حسن سے احسن الخلائق تک

اس رمضان شریف میں میری زندگی میں شامل کچھ حسین لوگوں کی رخصتی ہو گئی۔ یقین کیجیے، میرا دل کر رہا ہے کہ اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر ادا کروں کہ جس قدر حسین یہ لوگ مجھے معلوم ہوتے تھے، اسی قدر حسین اوقات میں اپنے منبع کی جانب لوٹ گئے۔ شاید اللہ کی نظر میں بھی وہ لوگ اتنے ہی حسین تھے۔ رب دیاں گلاں رب جانے، میرا تو فقط ایک قیاس ہے۔

میں دکھ نہیں بانٹنا چاہتا کیونکہ مندرجہ بالا واقعات کو میں افسوسناک نہیں مانتا۔ تخلیق کار کو اپنی تخلیق سے اس کے حسن جتنا پیار ہوتا ہے۔ ہمیں تو اس بات کی خوشی منانی چاہیے کہ ایک خوبصورت انسان ایک خوبصورت انجام سے ہمکنار ہو گیا۔

شاید عرس منانے کی نظریاتی اساس یہی ہے۔

خیر ایک اور بات جو کہ مجھ پہ وا ہوئی کہ انسان کے انجام کا تعلق اس کے اندر کے حسن سے ہے۔ اِس میں مسلک ، جغرافیہ، حسب و نسب اور ایسے باقی عوامل کا اتنا خاص عمل دخل نہیں ہے۔ تخلیق کار کو ہر اس چیز سے پیار ہوتا ہے جو کسی نا کسی حوالے سے اُس کی تخلیق سے جڑی ہوتی ہے۔ اللہ پاک کی ذات کو کبھی تخلیق کار کی نظر سے دیکھیں، یقین کریں ایک رشک کا احساس انسان کے رگ و پے میں سرائیت کر جاتا ہے۔

پھر ایک اور چیز یہ بھی ہے کہ انسان کا حسن اس کے اندر کے احساس، باہر کی اخلاقیات، معاملات اور کائنات کی طرف نظریاتی جھکائو سے وجود پاتا ہے۔ اب اگر آپ کسی ایسے انسان کے قریب سے بھی گزریں گے تو آپ کے اندر وہ مثبت احساس خود بخود سرایت کر جائے گا۔ یہ سب کچھ ایک موج کی صورت میں حسین انسان کے اردگرد جاری ہوتا ہے، جو بھی اس دائرے میں داخل ہوتا ہے، خودبخود ہی اس رنگ میں رنگا جاتا ہے۔

شاید یہ بھی ایک وجہ ہے کہ میرا جھکائو زیادہ صوفیاء کی طرف ہے کیونکہ وہ اپنے وقت کے حسین ترین انسان رہے ہیں۔ ایسے لوگ آج بھی موجود ہیں لیکن ان تک پہنچنے کیلئے ان کے مقام جتنی کوشش تو ضروری ہے۔

خیر حسن کی بات ہو رہی تھی۔ وہ حسن کاری نہیں جس کی حسن کاری کرائی جاتی ہے۔ کاری تو وہ ہے جس کی کاری نہیں ہو سکتی، وہ بس احساس کے راستے انسان کی انتہاء تک سرائیت کرتا ہے اور پھر انسان کو ایسے ایسی حالت میں لے آتا ہے جہاں انسان نا تو تخلیق ہوتا ہے اور نا ہی تخلیق کار۔ مٹی اور گِل کے درمیان کی کسی حالت میں ہوتا ہے جہاں رب اُسے اپنے خصوصی قرب سے نواز رہا ہوتا ہے۔

بالکل ایسا ہی حسین دن آج کا دن ہے جو شام کو دریائے نیست میں شامل ہو جائے گا۔ بالکل ایسے ہی رب آج اپنے قرب سے نواز رہا ہے۔ ایسے ہی پاکیزہ ترین احساس انسان پہ بوند بوند اتر رہا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے سردیوں کے پہلے احساس کے ساتھ بندہ علی الصبح گھاس پہ واک کرتے ہوئے پھولوں پہ شبنم کے پہلے قطرے دیکھتا ہے، ایسی ہی وقت کی پتیوں پہ آج جیسے حسین دن براجمان ہیں۔

کم از کم کوشش ضرور کریں کہ ایسے حسین وقت میں اپنی زندگی میں شامل حسین لوگوں کے احساس کو ضرور جگہ دیں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *