یومِ پاکستان: تجدیدِ عہد کا دن

پانچ سال پہلے کی بات ہے، میں، بڑا بھائی اور ابو گنڈا سنگھ بارڈر پہ خاموش کھڑے تھے۔ ہم اتفاقاً وہاں تک پہنچے تھے مگر اس جگہ کا احساس جو ہم پہ طاری ہوا، وہ کسی طور پہ اتفاق نہیں تھا۔ ایک بات بتاتا چلوں کہ میرے والد صاحب مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش تک والی جنگ میں شامل رہے ہیں۔ اور میرے ابو کے استاد تحریکِ پاکستان کے نہایت اہم اور مظفرگڑھ کے بہت سرگرم رکن رہے ہیں۔
ابو جی نے بارڈر کے گیٹ پہ ہاتھ رکھا، خاموشی کو توڑا اور کچھ یوں گویا ہوئے ” بیٹا! ہم نے پاکستان کو وراثت نہیں، نظریہ اور قربانی سے حاصل کیا۔ ہم اور ہمارے بزرگ ایسے آزاد پیدا نہیں ہوئے تھے، ایسے آزاد اذان نہیں ہوتی تھی اور ہر جگہ حلال کا تصور اس قدر آسان نا تھا۔ “۔
ابو جی ایک منٹ کو خاموش ہوئے اور ہماری استفہامی نظروں سے دوبارہ گویا ہوئے ” ہم پہلے ہی اپنا آدھا حصہ گنوا چکے ہیں۔ بیٹا مجھے اس بات کا دکھ تو بہت ہے۔ ہاں اس دکھ سے بڑی ایک حسرت ہے کہ اللہ پاک ہمیں اپنی آنکھوں سے وہ وقت دکھائے جب ہم دشمن کی آنکھوں میں اسی مقام پہ بیٹھ کر آنکھیں ڈال سکیں اور بات کر سکیں جس طرح دشمن نے 1971 میں ہمارے ساتھ بات کی۔ بیٹا! اگر ہم وہ وقت نا دیکھ سکے تو کم از کم آپ ضرور دیکھنا۔ ہماری روح کو سکون ملے گا۔”۔
یہ ایک سادہ لوح آدمی کا احساس اور خواہش تھی۔ وہ آدمی جس کی ایک گھر اور بنیادی ضرورت سے زیادہ کوئی خاص خواہش نا تھی۔

تجدیدِ عہد کا دن

تو بات یہ ہے کہ پاکستان ایک ایسی حقیقت ہے جو مادی اور غیر مادی دونوں دنیائوں میں ایک جیسی شان اور مستقبل کے ساتھ موجود ہے۔ مجھے محلوں، بڑے دفتروں، جھونپڑوں الغرض زندگی کی تمام سطوحات کو دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ درویش بھی پاکستان کا نام لیتے ہیں، سرمایہ دار بھی، سیاست دان بھی اسی ملک کا نام لیتے ہیں اور بیوروکریٹ بھی۔ یقین جانیے! لوگ انفرادی سطح پہ شاید کچھ لمحوں میں بھٹک تو سکتے ہیں جوکہ انسانی فطرت کا خاصہ ہے مگر مجھے ایمان کی حد تک یقین ہے کہ ان کے اندر پاکستان نام کی حقیقت کا وجود ضرور ہے۔
اگر باہر کی بات کریں تو اس وقت تمام عالمِ اسلام کی نظروں کا محور بھی پاکستان ہے۔ باقی مسلمان ممالک کے پاس یا تو اسلام اتنا نہیں بچا کہ کچھ مثبت کر سکیں، یا پھر وہ ملک اس قابل نہیں رہے کہ کچھ کر سکیں۔ تمام مسلمان پاکستان کی طرف فخر اور آس سے دیکھتے ہیں۔ آنے والے وقت نے اس بات مزید واضح کر دینا ہے۔
آج یومِ پاکستان کی تقریب دیکھتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ ہمارا وہ فخر جو ہمیں اللہ پاک کی ذات نے عطا کیا ہے، لوٹ رہا ہے۔ ہماری روشنیاں واپس آ رہی ہیں، ہماری ثقافت ، ہمارا احساس اور سب سے بڑھ کے ہمارا ایمان لوٹ رہا ہے۔ خدائے بزرگ و برتر کی ذات کا کرم ایک نئی روشنی لیکر ہم پہ اتر رہا ہے۔ پاکیزگی کا یہ عمل جاری ہو چکا ہے اور اب اندھیرے سے روشنی کا ٹرانزیشن فیز چل رہا ہے جو بہت مختصر ہے۔
آئیے! اس فخر کو پلکوں کا بوسہ دیکر سینے سے لگائیں کہ ہم مسلمان اور پاکستانی ہیں۔ اس خواب کو پھر سے محسوس کریں جو حضرت علامہ محمد اقبال رح نے دیکھا اور قائداعظم کی اس جدوجہد میں اپنے آپ کو شامل کریں تو تکمیلِ پاکستان تک کیلئے ہے۔ ایک بات یاد رہے کہ “مسلمان مصیبت میں گھبرایا نہیں کرتا” اور “پاکستان نور ہے اور نور کو زوال نہیں”.
یوم پاکستان مبارک۔ اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *