چرنجیت سنگھ، کارخانو بازار اور ہم روادار

مجھے ۲۰۱۵ میں پشاور کے کارخانو بازار جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب ضربِ عضب شروع نہیں ہوا تھا اور لوگ پشاور کا نام سن کر ہی کانوں کو ہاتھ لگا لیتے تھے۔ مجھے بھی ابو کے علاوہ تمام لوگوں نے بہت ڈرایا لیکن اپنی متجسس فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں یہاں چلا آیا۔

یہاں میری حیرانگی کی سب سے بڑی وجہ سکھوں کی دکانیں اور ان کی ڈیلنگ کا طریقہِ کار تھا۔ میں نے اس مارکیٹ سے جتنی بھی شاپنگ کی، زیادہ تر سکھوں کی دکان سے کی۔ خوش پوش، خوش گفتار اور سادہ لوح سی یہ قوم مجھے بہت اچھی لگی۔

پھر مجھے اورکزئی ایجنسی کے ایک دوست نے بتایا کہ وہاں ابھی تک سکھ آباد ہیں اور اپنی مکمل مذہبی آزادی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ پھر مجھے ان میں سے کچھ سکھوں سے ملنے کا موقع بھی ملا اور ان کو بہت محبِ وطن پاکر بڑا پر مسرت سا احساس ہوا۔

ب

لیکن

کل پشاور میں سکھ برادری کے انسانی حقوق کے ورکر چرنجیت سنگھ کو گولی مار کر اس کے جینے کا حق چھین لیا گیا۔ یقین کیجیے مجھے اس کا بہت دکھ ہوا۔ یہ اقلیتی اختلاف ہمارے ماتھے کا جھومر ہوتا ہے اور ہم اسی جھومر سے لہو ٹپکا رہے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ہماری صفوں میں کوئی اور گھس کر یہ کام کر رہا ہے اور نام ہمارا جان بوجھ کر بدنام کیا جا رہا ہے۔ تاکہ پاکستان کو اقلیتوں کے حوالے سے ایک غیر محفوظ ملک ثابت کیا جا سکے۔ میں اس موضوع پہ بہت کچھ کہہ سکتا ہوں مگر کچھ ناگزیر وجوہ کی بنا پر اپنے آپ کو یہاں تک ہی محدود رکھتا ہوں۔ کبھی وقت ملا تو اس پہ بات کریں گے۔

خیر بات میں یہ کرنا چاہ رہا تھا کہ معاشرے کا حسن اسی نظریاتی تنوع سے عبارت ہے ۔ پاکستان بننے سے اب تک سکھوں نے ضرور ہندوئوں کی باتوں میں آکر مسلمانوں پہ ظلم روا رکھے مگر مسلمانوں نے کہیں کہیں بدلہ لینے کی بات اور کوشش کی اور بس۔ مسلمان بنیادی طور پہ سلامتی میں داخل شدہ لوگ ہیں۔ یہ ظلم و جدل سے دور بھاگتے ہیں۔ میں اب تک جتنے سکھوں سے ملا ہوں ان کو پاکستان سے خوش اور مطمئن پایا ہے۔

تو بات کچھ یوں بنتی ہے کہ یہ سب اس کا کیا دھرا ہے جس کو یہ سلامتی اور ہمارے معاشرے کا حسن ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ ہماری ناکامی یہ ہے کہ ہم ابھی تک اس دشمن کو مکمل طور پہ اپنے اندر سے مکمل طور پہ نہیں نکال پائے۔ لیکن اب وہ وقت اتر رہا ہے جب دشمن کی میلی انکھ کی بینائی ختم ہو جائے گی۔ سکھوں پہ صرف پاکستان نہیں، انڈیا سے بھی ظلم کا خاتمہ ہو جائے گا۔ مجھے ایسی فیلنگ آتی ہے کہ سکھ پاکستان کی طرف مثبت سوچ کے ساتھ پلٹیں گے۔

ایک اور بات یہ بھی کہ سکھوں اور ہندوئوں کا ہمارے درمیان رہنا ایک ثقافتی حسن بھی ہے۔ ہمارے ان سے تاریخی روابط ہیں۔ میرے ایک ہندو دوست بتاتے ہیں کہ وہ ہر سال جب کوٹ مٹھن میں دربار خواجہ غلام فرید رح پہ کلامِ فرید گاتے ہیں تو مکمل عرس پہ سکوت طاری ہو جاتا ہے۔ ہم اس حسن کو کھونا کسی قیمت پہ بھی برداشت نہیں کر سکتے۔

آئیے! اپنے اردگرد جہاں بھی اقلیتیں موجود ہیں، ان کو مکمل مذہبی آزادی اور تحفظ دیں تاکہ ہمارے معاشرے کا حسن اور سلامتی قائم رہ سکے۔ یقین کیجیے، ظلم کا معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔ ضروری نہیں کہ یہ ظلم اندرونی عوامل سے ہو یا بیرونی عوامل سے۔ ہمیں اب اپنی رواداری اور نظریاتی قبولیت کو واپس لانا ہو گا۔ ورنہ ہمارا جھومر گہنا جائے گا اور پاکیزگی کا یہ عنصر ناپید ہوتا جائے گا۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

یومِ تکبیر

۲۸ مئی یومِ تکبیر۔

اعلان کہ “اللہ بہت بڑا ہے” نے پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔ زرا ایک لمحے کو رکیے اور اس اعلان پہ غور کریے۔ اعلان اللہ پاک کی منزلت اور برتری کا کیا جا رہا ہے ۔ بات پاکستان کے دفاع کی آجاتی ہے۔

کیا کسی نے آج تک اس حسنِ اتفاق پہ غور کیا؟

نا جی۔ ہمیں تو اس ملک اور قوم کے بارے میں اتفاقات کی اس قدر عادت ہو گئی ہے کہ ہم اس کو درخورِ اعتناء ہی نہیں سمجھتے۔ یہ سچ ہے کہ ہم لوگ اب دو قومی نظریہ پہ سوال اٹھانے لگے ہیں اور پاکستان کے وجود پہ بھی سوال اٹھانے لگے ہیں۔ جبکہ قدرت اسباب کے ذریعے نظامِ کائنات چلاتی ہے اور اسباب انہی اتفاقات سے پیدا ہوتے ہیں۔

خیر بات کسی اور سمت نکل گئی۔

پاکستان کے ان ایٹمی سائنس دانوں، ان کی مدد کرنے والے تمام اداروں، عالمی سطح پہ یہ اعلان کرنے والی سول حکومت اور نیم شب بارگاہِ اہدیت میں گرتے آنسوئوں کے ساتھ پاکستان پاکستان پکارنے والے نیک لوگوں کو خصوصی طور پہ خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ ہر آنے والا دن اس ملک و قوم کیلئے گزرے ہوئے دن سے بہتر ہے۔

اُس غریب عوام کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے محکوم بن کر اپنے وجود کی چکی پیس پیس کر ہمارے شبِ و روز کو ایک ملک کے نام سے مزین کر رکھا ہے۔ آخر میں سلام اس بیرونِ ملک پاکستانیوں کو بھی جن کی آنکھیں سبز ہلالی پرچم دیکھ کر ٹھنڈی ہوتی ہیں۔

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ چاہے آپ وطن سے محبت کریں یا نفرت، زندگی دونوں صورتوں میں گزر ہی جاتی ہے۔ لیکن وطن سے محبت کرنے والوں کو اس وطن کی مٹی عزت دیتی ہے۔ نفرت کرنے والوں کی زندگی میں مقدور بھر زہر گھُل ہی جاتا ہے۔ یہ دنیا مکافاتِ عمل ہے۔ اور پاکستان پاکیزہ لوگوں کی جگہ ہے۔ ناپاک لوگ یہاں سے نکال دیے جاتے ہیں۔

آج کا دن ان تمام پاکیزہ احساس کے مالک لوگوں کیلئے فخر کا لمحہ ہے۔ آئیے! اس خوشبو کو اپنے جسم و جاں میں محسوس کریں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

قدیر گیلانی اور فطرت کی نگہبانی

یہ پوسٹ اپنے اندر ایک خراجِ تحسین بھی ہے اور ایک طمانچہ بھی۔ خراجِ تحسین ان تمام کیلئے جو ابھی بھی کچھ پرانے دور کے رکھ رکھائو اور روایات کے ساتھ جڑے ہیں اور اس کی بجا آوری میں کبھی کسی مشکل کو خاطر میں نہیں لاتے۔ طمانچہ ان کیلئے جو ابھی بھی کسی اہم کام کیلئے وقت اور وسائل کا انتظار کرتے ہیں۔

قدیر گیلانی جن کے آباء و اجداد کا تعلق کشمیر سے ہے اور ابھی لاہور میں رہتے ہیں۔ ان کے بڑوں کا مدفن کشمیر ہے۔ اپنی والدہ صاحبہ جو کہ شاید ابھی ساٹھ کے پیٹے میں ہوں گی، کی ایک خواہش کو پورا کرنے کیلئے انہوں نے عزم و ہمت کو ایک نئے حوصلے سے روشناس کراتے ہوئے خدمت کی ایک ایسی مثال قائم کی ہے کہ انسانیت اور بالخصوص پاکستانیت کو رشک ہے۔

خواہش کیا تھی؟ بس اپنے پُرکھوں کی قبروں پہ فاتحہ خوانی۔

بیٹے کے پاس ایک موٹر سائیکل تھی۔ لیکن عزم و ہمت سے مالامال تھا۔ ماں کی منت سماجت کی، بات منوالی اور ماں بیٹا کشمیر کیلئے نکل پڑے۔ راستے کی طوالت، عمر، تھکن، موسم، الغرض تمام فصیلیں عبور کرتے ہوئے وہ کشمیر سے ہو آئے۔ سیر بھی ہو گئی اور خواہش بھی پوری ہو گئی۔

بات یہاں نہیں رکتی۔

خدمت کا یہ انداز فطرت کو ایسا پسند آیا ہے کہ ان دونوں کو آغوش لے لیا ہے۔ یقین کیجیے یہ سب سمجھنا مادی حدود سے کچھ آگے کی بات ہے۔ جس وقت میں یہ کچھ لکھ رہا ہوں، وہ میری جنت “چترال” کے آس پاس فطرت کی ہمسفری میں ہیں۔ وہی ایک موٹرسائیکل، ایک ماں اور ایک بیٹا۔ باقی ہر سمت میں فطرت ۔

مجھے سمجھ نہیں آتی اس کو خدمت کہوں، عزم و ہمت کہوں، مہم جوئی کہوں، فطرت سے پیار کہوں یا پتا نہیں کیا کیا کہوں۔ مگر سچ یہی ہے کہ درج بالا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی یہ احساس اس تمام سے بہت بالا ہے۔ یقین کیجیے یہ سب کچھ افسانوی نہیں، حقیقت ہے۔ ایسی حقیقت جس کا احساس اس قدر پاک اور بے باک ہے کہ انسان اپنے آپ کو بہت دیر اس کے حصار میں محسوس کرتا ہے۔

میں اور میری بیوی اسلام آباد سے گوادر تک اپنی گاڑی میں مزے سے گھومے پھرے ہیں۔ مجھے پہاڑوں میں ڈرائیور کرنے سے ڈر لگتا ہے ورنہ شاید خنجراب تک جا پاتے۔ لیکن انشاءاللہ اب جائیں گے۔ مگر قدیر گیلانی کو میں اس وجہ سے بھی سلام پیش کرنا چاہتا ہوں کہ اس نے اپنے احساس اور پسند نا پسند سے بڑھ کر یہ کام کیا ہے۔ سلام ہے اس ماں کو جو بیٹے کی اس معصوم کوشش کو مان بخش رہی ہے۔

اور میں یہ سب کیوں لکھ رہا ہوں؟

کیونکہ یہ سب میں بھی کرنا چاہتا تھا لیکن نہیں کر پایا۔ کسی اور کو کرتا دیکھ کر اس قدر رشک آیا ہے کہ داد دیے بنا رہ نہیں پایا۔ ان تمام نامکمل حسرتوں کا ایک اظہار قدیر گیلانی نے مجھے عطا کیا ہے ۔ میں ان ماں بیٹا کا احسان مند ہوں۔

آئیے! اپنے خوابوں کو تعبیر دیں۔ وہ تعبیر جس میں ہمارے بڑوں کے خواب پنہاں ہوں۔ یقین کیجیے یہ بھی ایک قسم کی جنت ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

اسلام، پاکستان اور نشاطِ ثانیہ

کچھ دن پہلے میں نے ایک پوسٹ لگائی کہ لذات سے نفرت ہو جانا بھی نشاطِ ثانیہ کی ایک دلیل ہے۔ اس پہ کچھ باتیں ہوئیں جن کے بارے میں ازخود مجھے بھی کافی سیکھنے کا موقع ملا۔ مجھے اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ اس پہ الگ سے مکمل پوسٹ لگائی جائے۔

سب سے پہلے نشاطِ ثانیہ کے متعلق میں انسانی نفسیاتی تجزیہ پیش کرنا چاہوں گا۔ مذہب کے بارے میرا علم انتہائی تھوڑا اور ناقص ہے، اس لیے اس پہلو کو میں کسی اور کیلئے رہنے دیتا ہوں۔

انسانی شخصیت کے تمام رویے ارتقاء میں ہیں اور ایک دائروی عمل میں آگے بڑھتے ہیں۔ جیسے میں نے لذات کی بات کی تو مادیت پرستی سے لذات کا پہلو جنم لیتا ہے اور اس میں پھر انسانی سوچ اور خواہشات کے مطابق تنوع آتا ہے۔ اور یہ تنوع ایک انتہا تک پہنچ کر پھر واپس پلٹتا ہے اور انسان پھر سے سادگی کی طرف آتا ہوا دوبارہ فطرت سے قریب ترین راہ پہ آ رکتا ہے۔

آپ کھانے ، پہننے، آسائشوں اور باقی خواہشات کو دیکھ لیں، تمام ترقی یافتہ قومیں دوبارہ سے سادگی اور فطرت سے قریب ترین پہلوئوں کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ ترقی پذیر ابھی تک مادیت کی طرف اوپر جا رہے ہیں جبکہ ترقی یافتہ اب انتہا دیکھ کر واپس فطرت کی طرف پلٹ رہے ہیں۔ ان کی غذائوں کا مطالعہ کر لیں، پہناوے دیکھ لیں۔ مغرب میں اب دوبارہ سے تن ڈھانپنے کی تحریکیں اٹھ رہی ہیں۔

اور یہ اصول تمام ضروریات سے جنم لیتی ہوئی خواہشات پہ لاگو ہوتا ہے۔

ایک بات جو یہاں ایک عالمگیر اصول کے طور پہ مانی جائے گی، وہ فطرت کے قوانین ہیں جن کا ادراک اور اقرار تمام بڑے سائنس دانوں نے کیا ہے۔ بعض منچلے تو ان کو مسلمان بنانے پہ تُلے ہوئے تھے مگر انہوں نے فطرت اور اس کے اصولوں تک بات کی ہے اور یہ بات سچ ہے۔

دل میں نورِ ایمان نا ہونے کی وجہ سے وہ اس اقرار تک تو نا پہنچ سکے مگر اب کے بعد والے ضرور پہنچیں گے کہ اسلام ہی دینِ فطرت ہے۔ اگر ایسا نا ہو تو قیامت تک کے انسانوں کی شعوری ضروریات اسلام پوری نہیں کر سکے گا۔ مگر اللہ پاک نے جب فرما دیا تو اب کوئی شک باقی نہیں رہا اس بات میں کہ اسلام ہی وہ عالمگیر مذہب ہے۔

نشاطِ ثانیہ دراصل اس شعوری ارتقاء کا نام ہے جو انسانوں کو سائنس اور مشاہدے کے زور پہ اسلام تک لائے گا اور انسانوں کو دوبارہ سے اس کائنات کی روح تک کا ادراک نصیب ہو گا۔ اس حقیقت کو سبھی مذاہب میں مانا اور بتایا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس حقیقت تک پہنچنے سے روکنے کیلئے تمام طاغوتی طاقتوں کا رُخ اسلام کے ہی خلاف ہے۔

لیکن ایسا ممکن نہیں ہو سکے گا کیونکہ احادیث میں اس حوالے سے کافی کچھ موجود ہے۔ جس کا مطالعہ کرکے اس بات کو مکمل طور پہ سمجھا جا سکتا ہے۔

اور سب سے بڑی بات یہ کہ پاکستان کو اس میں کوئی نا کوئی اہمیت ضرور حاصل ہو گی کیونکہ ہم ان تمام طاغوتی طاقتوں کے سامنے رہ کر مقابلہ کرنے اور اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ باقی سب ریت کی طرح بہے جا رہے ہیں۔ آئیے! اسلام اور پاکستان سے پیار کریں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

وطن کی مٹی گواہ رہنا

جیسا کہ آپ تمام لوگوں کو اس بات کا بالکل علم نہیں کہ میں ہر ویک اینڈ پہ جی ٹی روڈ سے سفر کرتا ہوں۔ اسی طرح مجھے بھی اس بات کا بالکل علم نہ تھا کہ اگر آپ نے کسی قوم کو اجتماعی طور پہ دیکھنا ہو تو ان کی سڑکوں پہ سفر کر لیں۔ آپ کو اس قوم کی اجتماعی نفسیات کا مکمل طور پہ اندازہ ہو جائے گا۔

کبھی موقع ملا تو جی ٹی ڈائری کے عنوان سے ایک مکمل سلسلہ تحریر کروں گا۔

خیر بات میں یہ کر رہا تھا کہ جہلم سے پہلے والے ٹول پلازہ پہ حسن اتفاق سے ہمیشہ ایک ہی لڑکا ڈیوٹی پہ بیٹھا ہوتا ہے۔ اور وہ ہمیشہ میری گاڑی میں طالب درد کو سن کر ایک معنی خیز سی مسکراہٹ دیتا ہے۔ مجھے اس کا زیادہ تو نہیں پتا مگر شاید وہ حیران ہوتا ہو گا کہ میری ہیّت اور گاڑی میں طالب درد کا کوئی جوڑ نہیں بنتا۔

ایک دو دفعہ میرا دل کیا کہ گاڑی روک کر اس سے پوچھوں کہ میاں کیوں ہنستے ہو۔ مگر میں ایسا نہیں کر سکا۔

میں تو اُسے اتنا بھی نہیں بتا سکا کہ انسان چاہے امیر ہو یا غریب، بڑا ہو یا چھوٹا، بھوک پیاس اور احساس تمام کا ایک جیسا ہوتا ہے۔ تمام انسان برابر ہیں۔ دنیاوی فرق صرف اور صرف ذمہ داری کا ہے جبکہ اخروی فرق صرف اور صرف تقویٰ سے ہے۔ باقی تمام انسانوں کی آنکھوں میں آنسو ایک جیسے آتے ہیں ماں کی گود میں سب کو ایک جیسا سکون ملتا ہے۔

کبھی مجھے موقع ملا تو اسکو یہ ضرور بتانا چاہوں گا کہ انسان جس قدر حساس ہو ، اپنی بنیادوں سے اسی قدر جڑا ہوتا ہے۔ ان بنیادوں میں اس کے گائوں کی مٹی کی خوشبو، بوڑھوں کی شفقت اور احساس کے ساز شامل ہوتے ہیں۔ ہاں احساسِ کمتری کے شکار معاشرے میں یہ سب دفنا دیا جاتا ہے اور انسان انگریزی زدہ کھوکھلی زندگی گزار کے چلاجاتا ہے۔ ہر ہر لمحہ اس کے اندر ہیجان بڑھتا ہے اور انسان مصنوعی چیزوں میں پناہ ڈھونڈھتا نظر آتا ہے۔

لیکن مجھے پتا ہے کہ نا تو میرے بتانے سے اس لڑکے کو کوئی فرق پڑے گا اور نا ہی مجھے۔ کیوں کہ ہم تمام من حیث القوم ابھی تک وہ قومی سوچ پروان نہیں چڑھا سکے جس سے ہماری مٹی سے جڑا فخر ہمیں اپنے ساتھ قدم قدم پہ محسوس ہو۔ ایک اور بات یہ بھی ہے کہ کوئی بھی قوم اُس وقت تک قوم نہیں کہلا سکتی جب تک اس کی مٹی سے جڑے اجتماعی احساس کا فخر اس قوم کے ہر ہر فرد میں پروان نا چڑھ سکے۔

میری بہت شدید خواہش ہے کہ اللہ مجھے موقع دے اور میں اپنے وطن سے جڑے ہر ہر فخر کو دنیا کے سامنے پیش کر سکوں۔ صرف ایک چیز پہ غور کریں کہ سب سے زیادہ سکون دینے والا رنگ سبز اور سفید ہے۔ اور یہی رنگ ہمارا ہے۔ اس ملک کے ذرے ذرے میں خورشید کا سا سماں ہے۔ بس ہم نے کبھی غور ہی نہیں کیا۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ادیب اور پاکستانیت

مجھے ترقی پسند ادب سے ایک گلہ ہے۔

گلہ یہ کہ ان میں سے کوئی ادیب بھی ہمیں قومی فخر واپس نہیں دلا سکا۔

ادیب کسی بھی معاشرے کی نبض ہوتا ہے۔ کسی بھی سوسائٹی کا من جملہ احساس اس ادیب یا فنکار کے لفظ میں ڈھلتا ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے کی مجموعی بدقسمتی کہہ لیں یا احساسِ کمتری کہہ لیں کہ ہماری سوچ ہی اس طرف نہیں گئی۔

یقین کیجیے ابھی کچھ دیر پہلے میں نائی کے پاس حجامت کی غرض سے بیٹھا تھا کہ اچانک دیوار پہ میری نظر پڑی جس پہ اس نائی کی تصویر لگی تھی۔

پینٹ کوٹ اور ٹائی والی تصویر فریم کرا کر اس نے دیوار سے بالکل ایسے مضبوطی سے لگا رکھی تھی جیسے ہم نے اپنا قومی فخر دیوار سے لگا رکھا ہے۔

گوکہ بات معیوب ہو جاتی ہے مگر سچ ہے کہ ہمیں ادب میں کہیں بھی اپنے قومی لباس شلوار قمیص سے جڑا فخر نظر نہیں آتا۔ ہمیں اپنی دال ساگ روٹی سے جڑی غربت اور احساسِ کمتری کو ہٹا کر قومی دھارے میں واپس لانا ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ بتانا ہے کہ من حیث القوم چکور بھی اتنی ہی نایاب ہوتی جارہی ہے جتنا پانڈہ تاکہ قومی پرندے سے جڑا فخر ہم میں پیدا ہو سکے۔

یقین کیجیے جو قومیں اپنے قومی فخر کو پس پشت ڈال دیتی ہیں اور ہنس کی چال چلتی ہے، ان کا اپنا وجود بھی ایسے ہی زرہ زرہ ہو کر مٹ جاتا ہے جیسے ریت ہاتھ سے کھسک جاتی ہے۔ اور ہمارے ساتھ یہی کچھ ہو رہا ہے۔ ہم اپنے بچوں کو نئے سے نئے اور مہنگے سے مہنگے گیجٹ لا دیتے ہیں مگر ان میں اتنی جرآت اور انرجی نہیں ڈال سکتے کہ کچھ اپنا ایجاد کر لیں۔

اور

یہ گیجٹ دراصل ہمارے اندر وہ مکمل تہذیب انڈیل دیتے ہیں۔ جس کا ہمیں عمر بھر احساس بھی نہیں ہوتا۔

یہ وقت جو ابھی شروع ہو رہا ہے، یہ ہر لحاظ سے ہمارے لیے فیصلہ کن ہے۔ اگر ان پانچ دس سالوں میں ہم نے اپنی قومیت کا احیاء نا کیا تو میں ابھی بتا رہا ہوں کہ اگلی نسل لارڈ میکالے کے مصداق کالے انگریز ہوں گے۔ اور اس سب کے ذمہ دار ہم ہوں گے۔ کیونکہ وقت کے سامنے صرف وہی زندہ رہتا ہے جس کے اپنے اندر کچھ ہو۔

اور یہی کچھ جو قوموں کی تاریخ میں وزن رکھتا ہے، قومی فخر ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد