تیرے قدموں کے نشاں

وہ قبر ایسی جگہ پہ ہے جہاں سے ایک طرف سورج عصر میں داخل ہوتے ہی ریگستان کی اوٹ لینا شروع کر دیتا ہے اور دوسری طرف دربار شاہ سلطان رح نئے سرے سے روشن ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ماضی بعید سے لے کر چھ سال پہلے تک ہم اکثر قبرستان جاتے ، اِسی جگہ بیٹھ جاتے اور ایک طرف سے غروبِ آفتاب کی تصاویر اتارنا شروع کر دیتے اور دوسری طرف دربار کی۔ اُس وقت ہمیں موت و حیات کا اتنا ادراک نہیں تھا ۔ ہمیں بس تھل کے صحرا اور اُس کی آغوش میں واقع اس قبرستان کی خاموشی اور اس سارے منظر میں گرتے ہوئے سورج سے عشق تھا۔

یہ وہ باتیں ہیں جو میرے اور اُس کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا تھا۔ گھر والے، رشتہ دار ، دوست احباب اور باقی وسیب دار ہمیں شکوک کی حد کے القابات تک کہتے تھے لیکن ہمارا عشق بس ساز، اور درج بالا منظر تھے۔ اسی ٹیلے پہ بیٹھ کر ہمیں ایک شب رات کو ساری رات ڈھول پہ کافی بھی گائی تھی۔ یہ تمام احساسات ابھی تک اس ریت پہ زندہ ہیں۔

پھر یوں ہوا کہ عین اُسی جگہ اُس کی قبر بنی۔ وہ حادثہ شاید نفسِ مضمون پہ اداسی بکھیر دے، اس لیے حذف کر رہا ہوں۔

اب میں عین اُسی جگہ اُس کی قبر کے سر کی جانب بیٹھا ہوا اِسی احساس کے مارفیا تلے اپنی بہن کو بتا رہا تھا کہ موت بھی ایک حسین حادثہ ہے۔ اور اس حسن کی سب سے زیادہ تزئین اور سب سے زیادہ احساس پاکستان میں ہے۔ مر تو سب نے جانا ہے مگر میری دلی خواہش ہے کہ موت پاکستان میں آئے۔ اور اسی مٹی میں دفن ہوں۔

شاید آپ نے کبھی اس بات پہ غور کیا بھی ہو ، کس قدر خوب صورت منظر ہوتا ہے جب ہمارے وصال کی خوشی میں جو جو بھی خبر سنتا ہے، اُس کے اندر کی تڑپ اور روح کی اپنے منبع سے دوری کی اداسی عود کر آتی ہے، ہر آنکھ بے اختیار اشکبار ہوتی جاتی ہے اور صاحبِ وصل کی جانب دوڑے چلے آتے ہیں، نہلایا دھلایا اور دولہا بنایا جاتا ہے، دو رکعت نماز اور مغفرت کی دعا کے بعد اپنے کاندھوں پہ رکھ کر قبرستان لایا جاتا ہے، ہر بندہ چارپائی کو کاندھا دینے کو بیتاب ہوتا ہے۔ دفن کرکے قبر پہ کچھ دیر بیٹھنے کا حکم ہے تاکہ وصل کا کچھ احساس ہم پہ بھی اترے اور صاحبِ وصل بھی میلے سے اکیلا تک کا سفر آسانی سے طے کر لے۔

یقین کریں میں نے خود دیکھا ہے کہ میت کو ہار پہنائے جاتے ہیں، کلاہ لگائے جاتے ہیں، بالکل دولہا بنا کر قبر میں اتارتے ہیں۔ ہر چیز مذہبی نہیں ہوتی، کچھ چیزوں کا تعلق ہمارے اندر کے احساس، ثقافت اور نظریات سے بھی ہوتا ہے۔ مجھے نہیں پتا کہ مذہب کی رو سے یہ غلط ہے یا صحیح ہے، پر ایسا ہوتا ہے۔ اور مجھے ذاتی طور پہ موت کے یہ منظر بہت حسین لگتے ہیں۔ کیا پتا خالقِ کائنات بھی اپنے بندوں کے اس قدر حسین دنیاوی اختتام پہ مسرور ہوتا ہو۔ وہ تو خدا ہے، ادا پرست ہے۔ اُسکا محبوب بشر ہونے پہ مسرور ہے۔ تو خدا کو بشر سے کس قدر پیار ہو گا۔

عین اُسی جگہ اب اُس کا بیٹا موبائل کو بلکل اُسی انداز میں پکڑے دربار اور غروبِ آفتاب کی منظر کشی کر رہا تھا، میں اس سب منظر کا حصہ بنا بیٹھا تھا اور وہ عین اسی جگہ آسودہِ خاک تھا۔ شاید ہم تینوں چاروں ایک ہی احساس تلے مبہوت تھے۔ موت اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ دلہن بنی ہمارے سامنے رقص کناں تھی۔ شاید حسنِ ازل ابھی تک جاری ہے اور ابد اسی دلہن کے پردہ اٹھانے کا نام ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *