یومِ آزادی کے تقاضے

ابھی بیٹھے بیٹھے میں سوچ رہا تھا کہ دنیا میں جہاں جہاں تقریبات ہوتی ہیں، کسی نا کسی حوالے سے کوئی دن منائے جاتے ہیں ان میں سب سے پہلے پچھلی دفعہ کیے گئے اقدامات کا اعادہ کیا جاتا ہے، ان کی بڑھوتری اور اثر کا جائزہ لیا جاتا ہے اور پھر جا کر اس سال کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کا اعلان کیا جاتا ہے اور تب جا کر کہیں خوشی منانے کا وقت آتا ہے۔

لیکن ہمارا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔

ہم لوگ سب سے پہلے خوشی مناتے ہیں۔ پھر آئندہ کیلئے بلند بانگ دعوے کرکے فضا کو جھوٹ سے متعفن کرتے ہیں اور پہلا کام جو کہ سب سے اہم ہے، اس کو ہمیشہ بھول جاتے ہیں۔

مثال کے طور پہ ابھی چودہ اگست کو ہی لے لیں۔

پورے پاکستان میں اس کی خوشیاں منانے کا سلسلہ ابھی سے شروع ہو چکا ہے۔ تقریریں، ڈانس شوز، ڈرامے، منچلوں کی آوارہ گردیاں، سبز پرچموں کی بہار الغرض خوشی منانے کے وہ وہ طریقے ایجاد کیے جاتے ہیں کہ نفسیات خود حیران رہ جاتی ہے۔ یاد رہے کہ یہ کام تیسرا یا سب سے کم اہمیت والا ہے۔

پھر دوسرا کام یعنی ہر صاحبِ حیثیت اپنے اپنے حلقہِ اثر کی تقریب میں ایسے ایسے بلند و بانگ دعوے کرتا ہے کہ اگر بعد میں وہ خود سن لے تو یقین نہیں آتا ہے اور اکثر کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو سیاسی بیان تھا۔ کسی مستقل اور قابلِ عمل کا اعلان نہیں کیا جاتا۔ ناظرین کو خالی دعووں پہ ہی گزارا کرایا جاتا ہے۔

میں نے اپنی دس سالہ پیشہ ورانہ زندگی اور اس سے پہلے سولہ سالہ طالبعلمی کے دور میں آج تک کسی بھی یومِ آزادی کی تقریب میں ماضی کے اقدامات کا اعادہ ہوتے نہیں دیکھا۔ شاید اکا دکا جگہوں پہ ایسا ہوتا ہو۔ یاد رہے کہ کای بھی دن کے منانے کا مقصد پورا کرنے کا یہ سب سے اہم قدم ہے۔

کیا ہم ایسا کچھ نہیں کر سکتے کہ اس دفعہ یومِ آزادی کو ابھی سے باقاعدہ منصوبہ بندی کرکے منایا جائے۔ ابھی سے اپنی ترجیحات کے پیش نظر ایسے اقدامات کو چُنا جائے جن سے پاکستان اور ہر ہر پاکستانی کی فلاح ہو، ان اقدامات کو مسلسل آگے بڑھانا چاہیے اور سارا سال ان کا جائزہ لیتے رہیں تاکہ اگلے یومِ آزادی والے دن ہم سب سے پہلے اس فخر کے ساتھ کھڑے ہو سکیں کہ ایک سال میں ہم یہ بہتری لائے ہیں۔

کوئی بھی ایسا قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔ پودا لگایا جا سکتا ہے، کسی غریب کو مفت ٹیوشن پڑھائی جا سکتی ہے، گلی محلے کی صفائی کا لائحہ عمل بنایا جا سکتا ہے، پرندوں کو بچا کر آزاد ہوا میں چھوڑا جا سکتا ہے، مطلب کچھ بھی ایسا ہو جس کو آپ ایک مثبت بہتری کے سیمپل کے طور پہ اگلے سال پیش کر سکیں۔ یقین کریں قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے۔ پاکستان کا حسن انہی چھوٹے چھوٹے مگر حسین اقدامات سے ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

کچرا کہانی

جس طرح ممتاز مفتی کوئی پچاس سال انسانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کو کھنگالنے کے بعد اس نتیجے پہ پہنچا کہ انسان کا بنیادی مسئلہ “میں” ہے۔ اسی طرح میں بھی کوئی پانچ سال فیس بک کی دانشوری کے بعد اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ ہمارا بنیادی مسئلہ “کچرا” ہے۔ وہ کچرا الفاظ کا بھی ہے، انسانوں کا بھی ہے، اشیاء کا بھی ہے اور مادی بھی ہے۔ لیکن یقین کیجیے یہ انسان کی بنیادی ضرورت میں شامل ہے کہ اُسے کچرے سے نمٹنے کی تربیت دی جائے۔

میری ترتیب میں سب سے اہم کچرا حسیّات کا ہے جس میں سماعت، بصارت وغیرہ شامل ہیں۔ آپ نے کبھی غور کیا ہے، نہیں کیا ہو گا مگر میں بتائے دیتا ہوں کہ میرے اندازے کے مطابق ہم روزانہ اسی فیصد سے زیادہ وہ چیزیں دیکھنے ، سُنتے اور محسوس کرتے ہیں جن کا ہمارے مقصد ، ہماری ضرورت اور ہماری زندگی کے باقی اہم معاملات سے بالکل بھی تعلق نہیں ہوتا۔ لیکن یہ ہمارے لاشعور کا مسلسل حصہ بنتا جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ ہماری سوچ اسی کچرے کے تابع ہو کر ان تمام غیر ضروری محرکات کو ضروری بنا لیتی ہے۔

میڈیا وارفئیر کا بنیادی نظریہ اپنی اپنی مرضی کا کچرا اپنی مرضی کے دماغوں میں انڈیلنا ہے جس کیلئے ہمیں وہی کچھ دکھایا، سنایا اور پسند کرایا جاتا ہے جس کے پیچھے ان لوگوں کے مقاصد چھپے ہوتے ہیں۔ اور اس طرح ہم اس کچرے کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں اور ایک وقت ایسا آتا ہے جب ہم لوگ بغیر لڑے ہتھیار ڈال کر اور اپنے ہاتھ باندھ کر اپنی سوچ کو ان مذموم مقاصد کے سامنے ڈھیر کر دیتے ہیں۔

ایسا نہ بھی ہو، تب بھی یہ حسیات کا کچرا ہماری سوچ میں انتشار کو پروان چڑھاتا جاتا ہے جس کے تحت ہمارا دماغ کچھ بھی تعمیری کرنے سے قاصر ہوتا جاتا ہے۔ تمام فنکار کسی بھی فن کی تخلیق کیلئے تنہائی اور خاموشی کو اسی لیے ترجیح دیتے ہیں تاکہ ماحول میں موجود یہ غیرضروری انرجی ان کے خیال پہ اثر انداز نا ہو سکے۔ اولیاء کو بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ اللہ پاک کی عبادت کیلئے تنہائی اور خاموشی کو ترجیح دیتے ہیں۔ تہجد کا وقت اسی لیے سب سے زیادہ فائدہ مند رہتا ہے کیونکہ اُس وقت تمام غیرضروری آوازیں اور منظر موجود نہیں ہوتے۔

خیر بات پھر کسی نا کسی طرف سے ہوتی ہوئی اُدھر ہی پہنچ گئی۔ مجھے یہ کہنے میں بالکل بھی عار نہیں کہ ہم سب اس کچرا منڈی میں برابر کے شریک ہیں لیکن ہم کوشش کرکے اس کو بہتر تو کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پہ میرے دفتر کے باہر ایک ائیر کولر لگا تھا جس کے شور سے میرے ہروقت سر میں درد رہنا شروع ہو گیا تھا۔ گو کہ یہ سردرد فٹ سال کھیلتے ہوئے سر میں چوٹ لگنے کی وجہ سے تھا مگر کم تھا اور اب بہت زیادہ ہو گیا تھا۔

کسی نے کھڑکی کے سامنے کینو کا پودا لگا دیا۔ جس کی ٹھنڈک اتنی تھی کہ کولر کی ضرورت نا رہی اور اب کھڑکی کھول کر کینو پہ بیٹھے پرندوں کی آوازیں سنتے ہوئے یہ پوسٹ لکھ رہا ہوں۔ یہی کام کمرے کی ائیر اور سائونڈ پروفنگ کرنے کے بعد ائیر کنڈیشنر لگا کر بھی کیا جا سکتا تھا۔ لیکن اُس طرح میں ماحول میں مزید مادی کچرا شامل کر دیتا۔ اس کام پہ جتنے وسائل خرچ ہونے تھے وہ الگ اپنی جگہ کچھ نا کچھ کچرا ماحول میں شامل کرتے۔

خیر کچرا کہانی کا اختتام تو مشکل ہے پر اتنا ضرور کہوں گا کہ اپنی ترجیحات کو اس طرح ترتیب دیں کہ ماحول میں کم سے کم کچرا شامل ہو۔ میرا کزن روزانہ ٹشو کا ایک ڈبہ استعمال کر جاتا ہے جس سے روزانہ کی بنیاد پہ بہت زیادہ مادی کچرا ماحول میں شامل ہوتا ہے۔ حالانکہ وہی کام ایک رومال سے بھی ہو سکتا ہے۔ ہم لوگ تووہ قوم ہیں جس کو شمالی علاقہ جات کی صورت میں ایک جنتِ ارضی سے نوازا گیا ہے مگر اس کو بھی ہم اپنی باقیات سے نوازنا شروع ہو گئے ہیں۔

اپنی حسیات کو جس قدر ہو سکے صاف رکھیں تاکہ آپ کا گھر صاف ہو، آپ کا عمل صاف ہو، آپ کی سوچ سے کچھ نا کچھ تخلیقی اور تعمیری جنم کے سکے۔ یہ نا ہو کہ گھر کا کچرا سامنے سڑک پہ پھینک دیں، ہر کسی کو پتا لگے کہ اندر اور باہر میں کس قدر تضاد ہے۔ تضاد بھی انسان کو مار دیتا ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

ترقی کی قیمت اور سوہنی کا بازار

گجرات میں ایک بازار ہے جسے یار لوگوں نے کبھی تاریخ سے غش کھا کر “سوہنی دا بازار” کا نام دے دیا تھا۔ لوگ چلے گئے، سوہنی بھی سنا ہے دریا کی نظر ہو گئی، اب تو بازار کو بھی پٹرول کے مونو آکسائیڈز والے دھوئیں نے کھا لیا ہے۔ لیکن کبھی کبھی یہ بازار آپ کی انگلی پکڑ کر چناب کنارے سوہنی کے کچے وقت کی سیر ضرور کراتا ہے۔

میں بھی ایسے ہی حالات سے مارا رات کے نو بجے رکشا اچانک یہاں رک جانے کیوجہ سے سڑک پہ اترا تھا۔ تازہ تازہ بارش ہوئی تھی تو سڑک پہ پانی تھا، میں فٹ پاتھ پہ ذرا اونچی جگہ کھڑا آسمان کو دیکھنے لگ گیا۔ آسمان بھی شاید نظر آ ہی جاتا لیکن آسمان سے پہلے اس عمارت نے مجھے مبہوت سا کر کے رکھ دیا۔

“راجپوت بھٹی بلڈنگ” نام کی یہ عمارت پاکستان بننے سے بہت پہلے کی تھی۔ ہو سکتا ہے اس کے باسیوں نے تب یہ عالی شان گھر اس لیے بنایا ہو کہ بازار ساتھ ہو گا، تاریخ کے ساتھ قدم ملا کر چل سکیں گے، پر شکوہ احساسات تلے نسلیں پروان چڑھیں گی ۔ پتا نہیں وہ باسی کہاں گئے اور وہ احساس بھی رکشوں کے دھوئیں اور شور تلے دب گیا۔ اس کے نیچے ایک ریڑھی والے نے بتایا کہ کوئی کرایہ دار ہیں یہاں اور بہت جلد اس بلڈنگ کی جگہ ایک پلازہ کھڑا ہو رہا ہے۔

میں سوچنے لگا کہ ترقی کی قیمت کم از کم ہماری تاریخ کو بیچ کر تو نہ چکائی جائے۔ حالانکہ مجھے پتا تھا کہ ہمیں اگر اپنی تاریخ سے اتنا پیار ہوتا تو پہلے پچاس ہجری سالوں کے بعد کا بھی کچھ نا کچھ ہم یاد رلھتے۔ لیکن شاید ہم وقت کے آزمودہ لوگ ہیں، ہم بہتے آئے ہیں۔

بالکل ایسے ہی جیسے کچھ عرصہ بعد یہ راجپوت بھٹی بلڈنگ ترقی کے دھارے میں بہہ جائے گی۔

کم از کم اپنے آپ سے اتنا سوال ضرور کیجیے گا کہ تاریخ کو کتنا مٹائیں گے؟ کب تک ماضی سے بھاگیں گے؟ اور کہاں کہاں سے ترقی کی قیمت چکائیں گے؟ وقت کا پہیہ تو کبھی نہیں رکتا، کیا آپ بھی اپنے آپ کو اس دھارے میں بہنے سے کبھی نہیں روکیں گے؟

اللہ ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

چوری نئیں پچدی

ایک دن کی ہے ہم کلب میں ٹریک پہ واک کر رہے تھے۔ اچانک میرا دست بات سنانے لگا کہ بچپن میں ایک دفعہ اُس نے مالٹے چوری کیے۔ گو کہ ابھی تک ہم نے کام چوری کے علاوہ کوئی خاص بڑی چوری نہیں کی تھی۔ میرے لیے یہ انکشاف اس لیے بھی حیران کن تھا کہ ہم نے اکثر ایسے کام اکٹھے ہی کیے تھے پر یہ اکیلی چوری اور وہ بھی مالٹوں کی۔ مجھے غصہ تو بہت آیا مگر پی گیا اور مکمل بات بتانے کا کہا۔

ہوا کچھ یوں کہ وہ اپنے ننھیال سے واپس گھر آ رہا تھا کہ راستے میں مالٹوں کا باغ دیکھ کر نیت بدل گئی۔ اُس دور میں کھٹے مالٹے کھانا بھی ایک فینٹسی ہوتی تھی۔ خیر اُس نے دائیں بائیں دیکھ کر جرآت کی اور دو مالٹے توڑ لیے۔ اب گھر میں تو مالٹوں کی تفتیش ہونی تھی تو اُس نے راستے میں ہی پکی نہر کے کنارے ایک سایہ دار درخت تلے مالٹوں کا پتہ صاف کرنے کا سوچا۔

جیسے ہی وہ مالٹے چھیل کر نہر کنارے ٹھنڈے ماحول میں کھانا شروع ہوا، پائوں پھسلا، خود کو تو بڑی مشکل سے سنبھال پایا مگر مالٹے نہر میں گر گئے۔ چوٹ بھی آئی۔

حسرت لیے آگے چل پڑا، راستے میں کزن ملا، اُس کو واقعہ سنایا تو اُس نے سرائیکی میں کہا کہ “تینوں نہیں پتا جو توانوں چوری نئیں پچدی؟” مطلب آپ کو نہیں پتا کہ آپ کے خاندان کو چوری ہضم نہیں ہوتی۔ وہ دن اور آج کا دن، میرے دوست نے چوری نہیں کی۔ یہ جملہ آجی بھی اُسی لمحے کی طرح زندہ و جاوید ہے۔البتہ کام چوری اور بات ہے۔

تو بات یہ ہے کہ جو انسان روحانی طور پہ پاکیزگی میں جس قدر داخل ہوتا جاتا ہے، اسی شرح سے اُس کا جسم و جاں حرام قبول کرنے سے انکاری ہوتا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں جو ایک بات کی جاتی ہے کہ تصوف میں حدود ہر قدم کے ساتھ سخت سے سخت تر ہوتی جاتی ہیں، اس بات کی وجہ یہی ہے کہ آپ کا جسم حرام کی طرف اٹھنے سے انکاری ہوتا جاتا ہے، اگر آپ اس مقام پہ کسی بھی قسم کی چوری کریں گے تو جسم کا اتنا ہی زیادہ اور سخت ری ایکشن سامنے آئے گا۔

عزت کا چلے جانا، جسمانی تکالیف، بیماریاں الغرض ہر ایسی ضرر چیز ہماری کسی نا کسی چوری کا نتیجہ ہوتی ہے جس سے حرام اپنا ری ایکشن کرتا ہے۔ اسی لیے ایک ولی کیلئے گناہ کا خیال بھی گناہ ہے۔

اب یہ چوری چیزوں، کام، خیال، وقت، الغرض زندی کے تمام معاملات پہ محیط ہے۔ ایک مقام پہ تو ایک سانس کا بھی ذکرِ الٰہی سے خالی جانا بھی سانس کی چوری ہو جاتا ہے۔ لیکن وک بہت بڑے مقام ہیں۔ ہمارے لیے تو شاید چوری کا ہضم نا ہونا بھی اللہ پاک کے بہت بڑے کرم تعبیر کیا جاتا ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

ناقدری سے محرومی تک

اگر مجھے یہ کہا جائے کہ رائج الوقت جرائم کی ایک فہرست بنائیں جس میں آپ کی سوچ کے مطابق سب سے بڑا سے لیکر سب سے چھوٹا جرم ایک ترتیب میں ہوں۔ تو میں سب سے بڑا جرم “بے قدری” یا “ناقدری” کو گردانوں گا۔

ہوا کچھ یوں کہ کچھ عرصہ پہلے مجھے رات کو دیر گئے بھوک لگی۔ باہر سڑک پہ ایک ڈھابہ دیکھا جہاں تازہ تازہ آلو کے پراٹھوں کی خوشبو آ رہی تھی۔ بہت آرام سے پودینے والی چٹنی کے ساتھ دو تین پراٹھے کھانے کے دوران پراٹھے پکانے والے کے ساتھ بھی گپ شب جاری رہی۔

میرے ساتھ اکثر ایسا ہو جاتا ہے کہ ایسے لوگوں کو میں باتوں میں لگا لیتا ہوں کیونکہ اکثر ایسے لوگوں کے پیچھے ایک پورا وقت ہوتا ہے، ایک مکمل کہانی ہوتی ہے جو انہیں یہاں تک لائی ہوتی ہے۔ پراٹھے والے کے ساتھ بھی یہی ہوا۔

مجھے اُس نے بتایا کہ وہ اپنے وقت میں کبڈی کا کھلاڑی رہا ہے، آج بھی پنجاب میں جو اس کھیل کے شوقین لوگ ہیں، وہ اس کے نام سے اچھی طرح واقف ہیں۔ میں اس کی باتوں اور پراٹھوں میں اس قدر محو تھا کہ نام تک پوچھنا یاد نہیں رہا۔ خیر بات جاری رہی۔

میں نے پوچھا کہ اگر آپ اتنے بڑے کھلاڑی تھے تو اس کھیل میں اتنا نام کمانے کے بعد اسی فیلڈ میں آگے کیوں نہیں بڑھے؟ تو اس نے کہا کہ یہ ہوٹل تو مجبوری اور رزقِ حلال کی نیت سے بنایا ہے۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ “بابو لوگ ! تم کیا سمجھتے ہو کہ جینا اتنا آسان ہے؟”۔

مزید میری حیرت کو بڑھاتے ہوئے اس نے کہا سپورٹس مین اتنا شفاف قسم کا انسان ہوتا ہے کہ وہ وقت کی چالاکیوں سے اکثر ہار جاتا ہے، ویسے بھی جس طرح کے حالات چل رہے ہیں، اتنے شفاف صفت انسانوں کے سب سے زیادہ بے قدری ہو رہی ہے۔

تب تو میں سر پکڑ کے بیٹھ گیا جب اس نے یہ بتایا کہ اُس کا استاد جو کہ ایشیا لیول پہ کبڈی کھیل چکا ہے، اِسی شہر اسلام آباد میں سیکورٹی گارڈ ہے۔

یہاں سے ہماری قومی ترجیحات کا پتا چلتا ہے۔ مغرب میں کھلاڑی، انٹرپرونیور اور پھر کاروباری لوگ سب سے زیادہ دولت مند اور صاحبِ اثر ہیں۔ ہمارے ہاں یہ طبقہ سب سے زیادہ ناقدری کا شکار ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ آج کہاں ہے اور ہم کہاں۔ باقی تو چھوڑیں، گھروں میں جب بچے سپورٹس کا نام لیتے ہیں، گھر والے ایسے ری ایکٹ کرتے ہیں جیسے کسی مکروہ فعل کی بات کی گئی ہو۔

خیر بات صرف اور صرف اتنی ہے کہ جب تک ہم اپنے درمیان اور اردگرد موجود ان چیزوں اور انسانوں کی قدر نہیں کریں گے جنہوں نے کہیں نا کہیں اپنا آپ منوایا ہے، ہم کبھی بھی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد نہیں رکھ سکیں گے۔ اور ان میں سپورٹس کا انہائی اہم کردار ہے۔ بس بچوں کے ذہن میں ترجیحات کلئیر ہونی چاہیں کہ کتنا وقت کھیل کا اور کتنا وقت کام کا ہے۔ یقین کیجیے بچوں کے ذہن میں موجود ساری نیگٹیویٹی کا منبع اپنی انرجی کو مثبت کاموں میں لگانے کے مواقع کا نا ملنا ہے۔

اور ناقدری سے بچیں۔ جو ہے کی قدر نہیں کریں گے تو سب چھن جائے گا۔ اور سب سے قیمتی چیز جو سب سے پہلے اس ناشکری کے نتیجے میں چھن جاتی ہے، وہ مثبت انرجی ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

حسن سے احسن الخلائق تک

اس رمضان شریف میں میری زندگی میں شامل کچھ حسین لوگوں کی رخصتی ہو گئی۔ یقین کیجیے، میرا دل کر رہا ہے کہ اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر ادا کروں کہ جس قدر حسین یہ لوگ مجھے معلوم ہوتے تھے، اسی قدر حسین اوقات میں اپنے منبع کی جانب لوٹ گئے۔ شاید اللہ کی نظر میں بھی وہ لوگ اتنے ہی حسین تھے۔ رب دیاں گلاں رب جانے، میرا تو فقط ایک قیاس ہے۔

میں دکھ نہیں بانٹنا چاہتا کیونکہ مندرجہ بالا واقعات کو میں افسوسناک نہیں مانتا۔ تخلیق کار کو اپنی تخلیق سے اس کے حسن جتنا پیار ہوتا ہے۔ ہمیں تو اس بات کی خوشی منانی چاہیے کہ ایک خوبصورت انسان ایک خوبصورت انجام سے ہمکنار ہو گیا۔

شاید عرس منانے کی نظریاتی اساس یہی ہے۔

خیر ایک اور بات جو کہ مجھ پہ وا ہوئی کہ انسان کے انجام کا تعلق اس کے اندر کے حسن سے ہے۔ اِس میں مسلک ، جغرافیہ، حسب و نسب اور ایسے باقی عوامل کا اتنا خاص عمل دخل نہیں ہے۔ تخلیق کار کو ہر اس چیز سے پیار ہوتا ہے جو کسی نا کسی حوالے سے اُس کی تخلیق سے جڑی ہوتی ہے۔ اللہ پاک کی ذات کو کبھی تخلیق کار کی نظر سے دیکھیں، یقین کریں ایک رشک کا احساس انسان کے رگ و پے میں سرائیت کر جاتا ہے۔

پھر ایک اور چیز یہ بھی ہے کہ انسان کا حسن اس کے اندر کے احساس، باہر کی اخلاقیات، معاملات اور کائنات کی طرف نظریاتی جھکائو سے وجود پاتا ہے۔ اب اگر آپ کسی ایسے انسان کے قریب سے بھی گزریں گے تو آپ کے اندر وہ مثبت احساس خود بخود سرایت کر جائے گا۔ یہ سب کچھ ایک موج کی صورت میں حسین انسان کے اردگرد جاری ہوتا ہے، جو بھی اس دائرے میں داخل ہوتا ہے، خودبخود ہی اس رنگ میں رنگا جاتا ہے۔

شاید یہ بھی ایک وجہ ہے کہ میرا جھکائو زیادہ صوفیاء کی طرف ہے کیونکہ وہ اپنے وقت کے حسین ترین انسان رہے ہیں۔ ایسے لوگ آج بھی موجود ہیں لیکن ان تک پہنچنے کیلئے ان کے مقام جتنی کوشش تو ضروری ہے۔

خیر حسن کی بات ہو رہی تھی۔ وہ حسن کاری نہیں جس کی حسن کاری کرائی جاتی ہے۔ کاری تو وہ ہے جس کی کاری نہیں ہو سکتی، وہ بس احساس کے راستے انسان کی انتہاء تک سرائیت کرتا ہے اور پھر انسان کو ایسے ایسی حالت میں لے آتا ہے جہاں انسان نا تو تخلیق ہوتا ہے اور نا ہی تخلیق کار۔ مٹی اور گِل کے درمیان کی کسی حالت میں ہوتا ہے جہاں رب اُسے اپنے خصوصی قرب سے نواز رہا ہوتا ہے۔

بالکل ایسا ہی حسین دن آج کا دن ہے جو شام کو دریائے نیست میں شامل ہو جائے گا۔ بالکل ایسے ہی رب آج اپنے قرب سے نواز رہا ہے۔ ایسے ہی پاکیزہ ترین احساس انسان پہ بوند بوند اتر رہا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے سردیوں کے پہلے احساس کے ساتھ بندہ علی الصبح گھاس پہ واک کرتے ہوئے پھولوں پہ شبنم کے پہلے قطرے دیکھتا ہے، ایسی ہی وقت کی پتیوں پہ آج جیسے حسین دن براجمان ہیں۔

کم از کم کوشش ضرور کریں کہ ایسے حسین وقت میں اپنی زندگی میں شامل حسین لوگوں کے احساس کو ضرور جگہ دیں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

زندگی کی بوندوں تک

میں آج اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ اس دنیا میں جتنی تخلیقات ہیں، وہ تمام گفتگو کرتی ہیں۔ یہ گفتگو آپس میں بھی ہو سکتی ہے اور انسان اس کو سن بھی سکتا ہے۔ روایات میں جو باتیں لکھی ہیں، ان میں کافی حد تک سچائی ہوتی ہے۔ درختوں ، پرندوں کا انسانوں کے ساتھ باتیں کرناروایات کا حصہ رہا ہے۔

گرمیوں کی پہلی بارش کے بعد ہونے والی بونداباندی میں اگر آپ دونوں ہاتھ کھولے اور پھیلائے ہوئے چناروں سے ڈھکی سڑک پہ پیدل چل رہے ہوں، آپ گھنٹہ بھر اس بارش میں نہانے کے بعد مکمل طور پہ اپنا آپ ان بوندوں کے حوالے کر چکے ہوں، آپ ان چناروں اور دیوداروں کی گفتگو سن سکتے ہیں۔

آپ چناروں کو اللہ کا شکر ادا کرتے دیکھ سکتے ہیں، ان کی آپ میں مسلراہٹوں کا تبادلہ دیکھ سکتے ہیں۔ ان کے درمیان سائیں سائیں کرتی ہوا کو پیغامات پہنچاتا رنگے ہاتھوں پکڑ سکتے ہیں۔

یہ بارش تو گرمیوں کی تھی، اگر آپ سردیوں کی بارش میں ان چناروں کے ساتھ ہوں، یہ دریافتیں کئی گنا بڑھ جاتی ہیں۔

شایہ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ زیادہ تر لوگ پہاڑوں کی طرف بھاگتے اور ان سے عشق لڑاتے ہیں۔

لیکن میرا مدعا ان چناروں کی بڑائی بیان کرنا نا تھا۔

میں یہ بھی نہیں بتانا چاہتا تھا کہ چنار تو بس مجھے پسند ہیں، اس لیے بارشوں میں ان کے سائے میں چلنا مجھے اچھا لگتا ہے۔

بات کچھ یوں بھی نا تھی کہ صرف چنار نہیں، باقی پرندے اور جانور بھی کل مجھے باتیں کرتے نظر آئے۔

ارے مجھے تو بس اتنا کہنا تھا کہ زندگی پانی سے ہے۔ شاید مادہ کی تخلیق میں سب سے پہلا مرکب پانی ہو گا، شاید تمام جانداروں کی زندگی کی ابتدا پانی سے ہوئی ہو گی، شاید حیات کی ضمانت بھی پانی ہی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر انسان کی زندگی میں سب سے زیادہ اور سب سے خوشگوار احساسات پانی سے کسی نا کسی حوالے سے جڑے ہیں۔

شایہ یہی وجہ ہے کہ سمندر، دریا ، جھیلیں، اور باقی پانی سے جڑی چیزیں انسان کو بہت اندر تک اترتی محسوس ہوتی ہیں۔

اور میرے گائوں کے بوڑھے اکثر کہا کرتے ہیں کہ بارش کی جگہ زندگی برستی ہے۔ شاید یہ بھی ایک وجہ ہے کہ بارشی علاقوں میں رہنے والوں کی زندگیاں سب سے طویل ہوتی ہیں۔

تو جب بھی بارش ہو، آپ اپنا آپ ان بوندوں کے حوالے کرکے ان مخلوقات کی باتیں سن سکتے ہیں جو ان بوندوں سے زندگی کشید کر رہی ہوتی ہیں۔

کریم ہے وہ ذات جو اپنے بندوں پہ زندگی برساتی ہے۔ ناشکرے ہیں ہم جو زندگی کی ان رمقوں کو ضائع کر دیتے ہیں۔ پانی کی قدر کریں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

حیات سے آبِ حیات تک

اس کائنات کے حسین ترین احساسات یا تازگی بخش ترین لمحوں میں سے ایک لمحہ وہ بھی ہے جب آپ تازہ ،شفاف ،ٹھنڈے بہتے ہوئے پانی میں ہاتھ پائوں یا جسم کا کوئی بھی حصہ بھگو کر اس ندی کے کنارے بیٹھے ہوں۔ اس لمحے بڑی سے بڑی پریشانی بھی آپ کی توجہ اپنی طرف نہیں کھینچ سکتی۔ یہ ایک تجربہ ہے۔ کر کے دیکھ لیجیے گا۔

مدعا یہ نہیں کہ پانی کی اہمیت تبائی جائے حالانکہ پانی حیات ہے۔ زندگی پانی سے ہے، زمین سے باہر سب سے زیادہ تلاش پانی کی ہو رہی ہے۔ مدعا یہ بھی نہیں کہ وادیِ پھنڈر میں بہنے والی ندی میرے خوابوں کی جنت ہے اور اس ندی پہ ایسے ہی پائوں لٹکائے گھنٹوں بیٹھ کر لکھنا میری زندگی کے حسین ترین لمحوں میں سے ایک ہو گا۔

یہ بھی بتانا مقصود نہیں کہ پچھلے بیس سالوں میں پنجاب میں پانی کی زیر زمین سطح سو فٹ نیچے گر گئی ہے اور دوسری طرف سے ہمارے اندرونی خلفشار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت نے ہمارے دریا تقریباً خشک کر دیے ہیں۔ یہ بھی میں نہیں بولنا چاہتا تھا کہ بارشوں کا تناسب جس طرح گر رہا ہے اور پہاڑوں پہ برف جس طرح پگھل رہی ہے، درجہ حرارت میں اضافہ اور درختوں کے مسلسل کٹائو نے حیات پہ ضابطہ تنگ کرنا شروع کر دیا ہوا ہے۔

بات صرف اور صرف اتنی سی ہے کہ پانی میں زہر گھولنا اپنی زندگی میں زہر گھولنا ہے۔ اس کو جتنا شفاف رکھیں گے اتنی ہی ہماری زندگی شفاف ہو گی۔

ہمارے اردگرد ایک پائی جانے والی غلط عادتوں میں سے ایک اور شاید سب سے نقصان دہ عادت یہ بھی ہے کہ ہم جتنا بھی کوڑا کرکٹ ، گھروں اور کارخانوں کا فضلہ الغرض سب کچھ ہی پانی میں بہا دیتے ہیں۔ چاہے ہم سیر پہ گئے ہوں یا گھروں میں ہو، ہم یہی کچھ کرتے ہیں۔ بس بہا دیتے ہیں چاہے جس قدر گندگی بھی ہو۔

خضدار میں شہر کی بیچوں بیچ ایک دریا بہتا تھا۔ جو لوگ بلوچستان سے ہیں یا خضدار دیکھا ہوا ہے، وہ میری بات کی تائید کریں گے۔ اس دریا کی وجہ سے وادی کی ایک شان تھی۔ سبزہ ہی سبزہ۔ پنجاب سے زیادہ اچھی سبزیاں اس وادی میں ہوتی تھیں۔ بنجر خشک پہاڑوں کے بیچ یہ وادی جنت نظیر تھی۔ پھر ہم نے دریا میں گند ڈالنا شروع کر دیا۔ دریا رکتا رکتا نالے میں تبدیل ہوا، پانی کھڑا ہونا شروع ہو گیا، قبضہ گروپ نے واٹرپمپ ڈال دیے، اور نالہ برساتی نالہ بنا، مچھلی اور پودے ختم ہوئے اور آج خضدار ایک بار پھر ویران سا ہو رہا ہے۔ یہ برساتی نلہ خشک ہو چکا اور ساری آبادی ایک بار پھر پانی پانی پکار رہی ہے۔

مجھے خضدار میں دوسال گزارنے کے دوران صرف ایک یہی حسرت رہی کہ کاش میں دریا کے جوبن میں اس حسین وادی کا حصہ بن سکتا۔

یقین کریں ہم میں سے جتنے لوگ شمالی علاقہ جات سیر کیلئے جاتے ہیں، ان کی پسند کو اگر گراف پہ ظاہر کیا جائے تو آدھا گراف پانی اور ندی نالوں کی پسند کو ظاہر کرے گا۔ باقی آدھی پسند میں پہاڑ، سبزہ اور جنگلی حیات شامل ہو گی۔ یقین کریں جس قدر تیزی ہے ہم پانی میں زہر گھول رہے ہیں، پچیس سال بعد شمالی علاقہ جات کا حسن بھی مانند پڑنا شروع ہو جائے گا۔

کم ازکم میں نہیں چاہتا کہ میری بیٹی بھی مجھ سے وہی سوال کرے جو میں نے اپنے والد صاحب سے کیا کہ آپ ہمارے حصے کی فطرت کا حسن خود کیوں استعمال کر گئے؟

یہی استدعا ہے کہ جو بھی جیسے بھی پانی استعمال کرے، کم از کم ایک بار اور استعمال جتنا چھوڑے۔ تاکہ پانی نسل در نسل چل سکے اور ہم اس دنیا کو دوزخ بننے سے روک لیں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

قدیر گیلانی اور فطرت کی نگہبانی

یہ پوسٹ اپنے اندر ایک خراجِ تحسین بھی ہے اور ایک طمانچہ بھی۔ خراجِ تحسین ان تمام کیلئے جو ابھی بھی کچھ پرانے دور کے رکھ رکھائو اور روایات کے ساتھ جڑے ہیں اور اس کی بجا آوری میں کبھی کسی مشکل کو خاطر میں نہیں لاتے۔ طمانچہ ان کیلئے جو ابھی بھی کسی اہم کام کیلئے وقت اور وسائل کا انتظار کرتے ہیں۔

قدیر گیلانی جن کے آباء و اجداد کا تعلق کشمیر سے ہے اور ابھی لاہور میں رہتے ہیں۔ ان کے بڑوں کا مدفن کشمیر ہے۔ اپنی والدہ صاحبہ جو کہ شاید ابھی ساٹھ کے پیٹے میں ہوں گی، کی ایک خواہش کو پورا کرنے کیلئے انہوں نے عزم و ہمت کو ایک نئے حوصلے سے روشناس کراتے ہوئے خدمت کی ایک ایسی مثال قائم کی ہے کہ انسانیت اور بالخصوص پاکستانیت کو رشک ہے۔

خواہش کیا تھی؟ بس اپنے پُرکھوں کی قبروں پہ فاتحہ خوانی۔

بیٹے کے پاس ایک موٹر سائیکل تھی۔ لیکن عزم و ہمت سے مالامال تھا۔ ماں کی منت سماجت کی، بات منوالی اور ماں بیٹا کشمیر کیلئے نکل پڑے۔ راستے کی طوالت، عمر، تھکن، موسم، الغرض تمام فصیلیں عبور کرتے ہوئے وہ کشمیر سے ہو آئے۔ سیر بھی ہو گئی اور خواہش بھی پوری ہو گئی۔

بات یہاں نہیں رکتی۔

خدمت کا یہ انداز فطرت کو ایسا پسند آیا ہے کہ ان دونوں کو آغوش لے لیا ہے۔ یقین کیجیے یہ سب سمجھنا مادی حدود سے کچھ آگے کی بات ہے۔ جس وقت میں یہ کچھ لکھ رہا ہوں، وہ میری جنت “چترال” کے آس پاس فطرت کی ہمسفری میں ہیں۔ وہی ایک موٹرسائیکل، ایک ماں اور ایک بیٹا۔ باقی ہر سمت میں فطرت ۔

مجھے سمجھ نہیں آتی اس کو خدمت کہوں، عزم و ہمت کہوں، مہم جوئی کہوں، فطرت سے پیار کہوں یا پتا نہیں کیا کیا کہوں۔ مگر سچ یہی ہے کہ درج بالا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی یہ احساس اس تمام سے بہت بالا ہے۔ یقین کیجیے یہ سب کچھ افسانوی نہیں، حقیقت ہے۔ ایسی حقیقت جس کا احساس اس قدر پاک اور بے باک ہے کہ انسان اپنے آپ کو بہت دیر اس کے حصار میں محسوس کرتا ہے۔

میں اور میری بیوی اسلام آباد سے گوادر تک اپنی گاڑی میں مزے سے گھومے پھرے ہیں۔ مجھے پہاڑوں میں ڈرائیور کرنے سے ڈر لگتا ہے ورنہ شاید خنجراب تک جا پاتے۔ لیکن انشاءاللہ اب جائیں گے۔ مگر قدیر گیلانی کو میں اس وجہ سے بھی سلام پیش کرنا چاہتا ہوں کہ اس نے اپنے احساس اور پسند نا پسند سے بڑھ کر یہ کام کیا ہے۔ سلام ہے اس ماں کو جو بیٹے کی اس معصوم کوشش کو مان بخش رہی ہے۔

اور میں یہ سب کیوں لکھ رہا ہوں؟

کیونکہ یہ سب میں بھی کرنا چاہتا تھا لیکن نہیں کر پایا۔ کسی اور کو کرتا دیکھ کر اس قدر رشک آیا ہے کہ داد دیے بنا رہ نہیں پایا۔ ان تمام نامکمل حسرتوں کا ایک اظہار قدیر گیلانی نے مجھے عطا کیا ہے ۔ میں ان ماں بیٹا کا احسان مند ہوں۔

آئیے! اپنے خوابوں کو تعبیر دیں۔ وہ تعبیر جس میں ہمارے بڑوں کے خواب پنہاں ہوں۔ یقین کیجیے یہ بھی ایک قسم کی جنت ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

یومِ مزدور

آج یکم مئی کو “یومِ مزدور” کے سلسلے میں پاکستان بھر چھٹی منا رہا ہے۔ کیسا حسن اتفاق ہے کہ جن کیلئے دنیا چھٹی منا رہی ہے، وہ آج بھی جہاں ہیں اور جیسے ہیں کی بنیاد پہ اپنا کام مکمل تندہی سے سرانجام دے رہے ہوں گے۔ یہ کائنات بہت سارے ایسے اتفاقات کا مجموعہ ہے۔

حیران ضرور ہوں گے کہ ہر تخلیق بھی تخیل کا اتفاق ہوتی ہے۔ جو یزداں سے ایسے ہی اتاری جاتی ہے۔

بات کہیں اور نکل گئی، میں مزدوروں کیلئے کچھ لکھنے بیٹھا تھا۔ کیونکہ صاحب لوگوں میں بندہ ایسے دنوں پہ کچھ بول یا لکھ کر زرا معتبر ہو جاتا ہے۔ ورنہ باقی ایسے کاموں سے کوئی خاص فرق نا پڑے۔

بہت کچھ سوشل، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پہ مزدوروں کے بارے کہا جا رہا ہے۔ ان کی قسمت بدلنے کے بلند بانگ دعووں سے لیکر ان کے کام اور ہنر کی تعمیر و ترقی کے خوابوں تک، سب کچھ آج بک رہا ہے۔ لیکن میرا ذاتی طور پہ ماننا ہے کہ ایک ایک سوال جو سب کی بنیاد اور سب سے زیادہ اہم ہے، اس طرف کسی کی توجہ ہی نہیں جا رہی اور نا ہی اس اہم پہلو پہ کسی نے کبھی توجہ دینے کی کوشش کی ہے۔

شاید ہم تمام لوگ بنیادی طور پہ جتنے باہر سے بڑے لگتے ہیں، حویلیوں ، پروٹوکولز اور ورک سپیسز کے توسط سے اندر سے اتنے ہی چھوٹے ہو چکے ہوتے ہیں۔ ہمیں انفرادی شخصی آزادی کے تصور کی بھی اشد ضرورت ہے۔

خیر بات اُس ایک مگر سب سے اہم سوال کی ہو رہی تھی۔

سوال یہ ہے کہ مزدور مزدوری کیوں کرتا ہے؟

بشمول میرے سب کا جواب ہو گا کہ پیٹ پالنے کیلئے۔ لیکن یہ جواب غلط ہے۔ میں نے بہت دفعہ بھیس بدل کر مزدوروں کے انٹرویوز کیے ہیں اور میں اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ جس قدر مزدوری ایک مزدور کرتا ہے، اس سے آدھی سے بھی کم مزدوری میں پیٹ پالا جا سکتا ہے۔ انسان بنیادی طور پہ انتہائی سہل پسند تخلیق ہے۔

تو پھر یہ آدھے سے بھی زیادہ مزدوری کیوں؟

جہاں تک میری عقل، تجربات اور سوچ کا تعلق ہے، میں سمجھتا ہوں کہ مزدور آدھے سے کم کام پیٹ پالنے اور باقی آدھے سے زیادہ کام عزت کیلئے کرتا ہے۔ عزتِ نفس، معاشرے میں عزت اور سب سے بڑھ کر اپنے اوپر انحصار کرنے والوں کی معاشرے میں عزت۔ ان میں مزدور کے ماں باپ، بہن بھائی، بیوی بچے شامل ہیں۔ یہ لوگ معاشرے میں سب سے نچلا طبقہ ہونے کی وجہ سے عزت کے معاملے میں انتہائی حساس ہوتے ہیں۔

قحط الرجال ہے کہ جتنے میں ان کی عزت بننی ہوتی ہے، اتنے پیسے تو ہم چائے میں اڑا دیتے ہیں۔ لیکن ان کی عزت کا پلن ہم سے نہیں ہو پاتا۔ اسلام آباد میں چائے خانہ کی ایک کپ چائے کی قیمت مزدور کی روزانہ کی عزت کی قیمت سے زیادہ ہے۔

باقی تو باقی رہ گیا، آپ کبھی ایک دفعہ مزدوروں کے ساتھ کھانا کھا لیں، یہ اس بات کو بھی عمر بھر ایک رشک اور تحسین کے احساس کے ساتھ یاد کیا کرتے ہیں۔ ہمارے تھوڑے سے وقت، لفظ اور اہتمام سے شاید ہمیں تو اتنا فرق نا پڑے مگر ان مزدوروں کو اس قدر فرق پڑجاتا ہے کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔

مجھے یاد ہے ہمارے گھر میں کام کیلئے ایک لڑکا آیا۔ نیا نیا تھا تو میری بیوی اسے کہنے لگی کہ فرض کرو آپ کا کام چوری اور بے ایمانی کا دل کرے، کتنی کر لو گے؟ یہی ایک دو ہزار؟ وہ لڑکا حیرانگی سے دیکھ رہا تھا کہ یہ کیسا سوال ہے۔ میری بیوی نے پرس سے ہزار روپیہ نکالا اور اُسے دے دیا اور ساتھ کہا کہ آپ ہمارے گھر میں کام کرتے ہیں اس لیے ہماری عزت ہیں آپ۔ آپ کا جب بھی ایسا دل کرے، مجھ سے ڈائریکٹ پیسے مانگ لینا مگر اپنی اور ہماری عزت کا پالن ضرور کرنا۔

وہ دن اور آج کا دن، ابھی تک اللہ پاک کے فضل و کرم سے ابھی تک ایسی کوئی نوبت نہیں آئی۔

تو آج کے دن اگر آپ کسی ایک مزدور کو عزت دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یقین کیجیے آپ عظیم انسان ہیں۔ انسان کو سب کچھ اللہ پاک کی ذات ہی عطا کرتی ہے، مگر کب اور کیسے کا فیصلہ ایسے ہی چھوٹے چھوٹے اہتمام سے ہوتا ہے۔ جب ایک انسان کو عزت دی جاتی ہے تو اللہ پاک کی ذات عزت کرنے اور کروانے والے، دونوں پہ رشک کرتی ہے۔

انسان کیلئے اس سے بڑا فخر کا مقام شاید کوئی نا ہو کہ اللہ پاک کی ذات اس پہ رشک کرے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔