یومِ آزادی کے تقاضے

ابھی بیٹھے بیٹھے میں سوچ رہا تھا کہ دنیا میں جہاں جہاں تقریبات ہوتی ہیں، کسی نا کسی حوالے سے کوئی دن منائے جاتے ہیں ان میں سب سے پہلے پچھلی دفعہ کیے گئے اقدامات کا اعادہ کیا جاتا ہے، ان کی بڑھوتری اور اثر کا جائزہ لیا جاتا ہے اور پھر جا کر اس سال کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کا اعلان کیا جاتا ہے اور تب جا کر کہیں خوشی منانے کا وقت آتا ہے۔

لیکن ہمارا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔

ہم لوگ سب سے پہلے خوشی مناتے ہیں۔ پھر آئندہ کیلئے بلند بانگ دعوے کرکے فضا کو جھوٹ سے متعفن کرتے ہیں اور پہلا کام جو کہ سب سے اہم ہے، اس کو ہمیشہ بھول جاتے ہیں۔

مثال کے طور پہ ابھی چودہ اگست کو ہی لے لیں۔

پورے پاکستان میں اس کی خوشیاں منانے کا سلسلہ ابھی سے شروع ہو چکا ہے۔ تقریریں، ڈانس شوز، ڈرامے، منچلوں کی آوارہ گردیاں، سبز پرچموں کی بہار الغرض خوشی منانے کے وہ وہ طریقے ایجاد کیے جاتے ہیں کہ نفسیات خود حیران رہ جاتی ہے۔ یاد رہے کہ یہ کام تیسرا یا سب سے کم اہمیت والا ہے۔

پھر دوسرا کام یعنی ہر صاحبِ حیثیت اپنے اپنے حلقہِ اثر کی تقریب میں ایسے ایسے بلند و بانگ دعوے کرتا ہے کہ اگر بعد میں وہ خود سن لے تو یقین نہیں آتا ہے اور اکثر کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو سیاسی بیان تھا۔ کسی مستقل اور قابلِ عمل کا اعلان نہیں کیا جاتا۔ ناظرین کو خالی دعووں پہ ہی گزارا کرایا جاتا ہے۔

میں نے اپنی دس سالہ پیشہ ورانہ زندگی اور اس سے پہلے سولہ سالہ طالبعلمی کے دور میں آج تک کسی بھی یومِ آزادی کی تقریب میں ماضی کے اقدامات کا اعادہ ہوتے نہیں دیکھا۔ شاید اکا دکا جگہوں پہ ایسا ہوتا ہو۔ یاد رہے کہ کای بھی دن کے منانے کا مقصد پورا کرنے کا یہ سب سے اہم قدم ہے۔

کیا ہم ایسا کچھ نہیں کر سکتے کہ اس دفعہ یومِ آزادی کو ابھی سے باقاعدہ منصوبہ بندی کرکے منایا جائے۔ ابھی سے اپنی ترجیحات کے پیش نظر ایسے اقدامات کو چُنا جائے جن سے پاکستان اور ہر ہر پاکستانی کی فلاح ہو، ان اقدامات کو مسلسل آگے بڑھانا چاہیے اور سارا سال ان کا جائزہ لیتے رہیں تاکہ اگلے یومِ آزادی والے دن ہم سب سے پہلے اس فخر کے ساتھ کھڑے ہو سکیں کہ ایک سال میں ہم یہ بہتری لائے ہیں۔

کوئی بھی ایسا قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔ پودا لگایا جا سکتا ہے، کسی غریب کو مفت ٹیوشن پڑھائی جا سکتی ہے، گلی محلے کی صفائی کا لائحہ عمل بنایا جا سکتا ہے، پرندوں کو بچا کر آزاد ہوا میں چھوڑا جا سکتا ہے، مطلب کچھ بھی ایسا ہو جس کو آپ ایک مثبت بہتری کے سیمپل کے طور پہ اگلے سال پیش کر سکیں۔ یقین کریں قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے۔ پاکستان کا حسن انہی چھوٹے چھوٹے مگر حسین اقدامات سے ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *