کھارے چڑھدی سِک

“کھارے چڑھدی سِک”

شاعر: جاوید آصف

رات کے دس بج چُکے تھے جب مجھے پتا چلا کہ میری بیٹی کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی ہے۔ مجھے سی ایم ایچ کھاریاں کیلئے سرگودھا سے نکلتے نکلتے گیارہ بج گئے اور ایک بجے جب میں ہسپتال داخل ہوا تو آنسوئوں کے علاوہ میری آنکھوں میں سب کچھ تھا۔ جگراتے، اداسی، پاکیزہ الہامی محبت اور اس سب کے ساتھ ساتھ اُس ذاتِ کامل پہ تیقن ، شاید یہ سب کچھ آنکھوں میں اترا تو تھا پر برسا نہیں کیونکہ ابرِ باراں پہلے ہی کافی مہربان ہوا چاہتا تھا۔

درج بالا احساس کے ساتھ جب آپ اپنے فرشتے کا پہلا لمس محسوس کریں گے تو آپ کی آنکھوں میں جو کیفیت کشید ہو گی اس کو سرائیکی زبان میں “سِک” کہتے ہیں۔ اور اسی سِک کو جب سہاگ چڑھایا جاتا ہے تو پہلا غسل جو آنسوئوں سے ملتا ہے اُسے “کھارے چڑھنا” کہتے ہیں۔ ادبی توجیہات تھوڑا بہت مختلف بھی ہو سکتی ہیں۔

چڑھتے سرائیکی رواجوں کا دیس میانوالی، ڈیرہ اسمٰعیل خان ہے، وہاں کی ایک اٹھان ہے۔ ملتان بہاولپور میں یہ ثقافت اپنے جوبن پہ پہنچ کر کھارے چڑھتی ہے اور راجن پور، چولستان وہ علاقے ہیں جہاں اس سِک کا کشید قطرہ قطرہ بوند بوند برستا ہے۔ یہ موتی جاوید آصف صاحب نے وہیں سے چنے ہیں جو اس وقت میں ہسپتال میں بیٹھا اپنی دلجوئی کیلئے استعمال کر رہا ہوں۔ انسان فطرتاً لالچی ہے جی۔

نوجوان نسل کے نمائندہ ہونے کے ناطے سرائیکی کو جدید عصری تقاضوں سے ہمکنار کرنے کا عزم لیے، خوبصورت احساسات کا گلدستہ ترتیب دے کر جاوید آصف صاحب نے اپنا نام ان شہیدوں میں لکھوایا ہے جو جن کے لاشوں سے ہو کر فوجیں محاذوں پہ جایا کرتی ہیں۔ یہ اولین لاشے کسی بھی جدوجہد کی سمت متعین کرتے ہیں، آنے والی نسلوں میں احساس کی شمع انہی لاشوں کے خون سے جلتی ہے۔

سرائیکی کا پہلا شاعر میری نظر سے گزرا ہے جس کے لفظوں میں محرومی کی بجائے امید ہے، عزم ہے، آگے بڑھنے کا حوصلہ ہے اور سب سے بڑھ کر اس کے لفظوں میں وہ جان ہے جو فن میں سانس کی ڈوری کا کام کر رہی ہوتی ہے۔ ان موتیوں میں لہک ہے، پُرترنم اداسی نہیں۔ جاوید آصف کو میں ایک بات یہاں ہی بتا دینا چاہتا ہوں کہ ان کا کلام گایا نہیں جائے گا، ہاں ان کے الفاظ قارئین کو اتنی تسلی ضرور دیں گے کہ ایک دو شب سازوسوز کا سامان ہو سکے گا۔ اور پھر وہاں سے مزید تخیلِ طفلِ تلاش جنم لے گا۔

صوفی تاج گوپانگ کا تعارفی مضمون اس کتاب کے تقریباً تمام فنی اور تخیلاتی پہلوئوں کا احاطہ کرتا ہے۔ باقی بات جاوید آصف صاحب نے خود بھی کافی حد تک چھیڑ دی ہے۔ اور پھر بات بہت دور تک جاتی ہے۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ سب کچھ سامنے ہونے کے باوجود کہیں بھی بے وجہ اداسی اور اس کے اسباب کی بات نہیں پوچھی جاتی۔ بس ایک ارتقاء ہے جس کی رو میں قاری بہتا چلا جاتا ہے۔

ساری کتاب میری نظر سے ضرور گزری ہے مگر میں نے پڑھی نہیں۔ میرے اندر سرائیت نہیں کر سکی۔ ہاں گرماگرم کافی کے اوپر کریم والی جھاگ کی طرح دھوئیں کے مرغولے اڑاتی سوچ کو تقویت ضرور ملی ہے۔ میں اپنی مادری زبان کا فخر ایک سِپ بائی سِپ اپنے اندر اتار کر اپنی نوجوان نسل کو یہ ضرور بتا سکتا ہوں کہ ہماری علاقائی زبانیں ادب کی کسی صنف میں دنیا کی کسی بھی زبان سے کم نہیں۔ سرائیکی تو ویسے بھی کربلائی سی زبان ہے۔

آخر میں اپنی دو کتابیں بھیجنے پہ جاوید آصف کا انتہائی شکرگزار ہوں۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ایسے ارتقائی سوچ کے حامل ادیب ہماری علاقائی زبانوں کو عطا کریں اور ہم ایک روشن پاکستان کی جانب اپنا سفر رواں دواں رکھ سکیں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *