بھیگتے قدموں کی تاریخ

اقوامِ عالم کی بدقسمتیوں کو اگر شمار کیا جائے تو سب سے بڑی اور اہم بدقسمتی اس قوم کا اپنی تاریخ کو بھلا دینا ہے۔ میں یہی سوچتا ہوا خراماں خراماں کشمیر سے آنے والی خصوصی برسات میں بھیگتا جا رہا تھا کہ اچانک گجرات جمخانہ سے دوقدم آگے مجھے تاریخ نے اپنی آغوش میں لے لیا۔

بن

سیونتھ ڈے ایڈونٹسٹ چرچ کا سُرخ ایستادہ کراس سبز پس منظر میں تاریخ کے ہر طالب علم کو اپنے دامن میں جگہ دینے کو بے تاب تھا۔ مجھ سے رہا نا گیا۔ اُس طرف مڑا اور ایک ویران سے گیٹ سے اندر داخل ہوا تو اندر کی دنیا اس قدر بدلی نظر آئی کہ میں خود حیران رہ گیا۔

انگریز نے جب کشمیر کی فتح شروع کی تھی تو ابتداء گجرات سے ہوئی اور تب ۱۸۴۲ء میں اس چرچ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ چرچ کی عمارت، چھت، کھڑکیوں اور دروازوں کے چوکھاٹ اور روسٹرم ابھی تک اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں۔ جبکہ اُس دور کے لگائے ہوئے کچھ نادر و نایاب پودے بھی ابھی تک موجود ہیں۔

سُنا ہے کہ پہلے دور میں اس چرچ کو پھولوں والا چرچ کہا جاتا تھا۔ کرسمس، ایسٹر اور باقی تہواروں پہ پورا گجرات ان پھولوں کو دیکھنے کو امڈ پڑتا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ اب نرسری تو موجود ہے مگر کچھ قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے اب پھولوں کی وہ آب و تاب اور انتظام باقی نہیں رہا۔

چرچ کے کئیر ٹیکر شاہد پال ولیمز اور پاسٹر آصف بہت ہردل عزیر، تاریخ سے محبت کرنے والے ، انسانیت پرست اور عیسائیت کیلئے بڑے مخلص انسان ہیں۔ میں نے ان کو صرف اتنا کہا کہ مجھے تاریخ سے محبت ہے اور انہوں نے مجھے چرچ کی مکمل تاریخ سے آگاہ کیا اور تصاویر لینے کی اجازت بھی دی۔ مجھے بتا رہے تھے کہ جب حالات اچھے تھے تو سٹوڈنٹس اور تاریخ سے محبت کرنے والے لوگ اکثر یہاں پائے جاتے تھے مگر اب دہشت گردی کی وجہ سے یہ کام مانند پڑ گیا ہے۔

مذہبی امور کو ایک طرف رکھتے ہوئے اگر دیکھا جائے تو یہ چرچ ایک تاریخی اثاثہ ہے، اپنے قدرتی حسن اور فلورا کی وجہ سے انتہائی حسین تفریحی مقام ہے اور ایڈونچر پسند انسانوں کیلئے ایک جامع منزل بھی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ہم اپنے نظریات کو اس حد تک انتہا پسند بنا چکے ہیں کہ ہمیں یہاں سے گزرتے ہوئے بھی عیسائیت سے ایک منفی قسم کی دوری کا احساس ہو گا۔ حالانکہ مذہبی ہم آہنگی شاید اس دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

ویسے بھی ہمارے معاشرے کا حسن ہی یہی ہے کہ تمام مذاہب کو ساتھ لیکر ایک فلاحی معاشرے کا تصور ہمیں اسلام کی طرف سے ملا ہے۔ ہندو، سکھ، عیسائی اور دوسرے مذاہب ہمارے ملک کے شہری اور اپنی رسم و روایات کیلئے مکمل آزاد ہیں اور یہ آزادی انہیں ریاست دیتی ہے۔ ہمیں صرف اور صرف ایک دوسرے کو پیار دینا ہے۔ جنت نظیر ہونا اسی پیار کا مرہونِ منت ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *