کھارے چڑھدی سِک

“کھارے چڑھدی سِک”

شاعر: جاوید آصف

رات کے دس بج چُکے تھے جب مجھے پتا چلا کہ میری بیٹی کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی ہے۔ مجھے سی ایم ایچ کھاریاں کیلئے سرگودھا سے نکلتے نکلتے گیارہ بج گئے اور ایک بجے جب میں ہسپتال داخل ہوا تو آنسوئوں کے علاوہ میری آنکھوں میں سب کچھ تھا۔ جگراتے، اداسی، پاکیزہ الہامی محبت اور اس سب کے ساتھ ساتھ اُس ذاتِ کامل پہ تیقن ، شاید یہ سب کچھ آنکھوں میں اترا تو تھا پر برسا نہیں کیونکہ ابرِ باراں پہلے ہی کافی مہربان ہوا چاہتا تھا۔

درج بالا احساس کے ساتھ جب آپ اپنے فرشتے کا پہلا لمس محسوس کریں گے تو آپ کی آنکھوں میں جو کیفیت کشید ہو گی اس کو سرائیکی زبان میں “سِک” کہتے ہیں۔ اور اسی سِک کو جب سہاگ چڑھایا جاتا ہے تو پہلا غسل جو آنسوئوں سے ملتا ہے اُسے “کھارے چڑھنا” کہتے ہیں۔ ادبی توجیہات تھوڑا بہت مختلف بھی ہو سکتی ہیں۔

چڑھتے سرائیکی رواجوں کا دیس میانوالی، ڈیرہ اسمٰعیل خان ہے، وہاں کی ایک اٹھان ہے۔ ملتان بہاولپور میں یہ ثقافت اپنے جوبن پہ پہنچ کر کھارے چڑھتی ہے اور راجن پور، چولستان وہ علاقے ہیں جہاں اس سِک کا کشید قطرہ قطرہ بوند بوند برستا ہے۔ یہ موتی جاوید آصف صاحب نے وہیں سے چنے ہیں جو اس وقت میں ہسپتال میں بیٹھا اپنی دلجوئی کیلئے استعمال کر رہا ہوں۔ انسان فطرتاً لالچی ہے جی۔

نوجوان نسل کے نمائندہ ہونے کے ناطے سرائیکی کو جدید عصری تقاضوں سے ہمکنار کرنے کا عزم لیے، خوبصورت احساسات کا گلدستہ ترتیب دے کر جاوید آصف صاحب نے اپنا نام ان شہیدوں میں لکھوایا ہے جو جن کے لاشوں سے ہو کر فوجیں محاذوں پہ جایا کرتی ہیں۔ یہ اولین لاشے کسی بھی جدوجہد کی سمت متعین کرتے ہیں، آنے والی نسلوں میں احساس کی شمع انہی لاشوں کے خون سے جلتی ہے۔

سرائیکی کا پہلا شاعر میری نظر سے گزرا ہے جس کے لفظوں میں محرومی کی بجائے امید ہے، عزم ہے، آگے بڑھنے کا حوصلہ ہے اور سب سے بڑھ کر اس کے لفظوں میں وہ جان ہے جو فن میں سانس کی ڈوری کا کام کر رہی ہوتی ہے۔ ان موتیوں میں لہک ہے، پُرترنم اداسی نہیں۔ جاوید آصف کو میں ایک بات یہاں ہی بتا دینا چاہتا ہوں کہ ان کا کلام گایا نہیں جائے گا، ہاں ان کے الفاظ قارئین کو اتنی تسلی ضرور دیں گے کہ ایک دو شب سازوسوز کا سامان ہو سکے گا۔ اور پھر وہاں سے مزید تخیلِ طفلِ تلاش جنم لے گا۔

صوفی تاج گوپانگ کا تعارفی مضمون اس کتاب کے تقریباً تمام فنی اور تخیلاتی پہلوئوں کا احاطہ کرتا ہے۔ باقی بات جاوید آصف صاحب نے خود بھی کافی حد تک چھیڑ دی ہے۔ اور پھر بات بہت دور تک جاتی ہے۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ سب کچھ سامنے ہونے کے باوجود کہیں بھی بے وجہ اداسی اور اس کے اسباب کی بات نہیں پوچھی جاتی۔ بس ایک ارتقاء ہے جس کی رو میں قاری بہتا چلا جاتا ہے۔

ساری کتاب میری نظر سے ضرور گزری ہے مگر میں نے پڑھی نہیں۔ میرے اندر سرائیت نہیں کر سکی۔ ہاں گرماگرم کافی کے اوپر کریم والی جھاگ کی طرح دھوئیں کے مرغولے اڑاتی سوچ کو تقویت ضرور ملی ہے۔ میں اپنی مادری زبان کا فخر ایک سِپ بائی سِپ اپنے اندر اتار کر اپنی نوجوان نسل کو یہ ضرور بتا سکتا ہوں کہ ہماری علاقائی زبانیں ادب کی کسی صنف میں دنیا کی کسی بھی زبان سے کم نہیں۔ سرائیکی تو ویسے بھی کربلائی سی زبان ہے۔

آخر میں اپنی دو کتابیں بھیجنے پہ جاوید آصف کا انتہائی شکرگزار ہوں۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ایسے ارتقائی سوچ کے حامل ادیب ہماری علاقائی زبانوں کو عطا کریں اور ہم ایک روشن پاکستان کی جانب اپنا سفر رواں دواں رکھ سکیں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

سنگ تراش اور پاکستانیت

میری تمام کہانیوں کے تمام کردار حقیقی ہوتے ہیں۔ یہ بہت دفعہ میری زندگی میں شامل بھی ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ یا چیزیں ہوتی ہیں جو مجھے کسی نا کسی حوالے سے مثبت لگتی ہیں، دلچسپ ہوتی ہیں اور ان میں کہیں نا کہیں زندگی کے کئی حوالوں سے عام انسانوں سے ہٹ کر رویے اور ردعمل پائے جاتے ہیں۔ سنگ تراش بھی ایسا ہی ایک کردار ہے۔

اس سنگ تراش سے میں آج دو سال بعد ملا تھا۔ دوسال پہلے والی ملاقات بھی بس چند لمحوں کی تھی۔ مگر اس بار سخت گرمی اور بجلی کے نا ہونے کے باوجود اُس کی باتوں سے ایسا سکون محسوس ہر رہا تھا کہ باقی سب کچھ پس منظر میں چلا گیا تھا۔

کہنے لگا کہ اُس کے بزرگوں کا فرمان ہے کہ پاکستان کا منظرنامہ مذہبی احساسات سے متعلق ہے اور اس کو جب بھی مذہب سے جدا کریں گے، پاکستان کا احساس ختم ہو جائے گا۔ اور پاکستان کا سنہری دور اُس کے بزرگوں کے مطابق شروع ہو چکا ہے۔

کہنے لگا کہ ایک فنکار ہونے کے ناطے معاشرے کے رویوں کا احساس اس پہ بہت گہرا اور بڑا سچا ہوتا ہے۔ اس سال اُس نے فیس پینٹ کا کام بھی کیا کیونکہ وہ پینٹگ اور بورڈ بینر رائٹنگ بھی سائیڈ بزنس کے طور پہ کرتا ہے۔ اس سال اُس نے بڑے تو بڑے، نومولود بچوں کے ہاتھے اور چہروں کو بھی سبز ہلالی سے سجایا ۔ اس بار کوئی عجیب یومِ آزادی تھا کہ ہر بچہ جوان بوڑھا ایک نئے جذبے سے سرشار تھا۔

اس بار لڑکوں لڑکیوں کے چہرے اُس جوش سے دمک رہے تھے جو پاکستان بناتے وقت لوگوں کے چہروں پہ موجود تھا۔ باقی تو باقی ، آج دس دن بعد اُسکی بیٹی بازو پہ چاند تارا بنوانے کی ضد کر رہی تھی۔ میرے سامنے اُس نے معصوم بیٹی کے بازو پہ چاند تارا بنایا اور کہنے لگا کہ یہ بچے قومی نغمے سن کر اس قدر خوش اور پُر امید ہوجاتے ہیں کہ میں خود قومی ترانے کو عبادت سمجھ کر سنتا اور پھر بچوں کو سناتا ہوں۔

باتیں تو اور بھی کافی تھیں مگر اُن پہ مذہب کا رنگ کچھ غالب تھا اس لیے میں اُن پہ بات نہیں کرنا چاہتا۔ ہاں میں اتنا ضرور جانتا اور کہنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ دنیا کے روحانی پہلوئوں پہ یقین رکھتے ہیں تو اتنا ضرور ذہن میں رکھیں کہ دنیا کی تمام مثبت روحانی طاقتوں کا محور و مرکز پاکستان ہے اور ان اس ملک کو اب آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

آئیے! پاکستان کو اپنی زندگی میں خصوصی مقام دیں اور اپنے عمل کو اس بنیاد پہ استوار کریں کہ ہمارا ہر ہر قدم اس ملک و قوم کیلئے منفعت بخش ہو۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

بہترواں یومِ آزادی

یومِ آزادی مبارک ہو

اگر کسی نے آزادی کی قیمت کا اندازہ کرنا ہو تو وہ ایک دفعہ فلسطین کا چکر لگا لے، کشمیر دیکھ لے۔ ہاں وہاں جانا زرا مشکل ہو گا، قدرت اللہ شہاب کا ناولٹ “یاخدا” پڑھ لے۔ میں امید کرتا ہوں کہ ایک دھندھلی سی تصویر ضرور بنے گی جو بے اختیار اشکبار کر دے گی۔

برصغیر کی تقسیم نظریاتی تھی ۔ اس کا مخالف نظریہ علاقائیت کا تھا کہ برصغیر اٹوٹ انگ ہے۔ اگر یہ تقسیم تنظیمی ہوتی تو سیاسی جدوجہد کامیاب ہو جاتی۔ مگر اس جدوجہد میں جب ایک نظریہ شامل ہوا اور وہ نظریہ مذہبِ اسلام تھا، تب جا کر یہ کوشش کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔

پاکستان بن گیا مگر ہمارے دشمنوں نے اُسی مخالف نظریے کو فعال کیا اور ہمیں سندھی پنجابی بلوچی اور پشتون میں بانٹنے کی سرتوڑ کوشش کی۔ اس کے کچھ عناصر آج بھی فعال ہیں۔ ہم اس تقسیم کی قیمت مسلسل چکاتے آرہے ہیں۔ مگر بہتر سال گزرنے کے بعد آج ایک بار پھر ہم اسلام اور پاکستانیت میں پرو گئے ہیں۔

صاحبانِ بصیرت اس بات کو سمجھ رہے ہیں ، یہ بہتر کا لفظ بہت معتبر ہے۔ اب ہم قربانی دے چکے ہیں۔ اب ہم نے آگے بڑھ جانا ہے۔ آج گوادر سے خنجراب تک ہم سبز ہلالی پرچم میں لپٹ گئے ہیں۔ جو لوگ ابھی تک اس کسی بھی وجہ سے رُکے ہوئے ہیں، ان کو میں آج پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اب ہمیں دنیا کی کوئی طاقت آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔ آئیے! روزِ روشن کا استقبال کریں۔

میں کل رات کسی نجی کام کے سلسلے میں شہر گیا ہوا تھا، یقین کیجیے لوگوں میں اس دفعہ ایک پُرامید قسم کی مسرت دیکھنے کو ملی۔ اس دفعہ ایک نیا رنگ ہے جو پورے ملک و قوم پہ چڑھا ہے۔ ایک ولولہ ہے، کچھ کر جانے کا عزم ہے جو ہر ہر چہرے سے جھلک رہا ہے۔ ہر ادارہ، ہر علاقہ اور ہر ہر فرد ایک نشے میں ہے کہ پاکستان کوئی چیز ہے، دنیا کے نقشے پہ ہمارا نام کسی عظیم مقصد کے تحت کنندہ ہے۔

محدود ذہنیت کے محدود منصوبوں کے مطابق ۲۰۲۰ء میں پاکستان کا وجود دنیا کے نقشے پہ موجود نہ تھا مگر بیشک اللہ پاک بہترین چال چلنے والے ہیں ، ہم آج زندہ ہیں اور ۲۰۲۰ میں ہم ایک فخر کے ساتھ اقوامِ عالم میں موجود ہوں گے اور یہ بہتر کا ہندسہ عبور کرنے پہ سرفرازی ہے۔

آئیے! آج عہد کریں کہ اس سال ہم کچھ نا کچھ ایسا ضرور کریں گے کہ اگلے سال اس عمل کا فخر سے اعادہ کر سکیں اور جتنا ہو سکے، اس ملک کیلئے کچھ نا کچھ منفعت بخش ضرور کر سکیں۔ پاکستان اللہ پاک کے رازوں میں سے ایک راز ہے۔ ورنہ جو قوم سوئی نہیں بنا سکتی، ایٹم بم بنا لینا کوئی عام بات نہیں۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ پاکستان کو سرفراز فرمائیں، اپنے خصوصی کرم کا معاملہ فرماتے ہوئے اپنے پیاروں کے سایہ میں ہمارے عمل کی راہ متعین کرنے کی راہنمائی عطا فرمائیں اور سب سے بڑھ کر ہمارے حکمرانوں کو صحیح وقت پہ صحیح فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ ہماری تمامتر کامیابیوں کا راز اسی ایک بات میں مضمر ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

فراری سے فلاح تک کا پاکستان

سنا ہے کہ ایک دفعہ فراری کمپنی کے مالک نے ایک ٹریکٹر کمپنی کے مالک کو کہا تھا کہ آپ ہوسکتا ہے ٹریکٹر کو بہتر طریقے سے چلا سکو مگر ایک فراری کار کو ہینڈل کرنا آپ کا کام نہیں۔ پھر تاریخ نے اس ٹریکٹر والے کو لمبورگینی بناتے اور چلاتے دیکھا۔ سنا ہے ہنڈا کمپنی کے مالک کو ٹیوٹا کمپنی نے یہ کہہ کر نکال دیا تھا کہ تمہارے آئیڈیاز اور ڈیزائن اس قدر احمقانہ ہیں کہ ان کو عملی شکل دینا بے وقوفی ہو گی۔

پھر سُنا ہے کہ ایک بندے کو اُس وقت کے حکمران خاندان کے وزیرِ اعظم نے بڑی حقارت سے کہا تھا کہ یہ قومی اسمبلی کی ایک سیٹ والا کیا کر لے گا۔ آج وہی ایک سیٹ والا اُسی ملک کا وزیرِ اعظم بننے جا رہا ہے۔

زندگی میں کبھی بھی یہ نا سوچیں کہ آپ کا سامنا کن حالات ، کن لوگوں اور کن مسائل سے ہے۔ زندگی میں صرف اور آرف وہی ہوگ کامیاب ہوتے ہیں جو اپنے خوابوں کو مقدم جانتے ہیں اور ان کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں۔ ان کا ہر ہر قدم ان خوابوں کی عملی تعبیر کی جانب ہوتا ہے۔

پرانے کنگ فو فائیٹرز آج بھی اس بات پہ مکمل یقین رکھتے ہیں کہ ان میں ایک مخفی انرجی ہوتی ہے جو “چی” کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اگر انسان اپنے خواب کی تعبیر کیلئے اپنی تمام توانائیاں اور صلاحیتیں وقف کر دے تو آہستہ آہستہ اُس میں وہ مخفی انرجی بیدار ہو جاتی ہے اور وہ انسان ایسے ایسے کام کر جاتا ہے جو عام حالات میں ناممکن ہوتے ہیں۔ کچھ فائیٹرز نے اس بات کا عملی مظاہرہ بھی کرکے دکھایا ہوا ہے کہ اگر اپنی “چی” کو لڑائی کے دوران کسی بھی ایک حصے پہ مرکوز کر دیں تو اس حصے کو تلوار بھی نہیں کاٹ سکتی۔

تو بات یہ ہے کہ پاکستان ہمارا ملک ہے، اگر پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ اگر درج بالا تمام لوگ صرف ایک جملے سے شروع کرکے اس قدر ترقی کر سکتے ہیں تو ہم تمام لوگ روزنہ کے چند لمحے اس ملک کو دے کر کہاں سے کہاں لے جا سکتے ہیں۔ میں بہت عرصے سے سوچتا تھا کہ میں اس ملک کیلئے کیا کر سکتا ہوں۔ پھر میں اس نتیجے پہ پہنچا کہ میم قدر سست ہوں کہ عملی طور پر تو کچھ بھی کرنا ناممکن ہو گا۔ ہاں میں چند لفظ ضرور تحریر کر سکتا ہوں۔

اس دن سے آج تک میں نے صرف اور صرف وہ لکھا ہے جس سے اس ملک کے شہریوں کو ایک آدھ لفظ امید کا مل سکے، ایک مثبت احساس ہو اور ہمارا ہر ہر قدم اس ملک و قوم کیلئے منفعت بخش ہو۔ تو میں ذاتی طور پہ یہ سمجھتا ہوں کہ ہم روزانہ کی بنیاد پہ ایک دو چار منٹ تو اس ملک کو دے سکتے ہیں جب ہم خالصتاً اس ملک و قوم کیلئے کچھ مثبت کر سکیں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

مارننگ کافی اور مثبت سماجی پاکستانیت

اگر آپ ایک کلاسیکل دفتری قسم کی زندگی گزار رہے ہیں تو آپ کی زندگی میں صبح کے اخبار کی بہت اہمیت ہو گی۔ کیونکہ یہ وہ پہلی چیز ہے جس پہ نظر مار کر آپ کی آنکھ صحیح معنی میں کھلتی ہے اور صبح کا آغاز ہوتا ہے۔

بہت پہلے مجھے کسی نے کہا تھا کہ اگر اخبار کا مزا لینا کو تو دو کام کریں۔ پہلا کام گزشتہ سے پیوستہ اور دوسرا کام گائوں کے ہوٹل پہ ادرک گُڑ والی چائے۔ ساتھ میں اگر سردیوں کی دھوپ بھی میسر آ جائے تو سونے پہ سہاگہ ہو گا۔ اگرچہ مجھے یہ تمام چیزیں بفضلِ خدا میسر رہی ہیں مگر اکٹھی نہیں۔

آج کا اخبار مجھے اس لحاظ سے بھی بہت اچھا لگا کہ اس میں پاکستان کے اگلے متوقع وزیرِ اعظم عمران خان کو کابل دورے کی دعوت دی گئی تھی۔ ساتھ میں طالبان امریکہ مذاکرات کو مثبت قراد دیا گیا تھا۔ گزشتہ کو ساتھ پیوستہ کرتے ہوئے ایک مبہم امید ہوتی ہے کہ ہم امن کی جانب بڑھنا شروع ہو گئے ہیں۔

ویسے یہ خبریں پڑھ کر مجھے اب لگ رہا ہے کہ مجھے اپنے ویٹر کی بات ماننا ہی پڑے گی جو مجھے جاتے جاتے کہہ جاتا ہے کہ سر آپ بہت سخت کافی پیتے ہیں۔ اب مجھے پانی میں کافی کی مقدار گھٹا کر اپنی آنکھوں کی بے آرامی کچھ دیر کیلئے آرام میں تبدیل کرنا ہو گی کیونکہ اب شاید وہ لمحہ آ گیا ہے کہ ہمارے اندر ایک قومی سوچ پروان چڑھنا شروع ہو گئی ہے۔

آپ یہ دیکھ کر بہت حیران ہوں گے کہ وہی لوگ جن کو سیاسی لیڈر اس حد تک اشتعال دلا چکے تھے کہ وہ مرنے مارنے پہ تلے بیٹھے تھے، ان میں سے اسی فیصد سے زائد لوگ باہم شیروشکر ہو کر پاکستان کا سوچ رہے ہیں۔ لوگوں کی سوچ اور جذبوں میں واضح تبدیلی نظر آرہی ہے۔ کل رات کو ہم ایک ہوٹل پہ گئے ہوئے تھے تو میں نے خالی ماچس باہر پھینکنا چاہی تو وہاں بیرے نے آگے بڑھ کر کہا کہ سر نیچے پھینکنے سے بہتر ہے مجھے دے دیں، میں اس کو ٹوکری میں پھینک آتا ہوں۔

شاید وہ ہوٹل والے پہلے سے ہی مہذب ہوں اور میں نے پہلی دفعہ دیکھا ہو۔ اُسی ہوٹل میں تحریکِ انصاف اور ن لیگ والے ایک دوسرے کو دعوت بھی کھلا رہے تھے۔

تو بات یہ ہے کہ یہ سیاسی ، سماجی اور معاشرتی تنوع ہمارا حسن ہے، ہمارے خیال کی لطافت ہے، ویسے بھی اللہ پاک نے اختلافِ رائے کو رحمت قرار دیا ہے۔ اس رحمت کیلئے دامنِ دل وا کیجیے۔ اللہ پاک بہت کریم ہیں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

بھیگتے قدموں کی تاریخ

اقوامِ عالم کی بدقسمتیوں کو اگر شمار کیا جائے تو سب سے بڑی اور اہم بدقسمتی اس قوم کا اپنی تاریخ کو بھلا دینا ہے۔ میں یہی سوچتا ہوا خراماں خراماں کشمیر سے آنے والی خصوصی برسات میں بھیگتا جا رہا تھا کہ اچانک گجرات جمخانہ سے دوقدم آگے مجھے تاریخ نے اپنی آغوش میں لے لیا۔

بن

سیونتھ ڈے ایڈونٹسٹ چرچ کا سُرخ ایستادہ کراس سبز پس منظر میں تاریخ کے ہر طالب علم کو اپنے دامن میں جگہ دینے کو بے تاب تھا۔ مجھ سے رہا نا گیا۔ اُس طرف مڑا اور ایک ویران سے گیٹ سے اندر داخل ہوا تو اندر کی دنیا اس قدر بدلی نظر آئی کہ میں خود حیران رہ گیا۔

انگریز نے جب کشمیر کی فتح شروع کی تھی تو ابتداء گجرات سے ہوئی اور تب ۱۸۴۲ء میں اس چرچ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ چرچ کی عمارت، چھت، کھڑکیوں اور دروازوں کے چوکھاٹ اور روسٹرم ابھی تک اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں۔ جبکہ اُس دور کے لگائے ہوئے کچھ نادر و نایاب پودے بھی ابھی تک موجود ہیں۔

سُنا ہے کہ پہلے دور میں اس چرچ کو پھولوں والا چرچ کہا جاتا تھا۔ کرسمس، ایسٹر اور باقی تہواروں پہ پورا گجرات ان پھولوں کو دیکھنے کو امڈ پڑتا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ اب نرسری تو موجود ہے مگر کچھ قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے اب پھولوں کی وہ آب و تاب اور انتظام باقی نہیں رہا۔

چرچ کے کئیر ٹیکر شاہد پال ولیمز اور پاسٹر آصف بہت ہردل عزیر، تاریخ سے محبت کرنے والے ، انسانیت پرست اور عیسائیت کیلئے بڑے مخلص انسان ہیں۔ میں نے ان کو صرف اتنا کہا کہ مجھے تاریخ سے محبت ہے اور انہوں نے مجھے چرچ کی مکمل تاریخ سے آگاہ کیا اور تصاویر لینے کی اجازت بھی دی۔ مجھے بتا رہے تھے کہ جب حالات اچھے تھے تو سٹوڈنٹس اور تاریخ سے محبت کرنے والے لوگ اکثر یہاں پائے جاتے تھے مگر اب دہشت گردی کی وجہ سے یہ کام مانند پڑ گیا ہے۔

مذہبی امور کو ایک طرف رکھتے ہوئے اگر دیکھا جائے تو یہ چرچ ایک تاریخی اثاثہ ہے، اپنے قدرتی حسن اور فلورا کی وجہ سے انتہائی حسین تفریحی مقام ہے اور ایڈونچر پسند انسانوں کیلئے ایک جامع منزل بھی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ہم اپنے نظریات کو اس حد تک انتہا پسند بنا چکے ہیں کہ ہمیں یہاں سے گزرتے ہوئے بھی عیسائیت سے ایک منفی قسم کی دوری کا احساس ہو گا۔ حالانکہ مذہبی ہم آہنگی شاید اس دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

ویسے بھی ہمارے معاشرے کا حسن ہی یہی ہے کہ تمام مذاہب کو ساتھ لیکر ایک فلاحی معاشرے کا تصور ہمیں اسلام کی طرف سے ملا ہے۔ ہندو، سکھ، عیسائی اور دوسرے مذاہب ہمارے ملک کے شہری اور اپنی رسم و روایات کیلئے مکمل آزاد ہیں اور یہ آزادی انہیں ریاست دیتی ہے۔ ہمیں صرف اور صرف ایک دوسرے کو پیار دینا ہے۔ جنت نظیر ہونا اسی پیار کا مرہونِ منت ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

نیا پاکستان مبارک ہو

نئے پاکستان کا پہلا دن مبارک ہو۔

ایسی کوئی بات نہیں۔ پاکستان پاکستان ہے، نیا پرانا کچھ نہیں۔ لیکن اتنا میں ضرور کہوں گا کہ چاہے آپ کسی بھی سیاسی جماعت سے ہوں، کسی بھی علاقے سے تعلق ہو، کسی بھی مذہب یا برادری کے پروردہ ہوں، عمران خان کا خطاب سننے کے بعد دل کے کسی کونے میں پاکستانیت کا فخر ضرور بیدار ہوا ہو گا۔

اگرچہ ایک انگڑائی ہی سہی۔ مگر اتنا عاجزانہ سا، حقیقی اور مخلصانہ خطاب میرے خیال میں کسی بھی سیاسی ، مذہبی یا معاشرتی صاحبِ رائے نے ایسی پوزیشن میں آکر نہیں کیا ہو گا۔ کسی نے کہا تھا کہ

آنے والے کمال کے دن ہیں

عظمتِ ذوالجلال کے دن ہیں

اور اتنی خوبصورت ابتداء سے تو قیاس کیا جا سکتا ہے۔ آنے والا وقت تو کسی نہیں دیکھا لیکن میں یہاں کچھ معروضات پیش کرنا چاہوں گا جن کا خیال رکھنا ہم میں سے ہر ذمہ دار شہری کا فرض ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ ہر انسان ایک رائے رکھتا ہے۔ چاہے وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتا ہو۔ ہر کسی کی رائے کا احترام ہم پہ فرض ہے۔ جیت ہار سب اُس رائے کا نتیجہ ہے مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم اپنی اخلاقی قدروں کو بالائے طاق رکھ دیں۔ ہر کسی کا احترام کریں اور خاص طور پہ ہر پاکستانی کا احترام کریں۔

پاکستان میں ایسے بھی لوگ ہیں جو ابھی تک بھی پاکستان کے قیام کو غلط فیصلہ سمجھتے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں ک ہم ان سے لڑائی شروع کر دیں۔ وہ اس ملک کے شہری ہیں اور ان کی رائے کا احترام ہم پہ فرض ہے۔ پیار محبت اور اخلاق ہی ہمیں ایک سچا پاکستانی بنائے گا۔ اور اخلاق سے ہی ہم ایک دوسرے کا دل جیت سکتے ہیں۔ میرے دوست ہندو بھی ہیں۔ اور وہ مجھ سے ایسے ہی پیار کرتے ہیں جیسے میرے گھر والے۔ یہی پاکستانیت ہے۔

دوسری اہم بات یہ کہ یہ ملک ہمارا ہے، اس میں موجود سب کچھ ہمارا ہے۔ اس سے پیار کریں۔ یقین کریں کبھی کبھی ایسے لگتا ہے کہ اتنا خوبصورت ملک اللہ پاک کی ذات نے خصوصی طور پہ ہمارے لیے رکھا تھا۔ میری بہت خواہش ہے کہ پورا ملک دیکھ سکوں۔ گو کہ ابھی تک آدھا بھی نہیں دیکھا لیکن اس کی خوبصورتی مجھے ہمیشہ جنت کی یاد دلاتی ہے۔ اس کا یہ جغرافیائی اور ثقافتی حسن برقرار کریں۔

خاص طور پہ ان الیکشنز کے بعد ایک قومی سوچ جو پروان چڑھی ہے، اس کو قائم رکھیں۔ یقین کریں اللہ پاک بہت کریم ہیں۔ پچھلی حکومت میں انفراسٹرکچر بنا ہے، اس حکومت میں ادارے بنیں گے اور پھر ہمارے ملک کی ہاں میں اقوامِ عالم کی ہاں ہو گی۔ یہاں ہر کوئی اپنا اپنا رول ادا کر رہا ہے۔ اعتماد کا رشتہ قائم کریں۔ یقین کریں یہ استاد، سیکورٹی فورسز، واپڈا کے لوگ تمام محکمہ جات ہمارے اعتماد اور پیار کے دو بولوں سے بہت کچھ کر جاتے ہیں۔ کبھی کر کے دیکھیے گا۔

بہت کچھ لکھنا چاہتا ہوں لیکن پوسٹ کی طوالت کو دیکھتے ہوئے اسی پہ اکتفا کرتا ہوں۔ باقی باتیں اگلی پوسٹ میں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے

چلے جو ہو گے شہادت کا جام پی کر تم

رسولِ پاک نے بانہوں میں لے لیا ہو گا

سراج رئیسانی شہید ہوگیا۔ ایک ایسا انسان شہید ہو گیا جس کی پاکستانیت کا پورا پاکستان اور پاکستان دشمن طاقتیں بھی معترف تھیں۔ ایسا انسان اس ارضِ پاک پہ قربان ہوا جس نے اس وقت سبز ہلالی پرچم کو سینے سے لگائے رکھا جب بلوچستان میں اس پرچم کے لہرانے کا مطلب نوشتہِ اجل تھا۔

میں پنجاب کا ہوں، میری پاکستانیت یا انسانیت کے علاوہ یا ایک ٹورسٹ والی دلچسپی بس، اسکے علاوہ شاید کوئی خاص دلچسپی بھی نا ہو بلوچستان سے۔ میرا بلوچ قوم سے ایک ثقافتی رشتے کے علاوہ کوئی اور ایسا قابلِ ذکر رشتہ نا ہو جو اس قدر طاقت ور ہو کہ مجھے ایسا کچھ لکھنے پہ مجبور کرے۔

لیکن ایک چیز ایسی ہے کہ جس نے مجھ بلوچستان سے باندہ رکھا ہے۔ ہماری پاکستانیت، انسانیت، ثقافت الغرض کہ مسلمانیت بھی اس چیز سے جنم لیتی ہے۔

پھر آپ لوگوں کو یاد ہو گا کہ ایک دفعہ میں نے ایک پوسٹ لکھی تھی کہ حب چوکی سے لیکر کوئٹہ تک پاکستان کے تو شاید موبائل کے سگنل بھی کم کم آئیں مگر آل انڈیا ریڈیو واضح چلتا ہے اور اس پہ گمراہ کن پروپیگنڈہ کر کے بلوچ نسل کو پاکستان کے خلاف کیا جا رہا ہے۔

میں نے بلوچستان کے دونوں دور دیکھے ہیں۔ وہ دور بھی جب وہاں غیر بلوچ کو بسوں سے اتار کر سڑک پہ گولی مار دی جاتی تھی، جب بی ایل اے والے چلتی گاڑیوں پہ راکٹ داغ دیا کرتے تھے۔ میں اُس ٹرین میں بھی تھا جس پہ بی ایل اے کے دہشت گرد فائرنگ کیا کرتے تھے۔ جب آزاد بلوچستان کے نعرہ کے علاوہ کوئی بھی بات کا مطلب گولی ہوتا تھا۔

سراج رئیسانی وہ شخص ہے جس نے اُس وقت بھی اس زہریلے پروپیگنڈے کا الفاظ اور ہتھیار دونوں سے مقابلہ کیا۔

اور پھر وہ دور بھی جب بلوچستان کا امن واپس لوٹ آیا۔ سڑکوں کے کنارے آپ کو جلے ہوئے گھروں کی بجائے چھوٹی چھوٹی سرسبز آبادیاں، فٹ بال گرائونڈ اور دکانیں نظر آنے کگ گئیں۔ بلوچستان نے ترقی اور خوشحالی کا سفر شروع کیا۔ میں اکثر کہتا ہوں کہ اگر سڑک دیکھنی ہے تو بلوچستان کی دیکھو جہاں میرے جیسا بندہ بھی ۱۵۰ کلومیٹر فی گھنٹا کی رفتار سے کچھ اوپر ہی گاڑی چلاتا ہے۔ یہ دور اپنے ساتھ ایک مسلسل ، شفاف اور ہموار قسم کی سیاسی تبدیلی کا دور لایا۔

سراج رئیسانی اب اس سیاسی عمل میں شامل ہو کر پاکستان کی خدمت کرنا چاہتے تھے۔ وہ اسی مقصد کیلئے مستونگ تھے اور ایک جلسے کو ہی نشانہ بنایا گیا ۔ اس طرح بلوچستان ایک خوبصورت انسان سے محروم ہو گیا۔ بلوچ کی محرومی میں ایک اور اضافہ ہو گیا۔

تو جناب بات یہ ہے کہ بلوچستان وہ جگہ ہے جہاں سے اسلام اور اس کے تمام عملی پہلو برصغیر پاک و ہند میں داخل ہوئے۔ افغانی بادشاہوں کی شان میں قصیدے پڑھنے والوں کیلئے اتنا ہی عرض کروں گا وہ گندم لوٹنے آتے تھے پھر پورا برصغیر ہی لوٹ کر بیٹھ گئے۔ بلوچستان سے صاحبہِ کرام سے لیکر بعد میں صدیوں تک مسلمان اشاعتِ اسلام کی غرض سے داخل ہوتے رہے۔ بلوچستان میں جگہ جگہ عربوں اور اصحابِکرام کی قبریں اس بات کی گواہ ہیں کہ جیسے بلوچستان نئے پاکستان کا منہ ماتھا ہے بالکل ویسے ہی بلوچستان ہماری مسلمانیت کا من ماتھا بھی ہے۔

اور سراج رئیسانی جیسے لوگ اس حسین خطہِ بلوچستان کا منہ ماتھا ہیں۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ شہدائے مستونگ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں۔ اور تمام پاکستانیوں کو مسلمانیت اور پاکستانیت سے بہرہ مند فرمائیں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

ساندل بار کے صندل سپنے

اگر کوئی آدمی پاکستان بننے سے پہلے والے معاشرے، ثقافت اور جغرافیہ کے احساس سے گزرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ ایک بار سرگودھا سے شورکوٹ تک ساندل بار ایکسپریس ٹرین سے سفر کرے۔ اس ٹرین میں صرف اکانومی کلاس ہوتی ہے اور حد رفتار ۶۵ کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ چار گھنٹے میں سرگودھا سے شورکوٹ پہنچاتی ہے۔

محرابی دروازوں والے اجڑے ہوئے ٹرین سٹیشن، بمبئی کی آئرن کمپنی کے بنے ہوئے چھت اور پانی کے ٹینک، پٹڑی کے اطراف دور دور تک چرتے ہوئے ساندل بار کے ارنے بیل اور بھینسے، ہر سٹیشن پہ لگے ہوئے بوہڑ کے درخت اور ان کے نیچے پانی کے نلکے، پھَکی اور اشیائے خوردونوش بیچنے والوں کا آنا جانا ، اور بوگیوں کی چھکا چھک انسان کو ایک مکمل دور سے گزار کر شورکوٹ اتار دیتی ہے۔

اگر آپ تھوڑے سے نظر ملا کر چلنے والے بندے ہیں تو جہلم اور چناب کے کنارے بسنے والیاں بوڑھیاں لاچے پہنے ، اور جوانیاں سرخی مائل گندمی چہرے اور ہیر سیالوی سے قد کاٹھ اٹھائے بھی آپ کی توجہ کا مرکز ضرور بنیں گی۔

پردہِ تخیل پہ جہلم کے آرپار بسنے والے گھڑ سوار ڈاکو دو نالی بندوقیں اٹھائے آپ کے ہمراہ چلیں گے اور پس منظر میں طالب درد راگ جوگ کی جوت جگاتا ہوا آپ کو مکمل طور پہ ساندل بار کے تاروں کی گرفت میں لے لے گا۔

جیسے ہی آپ شورکوٹ اتریں ، مائی باپ کو سلام کرنے کا ارادہ کر لیں۔ تمامتر تہذیب اپنی کثافت کا دامن چاک کرکے آپ کو صوتِ ہو کی جھولی میں ڈال دے گی۔ چناب کو سلام کرتے ہوئے اپنا آپ سلطان باہو رح کے حوالے کردیں اور ایک مکمل صدی آپ میں عود کر آئے گی۔

ثقافت اسی احساس سے گزرنے کا نام ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

ناقدری سے محرومی تک

اگر مجھے یہ کہا جائے کہ رائج الوقت جرائم کی ایک فہرست بنائیں جس میں آپ کی سوچ کے مطابق سب سے بڑا سے لیکر سب سے چھوٹا جرم ایک ترتیب میں ہوں۔ تو میں سب سے بڑا جرم “بے قدری” یا “ناقدری” کو گردانوں گا۔

ہوا کچھ یوں کہ کچھ عرصہ پہلے مجھے رات کو دیر گئے بھوک لگی۔ باہر سڑک پہ ایک ڈھابہ دیکھا جہاں تازہ تازہ آلو کے پراٹھوں کی خوشبو آ رہی تھی۔ بہت آرام سے پودینے والی چٹنی کے ساتھ دو تین پراٹھے کھانے کے دوران پراٹھے پکانے والے کے ساتھ بھی گپ شب جاری رہی۔

میرے ساتھ اکثر ایسا ہو جاتا ہے کہ ایسے لوگوں کو میں باتوں میں لگا لیتا ہوں کیونکہ اکثر ایسے لوگوں کے پیچھے ایک پورا وقت ہوتا ہے، ایک مکمل کہانی ہوتی ہے جو انہیں یہاں تک لائی ہوتی ہے۔ پراٹھے والے کے ساتھ بھی یہی ہوا۔

مجھے اُس نے بتایا کہ وہ اپنے وقت میں کبڈی کا کھلاڑی رہا ہے، آج بھی پنجاب میں جو اس کھیل کے شوقین لوگ ہیں، وہ اس کے نام سے اچھی طرح واقف ہیں۔ میں اس کی باتوں اور پراٹھوں میں اس قدر محو تھا کہ نام تک پوچھنا یاد نہیں رہا۔ خیر بات جاری رہی۔

میں نے پوچھا کہ اگر آپ اتنے بڑے کھلاڑی تھے تو اس کھیل میں اتنا نام کمانے کے بعد اسی فیلڈ میں آگے کیوں نہیں بڑھے؟ تو اس نے کہا کہ یہ ہوٹل تو مجبوری اور رزقِ حلال کی نیت سے بنایا ہے۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ “بابو لوگ ! تم کیا سمجھتے ہو کہ جینا اتنا آسان ہے؟”۔

مزید میری حیرت کو بڑھاتے ہوئے اس نے کہا سپورٹس مین اتنا شفاف قسم کا انسان ہوتا ہے کہ وہ وقت کی چالاکیوں سے اکثر ہار جاتا ہے، ویسے بھی جس طرح کے حالات چل رہے ہیں، اتنے شفاف صفت انسانوں کے سب سے زیادہ بے قدری ہو رہی ہے۔

تب تو میں سر پکڑ کے بیٹھ گیا جب اس نے یہ بتایا کہ اُس کا استاد جو کہ ایشیا لیول پہ کبڈی کھیل چکا ہے، اِسی شہر اسلام آباد میں سیکورٹی گارڈ ہے۔

یہاں سے ہماری قومی ترجیحات کا پتا چلتا ہے۔ مغرب میں کھلاڑی، انٹرپرونیور اور پھر کاروباری لوگ سب سے زیادہ دولت مند اور صاحبِ اثر ہیں۔ ہمارے ہاں یہ طبقہ سب سے زیادہ ناقدری کا شکار ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ آج کہاں ہے اور ہم کہاں۔ باقی تو چھوڑیں، گھروں میں جب بچے سپورٹس کا نام لیتے ہیں، گھر والے ایسے ری ایکٹ کرتے ہیں جیسے کسی مکروہ فعل کی بات کی گئی ہو۔

خیر بات صرف اور صرف اتنی ہے کہ جب تک ہم اپنے درمیان اور اردگرد موجود ان چیزوں اور انسانوں کی قدر نہیں کریں گے جنہوں نے کہیں نا کہیں اپنا آپ منوایا ہے، ہم کبھی بھی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد نہیں رکھ سکیں گے۔ اور ان میں سپورٹس کا انہائی اہم کردار ہے۔ بس بچوں کے ذہن میں ترجیحات کلئیر ہونی چاہیں کہ کتنا وقت کھیل کا اور کتنا وقت کام کا ہے۔ یقین کیجیے بچوں کے ذہن میں موجود ساری نیگٹیویٹی کا منبع اپنی انرجی کو مثبت کاموں میں لگانے کے مواقع کا نا ملنا ہے۔

اور ناقدری سے بچیں۔ جو ہے کی قدر نہیں کریں گے تو سب چھن جائے گا۔ اور سب سے قیمتی چیز جو سب سے پہلے اس ناشکری کے نتیجے میں چھن جاتی ہے، وہ مثبت انرجی ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔