احساس، مفتی اور منٹو

قدرت اللہ شہاب نے ایک جگہ لکھا ہے کہ انسان تصوف میں جیسے جیسے آگے بڑھتا جاتا ہے، حسیات کا دائرہِ کار بڑھتا جاتا ہے۔ کسی بھی بیرونی عمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے احساس کی حدود بڑھتی جاتی ہیں۔ فنکاروں اور صوفیاء میں کافی حد تک یہ قدر مشترک دیکھی گئی ہے۔
اب یہاں تک یہ ایک مظہر ہے بس۔ انسانی نفسیات کا ایک پہلو ہے۔ مجھے یہ بات کہنے میں کوئی خاص عار نہیں کہ صوفی اور فنکار دونوں انسانی نفسیات کی کسی نا کسی انتہاء تک ضرور جی رہے ہوتے ہیں۔ ان انتہائوں کو کبھی بھی کسی اصول یا حد میں نا تو مقید کیا جا سکتا ہے اور نا ہی ان کو مکمل طور پہ پرکھا جا سکتا ہے۔
شاید یہ بھی ایک وجہ ہے کہ زیادہ تر صوفی علم اور فن سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا ہے۔ کتابوں سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا ان کاموں میں۔
اب میں آتا ہوں اس بات کی طرف جس کا یہ سب پس منظر ہے۔ بات کچھ یوں ہے کہ ایک عام آدمی کی نیکی یا بدی کی تعلّی ایک مقررہ حد پہ ہی رہے گی۔ جبکہ آپ صوفیاء کو دیکھ لیں، جتنا یہ آگے بڑھتے ہیں، اسی نسبت سے ان میں نیکی اور بدی دونوں کی تعلّی بڑھتی ہے۔ مثال دیتا ہوں کہ جو جتنا بڑا صوفی ہو گا، اتنا ہی زیادہ پردہ کرے گا۔ اکثر صوفی جو حقیقت میں تصوف پہ عمل پیرا ہیں، عورتوں سے نہیں ملتےکیونکہ ان کا نفس بھی اتنا ہی منہ زور ہو چکا ہوتا ہے جتنا ان کی نیکی کا پہلو ترقی کر چکا ہوتا ہے۔یہ لوگ اس سب کو جائز حدود میں رکھنے کیلئے اتنے ہی بڑے صابر اور ضبط والے ہوتے ہیں۔ آپ سلطان باہو رح جا کے دیکھ لیں، عورتوں کو مزار کے اندر جانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔

قدرت اللہ شہاب اور ممتاز مفتی حج کے موقع پر

مذکورہ بالا صبر، ضبط اور ارتقاء کی پرپیچ راہوں کیلئے یہ بات حرف بہ حرف سچ ہے کہ جیسے جیسے احساس کا دائرہِ کار بڑھتا ہے، ایک مسلسل راہبر کی ضرورت بھی اسی حساب سے بڑھتی جاتی ہے۔ رسمی بیعت کا نفسیاتی پہلو یہی ہے۔
اب میں کل والی بات پہ آتا ہوں۔ میری پوسٹ دراصل ممتاز مفتی اور منٹو کا تقابلی جائزہ نہیں تھی۔ سب کو پتا ہے کہ مجھے ممتاز مفتی زیادہ پسند ہے۔ جبکہ اگر ممتاز مفتی کو صرف افسانے تک محدود کر دیں تب منٹو بازی کے جاتا ہے۔ میں بین السطور اس نفسیاتی پہلو کو ان دونوں کے بیان سے اخذ کرنا چاہتا تھا کہ حسیات کا کیا کردار ہوتا ہے اور ان کو مثبت حدود میں کیسے رکھا جا سکتا ہے تاکہ انسان معاشرے کیلئے منفعت بخش ہو سکے اور خلقِ خدا کیلئے اس انسان سے ہمہ وقت مثبت احساس آگے پھیلتا رہے۔
یہی وہ فرق ہے جس نے مفتی کو درویشی چولا پہنا کر کہیں اور لا کھڑا کیا اور منٹو کو فحش نگار کا لیبل ملا۔ حالانکہ دونوں کے فن کی ابتدا سیکس سائیکالوجی سے ہوئی ہے۔ اب ان کی حقیقت تو اللہ پاک کی ذات جانتی ہے اور جو حقیقت اللہ پاک کے ہاں ہے، وہی اصل ہے، اسی پہ انسان کا انجام ہے۔ جو کچھ بھی ہم سب کہہ رہے ہیں وہ فردِ واحد کی رائے تک ہی محدود ہے بس۔
لیکن ایک فنکار کے طور پہ منٹو منٹو ہے اور مفتی مفتی ہے۔ میں ذاتی طور پہ اس بات کا قائل ہوں کہ اس دنیا میں ہر فنکار کا اپنا احساس اور اپنا راستہ ہے۔ کسی کو بھی آپ نا تو کسی اصول پہ پرکھ سکتے ہیں اور نا ہی کسی فنکار کا دوسرے سے تقابل کر سکتے ہیں۔
اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *