ترقی کی قیمت اور سوہنی کا بازار

گجرات میں ایک بازار ہے جسے یار لوگوں نے کبھی تاریخ سے غش کھا کر “سوہنی دا بازار” کا نام دے دیا تھا۔ لوگ چلے گئے، سوہنی بھی سنا ہے دریا کی نظر ہو گئی، اب تو بازار کو بھی پٹرول کے مونو آکسائیڈز والے دھوئیں نے کھا لیا ہے۔ لیکن کبھی کبھی یہ بازار آپ کی انگلی پکڑ کر چناب کنارے سوہنی کے کچے وقت کی سیر ضرور کراتا ہے۔

میں بھی ایسے ہی حالات سے مارا رات کے نو بجے رکشا اچانک یہاں رک جانے کیوجہ سے سڑک پہ اترا تھا۔ تازہ تازہ بارش ہوئی تھی تو سڑک پہ پانی تھا، میں فٹ پاتھ پہ ذرا اونچی جگہ کھڑا آسمان کو دیکھنے لگ گیا۔ آسمان بھی شاید نظر آ ہی جاتا لیکن آسمان سے پہلے اس عمارت نے مجھے مبہوت سا کر کے رکھ دیا۔

“راجپوت بھٹی بلڈنگ” نام کی یہ عمارت پاکستان بننے سے بہت پہلے کی تھی۔ ہو سکتا ہے اس کے باسیوں نے تب یہ عالی شان گھر اس لیے بنایا ہو کہ بازار ساتھ ہو گا، تاریخ کے ساتھ قدم ملا کر چل سکیں گے، پر شکوہ احساسات تلے نسلیں پروان چڑھیں گی ۔ پتا نہیں وہ باسی کہاں گئے اور وہ احساس بھی رکشوں کے دھوئیں اور شور تلے دب گیا۔ اس کے نیچے ایک ریڑھی والے نے بتایا کہ کوئی کرایہ دار ہیں یہاں اور بہت جلد اس بلڈنگ کی جگہ ایک پلازہ کھڑا ہو رہا ہے۔

میں سوچنے لگا کہ ترقی کی قیمت کم از کم ہماری تاریخ کو بیچ کر تو نہ چکائی جائے۔ حالانکہ مجھے پتا تھا کہ ہمیں اگر اپنی تاریخ سے اتنا پیار ہوتا تو پہلے پچاس ہجری سالوں کے بعد کا بھی کچھ نا کچھ ہم یاد رلھتے۔ لیکن شاید ہم وقت کے آزمودہ لوگ ہیں، ہم بہتے آئے ہیں۔

بالکل ایسے ہی جیسے کچھ عرصہ بعد یہ راجپوت بھٹی بلڈنگ ترقی کے دھارے میں بہہ جائے گی۔

کم از کم اپنے آپ سے اتنا سوال ضرور کیجیے گا کہ تاریخ کو کتنا مٹائیں گے؟ کب تک ماضی سے بھاگیں گے؟ اور کہاں کہاں سے ترقی کی قیمت چکائیں گے؟ وقت کا پہیہ تو کبھی نہیں رکتا، کیا آپ بھی اپنے آپ کو اس دھارے میں بہنے سے کبھی نہیں روکیں گے؟

اللہ ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *