ادیب سے شہاب تک

میں بہت وقت سے ایک سوال دل میں دبائے بیٹھا تھا لیکن زبان پر نہیں لانا چاہ رہا تھا۔ زبان پہ تو بس یہی تھا کہ اگر یہاں اللہ کے واسطے آئے ہو تو پھر اللہ کی بات کے علاوہ کوئی بھی بات آپ کے مقام پہ بلاواسطہ شرک کے زمرے میں آئے گی۔ خیر اتنی بڑی سرکار میں اتنا چھوٹا سوال بھی نظرانداز ہوجانا ناممکن تھا۔

سو وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا۔

پہلے کی بات ہے کہ ایک بار ہم چند دوست آپس میں جائز اور ناجائز کے موضوع پہ بات کر رہے تھے۔ میرے ایک دوست فرمانے لگے کہ جائز اور ناجائز کو اگر شریعت سے ہٹ کر دیکھا جائے تو بہت وسعت والی بات ہے۔ معاشرے میں جائز اور ناجائز کے پیمانے وہاں پہ موجود سماجی دبائو کے مطابق طے ہوتے ہیں۔ جیسے منٹو کو اگر ایک مسلمان سے ہٹ کر دیکھا جائے تو وہ تب تک عورت کے پیچ و خم میں الجھے تاروں کی شناخت کر ہی نہیں سکتا جب تک وہ دو چار جام اپنے اندر انڈیل نا لے۔

جب شرع کی بات آئے گی تو جائز اور ناجائز کے پیمانے شرع کے لحاظ سے قائم ہو جائیں گے۔ تب ہر انسان پہ حد لاگو ہو گی۔ مجھے بھی لکھنے کا شوق تھا تو میں یہ توجیح سن کے کانپ سا گیا۔ اُس دن سے اب تک یہ خواہش میں نے پرانے کپڑوں کی طرح تہہ کر کے کسی خاموش کونے میں سینت کر رکھ دی تھی۔ پر یہ کبھی کبھی اپنا آپ باور ضرور کراتی تھی۔

آج پھر میں جب سے فاتحہ خوانی کر کے فارغ ہوا تھا، تب سے مسلسل یہ خواہش سر اٹھا رپی تھی۔

پھر اچانک شعور میں ایک خلا سا محسوس ہوا اور اس خلا کی تختی پہ کچھ لفظ خودبخود کنندہ ہونے شروع ہو گئے۔

ایسے لکھا گیا کہ ہر تخلیق کار کسی نا کسی کیفیت کا محتاج ہوتا ہے۔ اس کیفیت کیلئے اُس کو کچھ مخصوص محرکات کی ضرورت ہوتی ہے۔ تمام حدود ان محرکات اور ان کی وجہ سے تخلیق ہانے والے فن پاروں پہ لاگو ہوتی ہیں۔ اگرچہ حد لاگو ہونی نہیں چاہیے مگر یہ سماجی ضرورت ہے۔ یہاں پہ تمام تخلیق کار اپنا اپنا فن جھاڑتے اور یہیں تک ختم ہو جاتے ہیں۔

ان سے آگے بھی ایک مرحلہ ہے جہاں تک صرف وہی پہنچتے ہیں جن کو اللہ کے فضل سے ضبط عطا ہوتا ہے۔ یہ ضبط ان کو ان تمام محرکات سے آزاد کر دیتا ہے۔ وہ ان تمام محرکات سے اپنی ضرورت کا احساس لے کر پھر ان سے آزاد ہو جاتے ہیں تب جا کر وہ اپنی تخلیق کو ایک شکل دیتے ہیں۔ ایک تو ان کی یہ تخلیق جاوداں سی ہوتی ہے اور دوسرا وہ اپنی تخلیق پہ ہمہ وقت قادر ہوتے ہیں۔ ان کا لکھا ہوا ادب تمام ادب سے ایک درجہ اوپر اور ممتاز ہوتا ہے۔ جیسے قدرت اللہ شہاب کا ادب دیکھ لو۔ جتنا لکھا، سب سے ممتاز اور ادب کے تمام پیمانوں کو پورا کرتے ہوئے بھی ان سب سے ممتاز ہے ۔اگر تم نے ادب تخلیق کرنا ہے تو اللہ سے ضبط مانگو اور ساتھ یہ بھی کہ کسی ایسے ادیب سے اللہ آشنائی بھی عطا کرے۔

تب سے اب تک مجھے لکھنے کا شوق نہیں رہا۔ اب یہی تلاش ہے جو لکھواتی ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

نوٹ: یہ ایک فرضی کہانی ہے۔

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

اخلاقیات کا ماتم

کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ مجھے فوڈ پوائزننگ ہو گئی۔ ساری رات کرب میں گزارنے کے بعد صبح صادق کے وقت اللہ پاک کے فضل سے وومٹ ہوئی اور سارا زہریلہ مادہ جسم سے باہر نکل گیا۔ اس کے بعد سکون سے کچھ دیر نیند آئی اور پھر ہسپتال سے دوائی لایا اور الحمد للہ صحت بالکل ٹھیک ہو گئی۔

وقت تھا، گزر گیا۔ لیکن میں اُس کے گزرنے کے بعد دو تین دن یہی سوچتا رہا کہ کیسے ہمارے جسم میں خودکار نظام کو پتا چلا کہ زہریلا مادہ آ گیا ہے جسے معدے میں جانے سے روکنا ہے۔ اور پھر کیسے اینٹی پیراسٹالسز کے ذریعے اس کو جسم سے باہر نکال دینا ہے۔

بات یہیں تک ہوتی تو بھی سوچوں کا سلسلہ رُک جاتا۔ مگر بات بہت آگے گئی۔ ہوا یوں کہ مجھے یاد آیا ایک جگہ پڑھا ہوا کہ انسان کائنات کا پرتو ہے۔ سارے نظارے اور ذائقے اور ان سے جڑے تمام احساسات تو انسان کے اپنے اندر ہیں۔ بیرونی دنیا تو مادہ ہے بس جو وزن رکھتی اور جگہ گھیرتی ہے۔

تو میں اس نکتے پہ پہنچا کہ یقیناً ہماری ذات کے اندر بھی یہی اینٹی پیراسٹالسز کا عمل ہوتا ہو گا جس سے تمام زہریلی چیزیں ہمارے سامنے ابل پڑتی ہوں گی اور پھر ان کو ہماری ذات سے بے دخل کرنے کا نظام بھی ہو گا۔ روحانی بھل صفائی کا خودکار نظام بھی ضمیر کی زیرِ کمان کام کرتا ہو گا جس سے تمام تر ناہمواریاں ہمارے سامنے آکر ہماری قوتِ فیصلہ کو چیلنج کرتی ہوں گی۔

پھر یہی نظام شخص سے بڑھ کر معاشرے پر بھی اپلائی ہوتا ہو گا۔ اس بات کو ثابت کرنے کیلئے میرے پاس دلیل تو کوئی نہیں البتہ آبزرویشن ہے کہ مثال کے طور پہ جیسے آج کل سیاست اپنی اخلاقی قدروں کو ہمارے سامنے کھول رہی ہے، زہریلہ مادہ فرد کے سامنے آ رہا ہے۔ عام آدمی اپنے مستقبل کے فیصلے کیلئے اب ان تمام چیزوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ ماننا نہ ماننا اور بات ہے لیکن یہ سب کچھ اگلنا اور عام آدمی کی سطح تک اس شعور کا پہنچنا بھی فطرت کی خودکار شعوری بھل صفائی کا ایک حصہ ہے۔

اب اس سے اگلہ مرحلہ صفائی اور پھر سکون کا ہو گا۔ اخلاقی صفائی بہت ضروری ہے۔ ہر انسان اپنی انفرادی حدود میں اس بات کا پابند ہے کہ وہ اپنی اخلاقیات کی بھل صفائی کا عمل مسلسل اور جاری رکھے۔ اگر ایسا نہیں کر سکتا تو نا تو عبادات کا کوئی فائدہ ہے اور نا ہی معاشرے میں پندونصائح کے دفتر لگانے کا۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

نوٹ: میری کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی وابستگی نہیں۔ اوپر بات سمجھانے کو سیاست کی مثال دی ہے کہ کیسے اخلاقیات کھل کر سامنے آ رہی ہے۔ تمام لوگوں سے گزارش ہے کہ اخلاقیات کی تربیت کا اہتمام کریں اور کم از کم اپنے انسان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے جانوروں پہ رحم کھائیں، پودوں کو نقصان نا پہنچائیں اور سیاسی وابستگی کے پیشِ نظر اپنے نجی تعلقات خراب مت کریں۔ رائے کا فرق ہر کسی میں ہوتا ہے۔ یہ انسان کے شعوری ارتقاء کی دلیل ہے۔

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

تیرے قدموں کے نشاں

وہ قبر ایسی جگہ پہ ہے جہاں سے ایک طرف سورج عصر میں داخل ہوتے ہی ریگستان کی اوٹ لینا شروع کر دیتا ہے اور دوسری طرف دربار شاہ سلطان رح نئے سرے سے روشن ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ماضی بعید سے لے کر چھ سال پہلے تک ہم اکثر قبرستان جاتے ، اِسی جگہ بیٹھ جاتے اور ایک طرف سے غروبِ آفتاب کی تصاویر اتارنا شروع کر دیتے اور دوسری طرف دربار کی۔ اُس وقت ہمیں موت و حیات کا اتنا ادراک نہیں تھا ۔ ہمیں بس تھل کے صحرا اور اُس کی آغوش میں واقع اس قبرستان کی خاموشی اور اس سارے منظر میں گرتے ہوئے سورج سے عشق تھا۔

یہ وہ باتیں ہیں جو میرے اور اُس کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا تھا۔ گھر والے، رشتہ دار ، دوست احباب اور باقی وسیب دار ہمیں شکوک کی حد کے القابات تک کہتے تھے لیکن ہمارا عشق بس ساز، اور درج بالا منظر تھے۔ اسی ٹیلے پہ بیٹھ کر ہمیں ایک شب رات کو ساری رات ڈھول پہ کافی بھی گائی تھی۔ یہ تمام احساسات ابھی تک اس ریت پہ زندہ ہیں۔

پھر یوں ہوا کہ عین اُسی جگہ اُس کی قبر بنی۔ وہ حادثہ شاید نفسِ مضمون پہ اداسی بکھیر دے، اس لیے حذف کر رہا ہوں۔

اب میں عین اُسی جگہ اُس کی قبر کے سر کی جانب بیٹھا ہوا اِسی احساس کے مارفیا تلے اپنی بہن کو بتا رہا تھا کہ موت بھی ایک حسین حادثہ ہے۔ اور اس حسن کی سب سے زیادہ تزئین اور سب سے زیادہ احساس پاکستان میں ہے۔ مر تو سب نے جانا ہے مگر میری دلی خواہش ہے کہ موت پاکستان میں آئے۔ اور اسی مٹی میں دفن ہوں۔

شاید آپ نے کبھی اس بات پہ غور کیا بھی ہو ، کس قدر خوب صورت منظر ہوتا ہے جب ہمارے وصال کی خوشی میں جو جو بھی خبر سنتا ہے، اُس کے اندر کی تڑپ اور روح کی اپنے منبع سے دوری کی اداسی عود کر آتی ہے، ہر آنکھ بے اختیار اشکبار ہوتی جاتی ہے اور صاحبِ وصل کی جانب دوڑے چلے آتے ہیں، نہلایا دھلایا اور دولہا بنایا جاتا ہے، دو رکعت نماز اور مغفرت کی دعا کے بعد اپنے کاندھوں پہ رکھ کر قبرستان لایا جاتا ہے، ہر بندہ چارپائی کو کاندھا دینے کو بیتاب ہوتا ہے۔ دفن کرکے قبر پہ کچھ دیر بیٹھنے کا حکم ہے تاکہ وصل کا کچھ احساس ہم پہ بھی اترے اور صاحبِ وصل بھی میلے سے اکیلا تک کا سفر آسانی سے طے کر لے۔

یقین کریں میں نے خود دیکھا ہے کہ میت کو ہار پہنائے جاتے ہیں، کلاہ لگائے جاتے ہیں، بالکل دولہا بنا کر قبر میں اتارتے ہیں۔ ہر چیز مذہبی نہیں ہوتی، کچھ چیزوں کا تعلق ہمارے اندر کے احساس، ثقافت اور نظریات سے بھی ہوتا ہے۔ مجھے نہیں پتا کہ مذہب کی رو سے یہ غلط ہے یا صحیح ہے، پر ایسا ہوتا ہے۔ اور مجھے ذاتی طور پہ موت کے یہ منظر بہت حسین لگتے ہیں۔ کیا پتا خالقِ کائنات بھی اپنے بندوں کے اس قدر حسین دنیاوی اختتام پہ مسرور ہوتا ہو۔ وہ تو خدا ہے، ادا پرست ہے۔ اُسکا محبوب بشر ہونے پہ مسرور ہے۔ تو خدا کو بشر سے کس قدر پیار ہو گا۔

عین اُسی جگہ اب اُس کا بیٹا موبائل کو بلکل اُسی انداز میں پکڑے دربار اور غروبِ آفتاب کی منظر کشی کر رہا تھا، میں اس سب منظر کا حصہ بنا بیٹھا تھا اور وہ عین اسی جگہ آسودہِ خاک تھا۔ شاید ہم تینوں چاروں ایک ہی احساس تلے مبہوت تھے۔ موت اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ دلہن بنی ہمارے سامنے رقص کناں تھی۔ شاید حسنِ ازل ابھی تک جاری ہے اور ابد اسی دلہن کے پردہ اٹھانے کا نام ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

طوافِ کوئے ملامت

یہ ایک فرضی کہانی ہے جس کا حقیقت سے افسانوی سا تعلق ہو سکتا ہے۔ لیکن روایتوں میں بڑی حسین سی لگتی ہے۔

کہتے ہیں کہ میں جب بھی وہاں جاتا، اس جگہ سے ضرور گزرتا مگر پہلی ایسا ہوا کہ اس شخص نے مجھے آواز دی۔ بہت بڑے دفتر کا بہت بڑا افسر تھا، میں دبے پائوں اندر داخل ہو گیا تو مجھے بیٹھتے ہی وہ گویا ہوا “تم یہاں کیا لینے آتے ہو؟”۔

سچی بات تو یہ تھی کہ میں جب بھی مایوس ہوتا، ان افسرانِ بالا کی طرف چکر مارتا تھا تاکہ میری یہ خواہش جواں رہے کہ مجھے یہاں تک پہنچنا ہے۔ اس طرح میرے جسم و جاں اس نیم مردہ خواہش کے دوبارہ زندہ ہو جانے کی خوشی میں سانسوں کی کاٹھی کچھ دیر اور اٹھانے کے قابل ہو جاتے اور میں واپس آکر اپنے دفتر میں دوبارہ کام میں جُت جایا کرتا تھا۔

میں نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا کہ ادھر ٹی بار سے کچھ کھانے آتا ہوں۔ دفتر دور ہے اس لیے ویٹر وہاں کم ہی چکر لگاتے ہیں۔

میری بات کو ٹوکتے ہوئے گویا ہوئے کہ بھائی دو باتیں ہمیشہ یاد رکھو۔ آپ کا سوال آپ کے چہرے پہ ہمیشہ لکھا ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیشہ سچ بولو۔ ورنہ سمجھنے والا چہرہ پڑھ کر آگے بڑھ جائے گا۔

دوسری بات یہ کہ ہر خواہش کے تین درجے ہوتے ہیں۔ پہلے درجے میں خواہش ایک حسین سراب کی طرح انسان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ جب انسان مکمل طور پہ اس سراب کو قبول کر لیتا ہے تو پھر انسان اس سراب کو حقیقت سمجھ کر تمام تر توانائیاں اس پہ مرکوز کر دیتا ہے۔ اور نوے فیصد سے زیادہ لوگ اسی میں کھو کر زندگی گزار جاتے ہیں۔ کیونکہ یہ انسان کو تحریک دیتی ہے، آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے، زندہ رہنے کی امید دیتی ہے مگر یہ حقیقت سے ایک دو قدم پہلے دم توڑ دیتی ہے۔

تیسرے درجے میں انسان یہ سب کچھ کرنے کے بعد اس سب سے آزاد ہو جاتا ہے۔ یہ آزادی تب نصیب ہوتی ہے جب انسان فطرتی اصولوں کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال کر خالقِ فطرت کی تلاش کرتا ہے۔ علم کے تمام راستوں کو کھوجتا ہے تاکہ اس خالق کی طرف بڑھ سکے۔ مسلم دور کی تمام سائنسی، فلسفہ اور صرف و نحو کی ترقی اسی تیسرے درجے کی مرہونِ منت ہے۔

شاید یہ بھی ایک بہت بڑا پہلو ہے کہ صوفیاء اپنے دور کے مروجہ تمام علوم کے ماہر تھے۔

میں مبہوت بنا یہ سب سن رہا تھا تو میری حیرانگی کو بھانپتے ہوئے مجھے کہنے لگے کہ میاں! اپنے اصول تلاش کرو۔ جب حقیقی اصول مل جائیں گے تو پھر ان تمام چکروں سے آزاد ہو جائو گے۔ چاہے وہ چکر دفتروں کے ہوں یا خواہش کے۔ اپنے مقام کا تعین ضروری ہے۔ اور یہ تعین خواہش کے چکرے سے آزاد ہو کے کیا جائے تاکہ فطرت سے ہم آہنگی نصیب ہو۔

جب انسان فطرت سے ہم آہنگ ہو جائے تو پھر تمام علم، عمل اور رزق انسان پہ مسلسل اور مثبت طرز سے اترتا آتا ہے۔

اس دن سے آج تک پھر میں نے چکر نہیں لگایا۔ اب خواہشیں خود میرا طواف کرتی ہیں جبکہ میں مرکز پہ آزاد ہوں۔ تمام سمتیں اب میری ہیں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

حرف سے حُرمتِ حرف تک

وہ انہی قدموں زمین پہ ایسے بیٹھا جیسے پوست کا ڈھیر زمین پہ گٹھڑی ہو جائے، خشک تنکا اٹھایا اور خنک ریت پہ “حرف” لکھا۔ اور اس کی آبیاری کو دو آنسو گرائے۔

مجھ سے مزید صبر نا ہوا۔ پوچھا کہ ایسا کیوں؟

کہنے لگا “ہر دور میں اس دور کی سب سے قیمتی چیز پہ دھندھا ہوا ہے۔ کبھی زمین تو کبھی دولت تو کبھی عورت، ہر چیز پہ وقت نے دھندھا کیا ہے۔ بالکل اسی طوائف کی طرح جو سرِ شام سے ہی بکنا شروع ہوتی ہے اور صبح صادق تک بکتی ہے۔ ایسے ہی آج کے دور میں بھی یہی کچھ جاری ہے”۔

“ تم ! چاہتے ہو نا کہ لکھاری بن جائو، لوگ تمہیں ایک سچے لکھنے والے کے طور پہ جانیں۔۔۔؟”۔

میں حیرت سے اس کا منہ تک رہا تھا۔ میں نے تو بس اتنا کہا تھا کہ میرا لکھا کم از کم اپنے وقت میں پاکیزہ ہوتا ہے، چلتا کیوں نہیں؟۔

کہنے لگا “ آج کے دور کی سب سے قیمتی چیز “معلومات (Information) ہے۔ اور آج کے دور میں سب سے زیادہ دھندھا اسی پہ ہو رہا ہے۔ اس حمام میں کون نہیں ننگا؟ حرف پہ سب سے زیادہ حرف اسی دور میں آیا ہے۔ اور تم چاہتے ہو کہ حرف زدہ ہو جائو۔ یہ خواہش کی ہے۔۔۔ “۔

اس کے بعد تب تک میں ریت کو گھورتا رہا جب تک وہ چلا نہیں گیا۔ جب میں اکیلا ہوا تو تمام میڈیا ہائوسز ، بکے ہوئے علوم اور تحقیق کے سارے در مجھ پہ وا ہوئے ۔ مجھے لگا کہ شاید اس دور میں غلامی سب سے زیادہ، سب سے بڑی اور سب سے زیادہ پر اثر ہے۔

ذہنی غلامی جسے حرف کے ذریعے ذہنوں میں انڈیلا جا رہا ہے، اور جو کمایا جا رہا ہے، وہ بھی حرام کی ایک قسم ہی ہے۔ تبھی تو ہماری کیا، یوری دنیا کی معاشیات سود در سود کے ایسے جال میں پھنس چکی ہے کہ کوئی بھی ملک آزاد معاشیات کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔

خیر بات کہیں اور نکل گئی۔

مجھے بس جاتے جاتے دور سے اتنا کہا “ ہم نہیں چاہتے کہ دو لقمےحلال کے جو تمہیں میسر ہیں، وہ بھی چھن جائیں۔ آخر مر ہی جانا ہے نا، انہی پاکیزہ حروف پہ اکتفا کر لو۔ وقت خود ہی تراش لے گا۔ نا بھی تو کوئی فرق نہیں پڑے گا”۔

میں تب سے اب تک حرف کی حرمت پہ رُکا ہوں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رلھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

حیات سے آبِ حیات تک

اس کائنات کے حسین ترین احساسات یا تازگی بخش ترین لمحوں میں سے ایک لمحہ وہ بھی ہے جب آپ تازہ ،شفاف ،ٹھنڈے بہتے ہوئے پانی میں ہاتھ پائوں یا جسم کا کوئی بھی حصہ بھگو کر اس ندی کے کنارے بیٹھے ہوں۔ اس لمحے بڑی سے بڑی پریشانی بھی آپ کی توجہ اپنی طرف نہیں کھینچ سکتی۔ یہ ایک تجربہ ہے۔ کر کے دیکھ لیجیے گا۔

مدعا یہ نہیں کہ پانی کی اہمیت تبائی جائے حالانکہ پانی حیات ہے۔ زندگی پانی سے ہے، زمین سے باہر سب سے زیادہ تلاش پانی کی ہو رہی ہے۔ مدعا یہ بھی نہیں کہ وادیِ پھنڈر میں بہنے والی ندی میرے خوابوں کی جنت ہے اور اس ندی پہ ایسے ہی پائوں لٹکائے گھنٹوں بیٹھ کر لکھنا میری زندگی کے حسین ترین لمحوں میں سے ایک ہو گا۔

یہ بھی بتانا مقصود نہیں کہ پچھلے بیس سالوں میں پنجاب میں پانی کی زیر زمین سطح سو فٹ نیچے گر گئی ہے اور دوسری طرف سے ہمارے اندرونی خلفشار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت نے ہمارے دریا تقریباً خشک کر دیے ہیں۔ یہ بھی میں نہیں بولنا چاہتا تھا کہ بارشوں کا تناسب جس طرح گر رہا ہے اور پہاڑوں پہ برف جس طرح پگھل رہی ہے، درجہ حرارت میں اضافہ اور درختوں کے مسلسل کٹائو نے حیات پہ ضابطہ تنگ کرنا شروع کر دیا ہوا ہے۔

بات صرف اور صرف اتنی سی ہے کہ پانی میں زہر گھولنا اپنی زندگی میں زہر گھولنا ہے۔ اس کو جتنا شفاف رکھیں گے اتنی ہی ہماری زندگی شفاف ہو گی۔

ہمارے اردگرد ایک پائی جانے والی غلط عادتوں میں سے ایک اور شاید سب سے نقصان دہ عادت یہ بھی ہے کہ ہم جتنا بھی کوڑا کرکٹ ، گھروں اور کارخانوں کا فضلہ الغرض سب کچھ ہی پانی میں بہا دیتے ہیں۔ چاہے ہم سیر پہ گئے ہوں یا گھروں میں ہو، ہم یہی کچھ کرتے ہیں۔ بس بہا دیتے ہیں چاہے جس قدر گندگی بھی ہو۔

خضدار میں شہر کی بیچوں بیچ ایک دریا بہتا تھا۔ جو لوگ بلوچستان سے ہیں یا خضدار دیکھا ہوا ہے، وہ میری بات کی تائید کریں گے۔ اس دریا کی وجہ سے وادی کی ایک شان تھی۔ سبزہ ہی سبزہ۔ پنجاب سے زیادہ اچھی سبزیاں اس وادی میں ہوتی تھیں۔ بنجر خشک پہاڑوں کے بیچ یہ وادی جنت نظیر تھی۔ پھر ہم نے دریا میں گند ڈالنا شروع کر دیا۔ دریا رکتا رکتا نالے میں تبدیل ہوا، پانی کھڑا ہونا شروع ہو گیا، قبضہ گروپ نے واٹرپمپ ڈال دیے، اور نالہ برساتی نالہ بنا، مچھلی اور پودے ختم ہوئے اور آج خضدار ایک بار پھر ویران سا ہو رہا ہے۔ یہ برساتی نلہ خشک ہو چکا اور ساری آبادی ایک بار پھر پانی پانی پکار رہی ہے۔

مجھے خضدار میں دوسال گزارنے کے دوران صرف ایک یہی حسرت رہی کہ کاش میں دریا کے جوبن میں اس حسین وادی کا حصہ بن سکتا۔

یقین کریں ہم میں سے جتنے لوگ شمالی علاقہ جات سیر کیلئے جاتے ہیں، ان کی پسند کو اگر گراف پہ ظاہر کیا جائے تو آدھا گراف پانی اور ندی نالوں کی پسند کو ظاہر کرے گا۔ باقی آدھی پسند میں پہاڑ، سبزہ اور جنگلی حیات شامل ہو گی۔ یقین کریں جس قدر تیزی ہے ہم پانی میں زہر گھول رہے ہیں، پچیس سال بعد شمالی علاقہ جات کا حسن بھی مانند پڑنا شروع ہو جائے گا۔

کم ازکم میں نہیں چاہتا کہ میری بیٹی بھی مجھ سے وہی سوال کرے جو میں نے اپنے والد صاحب سے کیا کہ آپ ہمارے حصے کی فطرت کا حسن خود کیوں استعمال کر گئے؟

یہی استدعا ہے کہ جو بھی جیسے بھی پانی استعمال کرے، کم از کم ایک بار اور استعمال جتنا چھوڑے۔ تاکہ پانی نسل در نسل چل سکے اور ہم اس دنیا کو دوزخ بننے سے روک لیں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

فقیرنی

کل ہی کی بات ہے کہ میں اور میرا دوست افطاری لینے کیلئے گجرات کے سب سے بڑے اور مشہور کچہری چوک پر سموسے پکوڑے والی دکان پہ کھڑے تھے۔ اچانک میں نے دیکھا کہ میرے دوست نے تین چار سموسے زیادہ لیے اور سامنے کھڑی فقیرنی نما لڑکیوں میں بانٹ دیے۔

میں نے فوراً احتجاج ریکارڈ کرایا کہ یہ تو پیشہ ور ہیں اور میں کوئی دس بارہ سال سے ان کی یہی روٹین دیکھ رہا ہوں۔ اچانک میری نظر پڑی تو وہ فقیرنی نما لڑکی سموسہ اپنے دوپٹے کے پلو میں باندھ رہی تھی۔ میں نے دوست کا سر پکڑ کر اس طرف گھمایا اور کہا کہ یہ ان کے پیشہ ور ہونے کی تابوت کی آخری کیل ہے۔ میرا دوست بالکل خاموش رہا اور بہت بے دلی سے اس فقیرنی پہ نظر مار کر چہرہ دوسری طرف پھیر لیا۔

واپسی پہ گاڑی میں افطار سے پہلے والی متبرک خاموشی کو قربان کرتے ہوئے وہ دوست گویا ہوا” یار بہزاد! اگر بس میں ہو تو دنیا کی کوئی بھی عورت بھیک نا مانگے۔ مرد پھر بھی سمجھوتہ کر لیتا ہے مگر عورت اس قدر حساس تخلیق ہے کہ اس سے اپنی تضحیک برداشت نہیں ہوتی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ عورتوں میں خودکشی کا تناسب مرد سے زیادہ ہے۔”۔

“یہ عورتیں چاہے تم ان کو پیشہ ور کہو یا جو بھی، ان کی کوئی نا کوئی اس قدر بڑی مجبوری تو ہو گی کہ دس بارہ سال سے اپنی تمام حسرتیں قربان کرکے یہاں کھڑی ہیں۔ یقیناً ان میں سے کسی کا چھوٹا بچہ یا بہن بھائی یہاں نہیں ہو گا جس کیلئے یہ سموسہ چھپا رہی ہے۔ یار ویسے بھی ہر انسان کا معاملہ تو اللہ کے ساتھ ہے۔ تو کیوں فیصلے صادر کرتا ہے؟”۔

“ایک بات اور بھی کہ تو نے اپنے لیے تو پچھتر روپے کا ایک آم خریدا ہے۔ اگر دس کا سموسہ اس کو دے بھی دیا تو کیا فرق پڑے گا پچھتر یا پچاسی سے؟ کیا پتا کسی کو اس دس روپے سے فرق پڑ جائے۔۔۔”۔

میں تب سے اب تک حسرت اور مجبوری کے مابین ٹنگا ہوں اور وہ فقیرنی شاید اپنے دیوِ اشتہاء کو زیر کر بھی چکی ہوں گی۔ ویسے بھی ہمیں کیا فرق پڑتا ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

تخلیق سے تعمیر تک

اگر انسان کی تخلیق کا بغور مطالعہ کیا جائے تو آدم کی تعمیر سے روح پھونکے جانے تک کا عمل بڑا پیچیدہ سا ہے۔ مٹی لانا، فرشتوں کا عکس دیکھنا، پھر آدم کا بت بنانا اور پھر اس کی تراش خراش کے بعد جا کر اللہ پاک نے اپنی روح پھونکی۔ اس تمام عمل میں اللہ پاک اور فرشتوں کے درمیان ہونے والے مکالمے بھی شامل ہیں۔

کوئی بھی صاحبِ کردار ان تمام مراحل سے گزر کر تعمیر ہوتا ہے۔ اور پھر وہ ایسا تعمیر ہوتا ہے کہ اس کا کردار ایک حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے جسے کسی بھی صورت جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ پھر وہ انسان ایسے ہی اپنے آپ کو ڈھانپ لیتا ہے جیسے انسان نے اپنا تن ڈھانپا۔ جو جس مقام پہ ہو گا، اس نے اتنے ہی پردے اپنے آگے لگا رلھے ہوں گے۔ کیونکہ کہ تمام دنیا سچ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ بعض اوقات قطب بننے کیلئے چوری لازمی ہو جاتی ہے۔

خیر بات کہیں اور نکل گئی۔

میں کہنا یہ چاہ رہا تھا کہ انسان کو اوائلِ عمر میں پیش آنے والی پریشانیوں سے کبھی بھی مایوس یا دلبرداشتہ نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ یہ آپ کی خصوصیات کی تعمیر کر رہی ہوتی ہیں۔ جب خصوصیت کی تعمیر ایک خاص مقام پہ پہنچ جاتی ہے تو پھر احساس عطا ہوتا ہے۔ اگر اتنا کچھ مثبت چلتا رہے تو پھر انسان کو اپنی ہستی کی طرف پلٹنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ اور اس طرح انسان اپنی پہچان کی طرف بڑھتا ہے۔

معاشرے میں انسانی شعور کی مختلف درجہ بندیاں ہیں۔ ہر انسان ہر درجے کیلئے نہیں پرورش پاتا۔ گو کہ یہ عمرانیات کا ٹاپک ہے مگر میں بس اتنا ہی کہوں گا کہ معاشرے میں ایک توازن ہر صورت قائم رہنا چاہیے اور رہتا ہے۔ اس توازن میں کچھ ہی ایسے لوگ ہوتے ہیں جو شعور کے یہ تمام مقامات عبور کر پاتے ہیں۔ اور ایسے تمام لوگ توازن قائم رکھنے کیلئے معاشرے سے بغاوت کرتے ہیں اور آگے بڑھ کر نئی حد بندیاں مقرر کرتے ہیں جو بعد میں معاشرے کیلئے معیار قائم کرتی ہیں۔

ایک بار پھر میں اصل بات سے ہٹ گیا۔

بات صرف اتنی ہے کہ ہر پریشانی اور مشکل کو اللہ پاک کی طرف سے آزمائش سمجھتے ہوئے آگے بڑھتے رہنا چاہیے۔ چاہے ایک قدم ہی کیوں نا ہو۔ بس کسی بھی جگہ پہ رکیں مت۔ ورنہ جب خون رُک جائے تو جاندار کو مردہ حرام قرار دے دیا جاتا ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

وطن کی مٹی گواہ رہنا

جیسا کہ آپ تمام لوگوں کو اس بات کا بالکل علم نہیں کہ میں ہر ویک اینڈ پہ جی ٹی روڈ سے سفر کرتا ہوں۔ اسی طرح مجھے بھی اس بات کا بالکل علم نہ تھا کہ اگر آپ نے کسی قوم کو اجتماعی طور پہ دیکھنا ہو تو ان کی سڑکوں پہ سفر کر لیں۔ آپ کو اس قوم کی اجتماعی نفسیات کا مکمل طور پہ اندازہ ہو جائے گا۔

کبھی موقع ملا تو جی ٹی ڈائری کے عنوان سے ایک مکمل سلسلہ تحریر کروں گا۔

خیر بات میں یہ کر رہا تھا کہ جہلم سے پہلے والے ٹول پلازہ پہ حسن اتفاق سے ہمیشہ ایک ہی لڑکا ڈیوٹی پہ بیٹھا ہوتا ہے۔ اور وہ ہمیشہ میری گاڑی میں طالب درد کو سن کر ایک معنی خیز سی مسکراہٹ دیتا ہے۔ مجھے اس کا زیادہ تو نہیں پتا مگر شاید وہ حیران ہوتا ہو گا کہ میری ہیّت اور گاڑی میں طالب درد کا کوئی جوڑ نہیں بنتا۔

ایک دو دفعہ میرا دل کیا کہ گاڑی روک کر اس سے پوچھوں کہ میاں کیوں ہنستے ہو۔ مگر میں ایسا نہیں کر سکا۔

میں تو اُسے اتنا بھی نہیں بتا سکا کہ انسان چاہے امیر ہو یا غریب، بڑا ہو یا چھوٹا، بھوک پیاس اور احساس تمام کا ایک جیسا ہوتا ہے۔ تمام انسان برابر ہیں۔ دنیاوی فرق صرف اور صرف ذمہ داری کا ہے جبکہ اخروی فرق صرف اور صرف تقویٰ سے ہے۔ باقی تمام انسانوں کی آنکھوں میں آنسو ایک جیسے آتے ہیں ماں کی گود میں سب کو ایک جیسا سکون ملتا ہے۔

کبھی مجھے موقع ملا تو اسکو یہ ضرور بتانا چاہوں گا کہ انسان جس قدر حساس ہو ، اپنی بنیادوں سے اسی قدر جڑا ہوتا ہے۔ ان بنیادوں میں اس کے گائوں کی مٹی کی خوشبو، بوڑھوں کی شفقت اور احساس کے ساز شامل ہوتے ہیں۔ ہاں احساسِ کمتری کے شکار معاشرے میں یہ سب دفنا دیا جاتا ہے اور انسان انگریزی زدہ کھوکھلی زندگی گزار کے چلاجاتا ہے۔ ہر ہر لمحہ اس کے اندر ہیجان بڑھتا ہے اور انسان مصنوعی چیزوں میں پناہ ڈھونڈھتا نظر آتا ہے۔

لیکن مجھے پتا ہے کہ نا تو میرے بتانے سے اس لڑکے کو کوئی فرق پڑے گا اور نا ہی مجھے۔ کیوں کہ ہم تمام من حیث القوم ابھی تک وہ قومی سوچ پروان نہیں چڑھا سکے جس سے ہماری مٹی سے جڑا فخر ہمیں اپنے ساتھ قدم قدم پہ محسوس ہو۔ ایک اور بات یہ بھی ہے کہ کوئی بھی قوم اُس وقت تک قوم نہیں کہلا سکتی جب تک اس کی مٹی سے جڑے اجتماعی احساس کا فخر اس قوم کے ہر ہر فرد میں پروان نا چڑھ سکے۔

میری بہت شدید خواہش ہے کہ اللہ مجھے موقع دے اور میں اپنے وطن سے جڑے ہر ہر فخر کو دنیا کے سامنے پیش کر سکوں۔ صرف ایک چیز پہ غور کریں کہ سب سے زیادہ سکون دینے والا رنگ سبز اور سفید ہے۔ اور یہی رنگ ہمارا ہے۔ اس ملک کے ذرے ذرے میں خورشید کا سا سماں ہے۔ بس ہم نے کبھی غور ہی نہیں کیا۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

گمان سے ایمان تک

ابھی کچھ ہی دیر پہلے گائوں کے ایک دوست سے بات ہو رہی تھی۔ کہنے لگے کہ اس دفعہ گندم کی اوسط کم ہوئی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ تو بڑا نقصان ہو گیا ہو گا آپ جیسے چھوٹے زمینداروں کا۔ تو کہنے لگے کہ ہمارے لیے برابر ہے۔

میں یہ جواب سن کے بڑا حیران ہوا کہ نفع نقصان برابر کیسے ہو گیا؟

کہنے لگے کہ پہلے پچپن من فی ایکڑ تھی تو پندرہ بیس من بیماریوں اور پریشانیوں میں نکل گیا۔ اب اللہ کو پتا ہے کہ پینیس من ہے، تو بیماریاں اور پریشانیاں بھی تو وہ اُسی حساب سے دے گا نا۔

کس قدر سادہ ایمان ہے اور خوشی سے اس کا چہرہ تمتا رہا تھا۔ جبکہ میں ابھی تک آنکھ نم کیے اس کے ایمان پہ رشک کر رہا ہوں کہ اس قدر تیقن والے لوگ بھی ہمارے معاشرے میں موجود ہیں۔

یقین کیجیے اللہ پاک کا انسانوں کے ساتھ معاملہ گمان کا ہے۔ جیسا سوچوں گے، ویسا ہی پائو گے۔ سادہ لوح چھوٹا زمیندار شاید مجھ جیسے بڑے افسر سے کہاں زیادہ ایمان والا اور تشکر کی منازل بہت پہلے طے کر چکا ہے۔

جبکہ میں ابھی تک شک اور دلیل کے مابین ٹنگا ہوا ہوں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔