اسلام کا احیاء

اگر آپ میں سے کسی نے کبھی سانپ مارا یا مرتے دیکھا ہو تو اس چیز پہ ضرور توجہ دی ہوگی کہ سانپ مرنے سے پہلے ایک دفعہ پوری جان سے اٹھتا اور مارنے والے پہ حملہ کرتا ہے۔ یہ اس بات کی نشانی ہوتی ہے کہ اس کو گہری چوٹ آئی ہے اور اب جانبر ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔

یورپ ، امریکہ، آسٹریلیا وغیرہ میں انڈر گرائونڈ ایکٹویٹی جیسے “مسلمانوں کو تنگ کرنے کا دن” یا “مسلمانوں کو مارنے کا دن “ بالکل اسی مرنے والے سانپ کے آخری حملے کی طرح ہیں جو اب جانبر ہونے کے امکانات کھوتا جا رہا ہے۔

آپ لوگ یہ جان کر حیران تو ضرور ہوں گے کہ دورِ حاضر میں اسلام پہ جتنی تحقیق گورے نے کی ہے، ہم اس کا عشرِ بھی نہیں کر سکے۔ تحقیق کرنا تو دور کی بات، ہم گورے کی اس پالیسی کو بھی نہیں سمجھ سکے کہ وہ اسلام کے ساتھ کرنا کیا چاہ رہا ہے۔

ایک بات کرنا چاہتا ہوں، ہم آج تک یہی سمجھتے آئے ہیں کہ یہودی اور نصرانی ہمیں اسلام سے دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر حقیقت تو یہ ہے کہ انہوں نے اس قدر تحقیق کے بعد اسلام کی ایک نئی شکل وضع کی اور ہم مسلمانوں کو اپنی اُس نئی تحقیق والے اسلام کے چوکھٹے میں فٹ کرنا ان کا اصلی مقصد ہے جس پہ بیسویں صدی میں مکمل دلجمعی سے کام ہوا اور وہ اس میں بہت حد تک کامیاب ہوئے۔ اکیسویں صدی نے اس چیز کو انتہا تک دھکیل دیا ہے اور ہم ان کے وضع کردہ اسلام میں بالکل ایسے ہی گرے ہیں جیسے اندھا کنوئیں میں گرتا ہے۔

اسلام کی یہ شکل فرقہ پستی اور انتہاء پسندی سے عبارت ہے۔ لفظی عبادات اور توہمات بھی اس کا ایک اہم جزو ہیں۔ باقی رہی کھہی کسر دہشت گردی کے اس عفریب نے پوری کر دی ہے جو ہم پہ عالمی منظر نامے میں مکمل طور پہ لیبلائز کر دیا گیا ہے۔ بات تلخ ہے مگر حقیقت ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارا دینی طبقہ ابھی تک اس حقیقت کو قبول کرنا تو دور کی بات، سمجھنے سے بھی قاصر ہے۔ باشعور لوگوں کی خاموشی بھی اس پہلو پہ مجرمانہ ہے۔

اب گورے کے ہاں جو یہ مسلمانوں کے ساتھ نفرت زدہ کام ہو رہے ہیں، وہ بھی اسی اسلام کی ایک نفسیاتی کڑی ہے۔ نصرانیت اور الحاد کا عام آدمی اس نفسیاتی الجھن میں انتہا پسندی کا شکار ہو کر مسلمانوں پہ حملے کر رہا ہے۔ اور یہ حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس خود ساختہ اسلام کے اب آخری دن ہیں اور حقیقی اسلام پلٹنے کو ہے۔ کیونکہ انسان اس بات کو سمجھے نا سمجھے مگر حقیقت یہی ہے کہ محدود ذہن محدود منصوبہ سازی کر رہا ہے اور خدا کے قوانین اور اقدامات لامحدود اور لامتناہی منفعت کے حامل ہیں۔

نصرانیت اور یہودیت کے تمام مذہبی نفسیات کے انڈیکیٹر اس بات کے واضح اشارے دے رہے ہیں کہ اب اس حقیقی اسلام کو مزید روکنا ناممکن ہے۔ چاہے جس قدر قتل و غارت کرا لو، جتنا مرضی اس حقیقی چہرے کو مسخ کر لو، جتنا مرضی مسلمانوں کو بہکا لو، مگر حقیقت کو تبدیل کرنا ناممکن ہے۔ اس اس کا احیاء بھی یورپ سے ہی ہو رہا ہے۔ مسلمانوں کی وہاں آبادی، ںطم و ضبط اور تربیت اس بات کی عکاس ہے کہ ان مسلمانوں کو اللہ پاک کامرانی سے نوازنے والے ہیں۔

رہی بات پاکستان کی تو یہ ملک اسلام کا چہیتا سا ہے۔ اپنی غلطیوں سے اب پاکستان کو سیکھنا چاہیے کیونکہ پاکستان پہ اللہ پاک کی عطا اس قدر ہے جس کے بیان کیلئے لفظ کم پڑجاتے ہیں۔ قدم بہ قدم یہ ملک اب امن اور سلامتی کی طرف لوٹ رہا ہے۔ وہ سلامتی جس سے اسلام کا لفظ اور مفہوم عبارت ہے۔ لوگوں کا شعور اس بات کو اب کچھ کچھ قبول کرنا شروع ہوا ہے کہ رائے کو بڑھانا، سوچ کے فرق کو قبول کرنا اور ایک بڑے عالمی منظرنامے میں اپنے آپ کو رکھ کر دیکھنا ہے۔ آج بھی میں نے اپنی آنکھوں سے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو ساری ساری رات خدا کے حضور گڑگڑا کر پاکستان کی سلامتی مانگ رہے ہیں۔ ہمارا ایک مقام ہے جسے ہم نے حاصل کرنا ہے۔اور یہ وقت اب دور نہیں۔

سانپ کو مرنے دیں۔ یہ اپنی موت آپ مر رہا ہے۔ آپ اپنی توجہ صرف سلامتی پہ رکھیں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *