بہترواں یومِ آزادی

یومِ آزادی مبارک ہو

اگر کسی نے آزادی کی قیمت کا اندازہ کرنا ہو تو وہ ایک دفعہ فلسطین کا چکر لگا لے، کشمیر دیکھ لے۔ ہاں وہاں جانا زرا مشکل ہو گا، قدرت اللہ شہاب کا ناولٹ “یاخدا” پڑھ لے۔ میں امید کرتا ہوں کہ ایک دھندھلی سی تصویر ضرور بنے گی جو بے اختیار اشکبار کر دے گی۔

برصغیر کی تقسیم نظریاتی تھی ۔ اس کا مخالف نظریہ علاقائیت کا تھا کہ برصغیر اٹوٹ انگ ہے۔ اگر یہ تقسیم تنظیمی ہوتی تو سیاسی جدوجہد کامیاب ہو جاتی۔ مگر اس جدوجہد میں جب ایک نظریہ شامل ہوا اور وہ نظریہ مذہبِ اسلام تھا، تب جا کر یہ کوشش کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔

پاکستان بن گیا مگر ہمارے دشمنوں نے اُسی مخالف نظریے کو فعال کیا اور ہمیں سندھی پنجابی بلوچی اور پشتون میں بانٹنے کی سرتوڑ کوشش کی۔ اس کے کچھ عناصر آج بھی فعال ہیں۔ ہم اس تقسیم کی قیمت مسلسل چکاتے آرہے ہیں۔ مگر بہتر سال گزرنے کے بعد آج ایک بار پھر ہم اسلام اور پاکستانیت میں پرو گئے ہیں۔

صاحبانِ بصیرت اس بات کو سمجھ رہے ہیں ، یہ بہتر کا لفظ بہت معتبر ہے۔ اب ہم قربانی دے چکے ہیں۔ اب ہم نے آگے بڑھ جانا ہے۔ آج گوادر سے خنجراب تک ہم سبز ہلالی پرچم میں لپٹ گئے ہیں۔ جو لوگ ابھی تک اس کسی بھی وجہ سے رُکے ہوئے ہیں، ان کو میں آج پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اب ہمیں دنیا کی کوئی طاقت آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔ آئیے! روزِ روشن کا استقبال کریں۔

میں کل رات کسی نجی کام کے سلسلے میں شہر گیا ہوا تھا، یقین کیجیے لوگوں میں اس دفعہ ایک پُرامید قسم کی مسرت دیکھنے کو ملی۔ اس دفعہ ایک نیا رنگ ہے جو پورے ملک و قوم پہ چڑھا ہے۔ ایک ولولہ ہے، کچھ کر جانے کا عزم ہے جو ہر ہر چہرے سے جھلک رہا ہے۔ ہر ادارہ، ہر علاقہ اور ہر ہر فرد ایک نشے میں ہے کہ پاکستان کوئی چیز ہے، دنیا کے نقشے پہ ہمارا نام کسی عظیم مقصد کے تحت کنندہ ہے۔

محدود ذہنیت کے محدود منصوبوں کے مطابق ۲۰۲۰ء میں پاکستان کا وجود دنیا کے نقشے پہ موجود نہ تھا مگر بیشک اللہ پاک بہترین چال چلنے والے ہیں ، ہم آج زندہ ہیں اور ۲۰۲۰ میں ہم ایک فخر کے ساتھ اقوامِ عالم میں موجود ہوں گے اور یہ بہتر کا ہندسہ عبور کرنے پہ سرفرازی ہے۔

آئیے! آج عہد کریں کہ اس سال ہم کچھ نا کچھ ایسا ضرور کریں گے کہ اگلے سال اس عمل کا فخر سے اعادہ کر سکیں اور جتنا ہو سکے، اس ملک کیلئے کچھ نا کچھ منفعت بخش ضرور کر سکیں۔ پاکستان اللہ پاک کے رازوں میں سے ایک راز ہے۔ ورنہ جو قوم سوئی نہیں بنا سکتی، ایٹم بم بنا لینا کوئی عام بات نہیں۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ پاکستان کو سرفراز فرمائیں، اپنے خصوصی کرم کا معاملہ فرماتے ہوئے اپنے پیاروں کے سایہ میں ہمارے عمل کی راہ متعین کرنے کی راہنمائی عطا فرمائیں اور سب سے بڑھ کر ہمارے حکمرانوں کو صحیح وقت پہ صحیح فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ ہماری تمامتر کامیابیوں کا راز اسی ایک بات میں مضمر ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

فراری سے فلاح تک کا پاکستان

سنا ہے کہ ایک دفعہ فراری کمپنی کے مالک نے ایک ٹریکٹر کمپنی کے مالک کو کہا تھا کہ آپ ہوسکتا ہے ٹریکٹر کو بہتر طریقے سے چلا سکو مگر ایک فراری کار کو ہینڈل کرنا آپ کا کام نہیں۔ پھر تاریخ نے اس ٹریکٹر والے کو لمبورگینی بناتے اور چلاتے دیکھا۔ سنا ہے ہنڈا کمپنی کے مالک کو ٹیوٹا کمپنی نے یہ کہہ کر نکال دیا تھا کہ تمہارے آئیڈیاز اور ڈیزائن اس قدر احمقانہ ہیں کہ ان کو عملی شکل دینا بے وقوفی ہو گی۔

پھر سُنا ہے کہ ایک بندے کو اُس وقت کے حکمران خاندان کے وزیرِ اعظم نے بڑی حقارت سے کہا تھا کہ یہ قومی اسمبلی کی ایک سیٹ والا کیا کر لے گا۔ آج وہی ایک سیٹ والا اُسی ملک کا وزیرِ اعظم بننے جا رہا ہے۔

زندگی میں کبھی بھی یہ نا سوچیں کہ آپ کا سامنا کن حالات ، کن لوگوں اور کن مسائل سے ہے۔ زندگی میں صرف اور آرف وہی ہوگ کامیاب ہوتے ہیں جو اپنے خوابوں کو مقدم جانتے ہیں اور ان کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں۔ ان کا ہر ہر قدم ان خوابوں کی عملی تعبیر کی جانب ہوتا ہے۔

پرانے کنگ فو فائیٹرز آج بھی اس بات پہ مکمل یقین رکھتے ہیں کہ ان میں ایک مخفی انرجی ہوتی ہے جو “چی” کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اگر انسان اپنے خواب کی تعبیر کیلئے اپنی تمام توانائیاں اور صلاحیتیں وقف کر دے تو آہستہ آہستہ اُس میں وہ مخفی انرجی بیدار ہو جاتی ہے اور وہ انسان ایسے ایسے کام کر جاتا ہے جو عام حالات میں ناممکن ہوتے ہیں۔ کچھ فائیٹرز نے اس بات کا عملی مظاہرہ بھی کرکے دکھایا ہوا ہے کہ اگر اپنی “چی” کو لڑائی کے دوران کسی بھی ایک حصے پہ مرکوز کر دیں تو اس حصے کو تلوار بھی نہیں کاٹ سکتی۔

تو بات یہ ہے کہ پاکستان ہمارا ملک ہے، اگر پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ اگر درج بالا تمام لوگ صرف ایک جملے سے شروع کرکے اس قدر ترقی کر سکتے ہیں تو ہم تمام لوگ روزنہ کے چند لمحے اس ملک کو دے کر کہاں سے کہاں لے جا سکتے ہیں۔ میں بہت عرصے سے سوچتا تھا کہ میں اس ملک کیلئے کیا کر سکتا ہوں۔ پھر میں اس نتیجے پہ پہنچا کہ میم قدر سست ہوں کہ عملی طور پر تو کچھ بھی کرنا ناممکن ہو گا۔ ہاں میں چند لفظ ضرور تحریر کر سکتا ہوں۔

اس دن سے آج تک میں نے صرف اور صرف وہ لکھا ہے جس سے اس ملک کے شہریوں کو ایک آدھ لفظ امید کا مل سکے، ایک مثبت احساس ہو اور ہمارا ہر ہر قدم اس ملک و قوم کیلئے منفعت بخش ہو۔ تو میں ذاتی طور پہ یہ سمجھتا ہوں کہ ہم روزانہ کی بنیاد پہ ایک دو چار منٹ تو اس ملک کو دے سکتے ہیں جب ہم خالصتاً اس ملک و قوم کیلئے کچھ مثبت کر سکیں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

مارننگ کافی اور مثبت سماجی پاکستانیت

اگر آپ ایک کلاسیکل دفتری قسم کی زندگی گزار رہے ہیں تو آپ کی زندگی میں صبح کے اخبار کی بہت اہمیت ہو گی۔ کیونکہ یہ وہ پہلی چیز ہے جس پہ نظر مار کر آپ کی آنکھ صحیح معنی میں کھلتی ہے اور صبح کا آغاز ہوتا ہے۔

بہت پہلے مجھے کسی نے کہا تھا کہ اگر اخبار کا مزا لینا کو تو دو کام کریں۔ پہلا کام گزشتہ سے پیوستہ اور دوسرا کام گائوں کے ہوٹل پہ ادرک گُڑ والی چائے۔ ساتھ میں اگر سردیوں کی دھوپ بھی میسر آ جائے تو سونے پہ سہاگہ ہو گا۔ اگرچہ مجھے یہ تمام چیزیں بفضلِ خدا میسر رہی ہیں مگر اکٹھی نہیں۔

آج کا اخبار مجھے اس لحاظ سے بھی بہت اچھا لگا کہ اس میں پاکستان کے اگلے متوقع وزیرِ اعظم عمران خان کو کابل دورے کی دعوت دی گئی تھی۔ ساتھ میں طالبان امریکہ مذاکرات کو مثبت قراد دیا گیا تھا۔ گزشتہ کو ساتھ پیوستہ کرتے ہوئے ایک مبہم امید ہوتی ہے کہ ہم امن کی جانب بڑھنا شروع ہو گئے ہیں۔

ویسے یہ خبریں پڑھ کر مجھے اب لگ رہا ہے کہ مجھے اپنے ویٹر کی بات ماننا ہی پڑے گی جو مجھے جاتے جاتے کہہ جاتا ہے کہ سر آپ بہت سخت کافی پیتے ہیں۔ اب مجھے پانی میں کافی کی مقدار گھٹا کر اپنی آنکھوں کی بے آرامی کچھ دیر کیلئے آرام میں تبدیل کرنا ہو گی کیونکہ اب شاید وہ لمحہ آ گیا ہے کہ ہمارے اندر ایک قومی سوچ پروان چڑھنا شروع ہو گئی ہے۔

آپ یہ دیکھ کر بہت حیران ہوں گے کہ وہی لوگ جن کو سیاسی لیڈر اس حد تک اشتعال دلا چکے تھے کہ وہ مرنے مارنے پہ تلے بیٹھے تھے، ان میں سے اسی فیصد سے زائد لوگ باہم شیروشکر ہو کر پاکستان کا سوچ رہے ہیں۔ لوگوں کی سوچ اور جذبوں میں واضح تبدیلی نظر آرہی ہے۔ کل رات کو ہم ایک ہوٹل پہ گئے ہوئے تھے تو میں نے خالی ماچس باہر پھینکنا چاہی تو وہاں بیرے نے آگے بڑھ کر کہا کہ سر نیچے پھینکنے سے بہتر ہے مجھے دے دیں، میں اس کو ٹوکری میں پھینک آتا ہوں۔

شاید وہ ہوٹل والے پہلے سے ہی مہذب ہوں اور میں نے پہلی دفعہ دیکھا ہو۔ اُسی ہوٹل میں تحریکِ انصاف اور ن لیگ والے ایک دوسرے کو دعوت بھی کھلا رہے تھے۔

تو بات یہ ہے کہ یہ سیاسی ، سماجی اور معاشرتی تنوع ہمارا حسن ہے، ہمارے خیال کی لطافت ہے، ویسے بھی اللہ پاک نے اختلافِ رائے کو رحمت قرار دیا ہے۔ اس رحمت کیلئے دامنِ دل وا کیجیے۔ اللہ پاک بہت کریم ہیں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

بھیگتے قدموں کی تاریخ

اقوامِ عالم کی بدقسمتیوں کو اگر شمار کیا جائے تو سب سے بڑی اور اہم بدقسمتی اس قوم کا اپنی تاریخ کو بھلا دینا ہے۔ میں یہی سوچتا ہوا خراماں خراماں کشمیر سے آنے والی خصوصی برسات میں بھیگتا جا رہا تھا کہ اچانک گجرات جمخانہ سے دوقدم آگے مجھے تاریخ نے اپنی آغوش میں لے لیا۔

بن

سیونتھ ڈے ایڈونٹسٹ چرچ کا سُرخ ایستادہ کراس سبز پس منظر میں تاریخ کے ہر طالب علم کو اپنے دامن میں جگہ دینے کو بے تاب تھا۔ مجھ سے رہا نا گیا۔ اُس طرف مڑا اور ایک ویران سے گیٹ سے اندر داخل ہوا تو اندر کی دنیا اس قدر بدلی نظر آئی کہ میں خود حیران رہ گیا۔

انگریز نے جب کشمیر کی فتح شروع کی تھی تو ابتداء گجرات سے ہوئی اور تب ۱۸۴۲ء میں اس چرچ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ چرچ کی عمارت، چھت، کھڑکیوں اور دروازوں کے چوکھاٹ اور روسٹرم ابھی تک اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں۔ جبکہ اُس دور کے لگائے ہوئے کچھ نادر و نایاب پودے بھی ابھی تک موجود ہیں۔

سُنا ہے کہ پہلے دور میں اس چرچ کو پھولوں والا چرچ کہا جاتا تھا۔ کرسمس، ایسٹر اور باقی تہواروں پہ پورا گجرات ان پھولوں کو دیکھنے کو امڈ پڑتا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ اب نرسری تو موجود ہے مگر کچھ قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے اب پھولوں کی وہ آب و تاب اور انتظام باقی نہیں رہا۔

چرچ کے کئیر ٹیکر شاہد پال ولیمز اور پاسٹر آصف بہت ہردل عزیر، تاریخ سے محبت کرنے والے ، انسانیت پرست اور عیسائیت کیلئے بڑے مخلص انسان ہیں۔ میں نے ان کو صرف اتنا کہا کہ مجھے تاریخ سے محبت ہے اور انہوں نے مجھے چرچ کی مکمل تاریخ سے آگاہ کیا اور تصاویر لینے کی اجازت بھی دی۔ مجھے بتا رہے تھے کہ جب حالات اچھے تھے تو سٹوڈنٹس اور تاریخ سے محبت کرنے والے لوگ اکثر یہاں پائے جاتے تھے مگر اب دہشت گردی کی وجہ سے یہ کام مانند پڑ گیا ہے۔

مذہبی امور کو ایک طرف رکھتے ہوئے اگر دیکھا جائے تو یہ چرچ ایک تاریخی اثاثہ ہے، اپنے قدرتی حسن اور فلورا کی وجہ سے انتہائی حسین تفریحی مقام ہے اور ایڈونچر پسند انسانوں کیلئے ایک جامع منزل بھی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ہم اپنے نظریات کو اس حد تک انتہا پسند بنا چکے ہیں کہ ہمیں یہاں سے گزرتے ہوئے بھی عیسائیت سے ایک منفی قسم کی دوری کا احساس ہو گا۔ حالانکہ مذہبی ہم آہنگی شاید اس دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

ویسے بھی ہمارے معاشرے کا حسن ہی یہی ہے کہ تمام مذاہب کو ساتھ لیکر ایک فلاحی معاشرے کا تصور ہمیں اسلام کی طرف سے ملا ہے۔ ہندو، سکھ، عیسائی اور دوسرے مذاہب ہمارے ملک کے شہری اور اپنی رسم و روایات کیلئے مکمل آزاد ہیں اور یہ آزادی انہیں ریاست دیتی ہے۔ ہمیں صرف اور صرف ایک دوسرے کو پیار دینا ہے۔ جنت نظیر ہونا اسی پیار کا مرہونِ منت ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

نیا پاکستان مبارک ہو

نئے پاکستان کا پہلا دن مبارک ہو۔

ایسی کوئی بات نہیں۔ پاکستان پاکستان ہے، نیا پرانا کچھ نہیں۔ لیکن اتنا میں ضرور کہوں گا کہ چاہے آپ کسی بھی سیاسی جماعت سے ہوں، کسی بھی علاقے سے تعلق ہو، کسی بھی مذہب یا برادری کے پروردہ ہوں، عمران خان کا خطاب سننے کے بعد دل کے کسی کونے میں پاکستانیت کا فخر ضرور بیدار ہوا ہو گا۔

اگرچہ ایک انگڑائی ہی سہی۔ مگر اتنا عاجزانہ سا، حقیقی اور مخلصانہ خطاب میرے خیال میں کسی بھی سیاسی ، مذہبی یا معاشرتی صاحبِ رائے نے ایسی پوزیشن میں آکر نہیں کیا ہو گا۔ کسی نے کہا تھا کہ

آنے والے کمال کے دن ہیں

عظمتِ ذوالجلال کے دن ہیں

اور اتنی خوبصورت ابتداء سے تو قیاس کیا جا سکتا ہے۔ آنے والا وقت تو کسی نہیں دیکھا لیکن میں یہاں کچھ معروضات پیش کرنا چاہوں گا جن کا خیال رکھنا ہم میں سے ہر ذمہ دار شہری کا فرض ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ ہر انسان ایک رائے رکھتا ہے۔ چاہے وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتا ہو۔ ہر کسی کی رائے کا احترام ہم پہ فرض ہے۔ جیت ہار سب اُس رائے کا نتیجہ ہے مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم اپنی اخلاقی قدروں کو بالائے طاق رکھ دیں۔ ہر کسی کا احترام کریں اور خاص طور پہ ہر پاکستانی کا احترام کریں۔

پاکستان میں ایسے بھی لوگ ہیں جو ابھی تک بھی پاکستان کے قیام کو غلط فیصلہ سمجھتے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں ک ہم ان سے لڑائی شروع کر دیں۔ وہ اس ملک کے شہری ہیں اور ان کی رائے کا احترام ہم پہ فرض ہے۔ پیار محبت اور اخلاق ہی ہمیں ایک سچا پاکستانی بنائے گا۔ اور اخلاق سے ہی ہم ایک دوسرے کا دل جیت سکتے ہیں۔ میرے دوست ہندو بھی ہیں۔ اور وہ مجھ سے ایسے ہی پیار کرتے ہیں جیسے میرے گھر والے۔ یہی پاکستانیت ہے۔

دوسری اہم بات یہ کہ یہ ملک ہمارا ہے، اس میں موجود سب کچھ ہمارا ہے۔ اس سے پیار کریں۔ یقین کریں کبھی کبھی ایسے لگتا ہے کہ اتنا خوبصورت ملک اللہ پاک کی ذات نے خصوصی طور پہ ہمارے لیے رکھا تھا۔ میری بہت خواہش ہے کہ پورا ملک دیکھ سکوں۔ گو کہ ابھی تک آدھا بھی نہیں دیکھا لیکن اس کی خوبصورتی مجھے ہمیشہ جنت کی یاد دلاتی ہے۔ اس کا یہ جغرافیائی اور ثقافتی حسن برقرار کریں۔

خاص طور پہ ان الیکشنز کے بعد ایک قومی سوچ جو پروان چڑھی ہے، اس کو قائم رکھیں۔ یقین کریں اللہ پاک بہت کریم ہیں۔ پچھلی حکومت میں انفراسٹرکچر بنا ہے، اس حکومت میں ادارے بنیں گے اور پھر ہمارے ملک کی ہاں میں اقوامِ عالم کی ہاں ہو گی۔ یہاں ہر کوئی اپنا اپنا رول ادا کر رہا ہے۔ اعتماد کا رشتہ قائم کریں۔ یقین کریں یہ استاد، سیکورٹی فورسز، واپڈا کے لوگ تمام محکمہ جات ہمارے اعتماد اور پیار کے دو بولوں سے بہت کچھ کر جاتے ہیں۔ کبھی کر کے دیکھیے گا۔

بہت کچھ لکھنا چاہتا ہوں لیکن پوسٹ کی طوالت کو دیکھتے ہوئے اسی پہ اکتفا کرتا ہوں۔ باقی باتیں اگلی پوسٹ میں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے

چلے جو ہو گے شہادت کا جام پی کر تم

رسولِ پاک نے بانہوں میں لے لیا ہو گا

سراج رئیسانی شہید ہوگیا۔ ایک ایسا انسان شہید ہو گیا جس کی پاکستانیت کا پورا پاکستان اور پاکستان دشمن طاقتیں بھی معترف تھیں۔ ایسا انسان اس ارضِ پاک پہ قربان ہوا جس نے اس وقت سبز ہلالی پرچم کو سینے سے لگائے رکھا جب بلوچستان میں اس پرچم کے لہرانے کا مطلب نوشتہِ اجل تھا۔

میں پنجاب کا ہوں، میری پاکستانیت یا انسانیت کے علاوہ یا ایک ٹورسٹ والی دلچسپی بس، اسکے علاوہ شاید کوئی خاص دلچسپی بھی نا ہو بلوچستان سے۔ میرا بلوچ قوم سے ایک ثقافتی رشتے کے علاوہ کوئی اور ایسا قابلِ ذکر رشتہ نا ہو جو اس قدر طاقت ور ہو کہ مجھے ایسا کچھ لکھنے پہ مجبور کرے۔

لیکن ایک چیز ایسی ہے کہ جس نے مجھ بلوچستان سے باندہ رکھا ہے۔ ہماری پاکستانیت، انسانیت، ثقافت الغرض کہ مسلمانیت بھی اس چیز سے جنم لیتی ہے۔

پھر آپ لوگوں کو یاد ہو گا کہ ایک دفعہ میں نے ایک پوسٹ لکھی تھی کہ حب چوکی سے لیکر کوئٹہ تک پاکستان کے تو شاید موبائل کے سگنل بھی کم کم آئیں مگر آل انڈیا ریڈیو واضح چلتا ہے اور اس پہ گمراہ کن پروپیگنڈہ کر کے بلوچ نسل کو پاکستان کے خلاف کیا جا رہا ہے۔

میں نے بلوچستان کے دونوں دور دیکھے ہیں۔ وہ دور بھی جب وہاں غیر بلوچ کو بسوں سے اتار کر سڑک پہ گولی مار دی جاتی تھی، جب بی ایل اے والے چلتی گاڑیوں پہ راکٹ داغ دیا کرتے تھے۔ میں اُس ٹرین میں بھی تھا جس پہ بی ایل اے کے دہشت گرد فائرنگ کیا کرتے تھے۔ جب آزاد بلوچستان کے نعرہ کے علاوہ کوئی بھی بات کا مطلب گولی ہوتا تھا۔

سراج رئیسانی وہ شخص ہے جس نے اُس وقت بھی اس زہریلے پروپیگنڈے کا الفاظ اور ہتھیار دونوں سے مقابلہ کیا۔

اور پھر وہ دور بھی جب بلوچستان کا امن واپس لوٹ آیا۔ سڑکوں کے کنارے آپ کو جلے ہوئے گھروں کی بجائے چھوٹی چھوٹی سرسبز آبادیاں، فٹ بال گرائونڈ اور دکانیں نظر آنے کگ گئیں۔ بلوچستان نے ترقی اور خوشحالی کا سفر شروع کیا۔ میں اکثر کہتا ہوں کہ اگر سڑک دیکھنی ہے تو بلوچستان کی دیکھو جہاں میرے جیسا بندہ بھی ۱۵۰ کلومیٹر فی گھنٹا کی رفتار سے کچھ اوپر ہی گاڑی چلاتا ہے۔ یہ دور اپنے ساتھ ایک مسلسل ، شفاف اور ہموار قسم کی سیاسی تبدیلی کا دور لایا۔

سراج رئیسانی اب اس سیاسی عمل میں شامل ہو کر پاکستان کی خدمت کرنا چاہتے تھے۔ وہ اسی مقصد کیلئے مستونگ تھے اور ایک جلسے کو ہی نشانہ بنایا گیا ۔ اس طرح بلوچستان ایک خوبصورت انسان سے محروم ہو گیا۔ بلوچ کی محرومی میں ایک اور اضافہ ہو گیا۔

تو جناب بات یہ ہے کہ بلوچستان وہ جگہ ہے جہاں سے اسلام اور اس کے تمام عملی پہلو برصغیر پاک و ہند میں داخل ہوئے۔ افغانی بادشاہوں کی شان میں قصیدے پڑھنے والوں کیلئے اتنا ہی عرض کروں گا وہ گندم لوٹنے آتے تھے پھر پورا برصغیر ہی لوٹ کر بیٹھ گئے۔ بلوچستان سے صاحبہِ کرام سے لیکر بعد میں صدیوں تک مسلمان اشاعتِ اسلام کی غرض سے داخل ہوتے رہے۔ بلوچستان میں جگہ جگہ عربوں اور اصحابِکرام کی قبریں اس بات کی گواہ ہیں کہ جیسے بلوچستان نئے پاکستان کا منہ ماتھا ہے بالکل ویسے ہی بلوچستان ہماری مسلمانیت کا من ماتھا بھی ہے۔

اور سراج رئیسانی جیسے لوگ اس حسین خطہِ بلوچستان کا منہ ماتھا ہیں۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ شہدائے مستونگ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں۔ اور تمام پاکستانیوں کو مسلمانیت اور پاکستانیت سے بہرہ مند فرمائیں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

ساندل بار کے صندل سپنے

اگر کوئی آدمی پاکستان بننے سے پہلے والے معاشرے، ثقافت اور جغرافیہ کے احساس سے گزرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ ایک بار سرگودھا سے شورکوٹ تک ساندل بار ایکسپریس ٹرین سے سفر کرے۔ اس ٹرین میں صرف اکانومی کلاس ہوتی ہے اور حد رفتار ۶۵ کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ چار گھنٹے میں سرگودھا سے شورکوٹ پہنچاتی ہے۔

محرابی دروازوں والے اجڑے ہوئے ٹرین سٹیشن، بمبئی کی آئرن کمپنی کے بنے ہوئے چھت اور پانی کے ٹینک، پٹڑی کے اطراف دور دور تک چرتے ہوئے ساندل بار کے ارنے بیل اور بھینسے، ہر سٹیشن پہ لگے ہوئے بوہڑ کے درخت اور ان کے نیچے پانی کے نلکے، پھَکی اور اشیائے خوردونوش بیچنے والوں کا آنا جانا ، اور بوگیوں کی چھکا چھک انسان کو ایک مکمل دور سے گزار کر شورکوٹ اتار دیتی ہے۔

اگر آپ تھوڑے سے نظر ملا کر چلنے والے بندے ہیں تو جہلم اور چناب کے کنارے بسنے والیاں بوڑھیاں لاچے پہنے ، اور جوانیاں سرخی مائل گندمی چہرے اور ہیر سیالوی سے قد کاٹھ اٹھائے بھی آپ کی توجہ کا مرکز ضرور بنیں گی۔

پردہِ تخیل پہ جہلم کے آرپار بسنے والے گھڑ سوار ڈاکو دو نالی بندوقیں اٹھائے آپ کے ہمراہ چلیں گے اور پس منظر میں طالب درد راگ جوگ کی جوت جگاتا ہوا آپ کو مکمل طور پہ ساندل بار کے تاروں کی گرفت میں لے لے گا۔

جیسے ہی آپ شورکوٹ اتریں ، مائی باپ کو سلام کرنے کا ارادہ کر لیں۔ تمامتر تہذیب اپنی کثافت کا دامن چاک کرکے آپ کو صوتِ ہو کی جھولی میں ڈال دے گی۔ چناب کو سلام کرتے ہوئے اپنا آپ سلطان باہو رح کے حوالے کردیں اور ایک مکمل صدی آپ میں عود کر آئے گی۔

ثقافت اسی احساس سے گزرنے کا نام ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

ناقدری سے محرومی تک

اگر مجھے یہ کہا جائے کہ رائج الوقت جرائم کی ایک فہرست بنائیں جس میں آپ کی سوچ کے مطابق سب سے بڑا سے لیکر سب سے چھوٹا جرم ایک ترتیب میں ہوں۔ تو میں سب سے بڑا جرم “بے قدری” یا “ناقدری” کو گردانوں گا۔

ہوا کچھ یوں کہ کچھ عرصہ پہلے مجھے رات کو دیر گئے بھوک لگی۔ باہر سڑک پہ ایک ڈھابہ دیکھا جہاں تازہ تازہ آلو کے پراٹھوں کی خوشبو آ رہی تھی۔ بہت آرام سے پودینے والی چٹنی کے ساتھ دو تین پراٹھے کھانے کے دوران پراٹھے پکانے والے کے ساتھ بھی گپ شب جاری رہی۔

میرے ساتھ اکثر ایسا ہو جاتا ہے کہ ایسے لوگوں کو میں باتوں میں لگا لیتا ہوں کیونکہ اکثر ایسے لوگوں کے پیچھے ایک پورا وقت ہوتا ہے، ایک مکمل کہانی ہوتی ہے جو انہیں یہاں تک لائی ہوتی ہے۔ پراٹھے والے کے ساتھ بھی یہی ہوا۔

مجھے اُس نے بتایا کہ وہ اپنے وقت میں کبڈی کا کھلاڑی رہا ہے، آج بھی پنجاب میں جو اس کھیل کے شوقین لوگ ہیں، وہ اس کے نام سے اچھی طرح واقف ہیں۔ میں اس کی باتوں اور پراٹھوں میں اس قدر محو تھا کہ نام تک پوچھنا یاد نہیں رہا۔ خیر بات جاری رہی۔

میں نے پوچھا کہ اگر آپ اتنے بڑے کھلاڑی تھے تو اس کھیل میں اتنا نام کمانے کے بعد اسی فیلڈ میں آگے کیوں نہیں بڑھے؟ تو اس نے کہا کہ یہ ہوٹل تو مجبوری اور رزقِ حلال کی نیت سے بنایا ہے۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ “بابو لوگ ! تم کیا سمجھتے ہو کہ جینا اتنا آسان ہے؟”۔

مزید میری حیرت کو بڑھاتے ہوئے اس نے کہا سپورٹس مین اتنا شفاف قسم کا انسان ہوتا ہے کہ وہ وقت کی چالاکیوں سے اکثر ہار جاتا ہے، ویسے بھی جس طرح کے حالات چل رہے ہیں، اتنے شفاف صفت انسانوں کے سب سے زیادہ بے قدری ہو رہی ہے۔

تب تو میں سر پکڑ کے بیٹھ گیا جب اس نے یہ بتایا کہ اُس کا استاد جو کہ ایشیا لیول پہ کبڈی کھیل چکا ہے، اِسی شہر اسلام آباد میں سیکورٹی گارڈ ہے۔

یہاں سے ہماری قومی ترجیحات کا پتا چلتا ہے۔ مغرب میں کھلاڑی، انٹرپرونیور اور پھر کاروباری لوگ سب سے زیادہ دولت مند اور صاحبِ اثر ہیں۔ ہمارے ہاں یہ طبقہ سب سے زیادہ ناقدری کا شکار ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ آج کہاں ہے اور ہم کہاں۔ باقی تو چھوڑیں، گھروں میں جب بچے سپورٹس کا نام لیتے ہیں، گھر والے ایسے ری ایکٹ کرتے ہیں جیسے کسی مکروہ فعل کی بات کی گئی ہو۔

خیر بات صرف اور صرف اتنی ہے کہ جب تک ہم اپنے درمیان اور اردگرد موجود ان چیزوں اور انسانوں کی قدر نہیں کریں گے جنہوں نے کہیں نا کہیں اپنا آپ منوایا ہے، ہم کبھی بھی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد نہیں رکھ سکیں گے۔ اور ان میں سپورٹس کا انہائی اہم کردار ہے۔ بس بچوں کے ذہن میں ترجیحات کلئیر ہونی چاہیں کہ کتنا وقت کھیل کا اور کتنا وقت کام کا ہے۔ یقین کیجیے بچوں کے ذہن میں موجود ساری نیگٹیویٹی کا منبع اپنی انرجی کو مثبت کاموں میں لگانے کے مواقع کا نا ملنا ہے۔

اور ناقدری سے بچیں۔ جو ہے کی قدر نہیں کریں گے تو سب چھن جائے گا۔ اور سب سے قیمتی چیز جو سب سے پہلے اس ناشکری کے نتیجے میں چھن جاتی ہے، وہ مثبت انرجی ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

چرنجیت سنگھ، کارخانو بازار اور ہم روادار

مجھے ۲۰۱۵ میں پشاور کے کارخانو بازار جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب ضربِ عضب شروع نہیں ہوا تھا اور لوگ پشاور کا نام سن کر ہی کانوں کو ہاتھ لگا لیتے تھے۔ مجھے بھی ابو کے علاوہ تمام لوگوں نے بہت ڈرایا لیکن اپنی متجسس فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں یہاں چلا آیا۔

یہاں میری حیرانگی کی سب سے بڑی وجہ سکھوں کی دکانیں اور ان کی ڈیلنگ کا طریقہِ کار تھا۔ میں نے اس مارکیٹ سے جتنی بھی شاپنگ کی، زیادہ تر سکھوں کی دکان سے کی۔ خوش پوش، خوش گفتار اور سادہ لوح سی یہ قوم مجھے بہت اچھی لگی۔

پھر مجھے اورکزئی ایجنسی کے ایک دوست نے بتایا کہ وہاں ابھی تک سکھ آباد ہیں اور اپنی مکمل مذہبی آزادی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ پھر مجھے ان میں سے کچھ سکھوں سے ملنے کا موقع بھی ملا اور ان کو بہت محبِ وطن پاکر بڑا پر مسرت سا احساس ہوا۔

ب

لیکن

کل پشاور میں سکھ برادری کے انسانی حقوق کے ورکر چرنجیت سنگھ کو گولی مار کر اس کے جینے کا حق چھین لیا گیا۔ یقین کیجیے مجھے اس کا بہت دکھ ہوا۔ یہ اقلیتی اختلاف ہمارے ماتھے کا جھومر ہوتا ہے اور ہم اسی جھومر سے لہو ٹپکا رہے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ہماری صفوں میں کوئی اور گھس کر یہ کام کر رہا ہے اور نام ہمارا جان بوجھ کر بدنام کیا جا رہا ہے۔ تاکہ پاکستان کو اقلیتوں کے حوالے سے ایک غیر محفوظ ملک ثابت کیا جا سکے۔ میں اس موضوع پہ بہت کچھ کہہ سکتا ہوں مگر کچھ ناگزیر وجوہ کی بنا پر اپنے آپ کو یہاں تک ہی محدود رکھتا ہوں۔ کبھی وقت ملا تو اس پہ بات کریں گے۔

خیر بات میں یہ کرنا چاہ رہا تھا کہ معاشرے کا حسن اسی نظریاتی تنوع سے عبارت ہے ۔ پاکستان بننے سے اب تک سکھوں نے ضرور ہندوئوں کی باتوں میں آکر مسلمانوں پہ ظلم روا رکھے مگر مسلمانوں نے کہیں کہیں بدلہ لینے کی بات اور کوشش کی اور بس۔ مسلمان بنیادی طور پہ سلامتی میں داخل شدہ لوگ ہیں۔ یہ ظلم و جدل سے دور بھاگتے ہیں۔ میں اب تک جتنے سکھوں سے ملا ہوں ان کو پاکستان سے خوش اور مطمئن پایا ہے۔

تو بات کچھ یوں بنتی ہے کہ یہ سب اس کا کیا دھرا ہے جس کو یہ سلامتی اور ہمارے معاشرے کا حسن ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ ہماری ناکامی یہ ہے کہ ہم ابھی تک اس دشمن کو مکمل طور پہ اپنے اندر سے مکمل طور پہ نہیں نکال پائے۔ لیکن اب وہ وقت اتر رہا ہے جب دشمن کی میلی انکھ کی بینائی ختم ہو جائے گی۔ سکھوں پہ صرف پاکستان نہیں، انڈیا سے بھی ظلم کا خاتمہ ہو جائے گا۔ مجھے ایسی فیلنگ آتی ہے کہ سکھ پاکستان کی طرف مثبت سوچ کے ساتھ پلٹیں گے۔

ایک اور بات یہ بھی کہ سکھوں اور ہندوئوں کا ہمارے درمیان رہنا ایک ثقافتی حسن بھی ہے۔ ہمارے ان سے تاریخی روابط ہیں۔ میرے ایک ہندو دوست بتاتے ہیں کہ وہ ہر سال جب کوٹ مٹھن میں دربار خواجہ غلام فرید رح پہ کلامِ فرید گاتے ہیں تو مکمل عرس پہ سکوت طاری ہو جاتا ہے۔ ہم اس حسن کو کھونا کسی قیمت پہ بھی برداشت نہیں کر سکتے۔

آئیے! اپنے اردگرد جہاں بھی اقلیتیں موجود ہیں، ان کو مکمل مذہبی آزادی اور تحفظ دیں تاکہ ہمارے معاشرے کا حسن اور سلامتی قائم رہ سکے۔ یقین کیجیے، ظلم کا معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔ ضروری نہیں کہ یہ ظلم اندرونی عوامل سے ہو یا بیرونی عوامل سے۔ ہمیں اب اپنی رواداری اور نظریاتی قبولیت کو واپس لانا ہو گا۔ ورنہ ہمارا جھومر گہنا جائے گا اور پاکیزگی کا یہ عنصر ناپید ہوتا جائے گا۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

یومِ تکبیر

۲۸ مئی یومِ تکبیر۔

اعلان کہ “اللہ بہت بڑا ہے” نے پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔ زرا ایک لمحے کو رکیے اور اس اعلان پہ غور کریے۔ اعلان اللہ پاک کی منزلت اور برتری کا کیا جا رہا ہے ۔ بات پاکستان کے دفاع کی آجاتی ہے۔

کیا کسی نے آج تک اس حسنِ اتفاق پہ غور کیا؟

نا جی۔ ہمیں تو اس ملک اور قوم کے بارے میں اتفاقات کی اس قدر عادت ہو گئی ہے کہ ہم اس کو درخورِ اعتناء ہی نہیں سمجھتے۔ یہ سچ ہے کہ ہم لوگ اب دو قومی نظریہ پہ سوال اٹھانے لگے ہیں اور پاکستان کے وجود پہ بھی سوال اٹھانے لگے ہیں۔ جبکہ قدرت اسباب کے ذریعے نظامِ کائنات چلاتی ہے اور اسباب انہی اتفاقات سے پیدا ہوتے ہیں۔

خیر بات کسی اور سمت نکل گئی۔

پاکستان کے ان ایٹمی سائنس دانوں، ان کی مدد کرنے والے تمام اداروں، عالمی سطح پہ یہ اعلان کرنے والی سول حکومت اور نیم شب بارگاہِ اہدیت میں گرتے آنسوئوں کے ساتھ پاکستان پاکستان پکارنے والے نیک لوگوں کو خصوصی طور پہ خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ ہر آنے والا دن اس ملک و قوم کیلئے گزرے ہوئے دن سے بہتر ہے۔

اُس غریب عوام کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے محکوم بن کر اپنے وجود کی چکی پیس پیس کر ہمارے شبِ و روز کو ایک ملک کے نام سے مزین کر رکھا ہے۔ آخر میں سلام اس بیرونِ ملک پاکستانیوں کو بھی جن کی آنکھیں سبز ہلالی پرچم دیکھ کر ٹھنڈی ہوتی ہیں۔

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ چاہے آپ وطن سے محبت کریں یا نفرت، زندگی دونوں صورتوں میں گزر ہی جاتی ہے۔ لیکن وطن سے محبت کرنے والوں کو اس وطن کی مٹی عزت دیتی ہے۔ نفرت کرنے والوں کی زندگی میں مقدور بھر زہر گھُل ہی جاتا ہے۔ یہ دنیا مکافاتِ عمل ہے۔ اور پاکستان پاکیزہ لوگوں کی جگہ ہے۔ ناپاک لوگ یہاں سے نکال دیے جاتے ہیں۔

آج کا دن ان تمام پاکیزہ احساس کے مالک لوگوں کیلئے فخر کا لمحہ ہے۔ آئیے! اس خوشبو کو اپنے جسم و جاں میں محسوس کریں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔