رسالہِ روحی سے دعویٰ ِ سلطانی تک

آج صبح سے ہی زبان پہ ایک مصرع چل رہا تھا کہ “ہمیں سو بار ترکِ مئے کشی منظور ہے لیکن “ بلکہ مصرع نا کہیں، کیفیت کہیں تو زیادہ اچھا اظہار ہو گا۔ پتا نہیں لکھنے والے نے کس کیفیت میں لکھا ہو گا۔ مگر یقیناً قتیل شفائی اگر زندہ ہوتے تو میں ان سے پوچھتا اور وہ اس بات کا برملا اقرار کرتے کہ یہ ان کے احساس کی چند حسین ترین کیفیات میں سے ایک لمحہ تھا جب انہوں نے لکھا کہ “نظر اُس کی اگر مئے خانہ بن جائے تو کیا کیجے”۔

ہر فنکار اپنی تمام تر زندگی فن میں ڈوب کر گزارتا ہے مگر کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جب فن فنکار میں ڈوب جاتا ہے۔ ان لمحوں میں جس صنف کا بھی فن تخلیق ہو، وہ اپنے سامع، ناظر یا قاری پہ ہمیشہ فنکار والی کیفیت کا کچھ نا کچھ حصہ ضرور اتارتا ہے۔ میں نے واصف علی واصف کے کلام “نعرہِ مستانہ” پہ ایسے ایسے لوگوں کو بھی جھومتے دیکھا ہے جن کو مستانہ کا مطلب بھی نہیں پتا۔ یہ بس فنکار کی جاوداں کیفیت ہوتی ہے جس سے ہر کوئی اپنا اپنا حصہ وصول کر رہا ہوتا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ ہر فن کار کی زندگی کا حاصل بس چند یادگار اور لافانی قسم کے فن پارے ہوتے ہیں۔ باقیوں کا تو اُسے یاد تک بھی نہیں ہوتا ۔ بس یہی کیفیت کے چند لمحے اُس کی زندگی کا حاصل اور اُسکی پہچان ٹھہرتے ہیں۔ یہ اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ زمانہ اِسے نہیں مٹا سکتا۔

تو بات یوں ہے نا کہ جب اُس کی نظر مئے خانہ بنتی ہے تو ناں جنوں رہتا ہے اور نا ہی پری رہتی ہے، نا میں رہتا ہوں اور نا ہی تو رہنا ہے، بس بے خبری ہوتی ہے۔ اس چشمِ مستی عجبی سے کشید کردہ شرابِ شعور جب جسم و جاں کو اپنی گرفت میں لیتی ہے تو انسان نئے سرے سے تعمیر ہوتا ہے، صوتِ “ہو” پھونکی جاتی ہے اور یہ انسان اپنے آپ میں خود پھونکتا ہے پھر تب جاکے خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں جن کا ہاتھ اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے جوکہ غلب و کار آفریں، کارِ کشا اور کارساز ہو جاتا ہے۔

ایک اور بات اچانک یاد آ گئی کہ فیض اسی پاکیزہ کیفیت کے جاوداں ہو جانے کا نام ہے، جاری رہتا ہے، ہر پڑھنے والے کی راہنمائی ایسے ہی ہوتی ہے۔ مرنے کے بعد بھی فعال رہنے کا ایک پہلو یہ بھی ہے۔ رسالہِ روحی کا دعویِٰ سلطانی رح اب سمجھ آتا ہے مجھے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔آمین۔ بہزاد

ایک انجینئیر، سیاح، ادب کا طالب علم اور انسیانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کا مسافر۔ پاکستان پہلی محبت اور تصوف پہلا ضابطہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *