نئے صبح شام پیدا کر

میرے ایک دوست جن کا تعلق تلہ گنگ سے ہے، ایک واقعہ سنانے لگے جو کہ ان کے دادا کے ساتھ پیش آیا تھا۔ جو لوگ تلہ گنگ خوشاب والے خطے کے ہیں، ان کو پتا ہو گا کہ اس علاقے میں ستر اسی کی دہائی تک ڈاکوئوں کا راج رہا ہے جس کی وجہ اس علاقے کا باقی علاقوں سے پہاڑوں کی وجہ سے مکمل طور پہ علیحدہ اور محفوظ ہونا ہے۔
ہوا کچھ یوں کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران ایک جہاز کسی خرابی کی وجہ سے اس علاقے میں گر گیا۔ گو کہ یہ اپنے ہی ملک کا تھا۔ لیکن اس علاقے کے لوگوں میں مشہور ہو گیا کہ آسمان سے بلا گری ہے جس کی وجہ سے آگ لگ گئی ہے اور اس بلا کے کچھ حصے جل کر راکھ ہو گئے ہیں۔ اور باقی ڈھانچہ ابھی موجود ہے۔ کوئی ایک سال تک لوگ اس بلا کو دیکھنے پہاڑوں پہ جاتے اور واپس آکر مزید سنسنی پھیلاتے۔
کسی نے اتنا بھی سوچنے کی زحمت نا کی کہ ڈھانچا تو لوہے کا ہے۔ پھر کوئی بیس پچیس سال بعد وہ لوگ جہاز کے لفظ سے آشنا ہوئے اور یہ بلا ٹلی۔ یہ کام جو محض ایک دن کا تھا، اس کے ہونے میں پچیس سال کا عرصہ لگا۔
اور یقین جانیے! یہ کام آج تک ہو رہا ہے۔ کیوں؟
وجہ صرف اور صرف اتنی ہے کہ نا تو ہمارے اندر خود تبدیلی کو قبول کرنے کی صلاحیت ہے اور نا ہی اتنی اخلاقی جرآت ہے کہ اپنی اگلی نسل کو یہ چیز پہلے دن سے سکھا سکیں کہ کسی بھی چیز میں تبدیلی کو کیسے قبول کرنا ہے، خود کیسے تبدیلی لانی ہے اور یہ دونوں کام مثبت ہوں۔
بعض اوقات ہمیں بہت عجیب صورتحال سے واسطہ پڑ جاتا ہے۔ مثلاً ہمارے اکثر بڑے ابھی بھی بیس سال پرانا بٹن والا موبائل اس لیے استعمال کرتے ہیں کہ انہیں سمارٹ فون استعمال کرنا نہیں آتا۔ جبکہ اس کے پس منظر میں یہی بات ہوتی ہے کہ وہ موبائل کو بس مجبوری میں کال سننے کو استعمال کرتے ہیں بس۔ انہوں نے ابھی تک اس تبدیلی کو قبول ہی نہیں کیا۔
جبکہ ہمارا ایک دو سال کا بچہ سمارٹ فون کو ہم سے زیادہ بہتر اور تیز استعمال کر رہا ہوتا ہے۔ کیونکہ اس بچے تک ہمارے نظریات نہیں پہنچے، وہ بس ہر چیز سیکھ رہا ہوتا ہے اس وقت تک۔
تو بات یہ ہے کہ انسان کو تمام زندگی اس بچے کی طرح گزارنی چاہیے جو سیکھنے اور جاننے کیلئے انگارہ بھی اٹھا لیتا ہے۔ اس جاننے اور سیکھنے میں سب سے اہم چیز جو ہم نے خود سیکھنی اور اپنی اگلی نسل کو سکھانی ہے، وہ نئی چیز، نئے خیال اور نئے اقدامات کو قبول کرنا ہے۔
ایک بات یاد رہے کہ جب تک ہم نے نئے نظریات، ایجادات اور سوالات کا دروازہ کھلا رکھا، مسلمان تمام دنیا پہ ایک اتھارٹی مانے جاتے تھے۔ پندرویں صدی عیسوی سے لیکر اب تک ہم نے کسی نئے سوال یا نظریے کو جگہ نہیں دی۔ آج ہمارا حال سب کے سامنے ہے۔ اب تک جو ہو چکا ، اس کو تو ہم کسی صورت بھی تبدیل نہیں کر سکتے۔ ہاں اب جو ہو رہا ہے، اسکو تو ہم قبول کر کے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ اور اس میں سب سے اہم بات اپنے بچوں کے اندر یہ چیز پیدا کرنا ہے کہ وہ ہر لمحہ نئی چیزیں سیکھنے اور نئے نظریات کے ساتھ آگے بڑھنے میں فخر کریں۔ بچے سب سے جلدی سیکھتے اور سب سے اچھا عمل کرتے ہیں۔
ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ نظریہ اور عمل ہی کامیابی کی کنجی ہیں۔ اور یہی اسلام کی تعلیم ہے۔
اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *