ہیر سیال سے شکوے

اگر کسی کو ہیر رانجھا داستان سے کچھ شغف رہا ہو تو اسے رنگپور کے لفظ سے ضرور واقفیت ہو گی۔ یہ دریائے چناب کے کنارے بڑا رومانوی سا قصبہ ہے جس کے ایک طرف دریا اور دوسری طرف صحرا ہے۔ ایک طرف جھنگ اور دوسری طرف ڈیرہ غازی خان کے بلوچوں کی ثقافت کا ایک حسین سنگم بھی ہے۔ یہاں اکثر داستانیں جنم لیتی رہتی ہیں۔

جھنگ کی تہذیب عورت سے عبارت ہے جبکہ ڈیرہ وال بلوچ مرد سے عبارت ہے۔ اگرچہ دونوں فریقوں کا حصہ رہا ہے مگر ادب میں نام جھنگ کی مٹیار نے رانجھا چرا کر اور بلوچ نے سسی کو چھوڑ کر کمایا ہے۔ رنگپور کا باسی ہونے کے واسطے مجھے انسانی نفسیات کے ان دونوں پہلوئوں کو بڑا قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔

میری بات کو مذہب کے پیمانے میں نا تولا جائے کیونکہ مذہب کی حد بندیوں میں شاید اس کی گنجائش نا نکل سکے۔

خیر بات یہ ہے کہ حوا کی بیٹی ہو یا آدم کا بیٹا، فرق صرف اور صرف اس چیز سے پڑتا ہے کہ بھوک کس کو لگی ہے۔ یہ بھوک جسمانی بھی ہو سکتی ہے، جذباتی بھی اور جنسی بھی۔ اور اس بھوک کو مٹانے کیلئے ہر مذہب اور معاشرے نے قوانین بھی وضع کیے ہیں۔ ہم اکثر ان قوانین سے انحراف کرتے ہیں، عمل بھی کرتے ہیں۔ لیکن اگر معاشرتی پیمانوں کو دیکھا جائے تو اس بھوک کے اثرات بڑھ رہے ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے “کھانا خود گرم کر لو” والا ٹیگ بہت مشہور ہوا۔ اور اس کی ایسی ایسی توجیہات پیش ہوئیں کہ عقل تو کیا، نفسیات بھی دنگ رہ گئی۔ بات سادہ سی تھی کہ عورت کی بھوک من حیث القوم نہیں مٹ رہی۔ اس لیے وہ اب خود اس راہ پہ چلنا چاہتی ہے۔ کسی نے اتنا سوچنے کی زحمت نہیں کی کہ اس کا ذمہ دار مرد ہے۔

بات عورت کی آزادی کی نہیں، بیرونی ایجنڈے کے آلہِ کار بننے کی بھی نہیں، عورت کو سیکس سمبل کے طور پہ پیش کر کے اس پہ خونخوار جانوروں کی طرح جھپٹنے کی بھی نہیں، بات تو صرف اتنی ہے کہ کوئی بھی تب تک گھر سے باہر نہیں نکلتا جب تک اسے ضرورت نا پڑے۔ اور بھوک انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

مرد عورت کی وقت پہ شادی کے فرض میں ناکام رہا ہے، اسے معاشرے میں مقام دینے میں ناکام رہا ہے، اسے تعلیم و ترقی کے میدان میں جگہ دینے میں تنگ نظر رہا ہے۔ ہم لوگ چاہے مانیں یا نا مانیں، ہم ابھی تک اسی جاگیردارانہ سوچ اور مغرب سے مستعارہ شدہ احساسِ کمتری کے سنگم پہ کھڑے ہیں۔

ورنہ عورت تو بس “وفا” کے لفظ سے عبارت ہے۔

یہ اور بات ہے کہ عورت کچے ذہن کی کم ذوقی سے مرعوب نظر آتی ہے۔ لیکن کھانا خود گرم کرنے سے اتنا فرق پڑنا نہیں جتنا عورت چاہتی ہے۔ ہر کسی سے اس کی حدود کے بارے میں سوال ہو گا۔ اور عورت اپنی حدود کی پابند ہے اور مرد اپنی حدود کا پابند ہے۔

بس ہمیں سوچنا یہ ہے کہ کیا ہم اپنے زیرِ کفالت کی ہمہ قسمی بھوک کا مناسب انتظام کر رہے ہیں یا نہیں۔ ورنہ بھوک میں حرام حلال کی تمیز جاتی رہتی ہے اور انسان کے پاس کف افسوس ملنے کے علاوہ کچھ نہیں بچتا۔

ہاں یہ اور بات ہے کہ تمام رومانوی لوک داستانیں کسی نا کسی بھوک کا مقدس اظہار ہیں اور ہمیں جھنگ کی ہیر کو بھی زندہ رکھنا ہے اور بلوچ وال کو بھی تاکہ معاشرے کا حسن بھی ایک توازن میں رہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *