گمان سے ایمان تک

ابھی کچھ ہی دیر پہلے گائوں کے ایک دوست سے بات ہو رہی تھی۔ کہنے لگے کہ اس دفعہ گندم کی اوسط کم ہوئی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ تو بڑا نقصان ہو گیا ہو گا آپ جیسے چھوٹے زمینداروں کا۔ تو کہنے لگے کہ ہمارے لیے برابر ہے۔

میں یہ جواب سن کے بڑا حیران ہوا کہ نفع نقصان برابر کیسے ہو گیا؟

کہنے لگے کہ پہلے پچپن من فی ایکڑ تھی تو پندرہ بیس من بیماریوں اور پریشانیوں میں نکل گیا۔ اب اللہ کو پتا ہے کہ پینیس من ہے، تو بیماریاں اور پریشانیاں بھی تو وہ اُسی حساب سے دے گا نا۔

کس قدر سادہ ایمان ہے اور خوشی سے اس کا چہرہ تمتا رہا تھا۔ جبکہ میں ابھی تک آنکھ نم کیے اس کے ایمان پہ رشک کر رہا ہوں کہ اس قدر تیقن والے لوگ بھی ہمارے معاشرے میں موجود ہیں۔

یقین کیجیے اللہ پاک کا انسانوں کے ساتھ معاملہ گمان کا ہے۔ جیسا سوچوں گے، ویسا ہی پائو گے۔ سادہ لوح چھوٹا زمیندار شاید مجھ جیسے بڑے افسر سے کہاں زیادہ ایمان والا اور تشکر کی منازل بہت پہلے طے کر چکا ہے۔

جبکہ میں ابھی تک شک اور دلیل کے مابین ٹنگا ہوا ہوں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *