فراری سے فلاح تک کا پاکستان

سنا ہے کہ ایک دفعہ فراری کمپنی کے مالک نے ایک ٹریکٹر کمپنی کے مالک کو کہا تھا کہ آپ ہوسکتا ہے ٹریکٹر کو بہتر طریقے سے چلا سکو مگر ایک فراری کار کو ہینڈل کرنا آپ کا کام نہیں۔ پھر تاریخ نے اس ٹریکٹر والے کو لمبورگینی بناتے اور چلاتے دیکھا۔ سنا ہے ہنڈا کمپنی کے مالک کو ٹیوٹا کمپنی نے یہ کہہ کر نکال دیا تھا کہ تمہارے آئیڈیاز اور ڈیزائن اس قدر احمقانہ ہیں کہ ان کو عملی شکل دینا بے وقوفی ہو گی۔

پھر سُنا ہے کہ ایک بندے کو اُس وقت کے حکمران خاندان کے وزیرِ اعظم نے بڑی حقارت سے کہا تھا کہ یہ قومی اسمبلی کی ایک سیٹ والا کیا کر لے گا۔ آج وہی ایک سیٹ والا اُسی ملک کا وزیرِ اعظم بننے جا رہا ہے۔

زندگی میں کبھی بھی یہ نا سوچیں کہ آپ کا سامنا کن حالات ، کن لوگوں اور کن مسائل سے ہے۔ زندگی میں صرف اور آرف وہی ہوگ کامیاب ہوتے ہیں جو اپنے خوابوں کو مقدم جانتے ہیں اور ان کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں۔ ان کا ہر ہر قدم ان خوابوں کی عملی تعبیر کی جانب ہوتا ہے۔

پرانے کنگ فو فائیٹرز آج بھی اس بات پہ مکمل یقین رکھتے ہیں کہ ان میں ایک مخفی انرجی ہوتی ہے جو “چی” کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اگر انسان اپنے خواب کی تعبیر کیلئے اپنی تمام توانائیاں اور صلاحیتیں وقف کر دے تو آہستہ آہستہ اُس میں وہ مخفی انرجی بیدار ہو جاتی ہے اور وہ انسان ایسے ایسے کام کر جاتا ہے جو عام حالات میں ناممکن ہوتے ہیں۔ کچھ فائیٹرز نے اس بات کا عملی مظاہرہ بھی کرکے دکھایا ہوا ہے کہ اگر اپنی “چی” کو لڑائی کے دوران کسی بھی ایک حصے پہ مرکوز کر دیں تو اس حصے کو تلوار بھی نہیں کاٹ سکتی۔

تو بات یہ ہے کہ پاکستان ہمارا ملک ہے، اگر پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ اگر درج بالا تمام لوگ صرف ایک جملے سے شروع کرکے اس قدر ترقی کر سکتے ہیں تو ہم تمام لوگ روزنہ کے چند لمحے اس ملک کو دے کر کہاں سے کہاں لے جا سکتے ہیں۔ میں بہت عرصے سے سوچتا تھا کہ میں اس ملک کیلئے کیا کر سکتا ہوں۔ پھر میں اس نتیجے پہ پہنچا کہ میم قدر سست ہوں کہ عملی طور پر تو کچھ بھی کرنا ناممکن ہو گا۔ ہاں میں چند لفظ ضرور تحریر کر سکتا ہوں۔

اس دن سے آج تک میں نے صرف اور صرف وہ لکھا ہے جس سے اس ملک کے شہریوں کو ایک آدھ لفظ امید کا مل سکے، ایک مثبت احساس ہو اور ہمارا ہر ہر قدم اس ملک و قوم کیلئے منفعت بخش ہو۔ تو میں ذاتی طور پہ یہ سمجھتا ہوں کہ ہم روزانہ کی بنیاد پہ ایک دو چار منٹ تو اس ملک کو دے سکتے ہیں جب ہم خالصتاً اس ملک و قوم کیلئے کچھ مثبت کر سکیں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *