڑ لیے۔ اب گھر میں تو مالٹوں کی تفتیش ہونی تھی تو اُس نے راستے میں ہی پکی نہر کے کنارے ایک سایہ دار درخت تلے مالٹوں کا پتہ صاف کرنے کا سوچا۔

جیسے ہی وہ مالٹے چھیل کر نہر کنارے ٹھنڈے ماحول میں کھانا شروع ہوا، پائوں پھسلا، خود کو تو بڑی مشکل سے سنبھال پایا مگر مالٹے نہر میں گر گئے۔ چوٹ بھی آئی۔

حسرت لیے آگے چل پڑا، راستے میں کزن ملا، اُس کو واقعہ سنایا تو اُس نے سرائیکی میں کہا کہ “تینوں نہیں پتا جو توانوں چوری نئیں پچدی؟” مطلب آپ کو نہیں پتا کہ آپ کے خاندان کو چوری ہضم نہیں ہوتی۔ وہ دن اور آج کا دن، میرے دوست نے چوری نہیں کی۔ یہ جملہ آجی بھی اُسی لمحے کی طرح زندہ و جاوید ہے۔البتہ کام چوری اور بات ہے۔

تو بات یہ ہے کہ جو انسان روحانی طور پہ پاکیزگی میں جس قدر داخل ہوتا جاتا ہے، اسی شرح سے اُس کا جسم و جاں حرام قبول کرنے سے انکاری ہوتا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں جو ایک بات کی جاتی ہے کہ تصوف میں حدود ہر قدم کے ساتھ سخت سے سخت تر ہوتی جاتی ہیں، اس بات کی وجہ یہی ہے کہ آپ کا جسم حرام کی طرف اٹھنے سے انکاری ہوتا جاتا ہے، اگر آپ اس مقام پہ کسی بھی قسم کی چوری کریں گے تو جسم کا اتنا ہی زیادہ اور سخت ری ایکشن سامنے آئے گا۔

عزت کا چلے جانا، جسمانی تکالیف، بیماریاں الغرض ہر ایسی ضرر چیز ہماری کسی نا کسی چوری کا نتیجہ ہوتی ہے جس سے حرام اپنا ری ایکشن کرتا ہے۔ اسی لیے ایک ولی کیلئے گناہ کا خیال بھی گناہ ہے۔

اب یہ چوری چیزوں، کام، خیال، وقت، الغرض زندی کے تمام معاملات پہ محیط ہے۔ ایک مقام پہ تو ایک سانس کا بھی ذکرِ الٰہی سے خالی جانا بھی سانس کی چوری ہو جاتا ہے۔ لیکن وک بہت بڑے مقام ہیں۔ ہمارے لیے تو شاید چوری کا ہضم نا ہونا بھی اللہ پاک کے بہت بڑے کرم تعبیر کیا جاتا ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔بہزاد

ساندل بار کے صندل سپنے

اگر کوئی آدمی پاکستان بننے سے پہلے والے معاشرے، ثقافت اور جغرافیہ کے احساس سے گزرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ ایک بار سرگودھا سے شورکوٹ تک ساندل بار ایکسپریس ٹرین سے سفر کرے۔ اس ٹرین میں صرف اکانومی کلاس ہوتی ہے اور حد رفتار ۶۵ کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ چار گھنٹے میں سرگودھا سے شورکوٹ پہنچاتی ہے۔

محرابی دروازوں والے اجڑے ہوئے ٹرین سٹیشن، بمبئی کی آئرن کمپنی کے بنے ہوئے چھت اور پانی کے ٹینک، پٹڑی کے اطراف دور دور تک چرتے ہوئے ساندل بار کے ارنے بیل اور بھینسے، ہر سٹیشن پہ لگے ہوئے بوہڑ کے درخت اور ان کے نیچے پانی کے نلکے، پھَکی اور اشیائے خوردونوش بیچنے والوں کا آنا جانا ، اور بوگیوں کی چھکا چھک انسان کو ایک مکمل دور سے گزار کر شورکوٹ اتار دیتی ہے۔

اگر آپ تھوڑے سے نظر ملا کر چلنے والے بندے ہیں تو جہلم اور چناب کے کنارے بسنے والیاں بوڑھیاں لاچے پہنے ، اور جوانیاں سرخی مائل گندمی چہرے اور ہیر سیالوی سے قد کاٹھ اٹھائے بھی آپ کی توجہ کا مرکز ضرور بنیں گی۔

پردہِ تخیل پہ جہلم کے آرپار بسنے والے گھڑ سوار ڈاکو دو نالی بندوقیں اٹھائے آپ کے ہمراہ چلیں گے اور پس منظر میں طالب درد راگ جوگ کی جوت جگاتا ہوا آپ کو مکمل طور پہ ساندل بار کے تاروں کی گرفت میں لے لے گا۔

جیسے ہی آپ شورکوٹ اتریں ، مائی باپ کو سلام کرنے کا ارادہ کر لیں۔ تمامتر تہذیب اپنی کثافت کا دامن چاک کرکے آپ کو صوتِ ہو کی جھولی میں ڈال دے گی۔ چناب کو سلام کرتے ہوئے اپنا آپ سلطان باہو رح کے حوالے کردیں اور ایک مکمل صدی آپ میں عود کر آئے گی۔

ثقافت اسی احساس سے گزرنے کا نام ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

تیرے قدموں کے نشاں

وہ قبر ایسی جگہ پہ ہے جہاں سے ایک طرف سورج عصر میں داخل ہوتے ہی ریگستان کی اوٹ لینا شروع کر دیتا ہے اور دوسری طرف دربار شاہ سلطان رح نئے سرے سے روشن ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ماضی بعید سے لے کر چھ سال پہلے تک ہم اکثر قبرستان جاتے ، اِسی جگہ بیٹھ جاتے اور ایک طرف سے غروبِ آفتاب کی تصاویر اتارنا شروع کر دیتے اور دوسری طرف دربار کی۔ اُس وقت ہمیں موت و حیات کا اتنا ادراک نہیں تھا ۔ ہمیں بس تھل کے صحرا اور اُس کی آغوش میں واقع اس قبرستان کی خاموشی اور اس سارے منظر میں گرتے ہوئے سورج سے عشق تھا۔

یہ وہ باتیں ہیں جو میرے اور اُس کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا تھا۔ گھر والے، رشتہ دار ، دوست احباب اور باقی وسیب دار ہمیں شکوک کی حد کے القابات تک کہتے تھے لیکن ہمارا عشق بس ساز، اور درج بالا منظر تھے۔ اسی ٹیلے پہ بیٹھ کر ہمیں ایک شب رات کو ساری رات ڈھول پہ کافی بھی گائی تھی۔ یہ تمام احساسات ابھی تک اس ریت پہ زندہ ہیں۔

پھر یوں ہوا کہ عین اُسی جگہ اُس کی قبر بنی۔ وہ حادثہ شاید نفسِ مضمون پہ اداسی بکھیر دے، اس لیے حذف کر رہا ہوں۔

اب میں عین اُسی جگہ اُس کی قبر کے سر کی جانب بیٹھا ہوا اِسی احساس کے مارفیا تلے اپنی بہن کو بتا رہا تھا کہ موت بھی ایک حسین حادثہ ہے۔ اور اس حسن کی سب سے زیادہ تزئین اور سب سے زیادہ احساس پاکستان میں ہے۔ مر تو سب نے جانا ہے مگر میری دلی خواہش ہے کہ موت پاکستان میں آئے۔ اور اسی مٹی میں دفن ہوں۔

شاید آپ نے کبھی اس بات پہ غور کیا بھی ہو ، کس قدر خوب صورت منظر ہوتا ہے جب ہمارے وصال کی خوشی میں جو جو بھی خبر سنتا ہے، اُس کے اندر کی تڑپ اور روح کی اپنے منبع سے دوری کی اداسی عود کر آتی ہے، ہر آنکھ بے اختیار اشکبار ہوتی جاتی ہے اور صاحبِ وصل کی جانب دوڑے چلے آتے ہیں، نہلایا دھلایا اور دولہا بنایا جاتا ہے، دو رکعت نماز اور مغفرت کی دعا کے بعد اپنے کاندھوں پہ رکھ کر قبرستان لایا جاتا ہے، ہر بندہ چارپائی کو کاندھا دینے کو بیتاب ہوتا ہے۔ دفن کرکے قبر پہ کچھ دیر بیٹھنے کا حکم ہے تاکہ وصل کا کچھ احساس ہم پہ بھی اترے اور صاحبِ وصل بھی میلے سے اکیلا تک کا سفر آسانی سے طے کر لے۔

یقین کریں میں نے خود دیکھا ہے کہ میت کو ہار پہنائے جاتے ہیں، کلاہ لگائے جاتے ہیں، بالکل دولہا بنا کر قبر میں اتارتے ہیں۔ ہر چیز مذہبی نہیں ہوتی، کچھ چیزوں کا تعلق ہمارے اندر کے احساس، ثقافت اور نظریات سے بھی ہوتا ہے۔ مجھے نہیں پتا کہ مذہب کی رو سے یہ غلط ہے یا صحیح ہے، پر ایسا ہوتا ہے۔ اور مجھے ذاتی طور پہ موت کے یہ منظر بہت حسین لگتے ہیں۔ کیا پتا خالقِ کائنات بھی اپنے بندوں کے اس قدر حسین دنیاوی اختتام پہ مسرور ہوتا ہو۔ وہ تو خدا ہے، ادا پرست ہے۔ اُسکا محبوب بشر ہونے پہ مسرور ہے۔ تو خدا کو بشر سے کس قدر پیار ہو گا۔

عین اُسی جگہ اب اُس کا بیٹا موبائل کو بلکل اُسی انداز میں پکڑے دربار اور غروبِ آفتاب کی منظر کشی کر رہا تھا، میں اس سب منظر کا حصہ بنا بیٹھا تھا اور وہ عین اسی جگہ آسودہِ خاک تھا۔ شاید ہم تینوں چاروں ایک ہی احساس تلے مبہوت تھے۔ موت اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ دلہن بنی ہمارے سامنے رقص کناں تھی۔ شاید حسنِ ازل ابھی تک جاری ہے اور ابد اسی دلہن کے پردہ اٹھانے کا نام ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

طوافِ کوئے ملامت

یہ ایک فرضی کہانی ہے جس کا حقیقت سے افسانوی سا تعلق ہو سکتا ہے۔ لیکن روایتوں میں بڑی حسین سی لگتی ہے۔

کہتے ہیں کہ میں جب بھی وہاں جاتا، اس جگہ سے ضرور گزرتا مگر پہلی ایسا ہوا کہ اس شخص نے مجھے آواز دی۔ بہت بڑے دفتر کا بہت بڑا افسر تھا، میں دبے پائوں اندر داخل ہو گیا تو مجھے بیٹھتے ہی وہ گویا ہوا “تم یہاں کیا لینے آتے ہو؟”۔

سچی بات تو یہ تھی کہ میں جب بھی مایوس ہوتا، ان افسرانِ بالا کی طرف چکر مارتا تھا تاکہ میری یہ خواہش جواں رہے کہ مجھے یہاں تک پہنچنا ہے۔ اس طرح میرے جسم و جاں اس نیم مردہ خواہش کے دوبارہ زندہ ہو جانے کی خوشی میں سانسوں کی کاٹھی کچھ دیر اور اٹھانے کے قابل ہو جاتے اور میں واپس آکر اپنے دفتر میں دوبارہ کام میں جُت جایا کرتا تھا۔

میں نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا کہ ادھر ٹی بار سے کچھ کھانے آتا ہوں۔ دفتر دور ہے اس لیے ویٹر وہاں کم ہی چکر لگاتے ہیں۔

میری بات کو ٹوکتے ہوئے گویا ہوئے کہ بھائی دو باتیں ہمیشہ یاد رکھو۔ آپ کا سوال آپ کے چہرے پہ ہمیشہ لکھا ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیشہ سچ بولو۔ ورنہ سمجھنے والا چہرہ پڑھ کر آگے بڑھ جائے گا۔

دوسری بات یہ کہ ہر خواہش کے تین درجے ہوتے ہیں۔ پہلے درجے میں خواہش ایک حسین سراب کی طرح انسان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ جب انسان مکمل طور پہ اس سراب کو قبول کر لیتا ہے تو پھر انسان اس سراب کو حقیقت سمجھ کر تمام تر توانائیاں اس پہ مرکوز کر دیتا ہے۔ اور نوے فیصد سے زیادہ لوگ اسی میں کھو کر زندگی گزار جاتے ہیں۔ کیونکہ یہ انسان کو تحریک دیتی ہے، آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے، زندہ رہنے کی امید دیتی ہے مگر یہ حقیقت سے ایک دو قدم پہلے دم توڑ دیتی ہے۔

تیسرے درجے میں انسان یہ سب کچھ کرنے کے بعد اس سب سے آزاد ہو جاتا ہے۔ یہ آزادی تب نصیب ہوتی ہے جب انسان فطرتی اصولوں کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال کر خالقِ فطرت کی تلاش کرتا ہے۔ علم کے تمام راستوں کو کھوجتا ہے تاکہ اس خالق کی طرف بڑھ سکے۔ مسلم دور کی تمام سائنسی، فلسفہ اور صرف و نحو کی ترقی اسی تیسرے درجے کی مرہونِ منت ہے۔

شاید یہ بھی ایک بہت بڑا پہلو ہے کہ صوفیاء اپنے دور کے مروجہ تمام علوم کے ماہر تھے۔

میں مبہوت بنا یہ سب سن رہا تھا تو میری حیرانگی کو بھانپتے ہوئے مجھے کہنے لگے کہ میاں! اپنے اصول تلاش کرو۔ جب حقیقی اصول مل جائیں گے تو پھر ان تمام چکروں سے آزاد ہو جائو گے۔ چاہے وہ چکر دفتروں کے ہوں یا خواہش کے۔ اپنے مقام کا تعین ضروری ہے۔ اور یہ تعین خواہش کے چکرے سے آزاد ہو کے کیا جائے تاکہ فطرت سے ہم آہنگی نصیب ہو۔

جب انسان فطرت سے ہم آہنگ ہو جائے تو پھر تمام علم، عمل اور رزق انسان پہ مسلسل اور مثبت طرز سے اترتا آتا ہے۔

اس دن سے آج تک پھر میں نے چکر نہیں لگایا۔ اب خواہشیں خود میرا طواف کرتی ہیں جبکہ میں مرکز پہ آزاد ہوں۔ تمام سمتیں اب میری ہیں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

یک زمانہ صحبتِ با اولیاء

اگر آپ خوشاب سے مظفرگڑھ کا سفر کریں تو کوئی ڈیڑھ سو کلومیٹر تھل کے ریگستان سے جیسے ہی آپ نیچے اترتے ہیں، دربار سلطان باہو رح واقع گڑھ مہاراجہ آپ کو ضرور اپنی طرف کھینچتا ہے۔ یہ ایک طلسماتی جگہ ہے۔ آپ وہاں چاہے جس مقصد سے بھی جائیں، آپ کو یہ پاکیزہ سا احساس اپنی گرفت میں ضرور لے لیتا ہے۔

میں کچھ دن پہلے ایک دوست کے پاس بیٹھا یہی بات کر رہا تھا کہ جو لوگ درباروں پہ اس نیت سے جاتے ہیں کہ دربار والے سے مرادیں مانگیں گے، وہ بھی غلط ہے اور جو لوگ اسی بات کو بنیاد بنا کر درباروں اور اولیاء اللہ کا انکار کرتے ہیں، وہ بھی غلط ہے۔ یہ میری ذاتی رائے ہے جو کہ غلط بھی ہو سکتی ہے۔

میں یہاں وہ بات کرنا چاہتا ہوں جو مجھے محسوس ہوتی ہے۔

اور وہ یہ بات ہے کہ کسی بھی اللہ کے پیارے انسان کے پاس پاکیزگی کا ایک حلقہ ہوتا ہے۔ وہ جتنا متقی ہو گا، اسکا پاکیزگی کا یہ حلقہ اسی قدر بڑا اور پُراثر ہو گا۔ اولیاء اللہ کے ہاں اس بات کو خاص طور پہ محسوس کیا جا سکتا ہے۔

آپ جیسے ہی اس حلقے میں داخل ہوتے ہیں، اس میں موجود پاکیزہ خیال کی برکت سے آپ کی روح سکون میں آ جاتی ہے۔ آپ فاتحہ خوانی کرکے اس پاکیزہ احساس کو اپنی طرف مرکوز کر لیتے ہیں۔ اسی لیے حکم ہے کہ فاتحہ خوانی کے بعد کچھ دیر وہاں خاموشی سے بیٹھ کر اپنی توجہ کو صاحبِ مزار کی طرف مرکوز کریں۔ شاید یوگا کا تصور یہیں سے لیا گیا ہو گا۔

خیر آپ کی روح کی وہ کمزوری جو مادیت پرستی کی وجہ سے آن موجود ہوتی ہے، ختم ہونا شروع ہو جاتی ہے اور آپ پہ نیکی کا احساس اترتا ہے۔ عبادات کی طرف دل متوجہ ہوتا ہے۔ اسی لیے اولیاء کے مزارات کے ساتھ ملحقہ مسجد ضرور ہوتی ہے۔ اور سلطان باہو رح کے مزار پہ دن رات کے ہر ہر لمحے تلاوت، نوافل اور وظائف کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

اپنی سنیّت ، وہابیت اور شیعیت کو ایک لمحے کیلئے ایک طرف رکھ کر کبھی اس پاکیزہ احساس کو محسوس کریں۔ یہ ایسا خزانہ ہے جو درویش کی صحبت ہی مہیا کر سکتی ہے۔ اسی لیے اولیاء اللہ کے پاس مسلک کی کوئی قید نہیں ہوتی۔

کبھی اس احساس کیلئے اس جگہ کو ضرور وزٹ کریں چاہے ایک ٹورسٹ بن کر ہی۔ آپ کو بہت اچھا محسوس ہو گا۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد