ادیب سے شہاب تک

میں بہت وقت سے ایک سوال دل میں دبائے بیٹھا تھا لیکن زبان پر نہیں لانا چاہ رہا تھا۔ زبان پہ تو بس یہی تھا کہ اگر یہاں اللہ کے واسطے آئے ہو تو پھر اللہ کی بات کے علاوہ کوئی بھی بات آپ کے مقام پہ بلاواسطہ شرک کے زمرے میں آئے گی۔ خیر اتنی بڑی سرکار میں اتنا چھوٹا سوال بھی نظرانداز ہوجانا ناممکن تھا۔

سو وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا۔

پہلے کی بات ہے کہ ایک بار ہم چند دوست آپس میں جائز اور ناجائز کے موضوع پہ بات کر رہے تھے۔ میرے ایک دوست فرمانے لگے کہ جائز اور ناجائز کو اگر شریعت سے ہٹ کر دیکھا جائے تو بہت وسعت والی بات ہے۔ معاشرے میں جائز اور ناجائز کے پیمانے وہاں پہ موجود سماجی دبائو کے مطابق طے ہوتے ہیں۔ جیسے منٹو کو اگر ایک مسلمان سے ہٹ کر دیکھا جائے تو وہ تب تک عورت کے پیچ و خم میں الجھے تاروں کی شناخت کر ہی نہیں سکتا جب تک وہ دو چار جام اپنے اندر انڈیل نا لے۔

جب شرع کی بات آئے گی تو جائز اور ناجائز کے پیمانے شرع کے لحاظ سے قائم ہو جائیں گے۔ تب ہر انسان پہ حد لاگو ہو گی۔ مجھے بھی لکھنے کا شوق تھا تو میں یہ توجیح سن کے کانپ سا گیا۔ اُس دن سے اب تک یہ خواہش میں نے پرانے کپڑوں کی طرح تہہ کر کے کسی خاموش کونے میں سینت کر رکھ دی تھی۔ پر یہ کبھی کبھی اپنا آپ باور ضرور کراتی تھی۔

آج پھر میں جب سے فاتحہ خوانی کر کے فارغ ہوا تھا، تب سے مسلسل یہ خواہش سر اٹھا رپی تھی۔

پھر اچانک شعور میں ایک خلا سا محسوس ہوا اور اس خلا کی تختی پہ کچھ لفظ خودبخود کنندہ ہونے شروع ہو گئے۔

ایسے لکھا گیا کہ ہر تخلیق کار کسی نا کسی کیفیت کا محتاج ہوتا ہے۔ اس کیفیت کیلئے اُس کو کچھ مخصوص محرکات کی ضرورت ہوتی ہے۔ تمام حدود ان محرکات اور ان کی وجہ سے تخلیق ہانے والے فن پاروں پہ لاگو ہوتی ہیں۔ اگرچہ حد لاگو ہونی نہیں چاہیے مگر یہ سماجی ضرورت ہے۔ یہاں پہ تمام تخلیق کار اپنا اپنا فن جھاڑتے اور یہیں تک ختم ہو جاتے ہیں۔

ان سے آگے بھی ایک مرحلہ ہے جہاں تک صرف وہی پہنچتے ہیں جن کو اللہ کے فضل سے ضبط عطا ہوتا ہے۔ یہ ضبط ان کو ان تمام محرکات سے آزاد کر دیتا ہے۔ وہ ان تمام محرکات سے اپنی ضرورت کا احساس لے کر پھر ان سے آزاد ہو جاتے ہیں تب جا کر وہ اپنی تخلیق کو ایک شکل دیتے ہیں۔ ایک تو ان کی یہ تخلیق جاوداں سی ہوتی ہے اور دوسرا وہ اپنی تخلیق پہ ہمہ وقت قادر ہوتے ہیں۔ ان کا لکھا ہوا ادب تمام ادب سے ایک درجہ اوپر اور ممتاز ہوتا ہے۔ جیسے قدرت اللہ شہاب کا ادب دیکھ لو۔ جتنا لکھا، سب سے ممتاز اور ادب کے تمام پیمانوں کو پورا کرتے ہوئے بھی ان سب سے ممتاز ہے ۔اگر تم نے ادب تخلیق کرنا ہے تو اللہ سے ضبط مانگو اور ساتھ یہ بھی کہ کسی ایسے ادیب سے اللہ آشنائی بھی عطا کرے۔

تب سے اب تک مجھے لکھنے کا شوق نہیں رہا۔ اب یہی تلاش ہے جو لکھواتی ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

نوٹ: یہ ایک فرضی کہانی ہے۔

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *