اخلاقیات کا ماتم

کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ مجھے فوڈ پوائزننگ ہو گئی۔ ساری رات کرب میں گزارنے کے بعد صبح صادق کے وقت اللہ پاک کے فضل سے وومٹ ہوئی اور سارا زہریلہ مادہ جسم سے باہر نکل گیا۔ اس کے بعد سکون سے کچھ دیر نیند آئی اور پھر ہسپتال سے دوائی لایا اور الحمد للہ صحت بالکل ٹھیک ہو گئی۔

وقت تھا، گزر گیا۔ لیکن میں اُس کے گزرنے کے بعد دو تین دن یہی سوچتا رہا کہ کیسے ہمارے جسم میں خودکار نظام کو پتا چلا کہ زہریلا مادہ آ گیا ہے جسے معدے میں جانے سے روکنا ہے۔ اور پھر کیسے اینٹی پیراسٹالسز کے ذریعے اس کو جسم سے باہر نکال دینا ہے۔

بات یہیں تک ہوتی تو بھی سوچوں کا سلسلہ رُک جاتا۔ مگر بات بہت آگے گئی۔ ہوا یوں کہ مجھے یاد آیا ایک جگہ پڑھا ہوا کہ انسان کائنات کا پرتو ہے۔ سارے نظارے اور ذائقے اور ان سے جڑے تمام احساسات تو انسان کے اپنے اندر ہیں۔ بیرونی دنیا تو مادہ ہے بس جو وزن رکھتی اور جگہ گھیرتی ہے۔

تو میں اس نکتے پہ پہنچا کہ یقیناً ہماری ذات کے اندر بھی یہی اینٹی پیراسٹالسز کا عمل ہوتا ہو گا جس سے تمام زہریلی چیزیں ہمارے سامنے ابل پڑتی ہوں گی اور پھر ان کو ہماری ذات سے بے دخل کرنے کا نظام بھی ہو گا۔ روحانی بھل صفائی کا خودکار نظام بھی ضمیر کی زیرِ کمان کام کرتا ہو گا جس سے تمام تر ناہمواریاں ہمارے سامنے آکر ہماری قوتِ فیصلہ کو چیلنج کرتی ہوں گی۔

پھر یہی نظام شخص سے بڑھ کر معاشرے پر بھی اپلائی ہوتا ہو گا۔ اس بات کو ثابت کرنے کیلئے میرے پاس دلیل تو کوئی نہیں البتہ آبزرویشن ہے کہ مثال کے طور پہ جیسے آج کل سیاست اپنی اخلاقی قدروں کو ہمارے سامنے کھول رہی ہے، زہریلہ مادہ فرد کے سامنے آ رہا ہے۔ عام آدمی اپنے مستقبل کے فیصلے کیلئے اب ان تمام چیزوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ ماننا نہ ماننا اور بات ہے لیکن یہ سب کچھ اگلنا اور عام آدمی کی سطح تک اس شعور کا پہنچنا بھی فطرت کی خودکار شعوری بھل صفائی کا ایک حصہ ہے۔

اب اس سے اگلہ مرحلہ صفائی اور پھر سکون کا ہو گا۔ اخلاقی صفائی بہت ضروری ہے۔ ہر انسان اپنی انفرادی حدود میں اس بات کا پابند ہے کہ وہ اپنی اخلاقیات کی بھل صفائی کا عمل مسلسل اور جاری رکھے۔ اگر ایسا نہیں کر سکتا تو نا تو عبادات کا کوئی فائدہ ہے اور نا ہی معاشرے میں پندونصائح کے دفتر لگانے کا۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

نوٹ: میری کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی وابستگی نہیں۔ اوپر بات سمجھانے کو سیاست کی مثال دی ہے کہ کیسے اخلاقیات کھل کر سامنے آ رہی ہے۔ تمام لوگوں سے گزارش ہے کہ اخلاقیات کی تربیت کا اہتمام کریں اور کم از کم اپنے انسان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے جانوروں پہ رحم کھائیں، پودوں کو نقصان نا پہنچائیں اور سیاسی وابستگی کے پیشِ نظر اپنے نجی تعلقات خراب مت کریں۔ رائے کا فرق ہر کسی میں ہوتا ہے۔ یہ انسان کے شعوری ارتقاء کی دلیل ہے۔

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *