طوافِ کوئے ملامت

یہ ایک فرضی کہانی ہے جس کا حقیقت سے افسانوی سا تعلق ہو سکتا ہے۔ لیکن روایتوں میں بڑی حسین سی لگتی ہے۔

کہتے ہیں کہ میں جب بھی وہاں جاتا، اس جگہ سے ضرور گزرتا مگر پہلی ایسا ہوا کہ اس شخص نے مجھے آواز دی۔ بہت بڑے دفتر کا بہت بڑا افسر تھا، میں دبے پائوں اندر داخل ہو گیا تو مجھے بیٹھتے ہی وہ گویا ہوا “تم یہاں کیا لینے آتے ہو؟”۔

سچی بات تو یہ تھی کہ میں جب بھی مایوس ہوتا، ان افسرانِ بالا کی طرف چکر مارتا تھا تاکہ میری یہ خواہش جواں رہے کہ مجھے یہاں تک پہنچنا ہے۔ اس طرح میرے جسم و جاں اس نیم مردہ خواہش کے دوبارہ زندہ ہو جانے کی خوشی میں سانسوں کی کاٹھی کچھ دیر اور اٹھانے کے قابل ہو جاتے اور میں واپس آکر اپنے دفتر میں دوبارہ کام میں جُت جایا کرتا تھا۔

میں نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا کہ ادھر ٹی بار سے کچھ کھانے آتا ہوں۔ دفتر دور ہے اس لیے ویٹر وہاں کم ہی چکر لگاتے ہیں۔

میری بات کو ٹوکتے ہوئے گویا ہوئے کہ بھائی دو باتیں ہمیشہ یاد رکھو۔ آپ کا سوال آپ کے چہرے پہ ہمیشہ لکھا ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیشہ سچ بولو۔ ورنہ سمجھنے والا چہرہ پڑھ کر آگے بڑھ جائے گا۔

دوسری بات یہ کہ ہر خواہش کے تین درجے ہوتے ہیں۔ پہلے درجے میں خواہش ایک حسین سراب کی طرح انسان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ جب انسان مکمل طور پہ اس سراب کو قبول کر لیتا ہے تو پھر انسان اس سراب کو حقیقت سمجھ کر تمام تر توانائیاں اس پہ مرکوز کر دیتا ہے۔ اور نوے فیصد سے زیادہ لوگ اسی میں کھو کر زندگی گزار جاتے ہیں۔ کیونکہ یہ انسان کو تحریک دیتی ہے، آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے، زندہ رہنے کی امید دیتی ہے مگر یہ حقیقت سے ایک دو قدم پہلے دم توڑ دیتی ہے۔

تیسرے درجے میں انسان یہ سب کچھ کرنے کے بعد اس سب سے آزاد ہو جاتا ہے۔ یہ آزادی تب نصیب ہوتی ہے جب انسان فطرتی اصولوں کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال کر خالقِ فطرت کی تلاش کرتا ہے۔ علم کے تمام راستوں کو کھوجتا ہے تاکہ اس خالق کی طرف بڑھ سکے۔ مسلم دور کی تمام سائنسی، فلسفہ اور صرف و نحو کی ترقی اسی تیسرے درجے کی مرہونِ منت ہے۔

شاید یہ بھی ایک بہت بڑا پہلو ہے کہ صوفیاء اپنے دور کے مروجہ تمام علوم کے ماہر تھے۔

میں مبہوت بنا یہ سب سن رہا تھا تو میری حیرانگی کو بھانپتے ہوئے مجھے کہنے لگے کہ میاں! اپنے اصول تلاش کرو۔ جب حقیقی اصول مل جائیں گے تو پھر ان تمام چکروں سے آزاد ہو جائو گے۔ چاہے وہ چکر دفتروں کے ہوں یا خواہش کے۔ اپنے مقام کا تعین ضروری ہے۔ اور یہ تعین خواہش کے چکرے سے آزاد ہو کے کیا جائے تاکہ فطرت سے ہم آہنگی نصیب ہو۔

جب انسان فطرت سے ہم آہنگ ہو جائے تو پھر تمام علم، عمل اور رزق انسان پہ مسلسل اور مثبت طرز سے اترتا آتا ہے۔

اس دن سے آج تک پھر میں نے چکر نہیں لگایا۔ اب خواہشیں خود میرا طواف کرتی ہیں جبکہ میں مرکز پہ آزاد ہوں۔ تمام سمتیں اب میری ہیں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *