مقبرے سے مزار تک

کچھ دن پہلے کسی مجبوری کے سلسلے میں ملتان قلعہ پہ جانا پڑا۔ لمحاتی پناہ کی خاطر ہم شاہ رکن عالم اور بہائوالدین زکریا رح کے مزار پہ چلے گئے۔

ایک بات بتاتا چلوں کہ یہ مزار مقبرے کا تصور مذہبی نہیں، معاشرتی ہے۔ ہمارے ہاں مذہب کے نام پہ مقبرے بنائے بھی جاتے ہیں اور گرائے بھی جاتے ہیں۔ جبکہ حقیقت میں یہ تصور ایسا ہے کہ معاشرے کے کسی بھی پہلو سے بڑے آدمی کا مرنے کے بعد مقبرہ تعمیر کردیا جاتا تھا۔

اولیاءاللہ کیلئے اور بادشاہوں اور دوسرے بڑے مسلمانوں کیلئے مقبروں کا تصور یہیں سے لیا گیا اور پھر یہ سلسلہ اب تک جاری و ساری ہے۔

یہ اور بات ہے جہانگیر کے مقبرے پہ چمگادڑوں کا بسیرا ہے جبکہ کسی کسی مقبرے پہ دن رات کا ہر ہر لمحہ تلاوت، نوافل اور وظائف کا سلسلہ جاری و ساری ہے، نہ جانے کب سے جاری ہے اور کب تک جاری رہے گا۔

یہ بات تو قلعہ کہنہ قاسم باغ کے پرشکوہ مزارات کو دیکھ کے یاد آ گئی۔ کہنا میں یہ چاہتا تھا کہ کسی بھی ولی اللہ کے پاس جس قدر شعوری بے سروسامانی کے عالم میں جا سکتے ہیں، جائیں۔ کیونکہ آپ کا برتن جس قدر خالی ہو گا، دینے والا اسی قدر جھولی بھر دے گا۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *