یک زمانہ صحبتِ با اولیاء

اگر آپ خوشاب سے مظفرگڑھ کا سفر کریں تو کوئی ڈیڑھ سو کلومیٹر تھل کے ریگستان سے جیسے ہی آپ نیچے اترتے ہیں، دربار سلطان باہو رح واقع گڑھ مہاراجہ آپ کو ضرور اپنی طرف کھینچتا ہے۔ یہ ایک طلسماتی جگہ ہے۔ آپ وہاں چاہے جس مقصد سے بھی جائیں، آپ کو یہ پاکیزہ سا احساس اپنی گرفت میں ضرور لے لیتا ہے۔

میں کچھ دن پہلے ایک دوست کے پاس بیٹھا یہی بات کر رہا تھا کہ جو لوگ درباروں پہ اس نیت سے جاتے ہیں کہ دربار والے سے مرادیں مانگیں گے، وہ بھی غلط ہے اور جو لوگ اسی بات کو بنیاد بنا کر درباروں اور اولیاء اللہ کا انکار کرتے ہیں، وہ بھی غلط ہے۔ یہ میری ذاتی رائے ہے جو کہ غلط بھی ہو سکتی ہے۔

میں یہاں وہ بات کرنا چاہتا ہوں جو مجھے محسوس ہوتی ہے۔

اور وہ یہ بات ہے کہ کسی بھی اللہ کے پیارے انسان کے پاس پاکیزگی کا ایک حلقہ ہوتا ہے۔ وہ جتنا متقی ہو گا، اسکا پاکیزگی کا یہ حلقہ اسی قدر بڑا اور پُراثر ہو گا۔ اولیاء اللہ کے ہاں اس بات کو خاص طور پہ محسوس کیا جا سکتا ہے۔

آپ جیسے ہی اس حلقے میں داخل ہوتے ہیں، اس میں موجود پاکیزہ خیال کی برکت سے آپ کی روح سکون میں آ جاتی ہے۔ آپ فاتحہ خوانی کرکے اس پاکیزہ احساس کو اپنی طرف مرکوز کر لیتے ہیں۔ اسی لیے حکم ہے کہ فاتحہ خوانی کے بعد کچھ دیر وہاں خاموشی سے بیٹھ کر اپنی توجہ کو صاحبِ مزار کی طرف مرکوز کریں۔ شاید یوگا کا تصور یہیں سے لیا گیا ہو گا۔

خیر آپ کی روح کی وہ کمزوری جو مادیت پرستی کی وجہ سے آن موجود ہوتی ہے، ختم ہونا شروع ہو جاتی ہے اور آپ پہ نیکی کا احساس اترتا ہے۔ عبادات کی طرف دل متوجہ ہوتا ہے۔ اسی لیے اولیاء کے مزارات کے ساتھ ملحقہ مسجد ضرور ہوتی ہے۔ اور سلطان باہو رح کے مزار پہ دن رات کے ہر ہر لمحے تلاوت، نوافل اور وظائف کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

اپنی سنیّت ، وہابیت اور شیعیت کو ایک لمحے کیلئے ایک طرف رکھ کر کبھی اس پاکیزہ احساس کو محسوس کریں۔ یہ ایسا خزانہ ہے جو درویش کی صحبت ہی مہیا کر سکتی ہے۔ اسی لیے اولیاء اللہ کے پاس مسلک کی کوئی قید نہیں ہوتی۔

کبھی اس احساس کیلئے اس جگہ کو ضرور وزٹ کریں چاہے ایک ٹورسٹ بن کر ہی۔ آپ کو بہت اچھا محسوس ہو گا۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *