ناقدری سے محرومی تک

اگر مجھے یہ کہا جائے کہ رائج الوقت جرائم کی ایک فہرست بنائیں جس میں آپ کی سوچ کے مطابق سب سے بڑا سے لیکر سب سے چھوٹا جرم ایک ترتیب میں ہوں۔ تو میں سب سے بڑا جرم “بے قدری” یا “ناقدری” کو گردانوں گا۔

ہوا کچھ یوں کہ کچھ عرصہ پہلے مجھے رات کو دیر گئے بھوک لگی۔ باہر سڑک پہ ایک ڈھابہ دیکھا جہاں تازہ تازہ آلو کے پراٹھوں کی خوشبو آ رہی تھی۔ بہت آرام سے پودینے والی چٹنی کے ساتھ دو تین پراٹھے کھانے کے دوران پراٹھے پکانے والے کے ساتھ بھی گپ شب جاری رہی۔

میرے ساتھ اکثر ایسا ہو جاتا ہے کہ ایسے لوگوں کو میں باتوں میں لگا لیتا ہوں کیونکہ اکثر ایسے لوگوں کے پیچھے ایک پورا وقت ہوتا ہے، ایک مکمل کہانی ہوتی ہے جو انہیں یہاں تک لائی ہوتی ہے۔ پراٹھے والے کے ساتھ بھی یہی ہوا۔

مجھے اُس نے بتایا کہ وہ اپنے وقت میں کبڈی کا کھلاڑی رہا ہے، آج بھی پنجاب میں جو اس کھیل کے شوقین لوگ ہیں، وہ اس کے نام سے اچھی طرح واقف ہیں۔ میں اس کی باتوں اور پراٹھوں میں اس قدر محو تھا کہ نام تک پوچھنا یاد نہیں رہا۔ خیر بات جاری رہی۔

میں نے پوچھا کہ اگر آپ اتنے بڑے کھلاڑی تھے تو اس کھیل میں اتنا نام کمانے کے بعد اسی فیلڈ میں آگے کیوں نہیں بڑھے؟ تو اس نے کہا کہ یہ ہوٹل تو مجبوری اور رزقِ حلال کی نیت سے بنایا ہے۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ “بابو لوگ ! تم کیا سمجھتے ہو کہ جینا اتنا آسان ہے؟”۔

مزید میری حیرت کو بڑھاتے ہوئے اس نے کہا سپورٹس مین اتنا شفاف قسم کا انسان ہوتا ہے کہ وہ وقت کی چالاکیوں سے اکثر ہار جاتا ہے، ویسے بھی جس طرح کے حالات چل رہے ہیں، اتنے شفاف صفت انسانوں کے سب سے زیادہ بے قدری ہو رہی ہے۔

تب تو میں سر پکڑ کے بیٹھ گیا جب اس نے یہ بتایا کہ اُس کا استاد جو کہ ایشیا لیول پہ کبڈی کھیل چکا ہے، اِسی شہر اسلام آباد میں سیکورٹی گارڈ ہے۔

یہاں سے ہماری قومی ترجیحات کا پتا چلتا ہے۔ مغرب میں کھلاڑی، انٹرپرونیور اور پھر کاروباری لوگ سب سے زیادہ دولت مند اور صاحبِ اثر ہیں۔ ہمارے ہاں یہ طبقہ سب سے زیادہ ناقدری کا شکار ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ آج کہاں ہے اور ہم کہاں۔ باقی تو چھوڑیں، گھروں میں جب بچے سپورٹس کا نام لیتے ہیں، گھر والے ایسے ری ایکٹ کرتے ہیں جیسے کسی مکروہ فعل کی بات کی گئی ہو۔

خیر بات صرف اور صرف اتنی ہے کہ جب تک ہم اپنے درمیان اور اردگرد موجود ان چیزوں اور انسانوں کی قدر نہیں کریں گے جنہوں نے کہیں نا کہیں اپنا آپ منوایا ہے، ہم کبھی بھی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد نہیں رکھ سکیں گے۔ اور ان میں سپورٹس کا انہائی اہم کردار ہے۔ بس بچوں کے ذہن میں ترجیحات کلئیر ہونی چاہیں کہ کتنا وقت کھیل کا اور کتنا وقت کام کا ہے۔ یقین کیجیے بچوں کے ذہن میں موجود ساری نیگٹیویٹی کا منبع اپنی انرجی کو مثبت کاموں میں لگانے کے مواقع کا نا ملنا ہے۔

اور ناقدری سے بچیں۔ جو ہے کی قدر نہیں کریں گے تو سب چھن جائے گا۔ اور سب سے قیمتی چیز جو سب سے پہلے اس ناشکری کے نتیجے میں چھن جاتی ہے، وہ مثبت انرجی ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *