گمان سے ایمان تک

ابھی کچھ ہی دیر پہلے گائوں کے ایک دوست سے بات ہو رہی تھی۔ کہنے لگے کہ اس دفعہ گندم کی اوسط کم ہوئی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ تو بڑا نقصان ہو گیا ہو گا آپ جیسے چھوٹے زمینداروں کا۔ تو کہنے لگے کہ ہمارے لیے برابر ہے۔

میں یہ جواب سن کے بڑا حیران ہوا کہ نفع نقصان برابر کیسے ہو گیا؟

کہنے لگے کہ پہلے پچپن من فی ایکڑ تھی تو پندرہ بیس من بیماریوں اور پریشانیوں میں نکل گیا۔ اب اللہ کو پتا ہے کہ پینیس من ہے، تو بیماریاں اور پریشانیاں بھی تو وہ اُسی حساب سے دے گا نا۔

کس قدر سادہ ایمان ہے اور خوشی سے اس کا چہرہ تمتا رہا تھا۔ جبکہ میں ابھی تک آنکھ نم کیے اس کے ایمان پہ رشک کر رہا ہوں کہ اس قدر تیقن والے لوگ بھی ہمارے معاشرے میں موجود ہیں۔

یقین کیجیے اللہ پاک کا انسانوں کے ساتھ معاملہ گمان کا ہے۔ جیسا سوچوں گے، ویسا ہی پائو گے۔ سادہ لوح چھوٹا زمیندار شاید مجھ جیسے بڑے افسر سے کہاں زیادہ ایمان والا اور تشکر کی منازل بہت پہلے طے کر چکا ہے۔

جبکہ میں ابھی تک شک اور دلیل کے مابین ٹنگا ہوا ہوں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ماں اور مطمئن آدمی

کبھی کبھی راہ چلتے چلتے کوئی ایسا واقعہ ہو جاتا ہے جو آپ کی زندگی کو مکمل طور پہ ایک طرف سے ہٹا کر دوسری سمت میں لگا دیتا ہے۔ یہ واقعہ اس قدر معمولی ہوتا ہے کہ آپ کے علاوہ شاید کوئی ہی ایسا ہو جس کو اس واقعے کا احساس بھی ہو۔

“اکیس سال پہلے کی بات ہے میری ماں نے مجھے پاس بلایا اور اپنے پائوں کی سوجن دکھا کر بولی “بیٹا! یہ ہمارے جانے کی نشانیاں ہیں”۔ وہ دن اور آج کا دن، جب بھی کوئی میرے ساتھ ہمدردی کرتا ہے، مجھے عذاب لگتا ہے۔ ماں کے اس جملے نے مجھے اپنا آپ اپنے آپ تک محدود کر دینے اور اپنے دکھ سکھ اپنے ساتھ بانٹنے کا نوشتہ سنایا اور شاید یہ میری کامیابی کا بہت بڑا راز ہے”۔

یہ بات کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں بالکل بھی نمی نا تھی۔ میں نے پوچھا “یاد نہیں آتی؟”۔ کہنے لگا “اگر آپ کو بتا دوں تو ماں کے ساتھ کیے گئے وعدے کا پاس تو نا رکھا نا۔ آپ چہرے پڑھ لیتے ہو، پھر بھی سوال کر رہے ہو۔ مجھے خوشی ہے کہ میں اپنی ماں کی ساتھ کیا گیا عہد نبھانے میں کامیاب ہو گیا ہوں۔ جنت میں ماں خوش ہو گی کہ میں نے اپنے پر نوچنا سیکھ لیا ہے تاکہ نئے پر اُگا سکوں”۔

یقین کیجیے اس شخص کے چہرے پہ اس قدر پرخار جذباتی گھاٹیوں سے گزرتے ہوئے بھی اس قدر سکون تھا کہ میں حیران رہ گیا۔ مجھے حیران دیکھ کر کہنے لگا “وہ دن مجھ پہ آج بھی بیت رہا ہے جب ماں نے مجھے میرے پائوں پہ کھڑا کر دیا۔ میں عمر بھر کی ریاضت سے بھی شاید اس ایک لمحے کا قرض نہیں چکا سکتا۔ میرا سکون دراصل میری ماں کو اس لمحے کا خراج ہے”۔

یقین کیجیے میں نے اس جیسا پرسکون شخص نہیں دیکھا تھا کہ اندر چاہے جو مرضی طوفان ہوں، چہرا بالکل پتھر۔ سب دوست اسے پتھر کا آدمی کہتے تھے۔ مجھے کہنے لگا “میں تو ماں کی قبر پہ بھی اس لیے کم کم جاتا ہوں کہ ماں بولے گی آ گیا پھر رونے۔ مجھے بس اتنی خوشی ہے کہ میں ماں سے کیے وعدے کا پاس رکھ رہا ہوں”۔

اس قدر چھوٹا واقعہ ایسے انسان تعمیر کرے گا، میں نے پہلی بار دیکھا تھا۔ میں انہی قدموں پہ کھڑا آسمان سے یہ سوال اٹھا رہا تھا کہ ماں کا اگر ایک جملہ اس قدر تعمیر رکھتا ہے تو ماں خود کیا چیز ہو گی۔ ماں شاید وہ پہیلی ہے جو کائنات کے رازوں کی طرح ہر لمحہ ارتقاء میں ہے اور ہر صاحبِ احساس نے اپنا احساس کسی نا کسی طرح ماں کے طواف پہ لگا رکھا ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

سانوں کی

پاکستان میں اگر آپ لوئر اور مڈل کلاس کے باہمی معاملات کا مطالعہ کریں تو ایسا ایسا کچھ آپ کو دیکھنے کو ملے گا کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جو کہ معاشرے کانوے فی صد ہے اور اسی کی سوچ کو تبدیل کرنا دراصل معاشرے کو تبدیل کرنا ہے۔ مگر ایسا ہونا زرا مشکل ہے۔

مثال کے طور پہ آپ کسی دکان دار کو جھوٹا ثابت کریں، اس کی ملاوٹ، جھوٹی ڈیلنگ اور غلطی کا پتا لگا لیں تو وہ آپ کو ایسے بلیک میل کرے گا جیسے آپ مجرم ہوں۔ وہ ایسے کہے گا کہ بھائی سو دوسو روپے کی چیز کی خاطر تم اتنا مسئلہ کھڑا کر رہے ہو۔ تمہارے لیے سو دو سو کا مسئلہ بنا لیا کیا وقعت رکھتا ہے۔ اپنا مقام دیکھو اور اپنی بات دیکھو۔

بندہ خود سوچتا ہے کہ اردگرد والوں نے بھی میرا ہی تماشا دیکھنا ہے بجائے بات سمجھنے کے تو میں رولا ڈالوں ہی کیوں۔ جب تمام لوگ اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں تو دنیا کے سامنے میں اپنا تماشا کیوں بنائوں۔ یقین کیجیے ابھی میں بازار میں دیکھ رہا تھا کہ تمام لوگ پانی کے نکاس والی نالیوں میں جی بھر کے کچرا پھینک کر ان میں کھڑے پانی کی بدبو پہ جی بھر کر لیکچر دے رہے ہوتے ہیں۔

مجھے تو کم از کم اس چیز کا کوئی واضح حل نظر نہیں آتا کیونکہ نوے فی صد ہوگ یہاں اپنے حصے کی کرپشن کو حلال سمجھ کر باقیوں پہ تنقید کو اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔ آپ پورے پاکستان میں سروے کر کے دیکھ لیں، شادی ہال سڑک کے کنارے ہوتے ہیں اور ان کے سامنے پارکنگ نہیں ہوتی۔ جو بھی شادی میں آتا ہے، گاڑی سڑک پہ پارک کرکے گزرے والی ٹریفک کیلئے مسئلے کا باعث بنتا ہے۔ اب اگر شادی ہال والوں سے پوچھا جائے تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ہال تو اپنی زمین میں ہے باقی کے ہم ذمہ دار نہیں۔

یہی سوچ ہی ہمارے معاشرے کا بیڑا غرق کرنے میں جی بھر حصہ ڈال رہی ہے۔ اور پھر ہم صبح شام دوسروں پہ تنقید کرتے نہیں تھکتے اور ہر تبدیلی کی سوچ کو سگریٹ کے دھوئیں کی طرح اڑا دیتے ہیں۔

چھوٹا سا واقعہ سناتا ہوں جس سے ہمارے معاشرے کی من جملہ سوچ کی عکاسی ہوتی ہے۔ میں نے جس بندے سے ڈرائیونگ سیکھی، اس نے مجھے پہلا سبق یہ دیا کہ اگر آپ پاکستان سے باہر ڈرائیو کر رہے ہوں تو دوسرے بندے کو بچانا ہے۔ اگر آپ پاکستان کے اندر ڈرائیو کر رہے ہوں تو اپنے آپ کو بچانا ہے کیونکہ یہاں آپ کو کسی نے نہیں بچانا۔ اس دن سے آج تک میں نے اس اصل پہ عمل کرکے بہت دفعہ اپنی جان بچائی ہے۔

میں بھی بڑا عرصہ ہو گیا مثبت مثبت کی مالا جپ رہا ہوں لیکن میں کیا، کوئی بھی ہو، کیا کر لیں گے؟ ایک دو دوستوں سے اپنی سوچ کی عزت افزائی کرائیں گے اور بس۔ دو سال پہلے میرا باس مجھے کہنے لگا کہ جس طرح کا شعور آک کل ہے، قائداعظم بھی آکر الیکشن لڑے تو میں شرط لگاتا ہوں کہ وہ ہار جائے گا۔ اور یہی سچ ہے۔

بس اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ہیر سیال سے شکوے

اگر کسی کو ہیر رانجھا داستان سے کچھ شغف رہا ہو تو اسے رنگپور کے لفظ سے ضرور واقفیت ہو گی۔ یہ دریائے چناب کے کنارے بڑا رومانوی سا قصبہ ہے جس کے ایک طرف دریا اور دوسری طرف صحرا ہے۔ ایک طرف جھنگ اور دوسری طرف ڈیرہ غازی خان کے بلوچوں کی ثقافت کا ایک حسین سنگم بھی ہے۔ یہاں اکثر داستانیں جنم لیتی رہتی ہیں۔

جھنگ کی تہذیب عورت سے عبارت ہے جبکہ ڈیرہ وال بلوچ مرد سے عبارت ہے۔ اگرچہ دونوں فریقوں کا حصہ رہا ہے مگر ادب میں نام جھنگ کی مٹیار نے رانجھا چرا کر اور بلوچ نے سسی کو چھوڑ کر کمایا ہے۔ رنگپور کا باسی ہونے کے واسطے مجھے انسانی نفسیات کے ان دونوں پہلوئوں کو بڑا قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔

میری بات کو مذہب کے پیمانے میں نا تولا جائے کیونکہ مذہب کی حد بندیوں میں شاید اس کی گنجائش نا نکل سکے۔

خیر بات یہ ہے کہ حوا کی بیٹی ہو یا آدم کا بیٹا، فرق صرف اور صرف اس چیز سے پڑتا ہے کہ بھوک کس کو لگی ہے۔ یہ بھوک جسمانی بھی ہو سکتی ہے، جذباتی بھی اور جنسی بھی۔ اور اس بھوک کو مٹانے کیلئے ہر مذہب اور معاشرے نے قوانین بھی وضع کیے ہیں۔ ہم اکثر ان قوانین سے انحراف کرتے ہیں، عمل بھی کرتے ہیں۔ لیکن اگر معاشرتی پیمانوں کو دیکھا جائے تو اس بھوک کے اثرات بڑھ رہے ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے “کھانا خود گرم کر لو” والا ٹیگ بہت مشہور ہوا۔ اور اس کی ایسی ایسی توجیہات پیش ہوئیں کہ عقل تو کیا، نفسیات بھی دنگ رہ گئی۔ بات سادہ سی تھی کہ عورت کی بھوک من حیث القوم نہیں مٹ رہی۔ اس لیے وہ اب خود اس راہ پہ چلنا چاہتی ہے۔ کسی نے اتنا سوچنے کی زحمت نہیں کی کہ اس کا ذمہ دار مرد ہے۔

بات عورت کی آزادی کی نہیں، بیرونی ایجنڈے کے آلہِ کار بننے کی بھی نہیں، عورت کو سیکس سمبل کے طور پہ پیش کر کے اس پہ خونخوار جانوروں کی طرح جھپٹنے کی بھی نہیں، بات تو صرف اتنی ہے کہ کوئی بھی تب تک گھر سے باہر نہیں نکلتا جب تک اسے ضرورت نا پڑے۔ اور بھوک انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

مرد عورت کی وقت پہ شادی کے فرض میں ناکام رہا ہے، اسے معاشرے میں مقام دینے میں ناکام رہا ہے، اسے تعلیم و ترقی کے میدان میں جگہ دینے میں تنگ نظر رہا ہے۔ ہم لوگ چاہے مانیں یا نا مانیں، ہم ابھی تک اسی جاگیردارانہ سوچ اور مغرب سے مستعارہ شدہ احساسِ کمتری کے سنگم پہ کھڑے ہیں۔

ورنہ عورت تو بس “وفا” کے لفظ سے عبارت ہے۔

یہ اور بات ہے کہ عورت کچے ذہن کی کم ذوقی سے مرعوب نظر آتی ہے۔ لیکن کھانا خود گرم کرنے سے اتنا فرق پڑنا نہیں جتنا عورت چاہتی ہے۔ ہر کسی سے اس کی حدود کے بارے میں سوال ہو گا۔ اور عورت اپنی حدود کی پابند ہے اور مرد اپنی حدود کا پابند ہے۔

بس ہمیں سوچنا یہ ہے کہ کیا ہم اپنے زیرِ کفالت کی ہمہ قسمی بھوک کا مناسب انتظام کر رہے ہیں یا نہیں۔ ورنہ بھوک میں حرام حلال کی تمیز جاتی رہتی ہے اور انسان کے پاس کف افسوس ملنے کے علاوہ کچھ نہیں بچتا۔

ہاں یہ اور بات ہے کہ تمام رومانوی لوک داستانیں کسی نا کسی بھوک کا مقدس اظہار ہیں اور ہمیں جھنگ کی ہیر کو بھی زندہ رکھنا ہے اور بلوچ وال کو بھی تاکہ معاشرے کا حسن بھی ایک توازن میں رہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

خزاں رسیدہ پتے اور انسان

صحن میں گرتے پتوں سے مجھے عشق کی حد تک لگائو ہے۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ ان پہ ننگے پائوں چل سکوں، ان تمام پتوں کو محسوس کر سکوں جن کو درختوں نے اپنے آپ سے گرا دیا۔ مجھے ایسے لگتا ہے کہ ان پتوں اور انسانوں کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے۔

مجھے ایسے لگتا ہے جیسے انسان بھی ایسی ہی بلندیوں کا باسی تھا جو کسی دن ایسے ہی زمین پہ گرا جیسے یہ پتے زمین پہ گرتے ہیں۔ وجہ چاہے جو بھی ہو، ایسے ہی انسان شروع شروع میں کافی ہلچل مچاتا ہے پھر آہستہ آہستہ انسان اپنے آپ کو دنیا کے حوالے کر دیتا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے یہ پتے اپنے آپ کو زمین کے حوالے کر دیتے اور خود اپنے آپ کو مٹی میں ملا دیتے ہیں۔

شاید انسان اس زمین پہ سب سے بڑا پردیسی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ انسان کی روح ہمیشہ دور کی منزلوں کی متلاشی رہتی ہے۔ کبھی یہ پہاڑوں سے عشق کرتی ہے تو کبھی یہ صحرائوں کی ٹھنڈی خاموش راتوں میں ستاروں کی راہیں تکتی ہے۔ کبھی کبھی یہ اپنی ذات کی گہرائیوں میں اتر کر اپنا عرفان حاصل کرتی ہے تو پھر کہتے ہیں کہ “بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں، گور پیا کوئی ہور” اور سلطان باہو رح کے رسالہِ روحی کی بات شاید روح کے وطن کی بات ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ میں نے ان تمام لوگوں کو جنہوں نے احساس کے راستے شعور کا ارتقاء حاصل کیا، ہمیشہ انجانی منزلوں کی راہ تکتے پایا ہے۔ ہمیشہ ایک انتظار میں جس پہ ایک ان دیکھا ہجر مسلسل کوڑے برسا رہا ہوتا ہے۔ آنکھ ہمیشہ نم ہوتی ہے۔

جون ایلیا نے شاید اسی حقیقت کو اپنے الفاظ میں کچھ ایسے بیان کیا تھا کہ “زندہ رہنے کیلئے بہت زیادہ بے حسی چاہیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ حساس انسانوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اداس رہ کر گزارا ہے”۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

سوشل میڈیا اور ہماری ذمہ داریاں

اس وقت دنیا کا سب سے خطرناک ہتھیار سوشل میڈیا ہے۔
یقین کیجیے، یہ گولہ بارود سے بہت آگے کی چیز ہے۔
سنیے اور دھڑکنوں کو پوسٹ کے آخر تک قاب

 

و میں رکھیے گا۔
پہلا مرحلہ: قندوز میں ڈرون حملہ ہوا۔ معصوم حفاظ پہ۔ مستقبل میں انہوں نے کیا کرنا تھا اور کیا نہیں، اللہ پاک کی ذات جانتی ہے۔ فی الحال معصوم حفاظ تک محدود رہیں۔ ہر مسلمان کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ حالانکہ انسانیت کو رونا چاہیے۔
دوسرا مرحلہ: کسی پاکستانی یا افغانی یا مسلمان کو نہیں پتا سوائے فیس بک کے کہ ان

کی فیس بک وال پہ ہر پانچ سات پوسٹس کے بعد خون میں لتھڑے بچوں کی تصویر کیوں آ جاتی ہے۔ ہر دو منٹ بعد جذبات کو ابھارا جاتا ہے، خون دیکھ کر جذبات شدت کی طرف بڑھتے ہیں، ہمارے لاشعور میں تشدد بیٹھنا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ ٹین ایجر اور بیس سے تیس سال کی عمر والوں کی وال پہ سب سے زیادہ نظر آتی ہیں۔

تیسر مرحلہ: وہ ملک جو اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہو، ایسے اقدامات اور ان کے عام آدمی کو ایکپوژر سے عوام میں اپنے مخالف جذبات پروان چڑھاتا ہے۔ حکمران طبقے کے ساتھ مسلسل دوستی اور خیر سگالی کا سبق رٹا جاتا ہے۔ دونوں سطحوں پہ جذبات کی جو خلیج حائل کی جاتی ہے، اس کے زریعے حکمران طبقہ کے سر پہ تلوار لٹکائی جاتی ہے۔ اور قرضوں سے ہمارے قدموں کے نیچے سے زمین تو وہ پہلے ہی سرکا چکے ہوتے ہیں۔
چوتھا مرحلہ: عوام کو ایک انتہا کی طرف بڑھا دیا جاتا ہے جبکہ اپر کلاس کو دوسری انتہا کی طرف۔ پھر اس قوم میں بس اتنا پیسہ پھینکا جاتا ہے کہ نبض چلتی رہے۔ لوگ ہمیشہ کیلئے غلام رہیں۔ ایک بات یاد رہے کہ یہ سب کچھ مسلمانوں کے خلاف ہو رہا ہوتا ہے کیونکہ نظریاتی اساسوں کو دنیا میں صرف اور صرف اسلام سے خطرہ ہے کیونکہ اسلام دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ مثبت اساس ہے۔
پانچواں مرحلہ: ان تمام چیزوں کو سوشل انڈیکیٹرز کہا جاتا ہے اور سپر کمپیوٹرز میں ان سوشل انڈیکیٹرز کو مانیٹرنگ پہ لگا دیا جاتا ہے۔ جب بھی سوسائٹی میں کوئی انڈیکیٹر مقررہ حد سے نیچے گرتا ہے تو کسی بھی ایسی جگہ پہ قندوز جیسا واقعہ کرا دیا جاتا ہے اور وہ سوشل انڈیکیٹر دوبارہ مقررہ حد سے اوپر آجاتا ہے۔ اس طرح کسی بھی وقت ان ممالک کے عام آدمی کی رائے ان سپرپاورز کے مفادات کے مخالف نہیں ہوتی۔
چھٹا مرحلہ: یہ تمام کام سوشل میڈیا کے ذریعے شروع اور مانیٹر کیے جاتے ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تو ویسے ہی ہر اس شخص کے مفادات کا محافظ ہوتا ہے جو اس کو سپانسر کر رہا ہو۔ جو لوگ فیس بک پہ پرائیویسی لگا کر مطمئن ہو جاتے ہیں، ان کیلئے اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ انٹرنیٹ پہ جو چیز ایک دفعہ اپلوڈ ہو جائے، وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔ پرائیویسی اور سیکیورٹی آج کی دنیا کے سب سے بڑے جھوٹ ہیں۔
ساتواں مرحلہ: جو اس سب کھیل کو سمجھ جائے اور باہر نکلنے کی کوشش کرے یا جو شروع دن سے اس کو قبول ہی نا کرے، اس کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔ اور یہی جدید دنیا کا واحد قانون ہے جس پہ مکمل دل جمعی سے عمل کیا جا رہا ہے۔
اب اپنے مذہب، اعتقاد اور مفادات کو اس چوکھٹے میں فٹ کیجیے اور سوچیے کہ آپ کہاں کھڑے ہیں؟ یقین کیجیے، ہمیں اس وقت سب سے زیادہ آگاہی کی ضرورت ہے کہ ہمارے اردگرد یا اتنا بھی سمجھ لیں کہ ہماری فیس بک وال پہ کیا ہو رہا ہے۔ اس عفریب کا سب سے بڑا شکار ٹین ایجر اور جوان ہیں جو کم تولیم کی وجہ سے کم آگاہ ہیں اور اس عفریب گرتے جا رہے ہیں۔ یقین کیجیے، ایک کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ میں نے ہر ممکن کوشش کرکے اپنے آپ کو یہاں تک محدود کیا ہے۔
درخواست ہے کہ اپنے اردگرد ہونے والی تبدیلیوں پہ کڑی نظر رکھیے۔ ہر ایک چیز جو ہمارے سامنے آ رہی ہے، انتہائی اہم ہے اور اسکا ایک مقصد ہے۔ کچھ عرصہ پہلے روہنگیا کے مسلمانوں پہ تشدد ایسے ہی سوشل میڈیا کی زینت بنا۔ پھر اب یہ اور دو تین ماہ بعد اتنی ہی شدت سے کوئی اور ایسا پرتشدد واقعہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہو گا۔ اس گیم پلان کو سمجھیے۔ ہماری حواس کو غلام بنایا جارہا ہے۔ ہماری سوچ کو کنٹرول کیا جا رہا ہے۔
آنکھیں کھلی رکھیں اور ہر ہر تبدیلی کو سمجھیں۔ تبدیلی لانا اگلا قدم ہے۔
اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

اولاد کا چھوٹا پن

ایک ماہ پہلے کی بات ہے کہ میں اپنے والد صاحب کو ایک پورا ہفتہ کال نہیں کر سکا۔ ایک تو میں مصروف بہت زیادہ تھا دوسرا میں کافی زیادہ بزدل بھی ہوں سو ابھی تک ابا جی سے بہت ڈر لگتا ہے۔ خیر گھنٹہ ڈیڑھ ہمت باندھنے میں لگا اور فون ملا دیا۔ آگے سے وہی بارعب اور پر شکوہ آواز “ آ گئی باپ کی یاد بھی تجھے ؟ “۔

خیر میرے دماغ نے ایک دم آئیڈیا مارا اور میں نے کہا “ابو جی! پچھلے ہفتے آپ نے دوائی لینے کا کہا تھا تو مجھے دوائی کا وقت نہیں ملا اور اسی ڈر سے فون نہیں کیا۔ آج دوائی لایا ہوں اور اب کال کی ہے۔”۔

یقین کیجیے اس جملے نے سارا شکوہ اور غصہ ہوا میں اڑا دیا۔ حالانکہ ان کو بھی پتا تھا کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں اور مجھے بھی اندازہ تھا کہ بے عزتی ہوگی۔ پر کیسے؟؟؟

بات یہ ہے کہ والدین ویسے تو تمام عمر اپنی اولاد سے محبت کرتے ہیں مگر ان کی یادوں کا حسین ترین حصہ اولاد کے بچپن والا ہوتا ہے۔ اس لیے والدین نفسیاتی طور پہ عمر بھر اپنی اولاد کو اسی بچپنے کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ والدین کی خوشی کا احساس ایسے تمام واقعات اور الفاظ سے جڑا ہوتا ہے۔ اولاد کا یہی نچپن والدین کا مان ہوتا ہے۔

اسی لیے وہ اپنے بڑھاپے کو اسی مان کے سہارے بسر کرتے ہیں۔ اولاد چاہے جو بھی بن جائے، والدین کا مان ہمیشہ انہی نفسیاتی پہلوئوں کے گرد گھومتا ہے۔

یقین کیجیے، ہمارے اردگرد ہزاروں ایسی مثالیں ہیں جن میں بچے بڑے ہوکر اپنے والدین کے سامنے بھی اتنے بڑے ہو جاتے ہیں کہ والدین کو چھوٹا ہونا پڑتا ہے۔ اور یہی وہ دن ہوتا ہے جب ان کا وہ مان ختم ہو جاتا ہے اور پھر ساری عمر ہمارے والدین اس انتظار میں گزار دیتے ہیں کہ کب ان کا یہ چھوٹا پن ختم ہو۔

استدعا کی جاتی ہے کہ اپنے اس بڑے پن کو اس قدر بڑا نا کریں کہ والدین کو چھوٹا ہونا پڑے۔ یقین کیجیے والدین کو ہم سے اس مان کے علاوہ کوئی غرض نہیں ہوتی۔ نا تو انہیں ہمارے پیسے سے کچھ سروکار ہوتا ہے ، نا ہمارے مرتبے سے اور نا ہی ان سہولیات سے جو ہماری وجہ سے ان کو حاصل ہو جاتی ہیں۔ لیکن

ہمارا سب کچھ انہی والدین کے مرہونِ منت ہوتا ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد