مارننگ کافی اور مثبت سماجی پاکستانیت

اگر آپ ایک کلاسیکل دفتری قسم کی زندگی گزار رہے ہیں تو آپ کی زندگی میں صبح کے اخبار کی بہت اہمیت ہو گی۔ کیونکہ یہ وہ پہلی چیز ہے جس پہ نظر مار کر آپ کی آنکھ صحیح معنی میں کھلتی ہے اور صبح کا آغاز ہوتا ہے۔

بہت پہلے مجھے کسی نے کہا تھا کہ اگر اخبار کا مزا لینا کو تو دو کام کریں۔ پہلا کام گزشتہ سے پیوستہ اور دوسرا کام گائوں کے ہوٹل پہ ادرک گُڑ والی چائے۔ ساتھ میں اگر سردیوں کی دھوپ بھی میسر آ جائے تو سونے پہ سہاگہ ہو گا۔ اگرچہ مجھے یہ تمام چیزیں بفضلِ خدا میسر رہی ہیں مگر اکٹھی نہیں۔

آج کا اخبار مجھے اس لحاظ سے بھی بہت اچھا لگا کہ اس میں پاکستان کے اگلے متوقع وزیرِ اعظم عمران خان کو کابل دورے کی دعوت دی گئی تھی۔ ساتھ میں طالبان امریکہ مذاکرات کو مثبت قراد دیا گیا تھا۔ گزشتہ کو ساتھ پیوستہ کرتے ہوئے ایک مبہم امید ہوتی ہے کہ ہم امن کی جانب بڑھنا شروع ہو گئے ہیں۔

ویسے یہ خبریں پڑھ کر مجھے اب لگ رہا ہے کہ مجھے اپنے ویٹر کی بات ماننا ہی پڑے گی جو مجھے جاتے جاتے کہہ جاتا ہے کہ سر آپ بہت سخت کافی پیتے ہیں۔ اب مجھے پانی میں کافی کی مقدار گھٹا کر اپنی آنکھوں کی بے آرامی کچھ دیر کیلئے آرام میں تبدیل کرنا ہو گی کیونکہ اب شاید وہ لمحہ آ گیا ہے کہ ہمارے اندر ایک قومی سوچ پروان چڑھنا شروع ہو گئی ہے۔

آپ یہ دیکھ کر بہت حیران ہوں گے کہ وہی لوگ جن کو سیاسی لیڈر اس حد تک اشتعال دلا چکے تھے کہ وہ مرنے مارنے پہ تلے بیٹھے تھے، ان میں سے اسی فیصد سے زائد لوگ باہم شیروشکر ہو کر پاکستان کا سوچ رہے ہیں۔ لوگوں کی سوچ اور جذبوں میں واضح تبدیلی نظر آرہی ہے۔ کل رات کو ہم ایک ہوٹل پہ گئے ہوئے تھے تو میں نے خالی ماچس باہر پھینکنا چاہی تو وہاں بیرے نے آگے بڑھ کر کہا کہ سر نیچے پھینکنے سے بہتر ہے مجھے دے دیں، میں اس کو ٹوکری میں پھینک آتا ہوں۔

شاید وہ ہوٹل والے پہلے سے ہی مہذب ہوں اور میں نے پہلی دفعہ دیکھا ہو۔ اُسی ہوٹل میں تحریکِ انصاف اور ن لیگ والے ایک دوسرے کو دعوت بھی کھلا رہے تھے۔

تو بات یہ ہے کہ یہ سیاسی ، سماجی اور معاشرتی تنوع ہمارا حسن ہے، ہمارے خیال کی لطافت ہے، ویسے بھی اللہ پاک نے اختلافِ رائے کو رحمت قرار دیا ہے۔ اس رحمت کیلئے دامنِ دل وا کیجیے۔ اللہ پاک بہت کریم ہیں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *