وطن کی مٹی گواہ رہنا

جیسا کہ آپ تمام لوگوں کو اس بات کا بالکل علم نہیں کہ میں ہر ویک اینڈ پہ جی ٹی روڈ سے سفر کرتا ہوں۔ اسی طرح مجھے بھی اس بات کا بالکل علم نہ تھا کہ اگر آپ نے کسی قوم کو اجتماعی طور پہ دیکھنا ہو تو ان کی سڑکوں پہ سفر کر لیں۔ آپ کو اس قوم کی اجتماعی نفسیات کا مکمل طور پہ اندازہ ہو جائے گا۔

کبھی موقع ملا تو جی ٹی ڈائری کے عنوان سے ایک مکمل سلسلہ تحریر کروں گا۔

خیر بات میں یہ کر رہا تھا کہ جہلم سے پہلے والے ٹول پلازہ پہ حسن اتفاق سے ہمیشہ ایک ہی لڑکا ڈیوٹی پہ بیٹھا ہوتا ہے۔ اور وہ ہمیشہ میری گاڑی میں طالب درد کو سن کر ایک معنی خیز سی مسکراہٹ دیتا ہے۔ مجھے اس کا زیادہ تو نہیں پتا مگر شاید وہ حیران ہوتا ہو گا کہ میری ہیّت اور گاڑی میں طالب درد کا کوئی جوڑ نہیں بنتا۔

ایک دو دفعہ میرا دل کیا کہ گاڑی روک کر اس سے پوچھوں کہ میاں کیوں ہنستے ہو۔ مگر میں ایسا نہیں کر سکا۔

میں تو اُسے اتنا بھی نہیں بتا سکا کہ انسان چاہے امیر ہو یا غریب، بڑا ہو یا چھوٹا، بھوک پیاس اور احساس تمام کا ایک جیسا ہوتا ہے۔ تمام انسان برابر ہیں۔ دنیاوی فرق صرف اور صرف ذمہ داری کا ہے جبکہ اخروی فرق صرف اور صرف تقویٰ سے ہے۔ باقی تمام انسانوں کی آنکھوں میں آنسو ایک جیسے آتے ہیں ماں کی گود میں سب کو ایک جیسا سکون ملتا ہے۔

کبھی مجھے موقع ملا تو اسکو یہ ضرور بتانا چاہوں گا کہ انسان جس قدر حساس ہو ، اپنی بنیادوں سے اسی قدر جڑا ہوتا ہے۔ ان بنیادوں میں اس کے گائوں کی مٹی کی خوشبو، بوڑھوں کی شفقت اور احساس کے ساز شامل ہوتے ہیں۔ ہاں احساسِ کمتری کے شکار معاشرے میں یہ سب دفنا دیا جاتا ہے اور انسان انگریزی زدہ کھوکھلی زندگی گزار کے چلاجاتا ہے۔ ہر ہر لمحہ اس کے اندر ہیجان بڑھتا ہے اور انسان مصنوعی چیزوں میں پناہ ڈھونڈھتا نظر آتا ہے۔

لیکن مجھے پتا ہے کہ نا تو میرے بتانے سے اس لڑکے کو کوئی فرق پڑے گا اور نا ہی مجھے۔ کیوں کہ ہم تمام من حیث القوم ابھی تک وہ قومی سوچ پروان نہیں چڑھا سکے جس سے ہماری مٹی سے جڑا فخر ہمیں اپنے ساتھ قدم قدم پہ محسوس ہو۔ ایک اور بات یہ بھی ہے کہ کوئی بھی قوم اُس وقت تک قوم نہیں کہلا سکتی جب تک اس کی مٹی سے جڑے اجتماعی احساس کا فخر اس قوم کے ہر ہر فرد میں پروان نا چڑھ سکے۔

میری بہت شدید خواہش ہے کہ اللہ مجھے موقع دے اور میں اپنے وطن سے جڑے ہر ہر فخر کو دنیا کے سامنے پیش کر سکوں۔ صرف ایک چیز پہ غور کریں کہ سب سے زیادہ سکون دینے والا رنگ سبز اور سفید ہے۔ اور یہی رنگ ہمارا ہے۔ اس ملک کے ذرے ذرے میں خورشید کا سا سماں ہے۔ بس ہم نے کبھی غور ہی نہیں کیا۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *