دکھاں دی روٹی، سولاں دا سالن

یہ شاید دسمبر یا جنوری کی بات ہے، پنجاب اس وقت شدید سردی اور دھند کی لپیٹ میں تھا۔ میں فجر کی نماز کے بعد ٹھٹھرتا ہوا تنویر الحسن صاحب کے آستانے تک پہنچا تھا۔ وہ بڑے لوگ ہیں، ان کا بڑا پن کہ انہوں نے مجھے اپنی مصروفیات سے کچھ وقت دیا تھا۔ جیسے ہی میں پہنچا، انہوں نے گرم گرم چائے سے تواضع کی۔ ایک مرید کو گرم نان اور مٹن سے ناشتہ تیار کرنے کا حکم دیا۔

میں بڑا چپ چپ اور باادب سا ہو کے بیٹھ گیا۔ اگرچہ میں اتنا باادب ہوتا نہیں ہوں مگر کیا کرتا، سردی ہی اتنی تھی کہ بولا نہیں جا رہا تھا۔ تعارف سے بات شروع ہوئی اور سلطان باہو رح کے کرم تک جا پہنچی۔ فرمانے لگے کہ ابھی کچھ دیر بعد ان کا شہزادہ دانہ ڈال کے آ جائے گا۔ اُس کو حکم ہے کہ سردیوں کے چھ ماہ ننگے سر ننگے پائوں اور ستر کے علاوہ بغیر کسی اضافی کپڑے کے فجر کے بعد پرندوں کو دانہ ڈالنے جایا کرے۔ لڑکپن کی عمر، اتنی شدید سردی اور کوئی ایک دو میل دور فجر کے بعد اندھیرے میں یہ حکم کی تعمیل، میں تو سن کر دل ہی دل میں شکر کر رہا تھا کہ میں اس راہ سے دور ہی اچھا۔

بتانے لگے کہ سلطان باہو رح کا بہت کرم ہے اور اس شہزادے کی تربیت بھی انہی کے زیرِ سایہ ہو رہی ہے۔ دل ہی دل میں مجھے سلطان باہو رح کی ہمسائیگی پہ بڑا رشک محسوس ہواکہ

جہاں جہاں بھی گیا ہوں فقیر بن کے تیرا

تیری نگاہِ کرم ساتھ ساتھ آئی ہے

خیر بات اُن کے کرم کی تو ہے ہی۔ مگر ظاہری دنیا کے اصولوں کو بھی اگر کسوٹی مان لیا جائے تو فقیر تمام تر دنیاوی پیمانوں کی چکی سے پس کر بنتا ہے۔ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ہر ہر لمحہ امتحان اور ہر ہر قدم پہ حدود سخت سے سخت تر ہوتی جاتی ہیں۔ علم اور عمل دونوں کسوٹیوں پہ پورا اترنا ہوتا ہے، پھر جا کے کہیں کچھ گوہرِ مقصود ہاتھ آتا ہے۔

ایک بار پھر بات کہیں اور نکل گئی۔

ہر درویش کی تربیت کا الگ طریقہِ کار اور الگ معیار ہوتا ہے۔ یہ طریقہ ہر ارادت مند کے لحاظ سے تبدیل ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے ایک ارادت مند کو سبزی کھانا منع ہو اور دوسرے کو صرف سبزی کی ہی اجازت ہو۔ یہ بات سمجھانے کیلئے کی ہے۔ سب سے پہلا قدم شرع کا ہے، اگر شرع مکمل ہے تب جا کے دوسرا قدم اٹھتا ہے اور یہ دوسرا قدم طریقت کا ہے۔ اگر شریعت اور طریقت دونوں پہلو انسان کی ذات کا حصہ ہیں اور ان دونوں پہلوئوں کو علم و عمل سے سینچا جا رہا ہے تو تب جا کے مومن کا لفظ وجود پاتا ہے۔

ورنہ سب راستے میں ہیں۔ جو جہاں دعویٰ کر جاتا ہے، وہ وہیں سے واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ باقی سب سر جھکائے، آنکھوں کو فرشِ راہ بنائے سوئے مدینہ رواں ہیں۔ جہاں سے عشقِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آبِ حیات سے روح سیراب ہوتی ہے اور انسان اپنے منبع کی طرف لوٹتا ہے۔

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ “جس نے اپنے آپ کو پہچانا ، اُس نے رب کو پہچانا”۔

خیر شہزادہ آ گیا۔ چہرے پہ ایک مسکراہٹ سجائے۔ میں نے بھی گرم گرم نان سے ناشتہ تناول کیا، تنویرالحسن صاحب نے اپنی دو کتب عنایت کیں اور میں واپس آ گیا۔ لیکن اب کبھی کبھی ایسے لگتا ہے کہ پرندوں کو دانہ ڈالنا واقعی بڑا مشکل کام ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ مردوں کا کام ہے۔ وہ میاں محمد بخش جہلمی رح کا ایک شعر ہے نا کہ

ہر مشکل دی کنجی یارو ہتھ مرداں دے آئی

مرد نگاہ کرے جس ویلے مشکل رہے نا کائی

اور حضرتِ اقبال رح نے تو بات کھول کے رکھ دی کہ

نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *