شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے

چلے جو ہو گے شہادت کا جام پی کر تم

رسولِ پاک نے بانہوں میں لے لیا ہو گا

سراج رئیسانی شہید ہوگیا۔ ایک ایسا انسان شہید ہو گیا جس کی پاکستانیت کا پورا پاکستان اور پاکستان دشمن طاقتیں بھی معترف تھیں۔ ایسا انسان اس ارضِ پاک پہ قربان ہوا جس نے اس وقت سبز ہلالی پرچم کو سینے سے لگائے رکھا جب بلوچستان میں اس پرچم کے لہرانے کا مطلب نوشتہِ اجل تھا۔

میں پنجاب کا ہوں، میری پاکستانیت یا انسانیت کے علاوہ یا ایک ٹورسٹ والی دلچسپی بس، اسکے علاوہ شاید کوئی خاص دلچسپی بھی نا ہو بلوچستان سے۔ میرا بلوچ قوم سے ایک ثقافتی رشتے کے علاوہ کوئی اور ایسا قابلِ ذکر رشتہ نا ہو جو اس قدر طاقت ور ہو کہ مجھے ایسا کچھ لکھنے پہ مجبور کرے۔

لیکن ایک چیز ایسی ہے کہ جس نے مجھ بلوچستان سے باندہ رکھا ہے۔ ہماری پاکستانیت، انسانیت، ثقافت الغرض کہ مسلمانیت بھی اس چیز سے جنم لیتی ہے۔

پھر آپ لوگوں کو یاد ہو گا کہ ایک دفعہ میں نے ایک پوسٹ لکھی تھی کہ حب چوکی سے لیکر کوئٹہ تک پاکستان کے تو شاید موبائل کے سگنل بھی کم کم آئیں مگر آل انڈیا ریڈیو واضح چلتا ہے اور اس پہ گمراہ کن پروپیگنڈہ کر کے بلوچ نسل کو پاکستان کے خلاف کیا جا رہا ہے۔

میں نے بلوچستان کے دونوں دور دیکھے ہیں۔ وہ دور بھی جب وہاں غیر بلوچ کو بسوں سے اتار کر سڑک پہ گولی مار دی جاتی تھی، جب بی ایل اے والے چلتی گاڑیوں پہ راکٹ داغ دیا کرتے تھے۔ میں اُس ٹرین میں بھی تھا جس پہ بی ایل اے کے دہشت گرد فائرنگ کیا کرتے تھے۔ جب آزاد بلوچستان کے نعرہ کے علاوہ کوئی بھی بات کا مطلب گولی ہوتا تھا۔

سراج رئیسانی وہ شخص ہے جس نے اُس وقت بھی اس زہریلے پروپیگنڈے کا الفاظ اور ہتھیار دونوں سے مقابلہ کیا۔

اور پھر وہ دور بھی جب بلوچستان کا امن واپس لوٹ آیا۔ سڑکوں کے کنارے آپ کو جلے ہوئے گھروں کی بجائے چھوٹی چھوٹی سرسبز آبادیاں، فٹ بال گرائونڈ اور دکانیں نظر آنے کگ گئیں۔ بلوچستان نے ترقی اور خوشحالی کا سفر شروع کیا۔ میں اکثر کہتا ہوں کہ اگر سڑک دیکھنی ہے تو بلوچستان کی دیکھو جہاں میرے جیسا بندہ بھی ۱۵۰ کلومیٹر فی گھنٹا کی رفتار سے کچھ اوپر ہی گاڑی چلاتا ہے۔ یہ دور اپنے ساتھ ایک مسلسل ، شفاف اور ہموار قسم کی سیاسی تبدیلی کا دور لایا۔

سراج رئیسانی اب اس سیاسی عمل میں شامل ہو کر پاکستان کی خدمت کرنا چاہتے تھے۔ وہ اسی مقصد کیلئے مستونگ تھے اور ایک جلسے کو ہی نشانہ بنایا گیا ۔ اس طرح بلوچستان ایک خوبصورت انسان سے محروم ہو گیا۔ بلوچ کی محرومی میں ایک اور اضافہ ہو گیا۔

تو جناب بات یہ ہے کہ بلوچستان وہ جگہ ہے جہاں سے اسلام اور اس کے تمام عملی پہلو برصغیر پاک و ہند میں داخل ہوئے۔ افغانی بادشاہوں کی شان میں قصیدے پڑھنے والوں کیلئے اتنا ہی عرض کروں گا وہ گندم لوٹنے آتے تھے پھر پورا برصغیر ہی لوٹ کر بیٹھ گئے۔ بلوچستان سے صاحبہِ کرام سے لیکر بعد میں صدیوں تک مسلمان اشاعتِ اسلام کی غرض سے داخل ہوتے رہے۔ بلوچستان میں جگہ جگہ عربوں اور اصحابِکرام کی قبریں اس بات کی گواہ ہیں کہ جیسے بلوچستان نئے پاکستان کا منہ ماتھا ہے بالکل ویسے ہی بلوچستان ہماری مسلمانیت کا من ماتھا بھی ہے۔

اور سراج رئیسانی جیسے لوگ اس حسین خطہِ بلوچستان کا منہ ماتھا ہیں۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ شہدائے مستونگ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں۔ اور تمام پاکستانیوں کو مسلمانیت اور پاکستانیت سے بہرہ مند فرمائیں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *