یومِ مزدور

آج یکم مئی کو “یومِ مزدور” کے سلسلے میں پاکستان بھر چھٹی منا رہا ہے۔ کیسا حسن اتفاق ہے کہ جن کیلئے دنیا چھٹی منا رہی ہے، وہ آج بھی جہاں ہیں اور جیسے ہیں کی بنیاد پہ اپنا کام مکمل تندہی سے سرانجام دے رہے ہوں گے۔ یہ کائنات بہت سارے ایسے اتفاقات کا مجموعہ ہے۔

حیران ضرور ہوں گے کہ ہر تخلیق بھی تخیل کا اتفاق ہوتی ہے۔ جو یزداں سے ایسے ہی اتاری جاتی ہے۔

بات کہیں اور نکل گئی، میں مزدوروں کیلئے کچھ لکھنے بیٹھا تھا۔ کیونکہ صاحب لوگوں میں بندہ ایسے دنوں پہ کچھ بول یا لکھ کر زرا معتبر ہو جاتا ہے۔ ورنہ باقی ایسے کاموں سے کوئی خاص فرق نا پڑے۔

بہت کچھ سوشل، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پہ مزدوروں کے بارے کہا جا رہا ہے۔ ان کی قسمت بدلنے کے بلند بانگ دعووں سے لیکر ان کے کام اور ہنر کی تعمیر و ترقی کے خوابوں تک، سب کچھ آج بک رہا ہے۔ لیکن میرا ذاتی طور پہ ماننا ہے کہ ایک ایک سوال جو سب کی بنیاد اور سب سے زیادہ اہم ہے، اس طرف کسی کی توجہ ہی نہیں جا رہی اور نا ہی اس اہم پہلو پہ کسی نے کبھی توجہ دینے کی کوشش کی ہے۔

شاید ہم تمام لوگ بنیادی طور پہ جتنے باہر سے بڑے لگتے ہیں، حویلیوں ، پروٹوکولز اور ورک سپیسز کے توسط سے اندر سے اتنے ہی چھوٹے ہو چکے ہوتے ہیں۔ ہمیں انفرادی شخصی آزادی کے تصور کی بھی اشد ضرورت ہے۔

خیر بات اُس ایک مگر سب سے اہم سوال کی ہو رہی تھی۔

سوال یہ ہے کہ مزدور مزدوری کیوں کرتا ہے؟

بشمول میرے سب کا جواب ہو گا کہ پیٹ پالنے کیلئے۔ لیکن یہ جواب غلط ہے۔ میں نے بہت دفعہ بھیس بدل کر مزدوروں کے انٹرویوز کیے ہیں اور میں اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ جس قدر مزدوری ایک مزدور کرتا ہے، اس سے آدھی سے بھی کم مزدوری میں پیٹ پالا جا سکتا ہے۔ انسان بنیادی طور پہ انتہائی سہل پسند تخلیق ہے۔

تو پھر یہ آدھے سے بھی زیادہ مزدوری کیوں؟

جہاں تک میری عقل، تجربات اور سوچ کا تعلق ہے، میں سمجھتا ہوں کہ مزدور آدھے سے کم کام پیٹ پالنے اور باقی آدھے سے زیادہ کام عزت کیلئے کرتا ہے۔ عزتِ نفس، معاشرے میں عزت اور سب سے بڑھ کر اپنے اوپر انحصار کرنے والوں کی معاشرے میں عزت۔ ان میں مزدور کے ماں باپ، بہن بھائی، بیوی بچے شامل ہیں۔ یہ لوگ معاشرے میں سب سے نچلا طبقہ ہونے کی وجہ سے عزت کے معاملے میں انتہائی حساس ہوتے ہیں۔

قحط الرجال ہے کہ جتنے میں ان کی عزت بننی ہوتی ہے، اتنے پیسے تو ہم چائے میں اڑا دیتے ہیں۔ لیکن ان کی عزت کا پلن ہم سے نہیں ہو پاتا۔ اسلام آباد میں چائے خانہ کی ایک کپ چائے کی قیمت مزدور کی روزانہ کی عزت کی قیمت سے زیادہ ہے۔

باقی تو باقی رہ گیا، آپ کبھی ایک دفعہ مزدوروں کے ساتھ کھانا کھا لیں، یہ اس بات کو بھی عمر بھر ایک رشک اور تحسین کے احساس کے ساتھ یاد کیا کرتے ہیں۔ ہمارے تھوڑے سے وقت، لفظ اور اہتمام سے شاید ہمیں تو اتنا فرق نا پڑے مگر ان مزدوروں کو اس قدر فرق پڑجاتا ہے کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔

مجھے یاد ہے ہمارے گھر میں کام کیلئے ایک لڑکا آیا۔ نیا نیا تھا تو میری بیوی اسے کہنے لگی کہ فرض کرو آپ کا کام چوری اور بے ایمانی کا دل کرے، کتنی کر لو گے؟ یہی ایک دو ہزار؟ وہ لڑکا حیرانگی سے دیکھ رہا تھا کہ یہ کیسا سوال ہے۔ میری بیوی نے پرس سے ہزار روپیہ نکالا اور اُسے دے دیا اور ساتھ کہا کہ آپ ہمارے گھر میں کام کرتے ہیں اس لیے ہماری عزت ہیں آپ۔ آپ کا جب بھی ایسا دل کرے، مجھ سے ڈائریکٹ پیسے مانگ لینا مگر اپنی اور ہماری عزت کا پالن ضرور کرنا۔

وہ دن اور آج کا دن، ابھی تک اللہ پاک کے فضل و کرم سے ابھی تک ایسی کوئی نوبت نہیں آئی۔

تو آج کے دن اگر آپ کسی ایک مزدور کو عزت دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یقین کیجیے آپ عظیم انسان ہیں۔ انسان کو سب کچھ اللہ پاک کی ذات ہی عطا کرتی ہے، مگر کب اور کیسے کا فیصلہ ایسے ہی چھوٹے چھوٹے اہتمام سے ہوتا ہے۔ جب ایک انسان کو عزت دی جاتی ہے تو اللہ پاک کی ذات عزت کرنے اور کروانے والے، دونوں پہ رشک کرتی ہے۔

انسان کیلئے اس سے بڑا فخر کا مقام شاید کوئی نا ہو کہ اللہ پاک کی ذات اس پہ رشک کرے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *