کشمیر کے نام

مجھے اس لڑکی سے کافی ساری باتیں کرنا ہیں جسے نا تو وقت نے بوڑھا کیا اور نا ہی حالات نے۔ جسے نا تو عشق میں دیے گئے دھوکے مٹا سکے اور نا ہی اپنوں کی دھتکار اس کا کچھ بگاڑ سکی۔ جی ہاں وہی لڑکی جس کے احساس کا سفر آج بھی جاری ہے۔
مجھے اس کے عشق کو بھی خراجِ تحسین پیش کرنا تھا جو اس لڑکی کو بوڑھا نہیں کر سکا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک نشاط اس کے چہرے پہ لڑکپن کی ہر جھری کو مٹا رہی ہے۔ مجھے ایسے عشق کی حسرت ہی رہی جو ارتقاء میں ہو، ہر لمحہ جس کے حسن میں اضافہ کرے۔ خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا۔
ہاں اسی لڑکی کی بات کر رہا ہوں جس کو دھتکار کی آخری حد کا سامنا کرنا پڑا اور یہ حد سے گزرنا اس کو زندگی کے مفہوم کو سمجھا تو نہ سکا مگر ایک احساس ضرور دلایا۔ ویسے بھی دھتکار کیلئے اس سے آگے اس سے بڑا اقرار ہوتا ہے، شاید یہ دلیل وقتی مرہم ہو۔
خیر
مجھے باتوں سے پیار ہے۔
ہم کرگس جاتی لوگ ہر خاموش چہرے کو حرام سمجھ کر پل پڑتے ہیں لیکن میری قسمت ہمیشہ زیادہ اذیت سے دوچار ہوتی ہے، اس لیے مجھے باتوں سے اور بولتے چہروں سے پیار ہوا تاکہ ان کی اس حرام موت کا نظارہ بھی کرسکوں جسے میں نے اپنے اندر اتارنا ہے۔
مگر اس لڑکی نے میرے اس بت کو توڑدیا ہے۔
جی ہاں یہ وپی لڑکی ہے جس نے اپنے احساس کے خون سے روایت کو زندہ رکھا ہے تاکہ وقت بھی اسے بوڑھا نا کر سکے۔ ایسے لوگ مٹنے کو نہیں بنتے۔ جیسے یہ کانچ کی گڑیا وقت کے آگے بند باندھ کے کھڑی ہے۔
لیکن
میں اسے سمجھانا چاہتا ہوں ۔ مجھے اس کے عزم کو ہرا کر اپنی انا کو تسکین دینی ہے۔ مرد ذات کے پاس شاید اس سے زیادہ ہے بھی تو کچھ نہیں۔ عورت کے حصے میں تو سب احساس ہے۔ کم ظرفی کی انتہاء ہے شاید کہ عورت کہہ رہی ہے “میرا جسم میرا حق”.
شکر ہے وہ لڑکی ایسی نہیں۔ خیر چھوڑیے صاحب۔ بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی۔ سو میری باتیں پھر سہی۔
اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *