کچرا کہانی

جس طرح ممتاز مفتی کوئی پچاس سال انسانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کو کھنگالنے کے بعد اس نتیجے پہ پہنچا کہ انسان کا بنیادی مسئلہ “میں” ہے۔ اسی طرح میں بھی کوئی پانچ سال فیس بک کی دانشوری کے بعد اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ ہمارا بنیادی مسئلہ “کچرا” ہے۔ وہ کچرا الفاظ کا بھی ہے، انسانوں کا بھی ہے، اشیاء کا بھی ہے اور مادی بھی ہے۔ لیکن یقین کیجیے یہ انسان کی بنیادی ضرورت میں شامل ہے کہ اُسے کچرے سے نمٹنے کی تربیت دی جائے۔

میری ترتیب میں سب سے اہم کچرا حسیّات کا ہے جس میں سماعت، بصارت وغیرہ شامل ہیں۔ آپ نے کبھی غور کیا ہے، نہیں کیا ہو گا مگر میں بتائے دیتا ہوں کہ میرے اندازے کے مطابق ہم روزانہ اسی فیصد سے زیادہ وہ چیزیں دیکھنے ، سُنتے اور محسوس کرتے ہیں جن کا ہمارے مقصد ، ہماری ضرورت اور ہماری زندگی کے باقی اہم معاملات سے بالکل بھی تعلق نہیں ہوتا۔ لیکن یہ ہمارے لاشعور کا مسلسل حصہ بنتا جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ ہماری سوچ اسی کچرے کے تابع ہو کر ان تمام غیر ضروری محرکات کو ضروری بنا لیتی ہے۔

میڈیا وارفئیر کا بنیادی نظریہ اپنی اپنی مرضی کا کچرا اپنی مرضی کے دماغوں میں انڈیلنا ہے جس کیلئے ہمیں وہی کچھ دکھایا، سنایا اور پسند کرایا جاتا ہے جس کے پیچھے ان لوگوں کے مقاصد چھپے ہوتے ہیں۔ اور اس طرح ہم اس کچرے کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں اور ایک وقت ایسا آتا ہے جب ہم لوگ بغیر لڑے ہتھیار ڈال کر اور اپنے ہاتھ باندھ کر اپنی سوچ کو ان مذموم مقاصد کے سامنے ڈھیر کر دیتے ہیں۔

ایسا نہ بھی ہو، تب بھی یہ حسیات کا کچرا ہماری سوچ میں انتشار کو پروان چڑھاتا جاتا ہے جس کے تحت ہمارا دماغ کچھ بھی تعمیری کرنے سے قاصر ہوتا جاتا ہے۔ تمام فنکار کسی بھی فن کی تخلیق کیلئے تنہائی اور خاموشی کو اسی لیے ترجیح دیتے ہیں تاکہ ماحول میں موجود یہ غیرضروری انرجی ان کے خیال پہ اثر انداز نا ہو سکے۔ اولیاء کو بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ اللہ پاک کی عبادت کیلئے تنہائی اور خاموشی کو ترجیح دیتے ہیں۔ تہجد کا وقت اسی لیے سب سے زیادہ فائدہ مند رہتا ہے کیونکہ اُس وقت تمام غیرضروری آوازیں اور منظر موجود نہیں ہوتے۔

خیر بات پھر کسی نا کسی طرف سے ہوتی ہوئی اُدھر ہی پہنچ گئی۔ مجھے یہ کہنے میں بالکل بھی عار نہیں کہ ہم سب اس کچرا منڈی میں برابر کے شریک ہیں لیکن ہم کوشش کرکے اس کو بہتر تو کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پہ میرے دفتر کے باہر ایک ائیر کولر لگا تھا جس کے شور سے میرے ہروقت سر میں درد رہنا شروع ہو گیا تھا۔ گو کہ یہ سردرد فٹ سال کھیلتے ہوئے سر میں چوٹ لگنے کی وجہ سے تھا مگر کم تھا اور اب بہت زیادہ ہو گیا تھا۔

کسی نے کھڑکی کے سامنے کینو کا پودا لگا دیا۔ جس کی ٹھنڈک اتنی تھی کہ کولر کی ضرورت نا رہی اور اب کھڑکی کھول کر کینو پہ بیٹھے پرندوں کی آوازیں سنتے ہوئے یہ پوسٹ لکھ رہا ہوں۔ یہی کام کمرے کی ائیر اور سائونڈ پروفنگ کرنے کے بعد ائیر کنڈیشنر لگا کر بھی کیا جا سکتا تھا۔ لیکن اُس طرح میں ماحول میں مزید مادی کچرا شامل کر دیتا۔ اس کام پہ جتنے وسائل خرچ ہونے تھے وہ الگ اپنی جگہ کچھ نا کچھ کچرا ماحول میں شامل کرتے۔

خیر کچرا کہانی کا اختتام تو مشکل ہے پر اتنا ضرور کہوں گا کہ اپنی ترجیحات کو اس طرح ترتیب دیں کہ ماحول میں کم سے کم کچرا شامل ہو۔ میرا کزن روزانہ ٹشو کا ایک ڈبہ استعمال کر جاتا ہے جس سے روزانہ کی بنیاد پہ بہت زیادہ مادی کچرا ماحول میں شامل ہوتا ہے۔ حالانکہ وہی کام ایک رومال سے بھی ہو سکتا ہے۔ ہم لوگ تووہ قوم ہیں جس کو شمالی علاقہ جات کی صورت میں ایک جنتِ ارضی سے نوازا گیا ہے مگر اس کو بھی ہم اپنی باقیات سے نوازنا شروع ہو گئے ہیں۔

اپنی حسیات کو جس قدر ہو سکے صاف رکھیں تاکہ آپ کا گھر صاف ہو، آپ کا عمل صاف ہو، آپ کی سوچ سے کچھ نا کچھ تخلیقی اور تعمیری جنم کے سکے۔ یہ نا ہو کہ گھر کا کچرا سامنے سڑک پہ پھینک دیں، ہر کسی کو پتا لگے کہ اندر اور باہر میں کس قدر تضاد ہے۔ تضاد بھی انسان کو مار دیتا ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *