ساز سے حدی خوانی تک

میں کچھ دن پہلے کسی سے بات کر رہا تھا کہ سرائیکی ادب پہ معاشرے کا ایک احسان یہ بھی جس نے اسے جاودانی عطا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے کہ اس میں عورت بہت دیر بعد آئی ہے۔ یہاں عورت سے مراد عورت فنکار نہیں۔ شاعرہ یا مغنیہ بھی نہیں۔

سسی کا استعارہ بھی عورت نہیں۔ گھنگھرو پہن کر فریادی بنی عورت بھی میری مراد نہیں۔ یہاں عورت سے مراد ممتاز ممفتی والی عورت ہے جو خاموش رہ کر بھی بولتی ہے۔ بڑی نازک سی بات ہے مگر سرائیکی کا اعجاز ہے۔

یقین کیجیے اگر انسانوں کو آج سمجھ آ جائے کہ ساز خوانی اور حدی خوانی میں کیا فرق ہے تو شاید انسان صدیوں کا سفر لمحوں میں کاٹنے لگ جائے۔ ہر کوئی اس کی تاب نہیں لا سکتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہ سب صاحبِ احساس تک محدود کر دیا گیا ہے۔ یہ ایک الگ دنیا ہے۔

خیر بات میں یہ کرنا چاہ رہا تھا کہ دریافت جو پہلے لمحے میں ہو جاتی، باقی ساری عمر تو اس کو ثابت کرنے میں لگ جاتی ہے۔ یہ سب کیسے ہو جاتا ہے؟ کیسے انسانوں پہ فطرت کے راز اترتے ہیں؟ وہ تمام راز جن کو فطرت کے اصول بھی کہا جاتا ہے، یہ سب کیسے انسانوں پہ آشکار ہو جاتے ہیں؟ اور انسان اپنی تمام عمر کسی ایک راز کے نام وقف کر دیتا ہے؟

تو یہ سب فرق اسی ساز اور حدی خوانی سے پڑتا ہے۔

حدی خوانی تب شروع ہوتی ہے جب ساز آپ کے اندر بجتا ہے۔ جب آپ تمام مادی اور جسمانی حدود سے آگے بڑھ کر احساس کا استقبال کرتے ہیں۔ جب انسان کا ہر ہر خلیہ اس لئے کو پکڑتا ہے اور پھر اگر حدی خوانی پہ سانسوں کے فیصلے ہوتے چلے جاتے ہیں۔

اور غمِ حسین رض کے بعد یہ دوسرا بڑا اعجاز ہے جو سرائیکی کے پاس ہے کہ یہ زبان انسانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں میں نہیں کھوئی۔ ایک آفاقی خیال جو کہ مٹی سے جڑے احساس سے پرورش پاتا ہے۔ یہاں لفظ سرائیکی کو کسی بھی آفاقی زبان سے تشبہہ دی جا سکتی ہے۔ اصل بات خیال کی پرواز کی ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *