مقبرے سے مزار تک

کچھ دن پہلے کسی مجبوری کے سلسلے میں ملتان قلعہ پہ جانا پڑا۔ لمحاتی پناہ کی خاطر ہم شاہ رکن عالم اور بہائوالدین زکریا رح کے مزار پہ چلے گئے۔

ایک بات بتاتا چلوں کہ یہ مزار مقبرے کا تصور مذہبی نہیں، معاشرتی ہے۔ ہمارے ہاں مذہب کے نام پہ مقبرے بنائے بھی جاتے ہیں اور گرائے بھی جاتے ہیں۔ جبکہ حقیقت میں یہ تصور ایسا ہے کہ معاشرے کے کسی بھی پہلو سے بڑے آدمی کا مرنے کے بعد مقبرہ تعمیر کردیا جاتا تھا۔

اولیاءاللہ کیلئے اور بادشاہوں اور دوسرے بڑے مسلمانوں کیلئے مقبروں کا تصور یہیں سے لیا گیا اور پھر یہ سلسلہ اب تک جاری و ساری ہے۔

یہ اور بات ہے جہانگیر کے مقبرے پہ چمگادڑوں کا بسیرا ہے جبکہ کسی کسی مقبرے پہ دن رات کا ہر ہر لمحہ تلاوت، نوافل اور وظائف کا سلسلہ جاری و ساری ہے، نہ جانے کب سے جاری ہے اور کب تک جاری رہے گا۔

یہ بات تو قلعہ کہنہ قاسم باغ کے پرشکوہ مزارات کو دیکھ کے یاد آ گئی۔ کہنا میں یہ چاہتا تھا کہ کسی بھی ولی اللہ کے پاس جس قدر شعوری بے سروسامانی کے عالم میں جا سکتے ہیں، جائیں۔ کیونکہ آپ کا برتن جس قدر خالی ہو گا، دینے والا اسی قدر جھولی بھر دے گا۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

ساز سے حدی خوانی تک

میں کچھ دن پہلے کسی سے بات کر رہا تھا کہ سرائیکی ادب پہ معاشرے کا ایک احسان یہ بھی جس نے اسے جاودانی عطا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے کہ اس میں عورت بہت دیر بعد آئی ہے۔ یہاں عورت سے مراد عورت فنکار نہیں۔ شاعرہ یا مغنیہ بھی نہیں۔

سسی کا استعارہ بھی عورت نہیں۔ گھنگھرو پہن کر فریادی بنی عورت بھی میری مراد نہیں۔ یہاں عورت سے مراد ممتاز ممفتی والی عورت ہے جو خاموش رہ کر بھی بولتی ہے۔ بڑی نازک سی بات ہے مگر سرائیکی کا اعجاز ہے۔

یقین کیجیے اگر انسانوں کو آج سمجھ آ جائے کہ ساز خوانی اور حدی خوانی میں کیا فرق ہے تو شاید انسان صدیوں کا سفر لمحوں میں کاٹنے لگ جائے۔ ہر کوئی اس کی تاب نہیں لا سکتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہ سب صاحبِ احساس تک محدود کر دیا گیا ہے۔ یہ ایک الگ دنیا ہے۔

خیر بات میں یہ کرنا چاہ رہا تھا کہ دریافت جو پہلے لمحے میں ہو جاتی، باقی ساری عمر تو اس کو ثابت کرنے میں لگ جاتی ہے۔ یہ سب کیسے ہو جاتا ہے؟ کیسے انسانوں پہ فطرت کے راز اترتے ہیں؟ وہ تمام راز جن کو فطرت کے اصول بھی کہا جاتا ہے، یہ سب کیسے انسانوں پہ آشکار ہو جاتے ہیں؟ اور انسان اپنی تمام عمر کسی ایک راز کے نام وقف کر دیتا ہے؟

تو یہ سب فرق اسی ساز اور حدی خوانی سے پڑتا ہے۔

حدی خوانی تب شروع ہوتی ہے جب ساز آپ کے اندر بجتا ہے۔ جب آپ تمام مادی اور جسمانی حدود سے آگے بڑھ کر احساس کا استقبال کرتے ہیں۔ جب انسان کا ہر ہر خلیہ اس لئے کو پکڑتا ہے اور پھر اگر حدی خوانی پہ سانسوں کے فیصلے ہوتے چلے جاتے ہیں۔

اور غمِ حسین رض کے بعد یہ دوسرا بڑا اعجاز ہے جو سرائیکی کے پاس ہے کہ یہ زبان انسانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں میں نہیں کھوئی۔ ایک آفاقی خیال جو کہ مٹی سے جڑے احساس سے پرورش پاتا ہے۔ یہاں لفظ سرائیکی کو کسی بھی آفاقی زبان سے تشبہہ دی جا سکتی ہے۔ اصل بات خیال کی پرواز کی ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

ہیر سیال سے شکوے

اگر کسی کو ہیر رانجھا داستان سے کچھ شغف رہا ہو تو اسے رنگپور کے لفظ سے ضرور واقفیت ہو گی۔ یہ دریائے چناب کے کنارے بڑا رومانوی سا قصبہ ہے جس کے ایک طرف دریا اور دوسری طرف صحرا ہے۔ ایک طرف جھنگ اور دوسری طرف ڈیرہ غازی خان کے بلوچوں کی ثقافت کا ایک حسین سنگم بھی ہے۔ یہاں اکثر داستانیں جنم لیتی رہتی ہیں۔

جھنگ کی تہذیب عورت سے عبارت ہے جبکہ ڈیرہ وال بلوچ مرد سے عبارت ہے۔ اگرچہ دونوں فریقوں کا حصہ رہا ہے مگر ادب میں نام جھنگ کی مٹیار نے رانجھا چرا کر اور بلوچ نے سسی کو چھوڑ کر کمایا ہے۔ رنگپور کا باسی ہونے کے واسطے مجھے انسانی نفسیات کے ان دونوں پہلوئوں کو بڑا قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔

میری بات کو مذہب کے پیمانے میں نا تولا جائے کیونکہ مذہب کی حد بندیوں میں شاید اس کی گنجائش نا نکل سکے۔

خیر بات یہ ہے کہ حوا کی بیٹی ہو یا آدم کا بیٹا، فرق صرف اور صرف اس چیز سے پڑتا ہے کہ بھوک کس کو لگی ہے۔ یہ بھوک جسمانی بھی ہو سکتی ہے، جذباتی بھی اور جنسی بھی۔ اور اس بھوک کو مٹانے کیلئے ہر مذہب اور معاشرے نے قوانین بھی وضع کیے ہیں۔ ہم اکثر ان قوانین سے انحراف کرتے ہیں، عمل بھی کرتے ہیں۔ لیکن اگر معاشرتی پیمانوں کو دیکھا جائے تو اس بھوک کے اثرات بڑھ رہے ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے “کھانا خود گرم کر لو” والا ٹیگ بہت مشہور ہوا۔ اور اس کی ایسی ایسی توجیہات پیش ہوئیں کہ عقل تو کیا، نفسیات بھی دنگ رہ گئی۔ بات سادہ سی تھی کہ عورت کی بھوک من حیث القوم نہیں مٹ رہی۔ اس لیے وہ اب خود اس راہ پہ چلنا چاہتی ہے۔ کسی نے اتنا سوچنے کی زحمت نہیں کی کہ اس کا ذمہ دار مرد ہے۔

بات عورت کی آزادی کی نہیں، بیرونی ایجنڈے کے آلہِ کار بننے کی بھی نہیں، عورت کو سیکس سمبل کے طور پہ پیش کر کے اس پہ خونخوار جانوروں کی طرح جھپٹنے کی بھی نہیں، بات تو صرف اتنی ہے کہ کوئی بھی تب تک گھر سے باہر نہیں نکلتا جب تک اسے ضرورت نا پڑے۔ اور بھوک انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

مرد عورت کی وقت پہ شادی کے فرض میں ناکام رہا ہے، اسے معاشرے میں مقام دینے میں ناکام رہا ہے، اسے تعلیم و ترقی کے میدان میں جگہ دینے میں تنگ نظر رہا ہے۔ ہم لوگ چاہے مانیں یا نا مانیں، ہم ابھی تک اسی جاگیردارانہ سوچ اور مغرب سے مستعارہ شدہ احساسِ کمتری کے سنگم پہ کھڑے ہیں۔

ورنہ عورت تو بس “وفا” کے لفظ سے عبارت ہے۔

یہ اور بات ہے کہ عورت کچے ذہن کی کم ذوقی سے مرعوب نظر آتی ہے۔ لیکن کھانا خود گرم کرنے سے اتنا فرق پڑنا نہیں جتنا عورت چاہتی ہے۔ ہر کسی سے اس کی حدود کے بارے میں سوال ہو گا۔ اور عورت اپنی حدود کی پابند ہے اور مرد اپنی حدود کا پابند ہے۔

بس ہمیں سوچنا یہ ہے کہ کیا ہم اپنے زیرِ کفالت کی ہمہ قسمی بھوک کا مناسب انتظام کر رہے ہیں یا نہیں۔ ورنہ بھوک میں حرام حلال کی تمیز جاتی رہتی ہے اور انسان کے پاس کف افسوس ملنے کے علاوہ کچھ نہیں بچتا۔

ہاں یہ اور بات ہے کہ تمام رومانوی لوک داستانیں کسی نا کسی بھوک کا مقدس اظہار ہیں اور ہمیں جھنگ کی ہیر کو بھی زندہ رکھنا ہے اور بلوچ وال کو بھی تاکہ معاشرے کا حسن بھی ایک توازن میں رہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔