ساندل بار کے صندل سپنے

اگر کوئی آدمی پاکستان بننے سے پہلے والے معاشرے، ثقافت اور جغرافیہ کے احساس سے گزرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ ایک بار سرگودھا سے شورکوٹ تک ساندل بار ایکسپریس ٹرین سے سفر کرے۔ اس ٹرین میں صرف اکانومی کلاس ہوتی ہے اور حد رفتار ۶۵ کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ چار گھنٹے میں سرگودھا سے شورکوٹ پہنچاتی ہے۔

محرابی دروازوں والے اجڑے ہوئے ٹرین سٹیشن، بمبئی کی آئرن کمپنی کے بنے ہوئے چھت اور پانی کے ٹینک، پٹڑی کے اطراف دور دور تک چرتے ہوئے ساندل بار کے ارنے بیل اور بھینسے، ہر سٹیشن پہ لگے ہوئے بوہڑ کے درخت اور ان کے نیچے پانی کے نلکے، پھَکی اور اشیائے خوردونوش بیچنے والوں کا آنا جانا ، اور بوگیوں کی چھکا چھک انسان کو ایک مکمل دور سے گزار کر شورکوٹ اتار دیتی ہے۔

اگر آپ تھوڑے سے نظر ملا کر چلنے والے بندے ہیں تو جہلم اور چناب کے کنارے بسنے والیاں بوڑھیاں لاچے پہنے ، اور جوانیاں سرخی مائل گندمی چہرے اور ہیر سیالوی سے قد کاٹھ اٹھائے بھی آپ کی توجہ کا مرکز ضرور بنیں گی۔

پردہِ تخیل پہ جہلم کے آرپار بسنے والے گھڑ سوار ڈاکو دو نالی بندوقیں اٹھائے آپ کے ہمراہ چلیں گے اور پس منظر میں طالب درد راگ جوگ کی جوت جگاتا ہوا آپ کو مکمل طور پہ ساندل بار کے تاروں کی گرفت میں لے لے گا۔

جیسے ہی آپ شورکوٹ اتریں ، مائی باپ کو سلام کرنے کا ارادہ کر لیں۔ تمامتر تہذیب اپنی کثافت کا دامن چاک کرکے آپ کو صوتِ ہو کی جھولی میں ڈال دے گی۔ چناب کو سلام کرتے ہوئے اپنا آپ سلطان باہو رح کے حوالے کردیں اور ایک مکمل صدی آپ میں عود کر آئے گی۔

ثقافت اسی احساس سے گزرنے کا نام ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *