حیات سے آبِ حیات تک

اس کائنات کے حسین ترین احساسات یا تازگی بخش ترین لمحوں میں سے ایک لمحہ وہ بھی ہے جب آپ تازہ ،شفاف ،ٹھنڈے بہتے ہوئے پانی میں ہاتھ پائوں یا جسم کا کوئی بھی حصہ بھگو کر اس ندی کے کنارے بیٹھے ہوں۔ اس لمحے بڑی سے بڑی پریشانی بھی آپ کی توجہ اپنی طرف نہیں کھینچ سکتی۔ یہ ایک تجربہ ہے۔ کر کے دیکھ لیجیے گا۔

مدعا یہ نہیں کہ پانی کی اہمیت تبائی جائے حالانکہ پانی حیات ہے۔ زندگی پانی سے ہے، زمین سے باہر سب سے زیادہ تلاش پانی کی ہو رہی ہے۔ مدعا یہ بھی نہیں کہ وادیِ پھنڈر میں بہنے والی ندی میرے خوابوں کی جنت ہے اور اس ندی پہ ایسے ہی پائوں لٹکائے گھنٹوں بیٹھ کر لکھنا میری زندگی کے حسین ترین لمحوں میں سے ایک ہو گا۔

یہ بھی بتانا مقصود نہیں کہ پچھلے بیس سالوں میں پنجاب میں پانی کی زیر زمین سطح سو فٹ نیچے گر گئی ہے اور دوسری طرف سے ہمارے اندرونی خلفشار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت نے ہمارے دریا تقریباً خشک کر دیے ہیں۔ یہ بھی میں نہیں بولنا چاہتا تھا کہ بارشوں کا تناسب جس طرح گر رہا ہے اور پہاڑوں پہ برف جس طرح پگھل رہی ہے، درجہ حرارت میں اضافہ اور درختوں کے مسلسل کٹائو نے حیات پہ ضابطہ تنگ کرنا شروع کر دیا ہوا ہے۔

بات صرف اور صرف اتنی سی ہے کہ پانی میں زہر گھولنا اپنی زندگی میں زہر گھولنا ہے۔ اس کو جتنا شفاف رکھیں گے اتنی ہی ہماری زندگی شفاف ہو گی۔

ہمارے اردگرد ایک پائی جانے والی غلط عادتوں میں سے ایک اور شاید سب سے نقصان دہ عادت یہ بھی ہے کہ ہم جتنا بھی کوڑا کرکٹ ، گھروں اور کارخانوں کا فضلہ الغرض سب کچھ ہی پانی میں بہا دیتے ہیں۔ چاہے ہم سیر پہ گئے ہوں یا گھروں میں ہو، ہم یہی کچھ کرتے ہیں۔ بس بہا دیتے ہیں چاہے جس قدر گندگی بھی ہو۔

خضدار میں شہر کی بیچوں بیچ ایک دریا بہتا تھا۔ جو لوگ بلوچستان سے ہیں یا خضدار دیکھا ہوا ہے، وہ میری بات کی تائید کریں گے۔ اس دریا کی وجہ سے وادی کی ایک شان تھی۔ سبزہ ہی سبزہ۔ پنجاب سے زیادہ اچھی سبزیاں اس وادی میں ہوتی تھیں۔ بنجر خشک پہاڑوں کے بیچ یہ وادی جنت نظیر تھی۔ پھر ہم نے دریا میں گند ڈالنا شروع کر دیا۔ دریا رکتا رکتا نالے میں تبدیل ہوا، پانی کھڑا ہونا شروع ہو گیا، قبضہ گروپ نے واٹرپمپ ڈال دیے، اور نالہ برساتی نالہ بنا، مچھلی اور پودے ختم ہوئے اور آج خضدار ایک بار پھر ویران سا ہو رہا ہے۔ یہ برساتی نلہ خشک ہو چکا اور ساری آبادی ایک بار پھر پانی پانی پکار رہی ہے۔

مجھے خضدار میں دوسال گزارنے کے دوران صرف ایک یہی حسرت رہی کہ کاش میں دریا کے جوبن میں اس حسین وادی کا حصہ بن سکتا۔

یقین کریں ہم میں سے جتنے لوگ شمالی علاقہ جات سیر کیلئے جاتے ہیں، ان کی پسند کو اگر گراف پہ ظاہر کیا جائے تو آدھا گراف پانی اور ندی نالوں کی پسند کو ظاہر کرے گا۔ باقی آدھی پسند میں پہاڑ، سبزہ اور جنگلی حیات شامل ہو گی۔ یقین کریں جس قدر تیزی ہے ہم پانی میں زہر گھول رہے ہیں، پچیس سال بعد شمالی علاقہ جات کا حسن بھی مانند پڑنا شروع ہو جائے گا۔

کم ازکم میں نہیں چاہتا کہ میری بیٹی بھی مجھ سے وہی سوال کرے جو میں نے اپنے والد صاحب سے کیا کہ آپ ہمارے حصے کی فطرت کا حسن خود کیوں استعمال کر گئے؟

یہی استدعا ہے کہ جو بھی جیسے بھی پانی استعمال کرے، کم از کم ایک بار اور استعمال جتنا چھوڑے۔ تاکہ پانی نسل در نسل چل سکے اور ہم اس دنیا کو دوزخ بننے سے روک لیں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *