قدیر گیلانی اور فطرت کی نگہبانی

یہ پوسٹ اپنے اندر ایک خراجِ تحسین بھی ہے اور ایک طمانچہ بھی۔ خراجِ تحسین ان تمام کیلئے جو ابھی بھی کچھ پرانے دور کے رکھ رکھائو اور روایات کے ساتھ جڑے ہیں اور اس کی بجا آوری میں کبھی کسی مشکل کو خاطر میں نہیں لاتے۔ طمانچہ ان کیلئے جو ابھی بھی کسی اہم کام کیلئے وقت اور وسائل کا انتظار کرتے ہیں۔

قدیر گیلانی جن کے آباء و اجداد کا تعلق کشمیر سے ہے اور ابھی لاہور میں رہتے ہیں۔ ان کے بڑوں کا مدفن کشمیر ہے۔ اپنی والدہ صاحبہ جو کہ شاید ابھی ساٹھ کے پیٹے میں ہوں گی، کی ایک خواہش کو پورا کرنے کیلئے انہوں نے عزم و ہمت کو ایک نئے حوصلے سے روشناس کراتے ہوئے خدمت کی ایک ایسی مثال قائم کی ہے کہ انسانیت اور بالخصوص پاکستانیت کو رشک ہے۔

خواہش کیا تھی؟ بس اپنے پُرکھوں کی قبروں پہ فاتحہ خوانی۔

بیٹے کے پاس ایک موٹر سائیکل تھی۔ لیکن عزم و ہمت سے مالامال تھا۔ ماں کی منت سماجت کی، بات منوالی اور ماں بیٹا کشمیر کیلئے نکل پڑے۔ راستے کی طوالت، عمر، تھکن، موسم، الغرض تمام فصیلیں عبور کرتے ہوئے وہ کشمیر سے ہو آئے۔ سیر بھی ہو گئی اور خواہش بھی پوری ہو گئی۔

بات یہاں نہیں رکتی۔

خدمت کا یہ انداز فطرت کو ایسا پسند آیا ہے کہ ان دونوں کو آغوش لے لیا ہے۔ یقین کیجیے یہ سب سمجھنا مادی حدود سے کچھ آگے کی بات ہے۔ جس وقت میں یہ کچھ لکھ رہا ہوں، وہ میری جنت “چترال” کے آس پاس فطرت کی ہمسفری میں ہیں۔ وہی ایک موٹرسائیکل، ایک ماں اور ایک بیٹا۔ باقی ہر سمت میں فطرت ۔

مجھے سمجھ نہیں آتی اس کو خدمت کہوں، عزم و ہمت کہوں، مہم جوئی کہوں، فطرت سے پیار کہوں یا پتا نہیں کیا کیا کہوں۔ مگر سچ یہی ہے کہ درج بالا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی یہ احساس اس تمام سے بہت بالا ہے۔ یقین کیجیے یہ سب کچھ افسانوی نہیں، حقیقت ہے۔ ایسی حقیقت جس کا احساس اس قدر پاک اور بے باک ہے کہ انسان اپنے آپ کو بہت دیر اس کے حصار میں محسوس کرتا ہے۔

میں اور میری بیوی اسلام آباد سے گوادر تک اپنی گاڑی میں مزے سے گھومے پھرے ہیں۔ مجھے پہاڑوں میں ڈرائیور کرنے سے ڈر لگتا ہے ورنہ شاید خنجراب تک جا پاتے۔ لیکن انشاءاللہ اب جائیں گے۔ مگر قدیر گیلانی کو میں اس وجہ سے بھی سلام پیش کرنا چاہتا ہوں کہ اس نے اپنے احساس اور پسند نا پسند سے بڑھ کر یہ کام کیا ہے۔ سلام ہے اس ماں کو جو بیٹے کی اس معصوم کوشش کو مان بخش رہی ہے۔

اور میں یہ سب کیوں لکھ رہا ہوں؟

کیونکہ یہ سب میں بھی کرنا چاہتا تھا لیکن نہیں کر پایا۔ کسی اور کو کرتا دیکھ کر اس قدر رشک آیا ہے کہ داد دیے بنا رہ نہیں پایا۔ ان تمام نامکمل حسرتوں کا ایک اظہار قدیر گیلانی نے مجھے عطا کیا ہے ۔ میں ان ماں بیٹا کا احسان مند ہوں۔

آئیے! اپنے خوابوں کو تعبیر دیں۔ وہ تعبیر جس میں ہمارے بڑوں کے خواب پنہاں ہوں۔ یقین کیجیے یہ بھی ایک قسم کی جنت ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *