فقیرنی

کل ہی کی بات ہے کہ میں اور میرا دوست افطاری لینے کیلئے گجرات کے سب سے بڑے اور مشہور کچہری چوک پر سموسے پکوڑے والی دکان پہ کھڑے تھے۔ اچانک میں نے دیکھا کہ میرے دوست نے تین چار سموسے زیادہ لیے اور سامنے کھڑی فقیرنی نما لڑکیوں میں بانٹ دیے۔

میں نے فوراً احتجاج ریکارڈ کرایا کہ یہ تو پیشہ ور ہیں اور میں کوئی دس بارہ سال سے ان کی یہی روٹین دیکھ رہا ہوں۔ اچانک میری نظر پڑی تو وہ فقیرنی نما لڑکی سموسہ اپنے دوپٹے کے پلو میں باندھ رہی تھی۔ میں نے دوست کا سر پکڑ کر اس طرف گھمایا اور کہا کہ یہ ان کے پیشہ ور ہونے کی تابوت کی آخری کیل ہے۔ میرا دوست بالکل خاموش رہا اور بہت بے دلی سے اس فقیرنی پہ نظر مار کر چہرہ دوسری طرف پھیر لیا۔

واپسی پہ گاڑی میں افطار سے پہلے والی متبرک خاموشی کو قربان کرتے ہوئے وہ دوست گویا ہوا” یار بہزاد! اگر بس میں ہو تو دنیا کی کوئی بھی عورت بھیک نا مانگے۔ مرد پھر بھی سمجھوتہ کر لیتا ہے مگر عورت اس قدر حساس تخلیق ہے کہ اس سے اپنی تضحیک برداشت نہیں ہوتی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ عورتوں میں خودکشی کا تناسب مرد سے زیادہ ہے۔”۔

“یہ عورتیں چاہے تم ان کو پیشہ ور کہو یا جو بھی، ان کی کوئی نا کوئی اس قدر بڑی مجبوری تو ہو گی کہ دس بارہ سال سے اپنی تمام حسرتیں قربان کرکے یہاں کھڑی ہیں۔ یقیناً ان میں سے کسی کا چھوٹا بچہ یا بہن بھائی یہاں نہیں ہو گا جس کیلئے یہ سموسہ چھپا رہی ہے۔ یار ویسے بھی ہر انسان کا معاملہ تو اللہ کے ساتھ ہے۔ تو کیوں فیصلے صادر کرتا ہے؟”۔

“ایک بات اور بھی کہ تو نے اپنے لیے تو پچھتر روپے کا ایک آم خریدا ہے۔ اگر دس کا سموسہ اس کو دے بھی دیا تو کیا فرق پڑے گا پچھتر یا پچاسی سے؟ کیا پتا کسی کو اس دس روپے سے فرق پڑ جائے۔۔۔”۔

میں تب سے اب تک حسرت اور مجبوری کے مابین ٹنگا ہوں اور وہ فقیرنی شاید اپنے دیوِ اشتہاء کو زیر کر بھی چکی ہوں گی۔ ویسے بھی ہمیں کیا فرق پڑتا ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *