نیا پاکستان مبارک ہو

نئے پاکستان کا پہلا دن مبارک ہو۔

ایسی کوئی بات نہیں۔ پاکستان پاکستان ہے، نیا پرانا کچھ نہیں۔ لیکن اتنا میں ضرور کہوں گا کہ چاہے آپ کسی بھی سیاسی جماعت سے ہوں، کسی بھی علاقے سے تعلق ہو، کسی بھی مذہب یا برادری کے پروردہ ہوں، عمران خان کا خطاب سننے کے بعد دل کے کسی کونے میں پاکستانیت کا فخر ضرور بیدار ہوا ہو گا۔

اگرچہ ایک انگڑائی ہی سہی۔ مگر اتنا عاجزانہ سا، حقیقی اور مخلصانہ خطاب میرے خیال میں کسی بھی سیاسی ، مذہبی یا معاشرتی صاحبِ رائے نے ایسی پوزیشن میں آکر نہیں کیا ہو گا۔ کسی نے کہا تھا کہ

آنے والے کمال کے دن ہیں

عظمتِ ذوالجلال کے دن ہیں

اور اتنی خوبصورت ابتداء سے تو قیاس کیا جا سکتا ہے۔ آنے والا وقت تو کسی نہیں دیکھا لیکن میں یہاں کچھ معروضات پیش کرنا چاہوں گا جن کا خیال رکھنا ہم میں سے ہر ذمہ دار شہری کا فرض ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ ہر انسان ایک رائے رکھتا ہے۔ چاہے وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتا ہو۔ ہر کسی کی رائے کا احترام ہم پہ فرض ہے۔ جیت ہار سب اُس رائے کا نتیجہ ہے مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم اپنی اخلاقی قدروں کو بالائے طاق رکھ دیں۔ ہر کسی کا احترام کریں اور خاص طور پہ ہر پاکستانی کا احترام کریں۔

پاکستان میں ایسے بھی لوگ ہیں جو ابھی تک بھی پاکستان کے قیام کو غلط فیصلہ سمجھتے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں ک ہم ان سے لڑائی شروع کر دیں۔ وہ اس ملک کے شہری ہیں اور ان کی رائے کا احترام ہم پہ فرض ہے۔ پیار محبت اور اخلاق ہی ہمیں ایک سچا پاکستانی بنائے گا۔ اور اخلاق سے ہی ہم ایک دوسرے کا دل جیت سکتے ہیں۔ میرے دوست ہندو بھی ہیں۔ اور وہ مجھ سے ایسے ہی پیار کرتے ہیں جیسے میرے گھر والے۔ یہی پاکستانیت ہے۔

دوسری اہم بات یہ کہ یہ ملک ہمارا ہے، اس میں موجود سب کچھ ہمارا ہے۔ اس سے پیار کریں۔ یقین کریں کبھی کبھی ایسے لگتا ہے کہ اتنا خوبصورت ملک اللہ پاک کی ذات نے خصوصی طور پہ ہمارے لیے رکھا تھا۔ میری بہت خواہش ہے کہ پورا ملک دیکھ سکوں۔ گو کہ ابھی تک آدھا بھی نہیں دیکھا لیکن اس کی خوبصورتی مجھے ہمیشہ جنت کی یاد دلاتی ہے۔ اس کا یہ جغرافیائی اور ثقافتی حسن برقرار کریں۔

خاص طور پہ ان الیکشنز کے بعد ایک قومی سوچ جو پروان چڑھی ہے، اس کو قائم رکھیں۔ یقین کریں اللہ پاک بہت کریم ہیں۔ پچھلی حکومت میں انفراسٹرکچر بنا ہے، اس حکومت میں ادارے بنیں گے اور پھر ہمارے ملک کی ہاں میں اقوامِ عالم کی ہاں ہو گی۔ یہاں ہر کوئی اپنا اپنا رول ادا کر رہا ہے۔ اعتماد کا رشتہ قائم کریں۔ یقین کریں یہ استاد، سیکورٹی فورسز، واپڈا کے لوگ تمام محکمہ جات ہمارے اعتماد اور پیار کے دو بولوں سے بہت کچھ کر جاتے ہیں۔ کبھی کر کے دیکھیے گا۔

بہت کچھ لکھنا چاہتا ہوں لیکن پوسٹ کی طوالت کو دیکھتے ہوئے اسی پہ اکتفا کرتا ہوں۔ باقی باتیں اگلی پوسٹ میں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *