تخلیق سے تعمیر تک

اگر انسان کی تخلیق کا بغور مطالعہ کیا جائے تو آدم کی تعمیر سے روح پھونکے جانے تک کا عمل بڑا پیچیدہ سا ہے۔ مٹی لانا، فرشتوں کا عکس دیکھنا، پھر آدم کا بت بنانا اور پھر اس کی تراش خراش کے بعد جا کر اللہ پاک نے اپنی روح پھونکی۔ اس تمام عمل میں اللہ پاک اور فرشتوں کے درمیان ہونے والے مکالمے بھی شامل ہیں۔

کوئی بھی صاحبِ کردار ان تمام مراحل سے گزر کر تعمیر ہوتا ہے۔ اور پھر وہ ایسا تعمیر ہوتا ہے کہ اس کا کردار ایک حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے جسے کسی بھی صورت جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ پھر وہ انسان ایسے ہی اپنے آپ کو ڈھانپ لیتا ہے جیسے انسان نے اپنا تن ڈھانپا۔ جو جس مقام پہ ہو گا، اس نے اتنے ہی پردے اپنے آگے لگا رلھے ہوں گے۔ کیونکہ کہ تمام دنیا سچ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ بعض اوقات قطب بننے کیلئے چوری لازمی ہو جاتی ہے۔

خیر بات کہیں اور نکل گئی۔

میں کہنا یہ چاہ رہا تھا کہ انسان کو اوائلِ عمر میں پیش آنے والی پریشانیوں سے کبھی بھی مایوس یا دلبرداشتہ نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ یہ آپ کی خصوصیات کی تعمیر کر رہی ہوتی ہیں۔ جب خصوصیت کی تعمیر ایک خاص مقام پہ پہنچ جاتی ہے تو پھر احساس عطا ہوتا ہے۔ اگر اتنا کچھ مثبت چلتا رہے تو پھر انسان کو اپنی ہستی کی طرف پلٹنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ اور اس طرح انسان اپنی پہچان کی طرف بڑھتا ہے۔

معاشرے میں انسانی شعور کی مختلف درجہ بندیاں ہیں۔ ہر انسان ہر درجے کیلئے نہیں پرورش پاتا۔ گو کہ یہ عمرانیات کا ٹاپک ہے مگر میں بس اتنا ہی کہوں گا کہ معاشرے میں ایک توازن ہر صورت قائم رہنا چاہیے اور رہتا ہے۔ اس توازن میں کچھ ہی ایسے لوگ ہوتے ہیں جو شعور کے یہ تمام مقامات عبور کر پاتے ہیں۔ اور ایسے تمام لوگ توازن قائم رکھنے کیلئے معاشرے سے بغاوت کرتے ہیں اور آگے بڑھ کر نئی حد بندیاں مقرر کرتے ہیں جو بعد میں معاشرے کیلئے معیار قائم کرتی ہیں۔

ایک بار پھر میں اصل بات سے ہٹ گیا۔

بات صرف اتنی ہے کہ ہر پریشانی اور مشکل کو اللہ پاک کی طرف سے آزمائش سمجھتے ہوئے آگے بڑھتے رہنا چاہیے۔ چاہے ایک قدم ہی کیوں نا ہو۔ بس کسی بھی جگہ پہ رکیں مت۔ ورنہ جب خون رُک جائے تو جاندار کو مردہ حرام قرار دے دیا جاتا ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *