مسلمان سے مومن تک

بہت عرصہ ہوا وہ اس تلاش میں تھا کہ اُسے مسلمان اور مومن کا فرق پتا لگ سکے۔ بڑے بڑے در پھرا، بڑے کلغی والے ملائوں اور پیروں سے مہنگا مہنگا وقت لیا مگر شنوائی نا ہو سکی۔ لفظی ترجموں سے فلسفہ کی تاریک گتھیوں تک سب کچھ سلجھا لیا مگر فرق پتا نہ لگ سکا۔

اور پھر ایک دن اُسے پتا لگ ہی گیا۔

ہوا کچھ یوں کہ اُس نے دفتر میں باس کو کوئی کام کہا جس کا اس کے منہ پہ صاف انکار ہو گیا۔ اور اتفاق کی بات ہے کہ اسی انکار کے بعد باس اٹھ کے نماز پہ جانے لگا تو جاتے جاتے اُس نے بڑا دل کر کے اپنے دل کی بھڑاس نکال ہی ڈالی کہ ایک طرف اتنی نمازیں اور دوسری طرف اپنے ماتحت کے چھوٹے سے کام سے بھی انکار۔

باس کے چہرے پہ مسکراہٹ سی پھیل گئی۔

اُس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور دو منٹ کیلئے رُک کر یوں گویا ہوا “ بھائی دیکھو! کلمہ پڑھ لینے سے انسان اسلام میں داخل ہو گیا۔ اس کے بعد اندر جو پوشیدہ ہے اور باہر جو ظاہر ہے، اس کے درمیان خلیج کو ختم کرنا ہی مسلمان سے مومن تک کا سفر ہے۔”۔

“مجھے تمہارے اس چھوٹے سے کام سے کچھ زیادہ نفع یا نقصان کی امید تو نہیں مگر ہاں، میرے اندر اور باہر کی بات کو برابر کر کے مجھے یہ امید ضرور لگ گئی ہے کہ کم از کم اگلی دفعہ آپ میرے اندر اور باہر کے بارے میں ٹھیک اندازہ لگا سکیں گے۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ درویش کے پاس انکار نہیں ہوتا مگر مومن کے پاس ہر چیز کا فیصلہ اس کے تمام تر دنیاوی اور دینی پہلوئوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔”۔

خیر جیسے ہی وہ اس انکار کے بعد دفتر سے باہر نکلا، ایک دوست کی کال آئی اور وہ چھوٹا سا مسئلہ سرے سے ہی ختم ہو گیا۔ لیکن مومن کا یہ طریقہِ واردات اس پہ پہلی دفعہ منکشف ہوا تھا۔ بیشک اللہ پاک کے نوازنے کے انداز نرالے ہی ہیں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *