چوری نئیں پچدی

ایک دن کی ہے ہم کلب میں ٹریک پہ واک کر رہے تھے۔ اچانک میرا دست بات سنانے لگا کہ بچپن میں ایک دفعہ اُس نے مالٹے چوری کیے۔ گو کہ ابھی تک ہم نے کام چوری کے علاوہ کوئی خاص بڑی چوری نہیں کی تھی۔ میرے لیے یہ انکشاف اس لیے بھی حیران کن تھا کہ ہم نے اکثر ایسے کام اکٹھے ہی کیے تھے پر یہ اکیلی چوری اور وہ بھی مالٹوں کی۔ مجھے غصہ تو بہت آیا مگر پی گیا اور مکمل بات بتانے کا کہا۔

ہوا کچھ یوں کہ وہ اپنے ننھیال سے واپس گھر آ رہا تھا کہ راستے میں مالٹوں کا باغ دیکھ کر نیت بدل گئی۔ اُس دور میں کھٹے مالٹے کھانا بھی ایک فینٹسی ہوتی تھی۔ خیر اُس نے دائیں بائیں دیکھ کر جرآت کی اور دو مالٹے توڑ لیے۔ اب گھر میں تو مالٹوں کی تفتیش ہونی تھی تو اُس نے راستے میں ہی پکی نہر کے کنارے ایک سایہ دار درخت تلے مالٹوں کا پتہ صاف کرنے کا سوچا۔

جیسے ہی وہ مالٹے چھیل کر نہر کنارے ٹھنڈے ماحول میں کھانا شروع ہوا، پائوں پھسلا، خود کو تو بڑی مشکل سے سنبھال پایا مگر مالٹے نہر میں گر گئے۔ چوٹ بھی آئی۔

حسرت لیے آگے چل پڑا، راستے میں کزن ملا، اُس کو واقعہ سنایا تو اُس نے سرائیکی میں کہا کہ “تینوں نہیں پتا جو توانوں چوری نئیں پچدی؟” مطلب آپ کو نہیں پتا کہ آپ کے خاندان کو چوری ہضم نہیں ہوتی۔ وہ دن اور آج کا دن، میرے دوست نے چوری نہیں کی۔ یہ جملہ آجی بھی اُسی لمحے کی طرح زندہ و جاوید ہے۔البتہ کام چوری اور بات ہے۔

تو بات یہ ہے کہ جو انسان روحانی طور پہ پاکیزگی میں جس قدر داخل ہوتا جاتا ہے، اسی شرح سے اُس کا جسم و جاں حرام قبول کرنے سے انکاری ہوتا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں جو ایک بات کی جاتی ہے کہ تصوف میں حدود ہر قدم کے ساتھ سخت سے سخت تر ہوتی جاتی ہیں، اس بات کی وجہ یہی ہے کہ آپ کا جسم حرام کی طرف اٹھنے سے انکاری ہوتا جاتا ہے، اگر آپ اس مقام پہ کسی بھی قسم کی چوری کریں گے تو جسم کا اتنا ہی زیادہ اور سخت ری ایکشن سامنے آئے گا۔

عزت کا چلے جانا، جسمانی تکالیف، بیماریاں الغرض ہر ایسی ضرر چیز ہماری کسی نا کسی چوری کا نتیجہ ہوتی ہے جس سے حرام اپنا ری ایکشن کرتا ہے۔ اسی لیے ایک ولی کیلئے گناہ کا خیال بھی گناہ ہے۔

اب یہ چوری چیزوں، کام، خیال، وقت، الغرض زندی کے تمام معاملات پہ محیط ہے۔ ایک مقام پہ تو ایک سانس کا بھی ذکرِ الٰہی سے خالی جانا بھی سانس کی چوری ہو جاتا ہے۔ لیکن وک بہت بڑے مقام ہیں۔ ہمارے لیے تو شاید چوری کا ہضم نا ہونا بھی اللہ پاک کے بہت بڑے کرم تعبیر کیا جاتا ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔بہزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *