مفتیانے اور منٹو رامے

میں سعادت حسن منٹو کو ممتاز مفتی سے بڑا افسانہ نگار مانتا ہوں۔ لیکن مجھے بہت عرصے سے اس جواب کے مندرجات اور سوالات نہیں مل رہے تھے۔ خیر وقتِ معین پہ ہر کچھ مل جاتا ہے، نا بھی ملے تو تسلی کم از کم ضرور مل جاتی ہے۔ تو مجھے بھی اسکا جواب ملا جو کہ قارئین کی نظر کرنا چاہتا ہوں۔

سعادت حسن منٹو

بات یہ ہے کہ سچ کی خاصیت یہ ہے کہ تلخ ہوتا ہے، تڑخ جاتا ہے، سختی پیدا کرتا ہے، آئینہ دکھاتا ہے اور سچ کے مندرجات میں یہ بھی شامل ہے کہ یہ احساس کو توڑ کر رکھ دیتا ہے اگر کوئی جوڑنے والا مسلسل ساتھ نا ہو تو۔ منٹو کی خاص بات یہ ہے کہ اس نے مکمل سچ لکھا، ہمیں آئینہ دکھایا۔
لیکن منٹو خود اس تلخ سچ سے ایسا ٹوٹا کہ جڑ نہیں سکا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ممتاز مفتی منٹو سے بازی لے جاتا ہے۔ ورنہ نا تو مفتی کا سچ منٹو جتنا ہے اور نا ہی مقام۔ منٹو کا اعجاز ہے کہ اسے سچ اپنی سچائی کے ساتھ ملا جبکہ مفتی کو سچ ملا تو ضرور لیکن اتنا نہیں جتنا منٹو کو۔ شاید ماں کی دعا کا اثر تھا یا جو بھی تھا، مفتی سچ کے ان اثرات سے بالکل ایسے نکل گیا جیسے آٹے میں سے بال نکل جاتا ہے۔
اسکو بھی میں تو ماں جی کی دعا کا اعجاز ہی کہوں گا کہ مفتی کو قدرت اللہ شہاب کا ساتھ میسر آیا جن کی ایک فلاسفی یہ بھی ہے کہ کسی بھی کیفیت کو مستقل طور پہ اپنے اوپر طاری نا ہونے دو۔ چھلنی بن جائو تاکہ وہ احساس آپ کے اندر سے فوراً باہر نکل جائے۔ مفتی نے گو کہ اپنی کتب میں اس بات کا اقرار نہیں کیا مگر اپنی عملی زندگی میں قدرت اللہ شہاب کی کہی باتوں پہ کافی حد تک عمل کیا ہے۔
جبکہ منٹو کو جو سچ ملا، اس نے جی جان سے وہ سچ جیا اور اس کو اتنا صاف رکھا کہ اسکا سچ ہمارے لیے من جملہ معاشرہ کے طور پہ آئینہ بن گیا۔ اسی شیشے کی کرچیوں نے منٹو کو پارہ پارہ کیا اور انہی کرچیوں جتنا تلخ ادب منٹو نے لکھا۔ یقین جانیے! منٹو کے افسانے اگر ہمیں فحاشی پہ اکساتے ہیں تو اسکا مطلب یہ ہے کہ وہ کالک ہمارے اندر بدرجہ اتم موجود ہے۔
ایک بات یاد رہے کہ میری دلچسپیوں میں مفتی کا لکھا ہوا زیادہ آتا ہے اس لیے میں مفتی صاحب کا منٹو سے زیادہ قدردان ہوں۔ ویسے سچ تو یہ ہے کہ مفتی پہ جو درویشی والا چولا سجا ہے، اس نے مفتی کو افسانہ نگاری سے بہت آگے لا کھڑا کیا ہے۔ اب یہ قسمت کی بات ہے کہ پہنتے سب ہیں پر سجتا تو کسی کسی کو ہے۔
اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *