حرف سے حُرمتِ حرف تک

وہ انہی قدموں زمین پہ ایسے بیٹھا جیسے پوست کا ڈھیر زمین پہ گٹھڑی ہو جائے، خشک تنکا اٹھایا اور خنک ریت پہ “حرف” لکھا۔ اور اس کی آبیاری کو دو آنسو گرائے۔

مجھ سے مزید صبر نا ہوا۔ پوچھا کہ ایسا کیوں؟

کہنے لگا “ہر دور میں اس دور کی سب سے قیمتی چیز پہ دھندھا ہوا ہے۔ کبھی زمین تو کبھی دولت تو کبھی عورت، ہر چیز پہ وقت نے دھندھا کیا ہے۔ بالکل اسی طوائف کی طرح جو سرِ شام سے ہی بکنا شروع ہوتی ہے اور صبح صادق تک بکتی ہے۔ ایسے ہی آج کے دور میں بھی یہی کچھ جاری ہے”۔

“ تم ! چاہتے ہو نا کہ لکھاری بن جائو، لوگ تمہیں ایک سچے لکھنے والے کے طور پہ جانیں۔۔۔؟”۔

میں حیرت سے اس کا منہ تک رہا تھا۔ میں نے تو بس اتنا کہا تھا کہ میرا لکھا کم از کم اپنے وقت میں پاکیزہ ہوتا ہے، چلتا کیوں نہیں؟۔

کہنے لگا “ آج کے دور کی سب سے قیمتی چیز “معلومات (Information) ہے۔ اور آج کے دور میں سب سے زیادہ دھندھا اسی پہ ہو رہا ہے۔ اس حمام میں کون نہیں ننگا؟ حرف پہ سب سے زیادہ حرف اسی دور میں آیا ہے۔ اور تم چاہتے ہو کہ حرف زدہ ہو جائو۔ یہ خواہش کی ہے۔۔۔ “۔

اس کے بعد تب تک میں ریت کو گھورتا رہا جب تک وہ چلا نہیں گیا۔ جب میں اکیلا ہوا تو تمام میڈیا ہائوسز ، بکے ہوئے علوم اور تحقیق کے سارے در مجھ پہ وا ہوئے ۔ مجھے لگا کہ شاید اس دور میں غلامی سب سے زیادہ، سب سے بڑی اور سب سے زیادہ پر اثر ہے۔

ذہنی غلامی جسے حرف کے ذریعے ذہنوں میں انڈیلا جا رہا ہے، اور جو کمایا جا رہا ہے، وہ بھی حرام کی ایک قسم ہی ہے۔ تبھی تو ہماری کیا، یوری دنیا کی معاشیات سود در سود کے ایسے جال میں پھنس چکی ہے کہ کوئی بھی ملک آزاد معاشیات کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔

خیر بات کہیں اور نکل گئی۔

مجھے بس جاتے جاتے دور سے اتنا کہا “ ہم نہیں چاہتے کہ دو لقمےحلال کے جو تمہیں میسر ہیں، وہ بھی چھن جائیں۔ آخر مر ہی جانا ہے نا، انہی پاکیزہ حروف پہ اکتفا کر لو۔ وقت خود ہی تراش لے گا۔ نا بھی تو کوئی فرق نہیں پڑے گا”۔

میں تب سے اب تک حرف کی حرمت پہ رُکا ہوں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رلھیں۔ آمین۔ بہزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *